- الإعلانات -

بھارتی غبارے سے ہوا نکلنے کو ۔۔۔ !

دہلی سرکار کی جانب سے وقتاً فوقتاًیہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ نریندر مودی نے شاید ہندوستان کو سپر پاور بنانے کے راستے پر گامزن کر دیا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اپنی انتہا پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے مودی نے بھارت سے بدترین دشمنی کی ہے اور وہ وقت دور نہیں جب انہی پالیسیوں کے بوجھ تلے بھارت مستقبل قریب میں کئی حصوں میں تقسیم ہو جائے گا ۔ کہا جاتا ہے کہ کفر کی سرکار تو شاید کچھ عرصہ قائم رہ پائے مگر ظلم کی حکومت کا سورج بہت جلد غروب ہو جاتا ہے ۔ ;667480; نے بھارت میں منافرت اور مذہبی انتہا پسندی کو اس حد تک فروغ دے دیا ہے کہ اب یہ عفریت ہر شے کو نگلنے کو تیار ہے ۔ ہندوستان میں ہر شعبہ حیات اس عفریت کی لپیٹ میں آ چکا ہے اور حالات روز بروز دگردوں ہوتے جا رہے ہیں ۔ ماحولیات ہو، خواتین حقوق کے لحاظ سے، فرقہ واریت یا منافرت ہو، بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیاں ہو، اسلحہ کا انبار ہو، غربت ہو، کچی آبادیوں میں اضافہ ہو، ہجومانہ تشدد کی وارداتیں ہوں ، ہر شعبے میں بھارت میں واضح گراوٹ دیکھنے میں آ رہی ہے ۔

سبھی جانتے ہیں کہ مودی کی قیادت میں بھارت میں بے روزگاری کا 45 سالہ ریکارڈ ٹوٹ چکا ہے ۔ یہ کوئی پراپیگنڈہ نہیں بلکہ خود بھارتی سرکاری ادارے ’’نیشنل سیمپل سروے آفس‘‘ کی رپورٹ ہے ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا کے سب سے زیادہ 10 آلودہ شہر بھارت میں واقع ہیں ۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ 30 برسوں میں اتنے بھارتی فوجی ہلاک نہیں ہوئے جتنے محض مودی کے عہد اقتدار میں ہو چکے ہیں ۔ گلوبل ہیلتھ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں مالی عدم مساوات 80 سالہ ریکارڈ توڑ چکی ہے ۔ تھامس راءٹر سروے پہلے ہی بھارت کو خواتین کے رہنے کیلئے بدترین ملک قرار دے چکا ہے ۔ بھارتی فوج خود اقرار کرتی ہے کہ مودی کے عہد اقتدار میں کشمیریوں نوجوان دھڑا دھڑ بندوقیں اٹھا کر قابض بھارتی فوج کیخلاف حق خود ارادیت کیلئے برسرپیکار ہو رہے ہیں ۔ بھارتی میڈیا بھی اب وقتاً فوقتاً دہائی دینے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ مودی کی قیادت میں ;667480; کے حکومت میں آنے کے بعد سے گءو رکھشا کے نام پر مسلمانوں کو تشدد کر کے موت کے گھاٹ اتارنا معمول کی بات بن چکی ہے ۔ انوائرمنٹل پرفارمنس انڈیکس کہتا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں ہندوستان سب سے اوپر ہے ۔ مودی فنانس بل 2017 کے ذریعے پہلے ہی بیرونی فنڈنگ اور کرپشن کو کافی حد تک قانونی قرار دے چکے ہیں ۔

اس کے علاوہ ہول سیل پرائس انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ 18 سالوں میں اب بھارتی کسانوں کی حالت بدترین سے بھی آگے کی حد عبور کر چکی ہے ۔ خود ہندوستان کے سرکاری ادارے ’’ نیشنل کرائمز ریکارڈ بیورو ’’ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ’’ سالِ گذشتہ ‘‘ کے دوران ’’ 1,33,623 ‘‘ افراد نے خود کشی کی ۔ ظاہر سی بات ہے کہ محض ایک برس کے اندر اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا خود اپنے ہاتھوں اپنی جان لے لینا ایسی بات نہیں جسے سرسری کہہ کر نظر انداز کیا جا سکے ۔ بلکہ یہ ایسا انسانی المیہ ہے جس پر دنیا میں بوجوہ خاطر خواہ ڈھنگ سے توجہ نہیں دی جا رہی ۔ اس معاملے کی مزید تفصیلات کے مطابق گذشتہ سال میں خود کشی کرنے والوں میں خواتین کی تعداد 42088 ہے ۔ اٹھارہ سال سے ساٹھ سال کے درمیان کی عمر کے 79834 مردوں نے جبکہ اسی ایج گروپ کی 34381 خواتین نے خود کشی کی ۔ اس کے علاوہ اٹھارہ سال سے کم عمر 9408 لڑکے لڑکیوں نے اپنے ہاتھوں موت کو گلے لگایا ۔

سماجی ماہرین نے اس صورتحال کے پس منظر میں کہا ہے کہ یہ اپنے آپ میں اتنا بڑا انسانی المیہ ہے جس پر نہ تو خود بھارت کے اندر خاطر خواہ ڈھنگ سے توجہ دی جا رہی ہے اور نہ ہی عالمی رائے عامہ اس طرح سے اس جانب کان دھر رہی ہے جو اس صورتحال کی متقاضی ہے ۔

اس کے ساتھ ساتھ کانگرس کی سربراہ ’’ سونیا گاندھی ‘‘ نے کانگرس ورکنگ کمیٹی کے سالانہ اجلاس سے اپنے خطاب کے دوران اس امر کی نشاندہی کی مودی کے بر سرِ اقتدار آنے اور خصوصاً نوٹ بندی کے بے سر و پا فیصلے کے نتیجے میں بھارت میں بیروزگاری کی شرح خطرناک حد تک بڑھتی چلی جا رہی ہے ۔ اس موقع پر سابق بھارتی وزیر اعظم اور ماہرِ اقتصادیات’’ من موہن سنگھ ‘‘ نے اعداد و شمار کے ساتھ بتایا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں بھارتی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا اور ;716880; میں مزید گراوٹ بھی یقینی بن چکی ہے اور قوی اندیشہ ہے کہ اس ضمن میں صورتحال مزید بگڑے گی ۔ جس کے نتاءج بھارت کو ہر شعبہ حیات میں منفی ڈھنگ سے متاثر کریں گے ۔

علاوہ ازیں سونیا گاندھی نے کہا کہ مودی دور میں بھارت کا اقتصادی کے ساتھ ساتھ سماجی ڈھانچہ بھی بری طرح چر مرا کر رہ گیا اور ایک جانب کشمیر ( مقبوضہ ) میں صورتحال بھارتی فوج ( قابض ) کے قابو سے باہر ہو چلی ہے تو دوسری طرف اتر پردیش میں یوگی اور مودی راج کے نتیجے میں مذہبی انتہا پسندی عروج پر پہنچ چکی ہے ۔ جس کے منفی نتاءج بہر صورت بھارتی سا لمیت کو متاثر کریں گے ۔ ماہرین کے مطابق اگر اب بھی بھارتی حکمران دعوے کرےں کہ ہندوستان ترقی کی تمام منازل طے کر رہا ہے تو اسے دیوانے کی بڑ سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔