- الإعلانات -

مولانا صاحب ۔ ۔ ۔ ہوش کے ناخن لیں

گزشتہ کالم میں میری ساری تحقیق مولانا فضل الرحمن صاحب کی آزادی مارچ کے نام پر عسکری تیاریوں پر مرکوز رہی، جس میں انکی ۔ ۔ خاکی ملیشیا ۔ ۔ کی بری و دریائی تیاریوں کی نشاندہی کھل کر کی گئی، سڑکوں پر پریڈ اور مختلف عسکری و حربی مشقیں اور وہ بھی نیشنل چینلز پر، انکے پلین ۔ اے ۔ بی ۔ کہ اگر روڈ بند ملے تو رکاوٹیں کیسے گرانی ہیں ، خشکی کے راستے بند ملیں تو کشتیوں لانچوں سے دریا کیسے پار کر کے ہر حال میں دستوں کو کسطرح اسلام آباد پہنچنا ہو گا، زیبرا جھنڈا اور اسی رنگ کا ڈنڈا وغیرہ وغیرہ ۔ تاہم میری ذاتی رائے ہر گذرتے لمحے کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی جا رہی ہے، کیونکہ حالات کچھ اس تیزی سے الٹ پلٹ رہے ہیں کہ کسی ایک رائے پر قائم رہنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہوتا جا رہا ہے ۔ اسی رفتار سے میری تبدیل شدہ رائے کے مطابق اب مولانا اسلام آباد نہیں آئیں ، ہر گز نہیں آئیں گے کیونکہ انہوں نے ابھی سے اپنی پہلی شکست تسلیم کر لی ہے اور بڑے بلند بانگ دعوں کے باوجود اپنی بھاری غلطی تسلیم کرتے ہوئے 27 اکتوبر کی قطعی اور حتمی تاریخ کو اب وہ کافی آگے لے جا کر انہوں نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی صاحب کی اس تجویز پر سر جھکا دیا ہے اور انہیں احساس ہو گیا ہے کہ جس مسئلہ کشمیر پر اپنے ورکروں کی فوج کے ساتھ 27 اکتوبر، جب کشمیری مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ منا رہے ہوں گے یہ جو اسلام آباد پر چڑھائی کروانا چاہتے تھے وہ تاریخ تو بالکل الٹی ثابت ہو گی کیونکہ اسی روز ظالم بھارتی افواج وادی کشمیر میں زبردستی داخل ہوئی تھی ۔ سو یہ مولانا کا بڑا ۔ ۔ یو ٹرن ۔ ۔ اور پہلی بڑی شکست ہے اور لگتا اس کے بعد ناکامیوں کا یہ سلسلہ انشاء اللہ اب انکے بھاگ جانے پر ہی رکے گا ۔ کیونکہ دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کے قبلے ایک دوسرے سے قطبوں دور اور مولانا صاحب کی طرف اب تقریبا انہوں نے پیٹھ ہی موڑ لی ہے ۔ مالی کمک کےعلاوہ وہ صرف تماشہ دیکھنے پر ہی ترجیح دیتے ہیں ، وہ مولانا پر دراصل اعتبار نہیں کرتے، انہیں خطرہ ہے کہ یہ ہارا ہوا مہرہ کہیں انکی دی ہوئی ۔ ۔ ہلہ شیری ۔ ۔ پر اصل میلہ ہی نہ لوٹ لے،، پھر سے بارات کا دولہا ہی نہ بن جائے ، انکا دوسرا خیال یہ ہے کہ اس جذباتی مولوی کو آگے کر کے تیل اور تیل کی دھار دیکھ لیتے ہیں ، چل گیا تو تیر نہ لگا تو تکا ۔ دراصل یہ سب لوگ ایک دوسرے کو استعمال کرتے ہیں ، ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے ہیں ، بظاہر حمایت کر رہے ہیں لیکن انکے قدم آگے کی بجائے پیچھے کو اٹھتے ہیں ۔ مصیبت یہ ہے کہ مولانا صاحب بھی کسی کی نہیں سنتے، چالاک، زیرک،گھاگ اور پتہ نہیں کس کس قسم کا سیاستدان کہہ کہہ کر انکو اتنا اونچا چڑھا دیا گیاہے کہ مولانا صاحب اب فضا ہی میں اٹک کر رہ گئے ہیں ۔ زمین پر انکو کچھ نظر ہی نہیں آتا، ثبوت کے طور پر انکا آجکل تکبر،غرور اور گھمنڈ دیکھ لیں ، بندے کو بندہ ہی نہیں سمجھتے، چٹکیاں بجا بجا کر حکومتوں کو آجکل یہ چلتاکر رہے ہیں ۔ تاہم آج تک کا نتیجہ کہہ لیں تو مولانا صاحب نے جو مقصد حاصل کرنا تھا وہ انکی دھمکی کے بعد آج تک میڈیا کی خصوصی توجہ اور بے جا کوریج کی وجہ سے تقریبا پورا ہو چکا ہے، جہاں تک بات پہنچانی اور جسے سمجھانا تھا، وہ پیغام وہاں تک پہنچ گیا ہے، حکومت کو کشمیر کی چھوڑ کر دھرنے کی پڑ گئی ہے، ریاست کا نظام جو پہلے ہی منجمند تھا مکمل فریزر کی نظر ہوا چاہتاہے، ایک طرف یہ حال ہے اور دوسری طرف مولانا صاحب کے مارچ پر بھارتی میڈیا خصوصی پروگرام کر رھا ہے، انکی خوشی دیدنی ہے کہ مولانا نے اب عمران گرایا ہی گرایا ۔ واہ مولانا صاحب کیا کمال کا ایجنڈ ہے اور کیا کمال کا کھیل آپ کھیل رہے ہیں ۔ واقعی آپ ایک گھاگ اور ایک زیرک انسان ہیں ۔ کیا خوب دونوں طرف آگ لگا دی ہے ۔ سنا ہے انکے ۔ ۔ وڈ وڈیرے ۔ ۔ تو قیام پاکستان کے ہی مخالف تھے، لیکن چونکہ آپ کھاتے، پیتے، رہتے، بستے اسی ملک میں ہیں تو تمام ملکی قوانین کا آپ پر مکمل اطلاق ہوتا ہے، آپ چونکہ بات بات پر 73 کے آئین کا حوالہ دیتے ہوئے تھکتے نہیں بلکہ یہ تو اب آپ کی چھیڑ بن چکی ہے، لہذا آپ کے لئے اسی 73 کے آئین کا آرٹیکل 256 بڑا واضع ہے جو کسی بھی قسم کی ذاتی فوج رکھنے پر قدغن لگاتا ہے ۔ آپ کی سہولت کیلئے اسے یہاں نقل کیا جاتا ہے ۔

;65;rticle;245;256;46; ;78;o private organization capable of functioning as a military organization shall be formed, and any such organisation shall be illegal;46;

مولانا صاحب کے اپنے من پسند 73 کے آئین کے تناظر میں میرے کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ یہ صاحب جو کھلم کھلا خاکی وردیوں والے سیکڑوں ہزاروں کی فوج لئے پھرتے ہیں کیا انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ، وہ اس استعداد کے قابل کیسے ہوئے کہ آج ایک لشکر جرار قائم ہو چکا ہے، وہ جہاں جاتے ہیں پوری فوج، بظاہر ان کے رضاکار، ہزاروں کی تعداد میں انکے ہم رکاب ہوتے ہیں ۔ کیا مولانا پر ملکی قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا، کیا مولانا پر الیکشن لاز کا بھی کوئی احترام نہیں جس میں کسی سیاسی پارٹی پر اپنے مسلح جتھے رکھنا غیر قانونی قرار دیا گیا ہے ۔ کیا مولانا مکتی باہنی کے بعد اپنے ملک میں کسی آر ایس ایس طرز کے جتھے ترتیب دے کر بلیک میلنگ اور مار دھاڑ کا نظام قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ;238; یہ سب سوالات ہیں جن کا جواب بہرحال تمام متعلقہ اداروں کو دینا ہے، اور اس بات کا جواب بھی چاہیے کہ کس قانون کے تحت مولانا صاحب نے یہ نجی دستے قائم کئے اور کس نے ایسا کرنے کی انہیں اجازت دی ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ملک کے اندرونی حالات اور خاص طور پر کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر، مولانا صاحب کو خود سے چاہیے کہ وہ اپنے غیر قانونی مسلح جتھوں سے گارڈ آف آنر اور سلامیاں لینے کی بجائے صرف اور صرف اسوقت ہوش کے ناخن لیں ۔ ریاست اور اسکے مقتدر ادارے بھی اپنا فرض پورا کریں ، اللہ اللہ کر کے ابھی جئے مہاجر جیسے نفرت ا نگیز لسانی نعرے سے جان چھوٹی ہے، کیا ہم سب پھر سے کوء جئے مولوی جیسا مذہبی نعرہ سننے کے منتظر ہیں ۔