- الإعلانات -

احتجاجی سیاست کا تاریخی پس منظر!

اس وقت دوبارہ دھرنے اور مارچ کا غلغلہ ہے اور میڈیا نے زیادہ اچھال کر کچھ زیادہ ہی حد کو کراس کردیا ہے ۔ پہلے جب دھرنے ہوتے تھے اس وقت دھرنے حرام تھے کیوں کہ مولانا اقتدار میں تھے اور اب حلال ہیں کیوں کہ مولانا بذات خود اقتدار سے باہر ہیں حالانکہ ان کے خاندان کے باقی افراد پارلیمنٹ میں موجود ہیں ۔ ملک عز یز میں عوام کو سڑکوں پر نکانے کا رواج فروغ پا رہا ہے طاہر القادری کا انقلاب اور عمران خان کی سونامی جس کا نام وعظ ونصیحت کرنی والی ایک شخصیت کی خواہش پر آزادی مارچ رکھ دیا گیا تھا بھی اس سلسلے کی کڑیاں ہیں آج کل وہ شخصیت موجودہ حکومت کیلئے راہ عامہ ہموار کرنے میں پیش پیش ہے ۔ گزشتہ مرتبہ طاہر القادری نے سخت سردی میں عوام کو سڑکوں پر نکالا تھا اور اس کے نتاءج بھی عوام نے دیکھ لئے تھے اور پھر سخت گرمی میں انہوں نے دوبارہ انقلاب کی کال دی تھی اور سونامی اور آزادی مارچ کیلئے تحریک چلائی گئی احتجاج ہوئے اور دھرنے بھی جن کے نتاءج عوام کے سامنے ہیں ۔ فی الوقت مولانا سرگرم ہے اور جوڑ توڑ جاری ہے اور درون خانہ کچھڑی پک رہی ہے ۔ عوام سے یہ گلہ کیا جاتا ہے کہ وہ سڑکوں پر نہیں نکلتے ;238;آئیے اس بات جائزہ لیتے ہیں کہ عوام سیاسی رہنماءوں کی کال پر سڑکوں پر کیوں نہیں نکلتے;238; اس میں شک نہیں کہ عوام پریشان ہیں بے روزگاری عام ہے اور مہنگائی ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ’’جس پرزے کیلئے گریس کی ضرورت ہوتی ہے وہ آوازیں نکالتا ہے‘‘ لیکن ہمارے ہاں سب کچھ برداشت کیا جاتا ہے کچھ عناصر سیاست دان اور سول سوساءٹی وغیرہ عوام کو سڑکوں پر نکالنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن عوام ان سے کی تحریکوں سے علیحدہ ہی رہتے ہیں باوجود اسکے کہ عوام کی اکثریت ان پالیسیوں کو پسند نہیں کرتی آخر اس کنارہ کشی کی وجہ کیا ہے;238;اگر ہم سرزمین برعظیم کی مٹی کا جائزہ لیں تو اس کی تاریخ تحریکوں سے بھری پڑی ہے انگریز دور کی غلامی کے خلاف سب سے پہلی تحریک شاہ عبدلعزیز دہلوی نے فتویٰ دارلحرب دیکر شروع کی پھر اسکے نتیجے میں تحریک بالاکوٹ سامنے آئی ۔ اس کے بعد 1857;247;ء کی جنگ آزادی کی تحریک چلی بعد ازاں اسی کا تسلسل تحریک ریشمی رومال اور پھر تحریک خلافت کی صورت میں سامنے آیا ان سب تحریکوں کا مقصد دراصل انگریزوں سے نجات حاصل کرنا تھا اور انہیں کے نتیجے میں بل آخر انگریز اس برعظیم سے نکلا اور یہ تحریکات اپنے مقصد میں کامیاب وکامران ہوئیں ۔ انگریز کے جانے کے وقت برصغیر کے مسلمانوں نے پاکستان کیلئے تحریک چلائی اور یہ بھی کامیاب ہوئی اور پاکستان بن گیا ۔ پاکستان بننے کے بعد 1947;247;ء سے1969;247;ء تک ہ میں کوئی تحریک نظر نہیں آئی کیونکہ عوام کو امید تھی کہ پاکستان بننے کے مقاصد آج نہیں تو کل حاصل ہونگے لیکن 1969;247;ء میں اپوزیشن کی رہنمائی میں عوام نے اس لئے تحریک چلائی کہ اپوزیشن برسر اقتدار آکر حصول پاکستان کے مقصد کو پورا کریگی اس تحریک کے نتیجے میں ایوب خان رخصت ہوگئے اور حزب اختلاف بعد میں آپس میں لڑنے لگی جسکی وجہ سے پاکستان کا مشرقی بازو کٹ گیا ملک کے دوٹکڑے ہونے کے ساتھ نظریہ پاکستان بھی دوٹکڑے ہوگیا اہل بنگال نے کہا کہ بنگالی الگ قوم ہیں یہ پاکستان کے ساتھ نہیں چل سکتے اس کے بعدتحریک ختم نبوت 1974;247;ء میں کامیاب رہی ۔ اس کے بعد 1977;247;ء حزب اختلاف کے اتحاد قومی اتحاد کی سرکردگی میں تحریک نظام مصطفی چلی ۔ اس تحریک میں تمام مذہبی سیاسی اور سیاسی پارٹیاں شریک ہوئیں عوام نے بھی اسلام کے نفاذ اور تحریک پاکستان کے مقاصد کے حصول کی خاطر اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہر قسم کی جانی اور مالی قربانی دی یہ تحریک نفاذ اسلام کے مقصد میں سرے سے ناکام رہی البتہ اس مقصد ضرور کامیاب ہوئی کہ برسر اقتدار پارٹی ہٹا کر مارشل لاء لے آئی گویا عوام کی قربانیوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ ذولفقار علی بھٹو چلاگیا اور جنرل ضیاء الحق آگیا ۔ اگر تحریک کے رہنماءوں واقعی مقصد نفاذ اسلام ہوتا تو جس طرح بھٹو کے خلاف تحریک چلائی تھی اسی طرح وہ ضیاء الحق کے مارشلاء کے خلاف بھی تحریک چلاتے لیکن قومی اتحاد کی ایک بڑی مذہبی جماعت نے ضیاء الحق کے ہاتھ پر بیعت کی اسے مرد مءومن مرد حق کا خطاب دیا اور پورے گیارہ برس اس اسکی ہم نوالہ اور ہم پیالہ بنی رہی ۔ اسی دور میں انوکھا اسلام نافذ کیا گیا بینکوں میں سود اور زکوٰۃ دونوں اکھٹے نافذ رہے عدالتوں میں اسلامی سزائیں نافذکی گئیں اور اور ساتھ انگریز کا قانون بھی جاری وساری رہا ۔ گیارہ برس اسلام کے نام پر حکومت ہوتی رہی اس کے بعد پھر جمہوریت کا آغاز ہوا اور 88;247;ء سے لیکر 99;247;ء اکتوبر تک فوج کے زیر سایہ جمہوری حکومتیں رہی 1999;247;ء میں پھر مارشل لاء آگیا جو 2002;247;ء میں جمہوریت کی شکل اختیار کرگیا جوپندرہ اکتوبر 2007;247;ء جاری رہا اور اس بار انہونی بھی ہوئی کہ پہلی بار پاکستان کی تاریخ میں اسمبلیوں نے اپنی مدت پوری کی البتہ اس دوران تین وزیر اعظم بھی تبدیل ہوئے ۔ مارچ 2007;247;ء اور پھر نومبر 2007;247;ء چیف جسٹس کی برطرفی کے بعد مشرف ہٹاءو تحریک کا آغاز ہو جس میں وکلاء اور صحافی برادری کے ساتھ حزب اختلاف نے بھی بھر پور حصہ لیا لیکن یہ تینوں عوام کو اپنے ساتھ شریک کرنے میں ناکام رہے جس کی مختلف توجیہات پیش کی جاتی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ تمام حزب اختلاف ایک ایجنڈے پر متفق ہوکر تحریک چلائیں تو تحریک کامیاب ہو لیکن یہ محض خام خیالی اور اور خوش خیالی کے سوا کچھ نہیں ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ پارٹیاں پہلے تو متحد ہی نہیں سکتیں اور اگر بالفرض ہو بھی جائیں تو عوام کو اپنے ساتھ ملانے سے قاصر رہےں گی ۔ لہٰذا انہیں کیا ضرورت ہے کہ ایک کو ہٹا کر دوسرے کو لائیں اور جو آنے کے آرز و مند ہیں عوام نے ان کے دور کو بھی دیکھا بھالا ہے اور انکی سابقہ حکومتیں ان کے سامنے ہیں ۔ ماضی میں عوام نے اسلام کے نام پر تحریکیں چلائی جس کے نتیجے میں مارشل لاء آگیا اب مذہبی کارڈ کے نام پر تحریک چلائینگے جس کے نتیجے میں وہی پرانے جانے پہچانے آزمودہ شخصیات اورچہرے سامنے آئینگے ۔ جو بھی آیا عوام کے مسائل تو گزشتہ اکہتر سال ہی طرح رہیں گے ۔ لہٰذا وہ کیوں اپنا مال، جان اور وقت ان کی خاطر ضائع کریں ;238; ۔ کیونکہ عوام ایشو کی سیاست سے تنگ آچکے ہیں اور انہیں کسی ایک ایشو پر سڑکو ں پر نکلنے کی ضرورت نہیں وہ تو اس ظالمانہ نظام سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور عوا م یہ سمجھتے ہیں اس دور کا بت سرمایہ دارانہ نظام ہے اور عوام سرمایہ پرستی کو فروغ نہیں بلکہ اس کو جڑوں سے اکھیڑنا چاہتے ہیں اور اس قسم کے انقلابات محض ریلیوں سے نہیں آتے ریلیوں کے ذریعے انقلاب کی بات کرنے والے دراصل انقلاب کے نام کو بدنام کر رہے ہیں اور مذہبی کارڈ کھیلنے والے در اصل کسی سرمایہ دار اور جاگیردار کیلئے راستہ ہموار کرنے کے درپے ہیں !۱