- الإعلانات -

سعودی عرب ، ایران تنازعہ، عمران خان کی خوش آئند کاوشیں

خطے کی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم پاکستان نے سعودی عرب اور ایران کے مابین کشیدہ صورتحال کو ختم کرنے کیلئے جس سہولت کاری کی پیشکش کی تھی ۔ اس میں وہ کامیاب نظر آرہے ہیں ۔ ایک روزہ دورہ کامیاب رہا ۔ دونوں ممالک نے مصالحتی عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ۔ ساتھ ہی ایران نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا ۔ وزیراعظم نے اس موقع پر ایران کے سپریم لیڈر کو مقبوضہ وادی میں ظلم و ستم کے حوالے سے بریف کیا ۔ خطے میں چونکہپہلے ہی جنگی حالات ہیں اور یہ اب مزید تنازعوں کا متحمل نہیں ہوسکتے ۔ ایران اور سعودی عرب میں متنازعہ حالات سے جہاں امن تباہ ہوگا وہاں پر معیشت کو بھی شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے ۔ لہذا ان حالات کو مذاکرات سے ہی کنٹرول کیا جاسکتا ہے ۔ جنگوں سے مسائل حل نہیں بلکہ مزید پیدا ہوتے ہیں ۔ عمران خان نے جو اس وقت ذمہ داری اٹھائی ہے وہ انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ پوری دنیا میں مسلم اُمہ ہی جنگ کی چکی میں پس رہی ہے ۔ گوکہ اہل مغرب کو شاید عمرا ن خان کی یہ کاوش پسند نہ آئی ہو کیونکہ کفار ہر طرف سے متحد ہوکر مسلمانوں کو کچلنے کے ہی درپے ہیں ۔ ایسے میں پاکستان کی جانب سے حالات کو پرامن بنانے کے اقدام قابل ستائش ہیں ۔ ایران کے دورے کے بعد عمران خان سعودی عرب جائیں گے ۔ اس وقت ایک ایسے لیڈر کی ضرورت تھی جو مل بیٹھ کر سہولت کاری کرکے مسلم اُمہ کے مابین پائی جانے والی چپقلش کو دور کرے اور تمام مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد بھی کرے ۔ عمران خان یہ کردار بدرجہ اتم ادا کررہے ہیں ۔ اسی کہ پیش نظر پاکستان نے ایران اور سعودی عرب کے مابین جاری تنازعات کو حل کرنے کیلئے اسلام آباد میں اجلاس بلانے کی پیشکش کردی ۔ یہ پیشکش عمران خان نے تہران میں ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات میں کی ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان ثالث کا نہیں بلکہ سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے، دونوں ملکوں میں دوستی اور ان کو قریب لانے کی کوششوں کا آغاز پاکستان کا اپنا فیصلہ ہے، کسی اور کے کہنے پر ایسا نہیں کررہے، دونوں ملکوں کے درمیان تنازع پیچیدہ معاملہ ہے لیکن اسے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے ۔ ایران سعودیہ تنازع سے نہ صرف خطے کے امن و سلامتی بلکہ معیشت کو بھی شدیدخطرہ ہے، ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں کوئی تنازع پیدا نہ ہوپاکستان کی ایران اور سعودی عرب کے مابین جاری تنازعات کو حل کرنے کیلئے اسلام آباد میں اجلاس بلانے کی پیشکش جبکہ ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ خطے میں امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں ‘یمن میں جنگ فوراً بند کی جائے‘ امریکا ایران پر عائد پابندیاں اٹھائے ۔ عمران خان نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے بھی ملاقات کی ‘اس موقع پر وزیراعظم نے کشمیری عوام کی حمایت کےلئے ایران کے سپریم لیڈر کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم امہ کو بے شمار چیلنجز درپیش ہیں اور ان چیلنجز کا حل ضروری ہے‘ امت مسلمہ میں اتحاد و یگانگت انتہائی اہم اور ضروری ہے ۔ علاوہ ازیں عمران خان کے دورہ ایران کا اعلامیہ جاری کیاگیاجس کے مطابق فریقین نے مصالحتی عمل آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے ‘اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے خلیجی ممالک میں امن وسکیورٹی کے فروغ کے لیے تہران کادورہ کیا، خلیجی ممالک فوجی تنازع سے بچیں اور بات چیت سے مسائل حل کریں ۔ سعودی ایران کشیدگی کم کرانے کیلئے سہولت کاری کیلئے تیارہیں ‘ بھارتی اقدامات سے خطے کے امن کوخطرات لاحق ہیں ،ایران نے خطے میں امن وسلامتی کیلئے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کی تعریف کی‘ فریقین نے مصالحتی عمل آگے بڑھانے کیلئے رابطے جاری رکھنے پراتفاق بھی کیا ۔ ایران اورسعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات انتہائی تاریخی اور گہرے ہیں ‘خطے میں اس قسم کا تنازع انتہائی نقصان دہ ہے ۔ پاکستان نے ماضی میں بھی دونوں ممالک کو ملانے کیلئے میزبانی کا کرداراداکیا‘دونوں ملکوں میں جاری تنازع کے حل کیلئے اسلام آباد ایک بار پھر میزبانی کے لئے تیارہے ۔ ایران اور سعودی عرب کے دورے اور بات چیت خالصتاً پاکستان کا اپنا اقدام ہے، پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان سہولت کاری کا کردار ادا کررہاہے ۔ نیویارک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کو ملاقات کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں کردار ادا کرنے کو کہا تھا ۔ عمران خان نے ایرانی قیادت کو یقین دلایا کہ امریکا ایران مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے سب کچھ کریں گے تا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایٹمی معاہدہ ہو اور پابندیاں اٹھائی جا سکیں ۔ صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور ایران مل کر خطے کے استحکام کےلئے کاوشیں کر سکتے ہیں ‘عمران خان سے خطے کی صورتحال پر گفتگو ہوئی ہے، پاکستان اور ایران خطے کے مسائل بات چیت سے حل کرنے کے حامی ہیں ‘عمران خان کے دورہ ایران کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ‘ خیر سگالی جذبے کے جواب میں خیر سگالی کا ہی مظاہرہ کیا جائے گا لیکن اگر کوئی ملک سمجھتا ہے کہ خطے میں عدم استحکام کے بدلے کوئی کارروائی نہیں ہو گی تو وہ غلطی پر ہے ۔ یمن میں فوراً جنگ بند اور عوام کی مدد کی جائے اور امریکا کو چاہیے کہ ایران پر عائد پابندیاں اٹھائے ۔ عمران خان نے صدر روحانی کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ سمیت مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کے مزید استحکام کے لئے اپنا عزم بھی دہرایا ۔ خطے کی صورتحال کے تناظر میں وزیراعظم نے خلیج میں فوجی تنازعات سے بچنے اور فریقین کے مابین مثبت مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ۔ پاکستان خطے میں تنازعات اور تناءو کو کم کرنے کی کوشش میں بھرپور تعاون فراہم کرنے کے لئے تیار ہے اور پاکستان اختلافات اور تنازعات کو سیاسی اور سفارتی ذراءع سے حل کرانے کے حوالے سے ہر طرح کا ممکنہ تعاون فراہم کرے گا ۔

بھارت کی پاکستان

کیخلاف ہرزہ سرائی اسکی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے

بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا وقت آن پہنچا ہے جس طرح اس نے مقبوضہ وادی میں ظلم و ستم کا بازار گرم کررکھا ہے یہ اسے انتہائی مہنگا پڑنے جارہا ہے،الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے کے مصداق بھارت لگاتار پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کررہا ہے ۔ خود کو ٹکڑوں تقسیم ہوتے ہوئے دیکھ کر اس نے پاکستان کیخلاف زہر اگلنا شروع کردیا ہے ۔ بھارت میں جو تحریکیں اٹھ رہی ہیں وہ تو ایک علیحدہ تاریخ ہے ۔ کانگریس تک کی طرف سے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ بھارتی دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس نے اندھیر نگری مچا رکھی ہے ۔ پوری دنیا کے سامنے مودی کا چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے بتا دیا ہے کہ انڈیا میں اقلیتوں کے ساتھ کس طرح زیادتیاں کی جارہی ہیں ۔ اب بڑھکیں مارنے سے کچھ حاصل نہ ہوگا ۔ بھارت نوشتہ دیوار پڑھ لے کہ مودی حکومت بھارت کی بربادی کا آغاز ہے ۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی دراصل اس کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے، وادی میں وہ جتنے مرضی ظلم کرلے کشمیری اب موت کے خوف سے باہر آچکے ہیں ، ادھر ہی سے بھارت کے شکست و ریخت کا آغاز ہوگا ۔ دنیا بھی بھارت کی اصلیت کو جان چکی ہے کہ جوکچھ وہ مقبوضہ کشمیر میں کررہا ہے وہ جمہوریت کے نام پر ایک کلنگ کا ٹیکہ ہے ۔ وادی میں آج معصوم کشمیری 70 ویں روز بھی محصور، کرفیو اورمواصلاتی پابندیاں بدستور موجود ہیں جس سے کشمیریوں کی زندگیاں اجیرن بن چکی ہیں ۔ مواصلاتی رابطے بحال نہ ہو سکے جبکہ مودی سرکار کی طرف سے مقبوضہ وادی میں موبائل فون کھولنے کا دعویٰ جھوٹا نکلا ۔ مودی سرکار کا آج سے لینڈ لائن سروس بحال کرنیکا دعویٰ، جموں و کشمیر کے تاجروں کا 6ہزار کروڑ سے زائد کا نقصان ہوچکا ۔ پاکستان کی جارح سفارت کاری کے باعث عالمی برادری نے بھارت پر بھرپور دباءو ڈالا ہے جس کے بعد اب مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں ٹیلی فون سروس بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پورے مقبوضہ کشمیر میں ٹیلی فون سروس بحال کر دی جائے گی ۔ کشمیر میں صرف لینڈ لائن سروس بحال کی جائے گی تاہم مقبوضہ کشمیر میں نافذ کرفیو اور دیگر پابندیوں کو تاحال ختم کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا ۔ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ تقریبا ڈھائی ماہ سے جاری بھارتی فوجی محاصرے کے باعث وادی کشمیر کے تاجروں کے ساتھ ساتھ جموں کے تاجروں کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر سرینگر سینٹرل جیل ہزاروں نوجوانوں سے بھرا پڑا ہے، چھاپوں اور گرفتاریوں کے دوران نوجوانوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ مقبوضہ وادی میں کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہونے کی وجہ سے جموں کے تاجر بھی سخت متاثر ہیں ، دفعہ 370کے خاتمے کے بعدصرف جموں کے تاجروں کا اب تک 500 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے ۔ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریزکی طرف سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 5اگست سے جموں وکشمیر کے تاجروں کا6ہزار کروڑ سے زائد کا نقصان ہوا ہے ۔ بھارت میں انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس( آئی اے ایس) کے سابق ا;63;فیسر کنن گوپی ناتھن نے بھارتی ریاست کیرالہ کے شہر تھسور میں جمہوریت کے بارے میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کو انسانی حقوق سے محروم رکھنا اور سٹیزن شپ ترمیمی بل کے نام پر ا;63;سام میں لوگوں کی شہریت ختم کرنا ا;63;ئین کی خلاف ورزی ہے ۔ تامل ناڈو کے انسانی حقوق کے کارکن اے مارکس نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جو کچھ ا;63;جکل کشمیر اور ا;63;سام میں ہورہاہے اس کو بہت جلد کیریلا اور تامل ناڈو میں دہرایا جائے گا ۔ ایک کشمیری سماجی کارکن روپ چند مکھنوترا نے کشمیرکی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کی تفصیلات بیان کیں ۔ کانفرنس میں کشمیر اور ا;63;سام میں امن اور جمہوریت کو بحال کرو کے نعرے لگائے گئے ۔

پارلیمانی سفارتکاری کی تاریخ میں پاکستان کی بڑی فتح

بھارت کو پھر سفارتی سطح پر شکست کا اس وقت سامنا کرنا پڑا جب پارلیمانی سفارتکاری کی تاریخ میں پاکستان نے فتح حاصل کرتے ہوئے پارلیمانی یونین کی ایگزیکٹو کمیٹی کی رکنیت کیلئے سینیٹر رضا ربانی نے فیصلہ کن کامیابی حاصل کی ۔ اس سلسلے میں بھارت نے بے حد ہاتھ پاءوں مارے لیکن اسے منہ کی ہی کھانا پڑی ۔ اس وقت دنیا کا کوئی ایسا محاذ باقی نہیں جہاں پر مودی کو سبکی کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو ۔ ادھر سینیٹر رضا ربانی کا مقابلہ بھارتی امیدوار ششی تھرور سے تھا ۔ دنیا کی 188 پارلیمانوں پر مشتمل انٹر پارلیمانی یونین کی جنرل اسمبلی کا اجلاس بلغراد میں ہوا ۔ اعلامیہ کے مطابق پاکستانی پارلیمانی وفد نے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی قیادت میں انٹر پارلیمانی یونین کے اجلاس میں شرکت کی ۔ پاکستان کی پارلیمنٹ نے اس عہدے کیلئے سینیٹر رضا ربانی کو نامزد کیا تھا ۔ ایشیا پیسفک گروپ کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیرصدارت ہوا جس میں ایشیا پیسفک ممالک نے آئی پی یو کی مجلس عاملہ کیلئے متفقہ نمائندہ منتخب کرنا تھا ۔ اسد قیصر بین الاقوامی پارلیمانی تنظیم آئی پی یو کے ایشیا پیسفک گروپ کے موجودہ چیئرمین ہیں ۔ پاکستان نے گروپ میں خفیہ رائے دہی کا مطالبہ کیا ۔ اپنی یقینی ہار دیکھتے ہوئے بھارتی امیدوار ششی تھرور نے اپنا نام واپس لینے کا اعلان کر کے شکست مان لی ۔ بھارتی وفد کی جانب سے انتخابات کو موَخر کرانے کی بھی کوشش کی گئی ۔ اعلامیے کے مطابق آخری وقت میں بھارتی لوک سبھا نے کانگریس کے رکن ششی تھرور کو امیدوار نامزد کیا تھا‘ بھارتی کوشش کو 34 رکنی ایشیا پیسیفک گروپ کے کسی بھی رکن سے پذیرائی نہ مل سکی ۔ بھارتی امیدوار کی انتخاب سے دستبرداری پر سینیٹر رضا ربانی بلامقابلہ منتخب ہوئے ۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ رضا ربانی 3 سال کیلئے انٹر پارلیمانی یونین کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن جبکہ سینیٹر جاوید عباسی ڈرافٹنگ کمیٹی کے رکن ہوں گے ۔ سینیٹر رضا ربانی کے علاوہ ایشیا پیسیفک گروپ نے سینیٹر شیری رحمن کو کمیٹی برائے پائیدار ترقی‘ مالیات اور تجارت کا رکن بھی منتخب کر لیا ۔