- الإعلانات -

ایران کے بعد عمران خان کا کامیاب دورہ سعودی عرب

عمران خان صرف خطے کیلئے نہیں بلکہ امت مسلمہ کیلئے ایک لیڈر کی حیثیت سے بن کر ابھرے ہیں چونکہ اس وقت مسلم دنیا کے حالات انتہائی دگرگوں ہیں اور دشمن کی ہر طرف سے یلغار جاری ہے ایسے میں ایک ایسے لیڈر کی ضرورت تھی جو مسلم امہ کے مابین چلنے والی چپقلش کو ختم کراسکے ایسے میں یہ بیڑہ عمران خان نے اپنے کندھوں پر اٹھایا چونکہ ایران اور سعودی عرب کے مابین تنازعہ بڑھنے سے جہاں خطے کے حالات خراب ہونے تھے وہاں دنیا کی معیشت پر بھی انتہائی برے اثرات مرتب ہونے تھے ۔ پھر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی وزیراعظم عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان سے سعودی عرب اور ایران کے مابین تنازع ختم کرانے کی درخواست کی تھی ان ہی تمام حالات کو مدنظررکھتے ہوئے عمرا ن خان نے سہولت کاری کی ذمہ داری لی ۔ وزیر اعظم عمران خان نے سعودی فرمانروا خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز آل سعود سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات، خطے میں امن و امان اور عالمی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال اور دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے پر بات چیت کی گئی جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ علاقائی امن و استحکام کی خاطر خطے میں اختلافات اور تنازعات کے سیاسی اور سفارت کاری کے ذریعے حل کر نے کی ضرورت ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے سعودی فرمانروا خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ریاض میں ملاقات کی ۔ ملاقات میں دونوں رہنماءوں نے دوطرفہ تعلقات، خطے میں امن و امان اور عالمی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ انہوں نے دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے پر بات چیت کی ۔ وزیراعظم عمران خان نے علاقائی امن و استحکام کی خاطر خطے میں اختلافات اور تنازعات کے سیاسی اور سفارت کاری کے ذریعے حل پر زو ردیا ۔ وزیراعظم نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کو مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے دو روز قبل ایران کا بھی ایک روزہ دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ہم برادر اسلامی ممالک سعودی عرب اور ایران کے مابین تنازع نہیں چاہتے، تصادم کی صورت میں خطے میں غربت اور تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوگا اور اس کے پیچھے مفاد پرست خوب فائدہ اٹھائیں گے ۔ ایرانی صدر کو مخاطب کرکے کہا کہ ’ہم خطے میں تصادم نہیں چاہتے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے گزشتہ 15 برس میں 70 ہزار انسانی جانوں کی قربانی دی، افغانستان تاحال مسائل سے دوچار ہے جبکہ شام میں بدترین صورتحال ہے، ہم دنیا کے اس خطے میں مزید تصادم نہیں چاہتے ۔ وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا کہ سعودی عرب ہمارا قربی دوست ہے، ریاض نے ہر مشکل وقت میں ہماری مدد کی، ہم موجودہ صورتحال کی پیچیدگی کو سمجھتے ہیں ، لیکن ایران اور سعودی عرب کے درمیان جنگ نہیں ہونی چاہیے ۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے دوران وزیراعظم عمران خان نے ریاض اور تہران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی ملاقات کی ۔ جبکہ دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے پر بھی بات چیت کی گئی ۔ وزیراعظم عمران خان نے علاقائی امن و استحکام کی خاطر خطے میں اختلافات اور تنازعات کے سیاسی اور سفارت کاری کے ذریعے حل پر زور دیا ۔ وزیراعظم نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے بھی آگاہ کیا ۔ وفود کی سطح پر ملاقات میں پاک سعودی تعلقات اور دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا ۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، حرمین کے تقدس اور حرمت کیلئے پاکستانی قوم یک آواز ھے ۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک سمیت پورے خطے میں امن و استحکام چاہتے ہیں ، خطے میں ہر قسم کے تنازعات اور اختلافات کا سیاسی رابطوں اور سفارتکاری سے حل ممکن ہے ۔ وزیراعظم نے محمد بن سلمان کو مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے بھی آگاہ کیا ۔ وزیراعظم کا رواں سال سعودی عرب کا تیسرا دورہ ہے، اس سے قبل اتوار کو وزیراعظم عمران خان نے ایران کا ایک روزہ دورہ کیا تھا جس میں انہوں نے صدرحسن روحانی اور ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقاتیں کیں تھیں ۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں پاکستان کی کامیابی

بھارت کو فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے پھر منہ کی کھانا پڑی، حافظ سعید کے حوالے سے اس نے بہت واویلا مچایا کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کیا جاسکے ۔ لیکن وہ کسی طرح بھی کامیاب نہیں ہوا ۔ چین، ترکی اور ملائیشیاء کی حمایت کے باعث پاکستان کو فتح حاصل ہوئی ۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) میں بھارت کو ایک اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے،ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کا مطالبہ مسترد کر دیا اورپاکستان کو فروری2020 تک بدستور گرے لسٹ میں ہی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، بھارت نے حافظ سعید کے منجمد اکاءونٹ سے رقوم نکلوانے کی اجازت دئیے جانے پر پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کی تھی، ٹاسک فورس نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت جیسے معاملات پر پڑنے والے ممکنہ اثرات پر تحفظات کا اظہار بھی کیا،تاہم ترکی، چین اور ملائیشیا کی حمایت کے باعث پاکستان بلیک لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا ۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اس حوالے سے اپنے فیصلے کا باقاعدہ اعلان جمعہ 18اکتوبر کو کرے گی ۔ جرمن میڈیا کے مطابق 36 ممالک پر مشتمل ایف اے ٹی ایف کے چارٹر کے مطابق کسی بھی ملک کا نام بلیک لسٹ میں نہ ڈالنے کے لیے کم از کم بھی تین ممالک کی حمایت لازمی ہے ۔ جرمن میڈیا کو بتایا گیاکہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کو مزید چار ماہ تک گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے ۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گہا کہ اسلام آباد ان چار ماہ میں مزید اقدامات کرے ۔ اس تنظیم کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اگر پاکستان منی لانڈرنگ روکنے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف تسلی بخش اقدامات میں ناکام رہا، تو اسے ممکنہ طور پر بلیک لسٹ بھی کیا جا سکتا ہے ۔ یہ فورس اس حوالے سے اپنا حتمی فیصلہ فروری 2020 میں کرے گی ۔ قبل ازیں اسی سال اگست میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی علاقائی تنظیم ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی)نے تکنیکی خامیوں کی بنا پر پاکستان کی کارکردگی پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا ۔ پاکستان ہر تین ماہ بعد اے پی جی کو اپنی کارکردگی سے متعلق رپورٹ دینے کا پابند ہے ۔

برطانوی شاہی جوڑے کا دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کوخراج تحسین

شاہی جوڑے نے پاکستان کے دورے کے موقع پر صدر مملکت اور وزیراعظم سے ملاقاتیں کیں ۔ عشائیے میں بھی شرکت کی ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شہزادہ ولیم نے پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کو اچھوتی دوستی سے تعبیر کیا ۔ شہزادہ ولیم کے دورے سے قبل1991ء میں ان کی والدہ مرحومہ لیڈی ڈیانا نے پاکستان کا دورہ کیا تھا ۔ اس وقت لیڈی ڈیانا کہ استقبال کے حوالے سے پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر ایس کے نیازی کو ڈیانا کے استقبال کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں ان کے ہمراہ دیگر شخصیات بھی تھیں ۔ لیڈی ڈیانا جب لاہور گئیں تو بھی ایس کے نیازی ان کے ہمراہ تھے ۔ یہ دورہ اتنی کامیابی سے ہمکنار ہوا کہ اس کے بعد انہوں نے مزید پاکستان کے دودورے کیے ۔ اگر لیڈی ڈیانا کے ساتھ زندگی وفا کرتی تو وہ اور بھی پاکستان کے دورے کرتیں ۔ شہزادہ ولیم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہاکہ برطانیہ ہمیشہ پاکستان کی ترقی کا متمنی رہا ہے ۔ برطانیہ میں 15 لاکھ سے زائد پاکستانی یہاں کی ثقافت کے امین ہیں ۔ نیز برطانیہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے ۔ ہم پاکستان کو قابل بھروسہ شراکت دار اور دوست سمجھتے ہیں ۔ اتنے کم عرصے میں پاکستان نے بہت مشکلات کا سامنا کیا ۔ دہشت گردی جیسی عفریت کا مقابلہ کیا ۔ انہوں نے پاکستان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا ۔ شاہی جوڑا رکشے میں بیٹھ کر مونومنٹ پہنچا ۔