- الإعلانات -

مودی کابھارتی عوام کولولی پاپ

’’اچھے دن آئیں گے‘‘مودی کا یہ لولی پاپ‘‘ سنتے سنتے بھارتی عوام آج کل ایک دوسرے سے یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ ’’مودی جی نے یہ ضرورکہا تھاکہ ’’اچھے دن آئیں گے،،اچھے دن آئیں گے;238; ‘‘ لیکن مودی جی نے ’’اچھے دن آنے کا نہ توکوئی دن بتایا، تاریخ دی، مہینہ بتایا ،نہ ہی یہ تبایا کہ کس سال کے کس مہینے کے کس دن تک دیش کے عوام ’’اچھے دن‘‘کا انتظار کریں ;238;ایک ارب اور غالبا چالیس کروڑ کی آبادی کے دیش کے عوام کی واضح اکثریت کوآرایس ایس کی مودی سرکار نے دل فریب اور دھوکہ دہی کے کھوکھلے نعروں سے بیوقوف بناکر جیسے تیسے پچھلے پانچ برس بیتا لیئے اور اگلے پانچ مزید حکومت کی باگیں اپنے ہاتھوں لینے کے لئے ’’اچھے دن آئیں گے‘‘ کا نیافریب دیدیا، پچھلے پانچ برسوں میں بھارتی عوام کی اکثریت غربت کی اتھاہ گہرائیوں میں جتنی گرنی تھی سواورگرگئی،مگرکوئی یہ توپوچھے اس بار بھارتی عوام نے کس ’’آسرے’’پر ایک مرتبہ پھر مودی سرکار کو اپنے اوپر لادھ لیا ہے;238;اس بار کچھ نیا ہوا یا نہیں ہوا مگر مودی نے اس بار پورا الیکشن مندر،مسجد،ہندومسلم کے مذہبی منافرت کے ’’بھڑکاو‘‘جنونی نفسیاتی حربوں کو استعمال کرکے بالا آخر جیت ہی لیا اور اس بھارتی’’الیکش ہانڈی‘‘ میں مقبوضہ کشمیر کے تین سوستر آرٹیکل کو ختم کرنے کی بات کرکے ان پڑھ نیم خواندہ جذباتی بھارتی ووٹرز کے فکری سوج بوجھ کی طاقت ہی سلب کرلی مطلب یہ کہ ’’پاکستان کو سبق سکھانے‘‘کے ساتھ اب ’’کشمیر کا مستقل‘‘ تنازعہ بھی اگر کوئی حل کرپائیں گے تو وہ صرف’’مودی جی‘‘ ہی توہیں ;238; مدھیہ پردیش اور اترپردیش کے عام ووٹرزکی انسانی سہولیات کے گنجلک اور پیچیدہ مسائل کا ’’کشمیر‘‘سے کیا تعلق;238; جہاں روزگارنہیں ہے،پینے کا صاف پانی نہیں ہے صحت کے بنیادی مراکز تودرکنار صحت کی آگاہی کا کوئی سرکاری انتظام تک نہیں ،جہاں پرائمری سطح کے اسکول نہیں ،بھارت میں ایسی کئی ریاستیں ہیں جہاں اکہتربرس گزرجانے کے باوجود اینٹوں کی پکی گزرگاہیں نہیں ہیں اکیسیویں صدی ٹیکنالوجی کی صدی متمدن تہذیب یافتہ دنیا کی صدی ،مگروائے افسوس کامقام!بھارت جیسے ملک میں فی زمانہ کئی ریاستوں کے ڈسٹرکٹس میں ، اضلاع میں اور تحصیلوں کے علاوہ گاوں دیہات کے لوگ بیت الخلا ء کےلئے کھیتوں میں فارغ ہونے جاتے ہیں ، بجلی نہیں ہے ایک انسان کو جینے کےلئے کس کس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ سہولیات80 فیصد بھارتیوں کو میسر نہیں ہیں جبکہ71برسوں سے بھارت میں اگر مسلسل عوام کو کوئی چیز ہر پانچ برس مکمل ہونے کے بعد ملتی ہے تو وہ ہے ’’جمہوریت‘‘ یہ جمہوریت کیسی چل رہی ہے، جمہوریت اور انسانی سہولیات کی فراہمی کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے اس کا صاف سیدھا مطلب یہ ہوا کہ بھارت میں انسانی سہولیات کی فراہمی کے قومی خزانے کے ’’فندز‘‘پر جمہوریت کے نام پر اکہتر برسوں سے مرکزی اور ریاستی سرکاروں کے ’’ بھگت‘‘ بخوب کھل کر ڈاکے ڈال رہے ہیں ’’پاکستان کو سبق سکھانے‘‘کے نام پر گزشتہ 6 برسوں میں مودی سرکار نے اور باقی کے65 برسوں میں دیگر بھارتی حکومتوں نے بھارت کو دنیا میں اسلحہ کی خریداری کا اولین مرکز ضرور بنادیا پھر بھی بھارت نے ’’سبق‘‘ہمیشہ پاکستان سے ہی سیکھا، تھوڑا بہت چین نے بھی ’’سبق‘‘سکھانے میں اپنا حصہ ڈالا ہے مگر مجال ہے جو نئی دہلی نے اپنے دونوں پڑوسی ممالک سے ’’سیکھے ہوئے سبق‘‘کو یاد رکھا ہو،یہاں یہ موضوع نہیں بات ہورہی ہے کہ خود نئی دہلی کے ایوانوں کے مکینوں نے اپنے عوام کے ساتھ کتنے دھوکہ کیئے،کتنے فریب دئیے، اب تو بھارت میں ’’الیکشن ترپ‘‘کا آخری پتا بھی دنیا کے سامنے آگیا جس کے نتیجے میں مقبوضہ وادی اب نئی دہلی کے ہاتھوں سے پھسلتی دنیا کو صاف نظرآرہی ہے اس بارے میں جلد ہی دنیا کو مزید اور کچھ معلوم ہوجائے گا، ذرا کشمیری عوام پر لاگو فوجی پابندیاں ہٹنے تو دیں ،عالمی میڈیا جن میں امریکا، برطانیہ، جرمنی اوریورپی یونین کے علاوہ افریقی اور عرب دنیا کے اخبارات، ٹی وی نیوز چینلزبلکہ سوشل میڈیا کے کئی چینلز میں بارہا بتایا جارہا ہے گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران سبھی اس نکتہ ہر متفق ہیں کہ مودی سرکار کو جلد اپنے عوام سے معافی مانگنی ہوگی ، کیونکہ عالمی میڈیا نے مودی سرکار کی پانچ سالہ کارکردگی کا پول کھول دیا ہے، جس میں نمایاں اعداد وشمار کے ساتھ تفصیل دی گئی ہے کہ بی جے پی دور میں معیشت کا پہیہ جس تیزی سے چلنا چاہیئے تھا نہیں چل سکا، جس کی وجہ سے بھارت میں بے روزگاری کا 45سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا کئی معتبر عالمی ذراءع ابلاغ کے مطابق بھارت میں لاکھوں کسانوں نے احتجاج کیا معیشت کی اس تنزلی کو مودی سرکار نے اپنے عوام سے چھپائے رکھنے مں اپنی عافیت جانی، مودی عہد کے گزرے پانچ سالہ دورِ حکومت میں ملکی معیشت کو از حد نقصان پہنچا ہے لیکن بی جے پی حکومت نے بہت ہی چالاکی سے عوام کی ساری توجہ ’’پاک بھارت کشیدگی‘‘ کی جانب مبذول کرادی، نریندرا مودی نے اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ بچانے کےلئے پہلے پلوامہ اور پھر بالاکوٹ حملے کاسہارالیا،جس کے بعدمودی نے الیکشن میں عوامی توجہات کوبڑی پھرتی سے منتشر کیا ’’ہندوقومیت پرستی‘‘ اور ’’دیش بھگتی‘‘ کے علاوہ دیش کے موجودہ نیتاؤں پر سوال اْٹھانے والے اپوزیشن میڈیا پر ’’دیش دروہئی‘‘کے لگاتار الزامات لگائے گئے مودی نے ’’پلوامہ‘‘ حملے کو اپنی الیکشن مہم کی علامت قرار دیدیا، اگر یہاں یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ’’پلوامہ حملہ‘‘ کے بعد پاکستان پر ہزرہ سرائی کرنے پر مودی نے براہ راست بڑا فائدہ اْٹھایا اروند سبرامنیئن بھارت کے بڑے جانے مانے صحافی ہیں جنہوں نے ’’ٹائمزآف انڈیا‘‘ میں اپنے آرٹیکل میں دیش کے عوام کو باخبر کرتے ہوئے صاف لکھا ہے کہ بھارت کا ’’گودی میڈیا‘‘دیش کی معاشی ترقی کے بارے میں جعلی اور لغو اعداد و شمار پیش کرکے مودی کی معاشی پالسیوں کی بالکل غلط تصویر پیش کررہا ہے،اروند سبرامنیئن کہتے ہیں کہ اْن کی تحقیق کے مطابق مودی نے اقتدار میں آنے کے بعد’’معاشی ترقی کو ماپنے ‘‘کا طریقہ کارہی تبدیل کر دیا ہے، جس بنا پر اب دیش کی سالانہ مجموعی پیداوار ’’جی ڈی پی‘‘بڑھا چڑھا کر بتائی جارہی ہے، سبرامنیئن کے معاشی مشاہدات نے آرایس ایس کے حلقوں میں یوں سمجھیں کہ تہلکہ سامچادیا ہے کئی اہم نوعیت کے سوالا ت اب شعلے دینے لگے ہیں ، آج نہیں توکل مودی،اجیت ڈوبھال اور امیت شاکو دیش کے عوام سے معافی تو ہر صورت مانگنی ہی پڑے گی وجہ یہ کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ایک کام بھارت میں ڈنکے کی چوٹ پر کیا گیا ’’بھگوا‘‘پرچارکوں کو اہم سرکاری اداروں میں اہم پوسٹوں پر بیٹھا دیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں بھارت پانچ برسوں میں پندرہ برس پیچھے لوٹ گیا ہے واشنگٹن پوسٹ کی شاءع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ ماناگیا ہے کہ دنیا کے آلودہ ترین دس بڑے شہروں میں بھارت کے شہر ٹاپ پر آگئے ہیں ماحولیاتی ا;63;لودگی کی ابترصورتحال دیکھ لیں کہ دورز پیشتر ہی خود مودی گندگی اْٹھاتے پائے گئے یہ بھی ایک سچ ہے کہ گزشتہ تیس برسوں میں بھارت میں سب سے زیادہ پانچ برسوں کے دوران بھارتی فوجی ہلاک ہوئے’’کریڈٹ سوئس رپورٹ‘‘بتاتی ہے کہ مودی کا گزشتہ پانچ سالہ دورِ حکومت انسانی امتیازت کے حوالے سے عدم برداشت کا بہت بْرا دورتھا،امریکی نیوز ایجنسی ’’راءٹرز‘‘کے جاری کردہ ایک سروے نے لکھا کہ ’’بھاجپا سرکار کا دور بھارتی خواتین کی سرعام بے حرمتی کی بدترین علامت کے طور پر یاد رکھا جائے گا‘‘ مودی کے عہد میں کشمیری نوجوان بڑی تعداد میں عسکریت پسندی کی جانب مائل ہوئے، مودی دور بھارتی کسانوں کےلئے گزشتہ اٹھارہ برسوں میں مالی طور پراْنہیں بے پناہ نقصان سے دوچار کرنے والا دورکہلایا جائے گا ’’ماب لینچنگ‘‘کا کلچرعام ہوا ہے،گائے رکھشاء کے نام پرپْرتشدد قتل عام دیش میں ایک سرے سے دوسرے تک دیکھا گیا ہے مسلمانوں کو آزادی کے ساتھ نماز جمعہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی غیر ملکی فنڈنگ کی برآمد کی بدعنوانیاں اور اقرباپروری کی کرپشنز کے واقعات عام ہوئے، مرضی کے ’’فنانس بل‘‘پاس کیئے گئے، بھارتی جمہوریت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ آف انڈیا کے چار معزز ججز نے دیش کی جمہوریت کو لاحق خطرات کا اپنی پریس کانفرنس میں ’’آلارم‘‘بجادیا ہے، مودی عہد میں بھارت نے اب یہ وقت بھی دیکھا لیا کہ ’’وزارت دفاع کے حساس دفاتر سے ’’رافل طیاروں ‘‘کے خفیہ سودے کی دستاویزات اْڑالی گئیں ،عدم رواداری،مذہبی لسانیت اور ذات پات چھوت چھات کے غیرانسانی ہتھکنڈوں کے واقعات نے بھارت کو دنیا میں بدنام کرکے رکھ دیا، بھارت کے بانی مہاتما گاندھی کے قاتل جنونی ’’گوڈسے’’کودیش کا ہیرومان لیاگیا ہے;238; کیا دنیا اسی بھارت کو ایک ذمہ دار’’ایٹمی ملک ‘‘ مان لے گی;238; دنیا کو سوچنا ہوگا کہ بھارت میں ’’اچھے دن‘‘ مستقبل قریب میں آتے کسی کو دکھائی نہیں دیتے ۔