- الإعلانات -

افغان مہاجرین پاکستانی معیشت پربوجھ

اقوام متحدہ نے 1951ء مےں مہاجرےن کے حقوق کے حوالے سے اےک مسودہ منظور کےا تھا جس مےں ےورپ کے مہاجرےن کے حقوق کا تعےن کےا گےا تھا ۔ 1967ء مےں اس مسودہ کو وسعت دےکردنےا کے دےگر ممالک کے مہاجرےن کو بھی اس مےں شامل کےا گےا جس کو پروٹوکول 1967ء کے نام سے موسوم کےا جاتا ہے ۔ اس معاہدے پر پاکستان نے دستخط نہےں کئے ۔ ےورپ کے بہت سے ممالک اس کو تسلےم کر چکے ہےں مگر زمےنی حقائق دےکھے جائےں تو پاکستان دنےا کا غالباً واحد ملک ہے جس نے معاہدے پر دستخط کئے بغےر چالےس لاکھ سے زائد افغان مہاجرےن کو مصےبت کی گھڑی مےں نہ صرف پناہ دی بلک اپنی محبتےں نچھاور کر کے انہےں گلے لگاےا ،کےمونزم کے خونی پنجوں سے تحفظ کےلئے بہترےن پناہ گاہےں فراہم کےں ۔ 1979ء مےں جب برادر ہمساےہ اسلامی ملک افغانستان پر روسی فوجوں نے ےلغار کر دی تو افغان مہاجرےن کی اےک بڑی تعداد نے پاکستان مےں پناہ لی ۔ حکومت پاکستان نے ان افغانی بھائےوں کو انسانی ہمدردی کی بنا ء پر نہ صرف پناہ دی بلکہ ان کی دےکھ بھال بھی کی ۔ افغانستان کے سےاسی حالات مےں مدوجذر آتے رہے ۔ روسی افواج کو شکست ہوئی اور روس جو کہ دنےا کی دوسری سپر پاور تھا رےزہ رےزہ ہو گےا ۔ اس وقت وہ طاقتےں جو برسر پےکار طاقتوں کی امداد کر رہی تھےں حالات کو سنبھالنے اور عوام کی حکومت قائم کرنے کی بجائے افغانستان کو جلتا ہوا چھوڑ گئےں کےونکہ انہوں نے اپنے مقاصد حاصل کر لئے تھے ۔ چنانچہ افغانستان بےرونی جارحےت سے آزاد ہو کر اندرونی عدم استحکام کا شکار ہو گےا ۔ جنگجوءوں نے اپنی اپنی اجارہ داری قائم کرنے کےلئے اےک دوسرے کے خلاف ہتھےار اٹھا لئے اور ےوں افغان عوام کی اےک بڑی تعداد جو واپس جانا چاہتی تھی وہ امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث نہ جا سکی ۔ 1996ء مےں جب طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی مگر ان کے سخت گےر رویے نے ان کو عوام سے دور کر دےا ۔ وہ جس قسم کا اسلام نافذ کر چکے تھے وہ کتابی طور پر شائد درست ہو مگر وقت کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر نہےں رکھا گےا اور اجتہاد کا دروازہ بھی بند کر دےا گےا جس کی وجہ سے اےک بار پھر وطن جانے کی امےدےں ختم ہو گئےں اور لاکھوں مہاجرےن جو کہ کےمپوں اور ملک کے دےگر حصوں مےں رہائش پذےر تھے وہ وطن واپس نہ جا سکے اور زندگی کے مزےد کچھ ماہ و سال گزارنے پر مجبور ہوئے ۔ اس دوران اسامہ بن لادن صاحب افغانستان مےں نمو دار ہوئے وہاں انہوں نے طالبان کا اعتماد حاصل کر کے امرےکہ کے خلاف کاروائےاں شروع کر دےں 11ستمبر کے واقعہ پر اسامہ بن لادن کو ذمہ دار قرار دے کر امرےکہ اور اس کے اتحادےوں نے افغانستان کی اےنٹ سے اےنٹ بجا دی ۔ افغانستان کی حکومت چلتی بنی اور پھر امرےکہ اور اس کے اتحادےوں نے افغانستان پر توجہ دےنی شروع کی ۔ ماضی مےں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزےن نے حکومت افغانستان اور پاکستان کے درمےان معاہدہ کراےا تھا جس کو سہ فرےقی معاہدہ کہتے ہےں ۔ اس معاہدہ کی بدولت 2005ء تک افغان مہاجرےن کو پاکستان مےں رہنے کی حکومت نے اجازت دی ۔ افغان مہاجرےن گزشتہ40سال سے پاکستان مےں ہےں اور اب تک ان کی تعداد مےں کوئی کمی دےکھنے مےں نہےں آئی ۔ ان برسوں مےں افغانستان کے حالات مےں جوہری تبدےلی آ گئی ، روسی فوجےں واپس چلی گئےں ،خانہ جنگی کے بعد کچھ عرصہ افغانستان مےں طالبان کی حکومت رہی پھر امرےکہ نے اپنی فوجےں وہاں داخل کر دےں ۔ امرےکی افواج کے دس ہزار سے زائد فوجی اب تک افغانستان مےں براجمان ہےں اب تو امرےکی بھی افغانستان سے نکلنا چاہتے ہےں لےکن مہاجرےن واپس جانے پر تےار نہےں ۔ جن چند ہزار لوگوں کو کبھی کبھار واپس بھےجا جاتا ہے وہ بھی اےک چکر لگا کر لوٹ آتے ہےں ۔ ےہاں 40سال تک قےام پذےر مہاجرےن کے قےام کی مدت 30جون2019ء کو ختم ہو گئی اور افغان مہاجرےن کی ےہاں دوسری نسل جوان ہو رہی ہے ۔ پاکستان مےں 14لاکھ سے زائد رجسٹرڈ مہاجرےن ہےں جن مےں سب سے زےادہ خےبر پختونخواہ مےں 8لاکھ 17ہزار،بلوچستان مےں 3لاکھ 23ہزار ،پنجاب مےں 1لاکھ 64ہزار ، سندھ مےں 64ہزار ،اسلام آباد مےں 33ہزار اور آزاد کشمےر اور بلتستان مےں 4ہزار مقےم ہےں ۔ اےک سروے کے مطابق پاکستان مےں مزےد16لاکھ افغان مہاجرےن قےام پذےر ہےں جن کی ابھی رجسٹرےشن نہےں ہوئی ۔ شروع مےں تو عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزےن افغان مہاجرےن کےلئے مدد فراہم کرتے رہے تا ہم گزشتہ کئی برس سے پاکستان تن تنہا ان کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے ۔ اےسے محسوس ہوتا ہے کہ ےہ مہاجرےن اپنے وطن کی نسبت خود کو پاکستان مےں زےادہ آسودہ حال تصور کرتے ہےں ۔ پشاور مےں ٹرانسپورٹ کا سارا کاروبار افغانوں کے ہاتھوں مےں ہے ۔ شہر مےں جگہ جگہ انہوں نے اپنے کاروبار شروع کر رکھے ہےں ۔ پشاور سے باہر اسلام آباد،لاہور اور کراچی تک بھی ان کی کاروباری سرگرمےاں دےکھی جا سکتی ہےں ۔ اسلام آباد کے بعض پوش علاقوں مےں تو افغان گھرانے مقامی لوگوں سے زےادہ بہتر انداز مےں زندگی گزار رہے ہےں پاکستان کے بعد اےران دوسرا ملک ہے جس نے لاکھوں افغان مہاجرےن کو پناہ دی ۔ ہمارے ہاں تو مہاجرےن مےں سے جب کسی کا جی چاہے افغانستان چلے جاتے ہےں اور جب چاہے پاکستان آ جاتے ہےں ۔ ہماری حکومتےں ان کو مہاجر کےمپوں مےں رکھنے مےں ناکام ہو چکی ہےں اس کے برعکس اےران مےں لاکھوں مہاجرےن کےمپوں مےں ٹھہرائے گئے ہےں ۔ وہاں کوئی افغان مہاجر کےمپ سے باہر رہ کر کاروبار نہےں کر سکتا ۔ پاکستان مےں کےمپوں مےں موجود افغان مہاجرےن مےں افغانی دہشت گرد بھی موجود ہےں جو کہ پاکستان مےں دہشت گردانہ کاروائےوں مےں ملوث ہےں ۔ کچھ مہاجرےن کو ڈی پورٹ بھی کےا گےا ۔ بھارت کئی برس سے افغان سر زمےن پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے اور اس کے بہت سے شواہد منظر عام پر بھی آ چکے ہےں ۔ کوءٹہ سے بھارتی جاسوس کی گرفتاری اور اس کے بعد افغانستان کے خفےہ ادارے کے افسر کا پکڑے جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں خفےہ اےجنسےوں کا پاکستان مےں تخرےب کاری اور دہشت گردی پر تعاون موجود ہے ۔ افغانستان کے اےجنٹ نے تو ےہ بات بھی تسلےم کی تھی کہ اسے پاکستان مےں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے سلسلے مےں ’’را‘‘ کی معاونت حاصل تھی ۔ جہاں تک افغان سر زمےن پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کا تعلق ہے بھارت کے کئی قونصل خانے افغانستان مےں ےہی کام کرتے ہےں اور تخرےب کاروں کو تربےت دے کر پاکستان مےں داخل کےا جاتا ہے ۔ ےہ مسئلہ کوئی نےا نہےں بلوچستان مےں بھارتی مداخلت کے ثبوتوں کا تذکرہ بہت پہلے بھی ہوتا رہا ہے اور ےوسف رضا گےلانی نے اپنے دور مےں اس وقت کے بھارتی وزےر اعظم منموہن سنگھ کو ثبوت بھی فراہم کئے تھے ۔ پاکستان مےں بھارتی مداخلت کے ثبوتوں پر مشتمل اےک ڈوزئےر اقوام متحدہ مےں بھی پےش کےا گےا تھا ۔ افغان مہاجرےن کی آمد کے ساتھ پاکستان مےں کلاشنکوف کلچر در آےا،ہےروئن جےسی منشےات متعارف ہوئےں ،خود کش دھماکوں کا سلسلہ چل پڑا ۔ ہمارے ہاں افغان مہاجرےن کی بڑی تعداد مختلف جرائم مےں ملوث ہے ۔ قتل ڈکےتی ،اغوا برائے تاوان اور کار چوری جےسی وارداتوں مےں افغان مہاجرےن کے جرائم پےشہ عناصر کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہےں لےکن نہ جانے کےوں وفاق لاکھوں افغان مہاجرےن کی بلاوجہ مہمان داری جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ اےران مےں بےشتر افغان مہاجرےن کو اپنے ملک واپس بھےجا جا چکا ہے ۔ پاکستان مےں افغان مہاجرےن کی موجودگی سے پاکستان کی اقتصادی صورتحال پر منفی اثرات پڑے ہےں ۔ 30لاکھ سے زائد افغان مہاجرےن کی موجودگی مےں روز مرہ اشےائے خوردونوش اور مکانات کے کراےوں مےں ہوشربا اضافے نے پاکستانی عوام کی کمر توڑ دی ہے ۔ بدقسمتی سے جب بھی ان افغان مہاجرےن کی واپسی کی طے کردہ تارےخ آتی ہے توہمارے حکمران ان کی واپسی کےلئے نئی تارےخ مقرر کر کے اپنے عوام کے ساتھ ظلم کرتے ہےں ۔ ان کی مدت مےں ےہ بار بار کی توسےع کسی طرح ملکی اور قومی مفاد مےں نہےں آخر کب تک ان کی موجودگی کو برداشت کےا جاتا رہے گا;238; اب حالات اےسے ہےں کہ اس مسئلے کو مستقل بنےادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ امےد ہے حکومت افغان مہاجرےن کی باعزت واپسی کےلئے اپنے اعلان پر قائم رہے گی ۔