- الإعلانات -

ایران ،سعودی کشیدگی اور پاکستان کی سہولت کاری

سعودی عرب اور ایران مسلم دنیا کے دو اہم ملکوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ 2017ء کے اعداد وشمار کے مطابق سعودی عرب کی آبادی 8کروڑ20لاکھ جبکہ ایران کی 3کروڑ 30 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جبکہ ہر دو کا رقبہ بالترتیب 22لاکھ 48ہزارمربع کلومیٹر اور 16 لاکھ48 ہزارمربع کلومیٹر پر محیط ہے ۔ ایک طویل عرصہ سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی چلی آرہی ہے ان دنوں اس میں کچھ زیادہ ہی اضافہ ہوگیا ہے اور دونوں ملک ایک دوسرے پر مختلف الزامات عائد کر رہے ہیں جس کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کے خطرات بڑھتے نظر آتے ہیں ، جس پر اسلامی دنیا تذبذب کا شکار ہے ایک لمبے عرصے سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایران پرپابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں بعینہ ایران کے خلیج کے ایک اور اہم ملک متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات بھی خوشگوار نہیں کہ دونوں کے درمیان وجہ تنازع خلیج میں واقع دو جزیرے طنبہ الصغریٰ اور طنبہ الکبریٰ ہیں جن کی ملکیت کے دونوں ملک دعویدار ہیں ۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی تشویشناک کشیدگی کے پیش نظر پاکستان نے اپنے طور پر سہولت کاری شروع کی ہے ۔ اس سلسلہ میں وزیراعظم عمران خان نے دونوں ملکوں کادورہ کیا پہلے وہ پاکستان کے ہمسایہ ملک ایران گئے جہاں انہوں نے ایرانی صدر حسن روحانی اور ایرانی سپریم کمانڈر علی خامنہ ای سے ملاقاتیں کیں جو مفید رہیں جس میں ایرانی قیادت نے خطے کے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتقاق کیا اور اس امر کا اظہار عمران خان اور صدر حسن روحانی نے ایک مشترکہ کانفرنس میں کیا جو ایک خوش آئند بات ہے ۔ عمران خان کے اس اقدام کو سراہا جارہا ہے اور اگر دونوں ملک مذاکرات کرنے پر تیار ہوجاتے ہیں توشنید یہ ہے کہ یہ بات چیت اسلام آباد میں ہوگی کیونکہ طویل عرصہ سے سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی کے باعث سفارتی تعلقات منقطع ہیں ۔ کسی بھی دوملکوں کے درمیان اگر سفارتی تعلقات ختم ہوجائیں تو یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ ان ملکوں کے درمیان مسائل پیچیدہ ہیں جن کا حل ناممکن تو نہیں مگر مشکل ضرور ہوتا ہے لیکن یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض ممالک ایک دوسرے کے خلاف پیچیدہ اور مشکل معاملات میں بھی سفارتی تعلقات قائم رکھتے ہیں ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان اسلامی رشتے کا ایک مضبوط تعلق موجود ہے اور اسی بنا پر ہر دو ممالک کو چاہیے کہ وہ سفارتی تعلقات قائم کریں اور عمران خان نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو استوار رکھنے کےلئے جو کوشش کی ہے دعا ہے کہ وہ کامیاب ہو اور ہم وزیر اعظم پاکستان سے کہیں گے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو بحال کرانا اپنی اولین ترجیح بنائیں ۔ ازاں بعد دیگر مسائل کے حل کی کوششیں جاری رکھیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل اور ان جیسی بعض اسلام دشمن طاقتیں یہ چاہتی ہیں کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان جنگ ہو تاکہ وہ اس سے مالی اور دیگر فوائد حاصل کر سکیں ۔ وزیر اعظم عمران خان کے اس اقدام سے سابق وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی جھلک نظر آئی جو مسلم امہ کے اتحاد کے داعی تھے اور اس حوالے سے 22سے 24فروری 1974ء میں لاہور میں اسلامی ممالک کے سربراہوں کی ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس کا اہتمام بھٹو نے کیا تھا جس میں دور رس نتاءج کے حامل فیصلے کئے گئے ۔ جہاں تک عمران خان کی سعودی ، ایران سہولت کاری کا تعلق ہے تو یہ ایک اچھا اقدام ہے اسی طرح انہیں چاہیے کہ وہ پاکستان کے اندرونی مسائل پر بھی ٹھوس اقدامات کریں او رخصوصاً ملک کے داخلی اور سیاسی مسائل پر فوراً توجہ دیں اس وقت جو فوری اہمیت کا حامل مسئلہ ہے وہ ہے مہنگائی اور بے روزگاری ۔ اس پر جس قدر جلد ممکن ہوں قابو پایا جائے کہ اس سے عوام میں اضطراب پایا جاتا ہے جس میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے ۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ملکی و قومی مسائل کے حل کے لیے تنہا حکومت ہی کافی نہیں اس کے لیے ملک کی دوسری سیاسی قوتوں کا اشتراک بھی ضرور ی ہے کہ قومی اسمبلی کی 342نشستوں میں 177پر مشتمل پاکستان تحریک انصاف کی مخلوط حکومت ہے جبکہ 165اراکین کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے ہے جو خاصی تعداد ہے جہاں تک سینیٹ کا تعلق ہے تو اس میں اپوزیشن کی اکثریت ہے اسے ایک سیاسی کرامت ہی کہہ سکتے ہیں جس کے باعث سینیٹ کے چیئر مین صادق سنجرانی تحریک عدم اعتماد سے محفوظ رہے ۔ ہم اگر وزیرعمران خان سے یہ کہیں تو بے جانہ ہوگا کہ وہ قوم سے خطاب کریں اور اپوزیشن کے لوگوں کو مل بیٹھ کر ملکی و قومی مسائل کو حل کرنے کی دعوت دیں اور مخالف سیاسی رہنماءوں کو کرپٹ ، چور اور ڈاکو کہہ کر دیوار سے نہ لگائیں ۔ ویسے بھی کہنے کو تو ہم جمہوری ملک ہیں مگریہ ہم جیسے ترقی پذیر ممالک کا المیہ رہا ہے کہ کل کی اپوزیشن آج جب حکومت میں آتی ہے تو وہ کل کے حکمرانوں اور آج کی اپوزیشن کوخاطر میں نہیں لاتی جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں ایسا نہیں ہوتا وہ ملکی و قومی مسائل کو متحد ہوکر حل کرتے ہیں اور اگر وہاں کسی سیاستدان پر کرپشن کے الزامات ہوں بھی تو وہ عدالتوں کے فیصلوں پر اکتفا کرتے ہیں ان کا میڈیا ٹرائل نہیں کرتے ۔ یہاں ہم اپوزیشن کو بھی یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ پاکستان کسی ایک فرد یا جماعت کا نہیں ہے ہم سب کا ملک ہے اور اس کے مسائل کا حل ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ اس حوالے سے حکومت مخالف سیاستدانوں کو بھی چاہیے کہ وہ آگے بڑھیں اور ملک سے غربت، مہنگائی اور دیگر مسائل جن کا ملک کو سامنا ہے کے خاتمے کے لئے حکومت کا ساتھ دیں اوراس کو اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائیں ۔ یہی درخواست ہماری حکومت سے بھی ہے کیونکہ برسرا قتدار طبقہ پر یہ ذمہ داری زیادہ ہوتی ہے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلے ۔ اس وقت ہ میں بیرونی اور اندرونی خطرات لاحق ہیں ہمارا ازلی دشمن بھارت اس تاک میں ہے کہ وہ ہمارے سیاسی انتشار سے فائدہ اٹھا کر ہ میں نقصان پہنچائے اس سے پہلے کہ ایسا کوئی لمحہ آئے ہم تمام تر سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کرکے جیسا کہ ہم نے کشمیر کے مسئلے پر کیا اوردشمنان پاکستان کو متحد ہوکر یہ دکھا دیں کہ ہم ایک ہیں جس سے انہیں مایوسی ہوگی اور اسی میں ہماری جیت ہے ۔ جہاں تک بیرونی خطرات کا تعلق ہے تو الحمد للہ! ہم ایک ایٹمی و میزائل قوت ہیں اور اپنے دشمن کا دندان شکن جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی قابل قدر کوششوں سے وطن عزیز کوناقابل تسخیر بنا دیا ہے ۔ اب عوام، حکومت ، فوج اور جملہ سیاستدان من حیثت القوم پاکستان کو درپیش اندرونی مسائل کو ختم کرنے کی جدوجہد کریں تاکہ ایک خوشحال پاکستان وجود میں آسکے ۔ یہاں مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے پرویز مشرف نے جو نامناسب اور ناپسندیدہ رویہ روا رکھا عمران خان اس کی تلافی کریں او ران کو چاہیے کہ وہ ڈاکٹر صاحب کو مدعو کریں یا پھر خود ان کے پاس جائیں ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وزیر اعظم بننے سے پہلے عمران خان دو مرتبہ ڈاکٹر صاحب کی رہائش گاہ پر جا کر ان سے ملاقات کر چکے ہیں مگر حکومت میں آنے بعد انہوں نے ایسا نہیں کیا اگر وہ خود چل کر ڈاکٹر صاحب کے پاس جائیں تو اس پرعوام میں ان کی توقیر و عزت میں بھی اضافہ ہوگا کہ محسن پاکستان قومی ہیرو ہیں اور پاکستانی قوم انہیں دل و جان سے پیار کرتی ہیں اس اقدام سے عمران خان کی مقبولیت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا ۔