- الإعلانات -

سی پیک کو نقصان پہنچانے کی بھارتی منصوبہ بندی

حال ہی میں چینی وزیرخارجہ نے دورہ پاکستان میں سی پیک کے جاری منصوبوں کو جلد مکمل کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک منصوبوں سے روزگار کی فراہمی، صنعتی پارکس اور زراعت کے شعبے میں انقلاب برپا ہو جائےگا ۔ دونوں ممالک کے درمیان سی پیک منصوبہ ایک نئے فیز میں داخل ہو چکا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات میں پاک چین تعلقات، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) فریم ورک کے تحت چین کے تعاون پر اظہار تشکر کیا ۔ جواباًصدر شی جن پنگ نے سی پیک منصوبوں میں تیزی لانے پر پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سی پیک سے قومی و علاقائی معاشی ترقی کے عمل میں مدد ملے گی ۔ حقیقت میں بھارت کو سی پیک لڑ گیا ہے ۔ بھارت کو پاک چین مشترکہ اعلامیہ پر تشویش لاحق ہوگئی ہے ۔ اسی ضمن میں بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین کو آزاد کشمیر میں پاک چین راہداری منصوبے (سی پیک) پر اپنی سرگرمیاں بند کر دینی چاہئیں کیونکہ آزادکشمیر بھی بھارت کا حصہ ہے جس پر پاکستان نے 1947 سے قبضہ کر رکھا ہے اور اس میں کسی قسم کا بھی منصوبہ بھارت کی اجازت کے بغیر نہیں مکمل ہو سکتا ۔ بھارت نے صرف پاکستان کی ضد میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے اجلاس میں شرکت سے معذرت کی تھی جس پر بیجنگ نے بھارت کے پاک چین اقتصادی راہداری پر اعتراضات کو بہانہ بنا کر ’بیلٹ اینڈ روڈ فورم‘ کے ہونے والی دوسرے اجلاس میں شرکت سے انکار کے عمل کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے بھارت کو جلد بازی میں فیصلہ کرنے سے باز رہنے کا کہا ہے ۔ بھارت نے 2017 میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے پہلے اجلاس کا بائیکاٹ بھی کیا تھا ۔ اس ضمن میں چینی قیادت کہنا ہے کہ بی آر آئی ایک معاشی پروجیکٹ ہے جس میں جنوب ایشیائی، خلیجی ممالک اور یورپی ممالک ایک دوسرے سے منسلک ہوجائیں گے اور تجارتی فوائد حاصل کریں گے ۔ اس پروجیکٹ کا کسی بھی زمینی تنازع یا ملکیت سے کچھ لینا دینا نہیں ہے اس لیے بھارت اپنی بے جا ضد چھوڑ دے ۔ چین نے سی پیک پر بھارتی اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک منصوبہ خوش اسلوبی سے جاری ، بھارت مبالغہ آرائی سے باز رہے ۔ بھارتی خدشات بے بنیاد ہیں ۔ پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ اب عملدرآمد کے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے ۔ پاکستان میں توانائی کے سترہ میں سے گیارہ منصوبوں پر کام شروع کردیاگیا ہے ۔ ان میں سے چند منصوبے مکمل بھی ہو چکے ہیں ۔ منصوبوں کی تکمیل سے ملک میں بجلی کی قلت پرقابو پانے میں مدد ملے گی اور پاکستان کے عوام کو ریلیف ملے گا ۔ چین امن اورترقی کا وکیل ہے ۔ خطے میں بالادستی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا ۔ ہماری وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے گلگت بلتستان میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کی ہے اور بھارت سی پیک کی تنصیبات کو نقصان پہنچاسکتا ہے ۔ اس صورتحال میں وزارتِ خارجہ میں خصوصی سی پیک ڈیسک قائم کردیا گیا ہے جس کا مقصد مختلف بین الاقوامی فورمز پر سازشوں سے نمٹنا ہے ۔ صوبے میں بدامنی پھیلانے کےلئے ’’را‘‘ فنڈنگ بھی کررہی ہے جس کا ہدف آخر سی پیک ہی ہے ۔ سی پیک روٹ پرموجود آر سی سی پلوں کو خطرات لاحق ہیں ۔ وزارت داخلہ کے خط میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ بھارت نے چار سو نوجوانوں کو تخریب کاری کی تربیت کےلئے افغانستان بھیجا ہے ۔ یہ تربیت یافتہ نوجوان شاہراہ قراقرم کو بھی نقصان پہنچاسکتے ہیں ۔ گلگت بلتستان اور دوسرے شمالی علاقے دشوار گزار ہیں یہاں سڑکیں اور پل بنانا دِقت طلب کام ہے اور انجینئرنگ کے شاہکار شاہراہِ قراقرم کی سی پیک کے تحت جو اپ گریڈیشن ہورہی ہے اس کی وجہ سے اس شاہراہ کی افادیت بہت بڑھ جائیگی ۔ اگلے چند برسوں میں یہ منصوبے پاکستان کی معیشت میں اپنا شاندار حصہ ڈال رہے ہوں گے ۔ اس لئے بھارت نے یہی وقت غنیمت جانتے ہوئے ان منصوبوں کو سبوتاژ کرنے پر کمر کس لی اس سے پہلے اس نے ہر سطح پر کوشش کرکے دیکھ لی ۔ منصوبوں کو متنازعہ بنانے کے لئے بھی طرح طرح کے شوشے چھوڑے گئے ۔ نریندر مودی نے چینی صدر شی چن پنگ سے شکایت کی ۔ بعد میں بھارتی وزارتِ خارجہ کے افسروں کے ذریعے بھی سفارتی سطح پر کوشش کی جاتی رہی کہ کسی طرح ان منصوبوں کو روکا جائے ۔ جب ساری کوششیں رائیگاں گئیں تو بھارت نے اس معاملے میں امریکہ کو بھی گھسیٹ لیا جس کا ان منصوبوں سے کوئی بلاواسطہ تعلق بھی نہیں اور اگر امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات خراب ہوتے ہیں تو یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ پاکستان اپنے دوسرے دوستوں کے ساتھ مل کر اپنی معیشت کو رواں دواں رکھنے کےلئے اقدامات کرے ۔ سی پیک ایسا ہی ایک گیم چینجر منصوبہ ہے ۔ جب بھارت سے بھی کچھ حاصل نہ ہوا تو براہ راست سبوتاژ کی کارروائیاں شروع کردیں جس کا اعتراف بھارتی جاسوس اپنے اقبالی بیان میں کرچکا ہے ۔ بھارتی کارروائیوں کو ناکام بنانے کےلئے ضروری ہے کہ نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے ملک میں منصوبوں کی حفاظت فول پروف بنائی جائے خاص طور پر چینی انجینئروں اور ماہرین کی سیکیورٹی میں کوئی رخنہ باقی نہ رہنے دیا جائے کیونکہ اگر چینی باشندے اسی طرح ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوتے رہے تو چین کی قیادت ان منصوبوں پر نظر ثانی کرسکتی ہے اور یہی بھارت کا مقصد ہے کہ ہر جانب سے ناکامی کے بعد اب وہ تخریبی کارروائی پر اتر آیا ہے ۔