- الإعلانات -

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے

ہنگائی ایک ایسا بنیادی مسئلہ ہے جس کو تاحال حل نہیں کیا جاسکا، اوپن مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں اس کو کون کنٹرول کرے گا ، حکومت کی جانب سے مقرر کردہ پرائس پر عملدرآمد کون کرائے گا ۔ یہ بہت اہم سوال ہے ۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اس جانب خصوصی توجہ دی ہوئی ہے ۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے قبل بھی بڑھتی ہوئی مہنگائی پر وزیراعظم نے تشویش کا اظہار کیا تھا اور گزشتہ روز جب وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا تو اس میں بھی کابینہ نے جہاں نیب اور بے نامی ٹرانزیکشن سے متعلق ترامیم کا فیصلہ کیا ہے وہاں دیگر بنیادی اور اہمیت کے حامل عوامی مسائل پر خصوصی توجہ مبذول کی ہے ۔ 5 کروڑ سے زائد کرپشن والے ملزم کو جیل میں سی کلاس دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ بے نامی ٹرانزکشن قوانن میں ترمیم اور نئی شق وسل بلور بھی شامل کی گئی ہے ۔ ملزم کو انکوائری تحقیقات اور ٹرائل کے دوران بھی جیل میں سی کلاس میں رکھا جائے گا بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ کے سیکشن 2 میں شق نمبر 31 میں اضافہ کیا جائے گا ۔ کوئی بھی شخص کسی بھی اینٹی کرپشن قانون کے تحت بے نامی اثاثوں کی نشاندہی کرسکے گا ۔ ہمارے ملک کا المیہ ہی یہ ہے کہ یہاں پر بے نامی اثاثوں کی بھرمار ہے اسی وجہ سے ٹیکس چوری بھی عروج پر ہے ۔ اب حکومت اس جانب متوجہ ہوکر کام کررہی ہے ۔ سیاسی میدان کے وہ بڑے بڑے کھلاڑی بلکہ اگر انہیں خطرناک مگر مچھ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ ان میں سے بہت سے لوگ پابند سلاسل ہیں ، وضاحتیں پیش کررہے ہیں ۔ ہم یہاں یہ کہتے ہیں کہ خوف کس بات کا ہے جب دامن صاف ہے تو عدالتوں میں حقائق اور ثبوت پیش کریں ۔ باہر نکل آئیں ، صرف بیان بازیوں ، ہنگاموں اور دھرنوں سے کرپشن ، بے نامی جائیدادوں ، بے نامی اکاءونٹس یا غیر قانونی ٹرانزیکشن کو چھپایا نہیں جاسکتا ۔ حکومت نے عزم مصمم کرکے ایک فیصلہ کیا ہے کہ اس نے ملک سے کرپشن ختم کرنا ہے ۔ تو ہ میں اس سلسلے میں حکومت اور حکمرانوں کا ساتھ دینا ہوگا ۔ کرپشن ایک ایسا ناسور ہے جو ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے اس کو ختم نہ کیا گیا تو پھر مستقبل میں تباہی ہی تباہی ہے ۔ کرپشن زندگی کے کسی بھی شعبے میں ہونا قابل برداشت ہے ۔ اس اعتبار سے وفاقی کابینہ نے جو فیصلہ کیا ہے وہ قابل ستائش ہے ۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے سعودی عرب اور ایران کے معاملے پر کابینہ کو اعتماد میں لیا ۔ خطے میں چونکہ جنگی ماحول ہے ایسے میں امت مسلمہ کا جنگ و جدل میں پھنس جانا انتہائی نقصان دہ ہے ۔ سعودی عرب اور ایران کے مابین چپقلش نہ صرف خطے بلکہ دنیا کیلئے نقصان دہ ہے ۔ اس سلسلے میں وزیراعظم نے انتہائی بڑا قدم اٹھایا ہے کہ وہ سعودی عرب ایران کے مابین حالات درست کرانے کے سلسلے میں سہولت کار کا کردار ادا کریں گے ۔ اس سے قبل وزیراعظم نے کہا تھا کہ وہ کشمیریوں کے سفیر بنیں گے ۔ سو وہ انہوں نے ثابت کرکے دکھایا ۔ مودی اور اس کے فاشسٹ غیر جمہوری چہرے کو دنیا کے سامنے آشکارا کیا ۔ آج بین الاقوامی برادری جان چکی ہے کہ مودی کس طرح مقبوضہ وادی میں ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے ۔ اب حتیٰ کہ کشمیری وادی میں سول نافرمانی پر آمادہ ہوچکے ہیں جبکہ بھارتی سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج مرکنڈے کاٹیجو نے کہاکہ نریندر مودی بھارت کا سربراہ بنا بیٹھا ہے دراصل وہ ایک جوکر ہے ۔ جسے کرتب کے سوا کچھ نہیں کرنا آتا ۔ خطرناک طوفان بھارت کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ مودی ایک خالی دماغ کی شخصیت کا مالک ہے یہ ایک ایسا بندہ ہے جس کے دماغ میں صرف نفرت ہی نفرت بھری ہوئی ہے ۔ بھارت میں آئین کا حلیہ قطعی طور پر بگاڑ کر رکھ دیا گیا ہے ۔ انڈین معاشی حالت بد سے بدترین ہوتی جارہی ہے اور ان تمام چیزوں کا غصہ بے چارے مسلمانوں پر نکالا جارہا ہے ۔ بھارتی جسٹس مرکنڈے نے بالکل درست کہا ہے کیونکہ مودی آر ایس ایس کا پیروکار ہے اور یہ لوگ اکھنڈ بھارت کے قیام کے خواب میں مگن ہے لیکن وزیراعظم عمران خان کشمیر اور کشمیریوں کی آواز بن کر بھارت اور خصوصی طورپر مودی کے عزائم کو خاک میں ملایا دیا ہے ۔ بھارت کو ہر جانب ہزیمت کا سامنا ہے اس اعتبار سے پاکستان کی سفارتکاری کامیابی سے ہمکنار ہے ۔ وفاقی کابینہ نے رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام،اسلام آباد ماسٹر پلان،سی ڈی اے کی تنظیم نو، لنگرخانوں سے متعلق پالیسی کی منظوری دیدی ۔ وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے تمام وزیر اعلیٰ اور صوبائی حکام کو جمعہ کو طلب کر لیا اورذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کیخلاف کریک ڈاءون کی ہدایت کر دی ۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مال بچاءو پارٹیوں نے اپنا مال بچانے کا ایجنڈا مولانا کو ٹھیکے پر دیدیا ،دونوں پارٹیاں دوربینیں لگا کر مولانا کو دیکھ رہی ہیں کہ وہ کس حد تک ان کے ایجنڈے کی تکمیل کرتے ہیں ، ہماری نظریں دھرنے کی بجائے ملکی چیلنجز پر مرکوز ہیں ، ان تلوں میں تیل نہیں ہے یہ بازو آزمائے ہوئے ہیں ،آزادی مارچ سے نمٹنے کا لاءحہ عمل صوبائی حکومتوں پر چھوڑا گیا ہے ،صوبائی حکومتوں نے مدد مانگی تو وفاق ضرور دے گا ۔ کمیٹی بنائے کی بجائے کابینہ نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ نیب از خود کوئی پالیسی بنائے کہ کیسے بیوروکریٹس اور کاروباری افراد کوہراسانی سے بچایا جائے ۔ کابینہ اجلاس میں 12نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا،وزیراعظم نے اپنے دورہ چین اور ایران پر کابینہ کو اعتماد میں لیا،وزیر اعظم نے اپنے دورہ چین میں چینی قیادت کی جانب سے کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرنے پر شکریہ ادا کیا ۔ ایران اور سعودی عرب ملت اسلامیہ کے دو اہم ترین اور ہمارے برادر دوست ملک ہیں ،وزیراعظم کی کوششوں کو ایرانی قیادت نے پذیرائی بخشی ۔ وزیراعظم نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے کنٹرول کیلئے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات دیں ،وزیراعظم نے ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کیخلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے ۔ وزیر اعظم نے کو تمام وزیر اعلیٰ کو بھی طلب کیا ہے ،صوبوں کی پرائس کمیٹیوں کو فعال بنایا جائیگا ۔ کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دے جائےگی کہ وہ مصنوعی طور پر قیمتوں میں ناجائز اضافہ کرے یا قیمتوں میں اضافے کےلئے ذخیرہ اندوزی کرے ، مصنوعی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاءون کیا جائے ۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ زندگی بچانے والی ادویات اور ان کی مناسب قیمت میں فراہمی کو یقینی بنایا جائے ۔ کابینہ اجلاس میں ڈاکٹر عصمت طاہرہ کو مینجنگ ڈائریکٹر نیشنل فورٹیلائز مارکیٹنگ لمیٹڈ تعینات کرنے ،ایس مسعود اے نقوی کو ممبر سیکیورٹیز اینڈ ایکسچیج پالیسی بورڈ تعینات کرنے اور اسلام آباد ہیلتھ کیئرریگولیشن ایکٹ2018کے تحت بورڈ آف اتھارٹی کے ممبران تعینات کرنے کی بھی منظوری دی ۔ اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس کے حوالے سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں پر عمل کرایا جائے گا،کچی آبادیوں اور غیر رجسٹرڈ ہاءوسنگ اسکیموں کے حوالے سے قانون اپنا راستہ بنائےگاکابینہ نے رئیل اسٹیٹ (ریگولیشن اینڈ ڈویلپمنٹ آرڈیننس) 2019کے تحت رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی منظوری بھی دی ۔ کابینہ کو اسلام آباد کے ماسٹر پلان کا جائزہ لینے کےلئے کمیشن کی رپورٹ پیش کی گئی ۔ کابینہ نے اسلام آباد ماسٹر پلان کی منظوری دیدی ۔ کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ نظام حکومت میں شفافیت اور گڈ گورننس کو یقینی بنانے کے حوالے سے اقدامات کے ضمن میں کابینہ کو بتایا گیا کہ گزشتہ 90دنوں میں 16وزارتوں کو ای آفس پر منتقل کردیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں بیوروکریٹس اور کاروباری افراد کو نیب سے تحفظات پر بھی غور کیا گیا ۔ کابینہ نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ نیب اس حوالے سے از خود کوئی پالیسی بنائے کہ کیسے بیوروکریٹس اور کاروباری افراد کو حراسمنٹ سے بچایا جائے ۔ آزادی مارچ سے نمٹنے کا لاءحہ عمل صوبائی حکومتوں پر چھوڑا گیا ہے ،صوبائی حکومتوں نے مدد مانگی تو وفاق ضرور دے گا ، میاں برادران کی خط وکتابت چل رہی ہے ، (ن) لیگ میں عدم اعتماد پیدا ہوگیا ہے ، دریں اثناء وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پاکستان، ایران اور سعودی عرب اسلا می دنیا کے تین اہم بھائی ہیں جبکہ پاکستان برادر ملکوں کے درمیان اخوت و مصالحت کے جذبوں کے فروغ کا خواہاں ہے، اس وقت امت مسلمہ کسی بھی کشیدگی کی متحمل نہیں ہو سکتا ۔ پیر کو سماجی رابطوں کی ویب ساءٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور ایران اسلامی دنیا کے تین اہم بھائی ہیں ، پاکستان کے اپنے دونوں بھائیوں کے ساتھ تاریخی اور برادرانہ تعلقات ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے دورے سے خطے میں امن و استحکام اور اتحاد کےلئے سنگ میل ثابت ہوں گے، صدر حسن روحانی نے خطے میں امن کےلئے پاکستان کی مخلصانہ کاوشوں کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ ایرانی صدر کا خیر مقدم دونوں ملکوں کی قیادت کے ایک دوسرے پر اعتماد کا مظہر ہے، پاکستان برادر ممالک کے مابین اخوت و مصالحت کے مصالحت کے جذبوں کے فروغ کا خواہاں ہے ۔

شاہی جوڑے کی آمد،

ریڈ کارپٹ استقبال

برطانوی شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن تاریخی دورے پر پاکستان پہنچ گئے، مہمانوں کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا ۔ ثقافتی لباس میں ملبوس بچوں نے شاہی جوڑے کو گلدستے پیش کیے ۔ برطانوی شاہی جوڑے کے دورے سے متعلق شاہی محل نے رواں برس جون میں اعلان کیا تھا اور بعد ازاں گزشتہ ماہ 20 ستمبر کو شاہی جوڑے کے دورے کی تاریخوں کا بھی اعلان کیا گیا تھا ۔ برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں مصروفیات کا شیڈول بھی سامنے آگیاہے ، یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان تمام برے حالات سے باہر آگیا ہے ۔ اور امن و امان کی صورتحال بہتر ہو گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شاہی جوڑا شمالی علاقہ جاتاور لاہور کا بھی دورہ کرے گا ۔ اس دوران اعلیٰ سرکاری اور سول سوساءٹی کے اہم رہنماءوں سے ملاقاتیں بھی کرے گا جس سے دو طرفہ تعلقات مزید بہتر ہونگے ۔

آزادی مارچ، مولانا فضل الرحمن متحرک، حوصلہ افزاء نتاءج دکھائی نہیں دے رہے

پاکستان مسلم لیگ(ن) نے نواز شریف کی ہدایت کی روشنی میں آزادی مارچ 31 اکتوبر جلسہ کی حکمت عملی کو حتمی شکل دے دی گئی ہے ۔ اجلاس نے حکومت کو نالائق اور نا اہل قرار دیتے ہوئے اس کے عوام اور غریب دشمن اقدامات کی شدید مذمت کی ۔ ملک شدید معاشی بحران کی لپیٹ میں ہے ۔ بدترین بے روزگاری نے ملک میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں کیونکہ صنعت کا پہیہ بند اور روزگار ناپید ہو چکا ہے ۔ کاروبار ، فیکٹری ، دکان ، ریستوران بند ہو چکے ہیں ۔ ایک سال میں ہدف کا پوران نہ ہونا معیشت کی تباہ حالی کی جلتی پر تیل کے مترادف ہے ۔ ایک طرف ٹیکس اہداف پورا نہیں ہو رہا لیکن دوسری جانب پورا ملک ٹیکس میں ڈوبا ہوا ہے ۔ تاجر صنعت کار ، استاد ، ڈاکٹر ، مریض سب ہڑتال پر ہیں ۔ وفاقی اکائیوں کو کمزور کرنے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے قرار دیاگیا کہ حکومت نے پارلیمان کو تالا لگا کر فسطائی ذہنیت مسلط کردی ہے جو پاکستانی عوام کے بنیادی حقوق سلب کررہی ہے ۔ نالائق حکومت اپنے عاقبت نا اندیشانہ اقدامات وافعال سے قومی اداروں کو تنازعات میں ملوث کرتی نظر ;200;تی ہے، قومی اداروں کے قومی کردار کو متازعہ بنانے کی افسوسناک کوشش کی جارہی ہے ۔ قومی اداروں کا کردار قومی مفاد پر مبنی ;200;ئینی اصولوں کے مطابق ہر قسم کے سیاسی تنازعے سے بالا تر ہونا چاہئے ۔ قومی اداروں کو اس عمل میں ملوث کرنے کا حکومت کا پیدا کردہ تاثرقومی مفاد کیخلاف ہے ۔ اجلاس میں میڈیا پر عائد بدترین قدغنوں کی مذمت کی گئی اور کہاگیا کہ تاریخ کا سبق ہے کہ میڈیا اور اختلاف رائے کرنےوالوں کا گلاگھونٹنے کا کبھی مثبت نتیجہ سامنے نہیں ;200;یا ۔ میڈیا اور جمہوریت ایک دوسرے کی ;200;زادی کا تحفظ کرتے ہیں ۔ میڈیا پر یہ پابندیاں انتہاپسندی کو فروغ دینے کا باعث بنیں گی ۔ ایک طرف ٹیکس اہداف پورا نہیں ہورہا لیکن دوسری جانب پورا ملک ٹیکس میں ڈوبا ہوا ہے ۔ تاجر، صنعت کار، استاد، ڈاکٹر، مریض سب ہڑتال پر ہیں ۔ اجلاس میں گہری تشویش اور فکر مندی کا اظہارکیاگیا کہ معاشی تباہی وبربادی قومی سلامتی کا ایشو بنتا جارہا ہے جبکہ عوام کے اندر شدید غم وغصہ اور باغیانہ رویہ جنم لے رہا ہے جس کے ازالے کےلئے مناسب حکمت عملی نہ اپنائی کی گئی تو صورتحال کا مداوا ممکن نہیں ہوگا ۔ ;200;زادی مارچ کے حوالے سے (ن) کی تین گھنٹے سے زائد طویل بیٹھک ، احسن اقبال نے فضل الرحمان سے ہونےوالی ملاقات پرتفصیلی ;200;گاہ کیا ۔