- الإعلانات -

اپنی قےادت کی قےمت پر قوم کو بچانے والا رہنما

نرےندر مودی نے اقتدار مےں آنے کے بعد 5اگست کو دفعہ 370کی تنسےخ کے ساتھ رےاست مقبوضہ کشمےر کو مرکز کی تحوےل مےں لاتے ہوئے دو حصوں مےں بانٹ دےا ۔ بھارت کے سابق وزےر داخلہ چدم برم نے راجےہ سبھا مےں کہا تھا کہ کشمےر کی خصوصی حےثےت کو صرف اس لئے ختم کےا گےا کہ وہ مسلم اکثرےتی علاقہ ہے ۔ مودی کا ہندوستان کا دوبارہ وزےر اعظم بننا بھارت کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کرنے کے مترادف ہے ۔ دراصل مودی حکومت اقوام متحدہ کی قراردادوں کی دھجےاں اڑاتے ہوئے کشمےر کی خصوصی حےثےت ختم کرنے کے بعد اب پوری ڈھٹائی کے ساتھ اس مظلوم خطے کو چار حصوں مےں تقسےم کرنے کے مذموم منصوبے پر عمل پےرا ہے جس کے تحت اکتےس اکتوبر تک لداخ کو دو حصوں مےں تقسےم کر کے جموں و کشمےر سے الگ کےا جانا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق شدےد رد عمل سے بچنے کےلئے حساس علاقوں مےں مزےد فوجی بھےجے جا رہے ہےں جبکہ کشمےری عوام ڈھائی ماہ سے بھارتی فوج کے محاصرے مےں عملاً قےدےوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہےں ۔ مودی سرکار کی ہٹ دھرمی کا ےہ عالم ہے کہ کشمےر کی صورت حال کا جائزہ لےنے کی خاطر بھارتی مقبوضہ کشمےر کا دورہ کرنے کی کسی بھی فارن وفد کو اجازت نہےں دی جا رہی ۔ روم والے بھی تو کبھی کارتھےج کو صفحہ ہستی سے مٹا دےنے کےلئے بے چےن ہوا کرتے تھے ۔ ہٹلر بھی جو کہا کرتا تھا کہ پولےنڈ کو صفحہ ہستی سے مٹا دےنا چاہیے ۔ وہی ہٹلر جس نے چےکو سلواکےہ کو بو ہےمےا اور موراوےا کو نازی محکوم مےں بدل دےا تھا ،جس نے کروشےا کے استاشے کو سربےا کو نےست و نابود کرنے کی اجازت دی تھی اور بعد ازاں ےہ کہتے ہوئے اپنے دن پورے کئے تھے کہ اس کی اپنی جرمن رےاست کو صفحہ ہستی سے مٹا دےنا چاہیے کےونکہ اس کے عوام خود اس کے قابل ہی نہےں ۔ تارےخ کا سبق ہے کہ دنےا مےں جب کسی گروہ انسانی کےلئے آئےنی و قانونی طرےقوں سے اپنے جائز حقوق کی بازےابی ممکن نہ رہے اور دنےا کے تمام نظام ہائے عدل ،مظلوموں کو انصاف دلانے مےں ناکام ہو جائےں تو مجبوراً لوگ ظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہےں ۔ تارےخ اےسے واقعات سے بھری پڑی ہے جب کمزور گروہوں نے طاقتوروں کے ظلم کے خلاف مزاہمت کا علم اٹھاےا اور لازوال قربانےوں کے ذرےعے اپنے لئے عزت سے جےنے کا حق حاصل کر لےا ۔ موجودہ صورتحال تشوےشناک ضرور ہے مگر زےادہ دےر تک قائم نہےں رہ سکتی ۔ بے پناہ قوت کے باوصف اگر روس کو افغانستان سے نکلنا پڑا ،امرےکےوں کو وےت نام مےں ہزےمت اٹھانی پڑی اب افغانستان سے نکلنے کے راستے ڈھونڈ رہے ہےں تو ہندوستان کو بھی کشمےر سے نکلنا پڑے گا ۔ دوسری جنگ عظےم سے قبل جرمن قےادت کے لب و لہجہ مےں انتقام کی تلخی اور نسلی عصبےت کی اےسی ہی آتش فشانی جھلکتی نظر آتی تھی جےسی اس وقت نرےندر مودی کی سوچ او ر گفتگو کا محور ہے ۔ ہٹلر کا کہنا تھا کہ عظےم قوم بننے کی خاطر ےہودےوں کو جرمنی سے نکالنا اور غداروں کا قلع قمع کرنا ہو گا ۔ سےاست کا ےہی نظرےہ انہےں دوسری عالمی جنگ کی طرف لے گےا جس نے خود جرمنی اور اس کے اتحادےوں سمےت برطانےہ اور ےورپ کو برباد کر ڈالا ۔ ہٹلر کی مانند مودی بھی اسی نظریے کے پےروکار ہےں ۔ ےہ بھی ہٹلر کی مانند ہندوستانی تارےخ کی توضےع مسلمانوں کے ماضی ،حال اور مستقبل کے حوالے سے کرتے ہےں وہ بر صغےر کے مسلمان کو اکھنڈ بھارت کے خواب کی تعبےر کی راہ مےں رکاوٹ سمجھتے ہےں ۔ بھارت کی اپوزےشن جماعتےں مودی کے ہٹ دھرم اور ناعاقبت اندےشانہ فےصلوں اور پالےسےوں کو تباہ کن قرار دےتے ہوئے نوحہ کناں ہےں ۔ کشمےر مےں بھارت کی نو لاکھ سے زائد غاصب فوج اسی لاکھ کشمےرےوں کے سروں پر موت کے سائے کی طرح منڈلا رہی ہے لےکن مودی کو اس حقےقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ مودی کے اےسے جنونےت پر مبنی اقدامات سے کشمےرےوں کو تابع نہےں کےا جا سکتا مودی کے ہٹ دھرم اور احمقانہ فےصلوں سے کشمےر ہندوستان کے ہاتھ سے پھسلتا جا رہا ہے اور ےہ بھارت کےلئے بہت بڑے خطرے کے گھنٹی ہے ۔ مزاہمت کا اثر با لآخر دےگر ناراضی علاقوں پر بھی پڑ رہا ہے ۔ وہاں بھی تحرےکےں شروع ہو گئی ہےں جو بتدرےج زور پکڑےں گی ۔ ہندوستان اندر سے ٹوٹ بھی سکتا ہے ۔

معزز قارئےن راقم نے آج کے کالم کو جو عنوان دےا ہے اےسا ہوتا ہے ، کبھی کبھی کسی قوم کے لےڈر پر اےسا وقت بھی آتا ہے کہ قوم کی بقاء کےلئے اپنے آپ کو ہلاکت سے دوچار کرنا پڑتا ہے ےعنی اپنی قےادت کی قےمت پر قوم کو بچا لےنا ۔ چارلس ڈےگال دسمبر1958ء مےں فرانس کے صدر منتخب ہوئے اور اس وقت افرےقہ مےں فرانس کے تقرےباً اےک درجن کے لگ بھگ مقبوضات تھے کہ جن مےں آزادی کی تحرےکےں چل رہی تھےں ، بالخصوص الجےرےا کی تحرےک بہت شدت اختےار کر چکی تھی اور فرانس نے اس تحرےک کو کچلنے کےلئے 25لاکھ آدمی تہ تےغ کئے مگر پھر بھی ےہ تحرےک بڑھتی ہی چلی گئی اور ےہ صورت حال چارلس ڈےگال کےلئے سخت تشوےشناک بن گئی اور ان الفاظ کو انسائےکلو پےڈےا کے الفاظ مےں کہ الجےرےا کی جنگ ان کےلئے روگ بن گئی کہ وہ مستقبل کی پالےسےوں کے بارے فقط نقشہ بنانے کے علاوہ کچھ کر سکےں ۔ فرانس اپنے افرےقی مقبوضات کو صوبہ کہتا تھا اور وہ ان کی زبان ،کلچر کو اس حد تک بدل دےنا چاہتا تھا کہ وہاں کے باشندے اپنے آپ کو فرانسےسی سمجھنے لگےں مگر ےہ منصوبہ فرانس کو بہت مہنگا پڑا اور غےر حقےقت پسندانہ کوششوں نے فرانس کو اےک کمزور ملک بنا دےا ۔ فرانس کی تمام توانائےاں ان تحرےکوں کو کچلنے اور دبانے مےں استعمال ہونے لگےں ۔ نتےجتاًفرانس نے ےورپ کی اےک عظےم طاقت ہونے کی حےثےت کھو دی اور اس کا سب سے بڑا نقصان ےہ تھا کہ ان تحرےکوں کو دبانے کے چکر مےں فرانس اےٹمی دوڑ مےں پےچھے چلا گےا ۔ انسائےکلو پےڈےا برٹا نےکا کا مقالہ نگار کہتا ہے کہ چارلس ڈےگال نے محسوس کےا کہ نو آبادےاتی جنگ لڑنے کی کوشش فرانس کےلئے مانع ہوگی کہ وہ اےٹمی ہتھےار تےار کرے چنانچہ ڈےگال نے الجےرےا کو آزاد کر دےا اور اس کے بعد مضبوط اےٹمی طاقت ڈھالنے کےلئے کوششےں تےز کر دےں جو فرانس کی عظےم حےثےت کی بنےاد بن سکے ۔ ڈےگال نے اس معاملے کو قومی ساکھ ےا ذاتی قےادت سے الگ ہو کر دےکھا اور ٹھنڈے دل سے سوچنے کے بعد وہ اس نتےجے پر پہنچے کہ حقےقت پسندانہ حل صرف اےک ہی ہے کہ افرےقی مقبوضات کو آزاد کر دےا جائے مگر بحثےت مجموعی ےہ فرانس کےلئے معمولی بات نہےں تھی بلکہ ےہ فرانس کے قومی وقار و انا کا مسئلہ تھا اور قومی وقار پر ہی قومےں لڑ کر ہلاک ہو جاتی ہےں لےکن وہ اپنے قومی وقار کو کھونا نہےں چاہتےں اور ےہ امر بھی ےقےنی تھا کہ جو اس اےشو پر اےسا سٹےنڈ لے گا وہ فرانس مےں عوامی سطح پر اپنی مقبولےت کھو دے گاتاہم ڈےگال کو ےہ کرےڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے اس مشکل فےصلہ پر سٹےنڈ لےا ۔ انسائےکلو پےڈےا برٹانےکا کے اس بارے مےں الفاظ ےہ ہےں ۔ ڈےگال نے الجےرےا کے مسئلہ کو اس وقت حل کر دےا جب کہ ان کے سوا کوئی دوسرا حل نہےں کر سکتا تھا ۔ رےفرنڈم ہوا تو الجےرےا کی عوام نے علےحدگی کے حق مےں اپنا ووٹ دےا اور ان کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے الجےرےا کو آزاد کر دےا گےا ۔ اس کے بعد ڈےگال پر تنقےد ہوئی ،حملے ہوئے ۔ عوامی دباءو کی وجہ سے رےفرنڈم پر عوام نے ڈےگال کے خلاف اپنی رائے دی ۔ شکست کھا کر ڈےگال بالآخر 28اپرےل 1969ء کو مستعفی ہوئے جب فوت ہوئے تو ان کے جنازے مےں خاندان کے چند احباب کے علاوہ کوئی شرےک نہ ہوا ۔ پھر تارےخ نے بتاےا کہ واقعی ڈےگال کے فےصلے سے ہی فرانس اےٹمی اور سپر پاور بن کر دنےا کے سامنے آج کھڑا ہے ۔ ڈےگال نے خود مر کر اپنی قوم کو نئی زندگی دی ۔ آج پوری دنےا کے عوام اور ذراءع ابلاغ مےں مظلوم کشمےرےوں کے حقوق اور ان پر بھارت کی طرف روا رکھے گئے ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھ رہی ہے ۔ تبدےلی ےا مطالبات باہر سے عوام پر مسلط نہےں کئے جا سکتے جب تک اندرونی حالات عوام کی موافقت مےں نہ ہوں ۔ تارےخ کے ورق الٹنے سے اےسا ہی منظر اور صورتحال دکھائی دےتی ہے جےسی کہ کسےٹا لونےہ ،کرےمےہ اور تےمور مےں بھی پےدا ہوئی اور اب کشمےر مےں بھی جاری ہے اس لئے ےہ ےقےن سے کہا جا سکتا ہے کہ آج نہےں تو کل کشمےری عوام کو ضرور آزادی مل کے رہے گی ۔ انشاء