- الإعلانات -

کشمیر اور اپوزیشن کی دھرنا سیاسست

پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے کشمیری قوم کو تین ماہ کی اذیتیں ، جس میں قید خانے، کرفیو، محاصرے ، انٹر نیٹ اورمیڈیاکی پابندی کے بعد بلآ آخر کشمیر کو دو حصوں ،لداخ اور جموں کشمیر میں تقسیم کر کے بھارت میں ضم کر لیا جبکہ کشمیری تکمیل پاکستان کے لیے ۲۷ سال سے اپنی جد وجہد جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ وہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں ۔ جب بھی کر فیوذرا نرم ہوتا ہے سڑکوں پر نکل آتے ہیں اورپاکستان کے حق میں نعرے لگاتے ہیں ۔ بھارت نے کشمیری قوم کو جیل میں بند کر کے اور کرفیو لگا کر من مانیاں کیں ۔ بھارت نے لداخ اور کشمیر میں اسسٹنٹ گورنر لگا دیے ہیں ۔ کشمیر کا جھنڈا ختم کر کے بھارت کا جھنڈا لہرادیا ۔ کشمیر کے ریڈیو اسٹیشنوں کا نام بدل کر ریڈیو ریڈیو آل انڈیا رکھ دیا ہے ۔ بلکہ کشمیریوں کا سب کچھ چھین کر بھارتی بنا دیا ۔ اب اپنے پرگروام کے مطابق آزادکشمیر پر حملہ کر کے اسے بھارت میں شامل کرنے کی کارروائی کرنے والا ہے ۔ دوسری طرف مولانا فضل ا لرحمان صاحب نے عمران حکومت کو ختم کرنے کے لیے اپنے پرانے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے پہلے ملک کے بڑے شہروں میں ۵۱بڑی ریلیاں نکالیں ۔ پھر کراچی سے اسلام آباد تک آزادی مارچ کے نام سے عمران خان حکومت ختم کرنے کے لیے اپنی آخری منزل تک پہنچ گئے ۔ اس احتجاج میں ملک کی چھوٹی بڑی ساری سیاسی جماعتیں شریک ہیں ۔ صرف جماعت اسلامی شریک نہیں وہ اس لیے کہ ایک طرف پاکستان کا ازلی دشمن بھارت پاکستان پر حملہ کرنے کے لیے بہانے ڈھونڈ رہا ہے ۔ پاکستان کی اپوزیشن اپنے خلاف نیب میں جاری مقدمے ختم کرانے کے لیے عمران خان پر دباءو بڑھانے کے لیے مولانا فضل الرحمان کے احتجاج میں شریک ہے ۔ جماعت اسلامی نے پورے ملک میں عوام کو تحریک تکمیل پاکستان کی جنگ میں کشمیریوں کا ساتھ دینے کے لئے شہروں شہر ریلیاں نکالیں ۔ اس تاریخی موقع پر وہ بھارت کی جنگی عزائم کے خلاف قوم کو یک جان کرنے کی جدوجہدکی ۔ جماعت اسلامی نے پورے پاکستان میں کشمیریوں کی تحریک تکمیل پاکستان کی تحریک میں کشمیریوں کا ساتھ دینے کے لیے ہمہ تن مصروف عمل ہے ۔ ۴ ۔ ۵ نومبر کواسلام آباد میں بین الاقوامی کشمیر کانفرنس منعقد کرنے والی ہے ۔ اس میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کو دنیا کے سامنے رکھنے کا پروگرام ہے ۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ۔ کشمیر پاکستان کا قانونی طور پر ایک حصہ ہے ۔ بھارت نے ۷۴۹۱ء سے اس پر بزور قبضہ کیا ۔ یہ مسئلہ اب بھی اقوام متحدہ کی کازلسٹ پر موجود ہے ۔ اقوام متحدہ کشمیر میں رائے شماری کے لیے درجنوں قراردادیں بھی پاس کر چکی ہے ۔ مگر بھارت اس پر عمل کیا کرتا ،الٹا اب کشمیر کو بھارت میں مکمل طور پر شامل کر لیا ۔ ان حالات میں چاہیے تو یہ تھا کہ جماعت اسلامی کی طرح، پاکستان کی ساری سیاسی پارٹیاں اور حکومت متحد ہو کر بھارت کے ان عزائم کا مقابلہ کرتیں ۔ مگر افسوس ہے کہ وہ حکومت کو گرانے کے لیے اسلام آباد میں دھرنا ڈالے ہوئی ہیں ۔ اپنی تقاریر میں مسلم لیگ نون کے صدر جناب شہباز شریف، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری سمیت سارے مقررین نے حکومت، فوج اور عدلیہ کے خلاف تقریریں کیں ۔ نون لیگ کی قیادت نے نواز شریف کا پرانا نعرہ پھر دھرایا’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ شہباز شریف نے کہا کہ نون لیگ کو حکومت دو ۔ ہم چھ(۶) ماہ میں حالت درست کر دیں گے ۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ ہم اس جعلی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اسے خلائی مخلوق یعنی فوج لائی ہے ۔ عمران خان استعفیٰ دیں ۔ ملک میں نئے انتخابات کرائے جائیں ۔ انتخابات صرف الیکشن کمیشن کرائے ۔ فوج کا انتخابات میں کوئی رول نہیں ہونا چاہیے ۔ دھرنے میں یکم جنوری کے آخری خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے اپنی تقریر میں فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ناجائز حکومت کی سرپرستی چھوڑ دو ۔ عمران خان کو للکارتے ہوئے کہا کہ میں عمران خان وزیر اعظم پاکستان کو دو دن کا وقت دیتا ہوں کہ وہ استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں ۔ ورنہ یہ اجتماع آگے بڑھ کر خود اس سے استعفیٰ لے گا اور اسے گرفتار بھی کرلے گا ۔ لوگوں سے نعرے لگوائے کہ آگے بڑھو گے ۔ ڈی چوک جاءو گے ۔ وزیر اعظم ہاءوس جاءو گے ۔ جلسے میں شریک لوگوں نے کہا آگے بڑھیں گے ۔ جب تک آپ کہیں کے دھرنا دیں گے ۔ وزیر اعظم سے استعفیٰ لے کر ہی جائیں گے ۔ دوسری طرف عمران خا ن نے گلگت میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہ میں استعفیٰ نہیں دوں گا ۔ فضل الرحمان کہتا ہے کہ میں یہودیوں کا ایجنٹ ہوں ۔ قادیانی نواز ہوں ختم نبوت کے خلاف ہوں ۔ میں کہتا ہوں ایک فضل الرحمان کے ہوتے ہوئے کسی اور کی ضرورت نہیں ۔ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ کرپشن میں ملوث یہ سارے لوگ اکٹھے ہو جائیں گے ۔ اپنی کرپشن بچانے کےلئے مجھ پر پریشیر بڑھائیں گے ۔ مگر میں آج پھر اعلان کرتا ہوں کہ کسی بھی کرپٹ کو این او آر نہیں دوں گابلکہ کرپشن میں ملوث مذید لوگ بھی پکڑے جائیں گے ۔ ان حالت کا کوئی محب وطن تجزیہ کار جائزہ لے، تو سب سے پہلے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا اس پر مکمل عمل درآمد ہونا چاہیے تھا ۔ حکومت کہتی ہے کہ اپوزشن نے کو پورے پاکستان سے اسلام آباد آنے اور اپنا جمہوری حق ادا کرنے کا پورا موقع دیا گیا ۔ معاہدے کے مطابق اپوزیشن احتجاج کرتی ۔ مگرجہاں پہنچ کر ریڈ زون میں آنے پر لوگوں سے عہد لینے اور آگے بڑھنے کا کہنا نا جائز ہے ۔ اپوزیشن کہتی ہے کہ پہلے حکومت نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے ۔ مگر سب کو معلوم ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا پہلے سے ہی حکومت کو گرانے اور عمران خان کے استعفے کاپروگرام تھا ۔ حکومت کہتی ہے کہ عدلیہ کے حکم اور معاہدے پر عمل نہیں کیا گیا اور ریڈ زون پرچڑھائی کی کوشش کی گئی تو حکومت قانون کے مطابق مظاہرین کو روکے گی ۔ صاحبو!اس طرح تصادم ہونے کا امکان ہے ۔ ضرورت تو اس امر کی تھی کہ ساری قوم کشمیر میں جاری تحریک تکمیل پاکستان کی جنگ میں کشمیریوں کا ساتھ دیتی ۔ بھارت کوغیر آئینی غیر اخلاقی اقدام کرنے کے سامنے بندباندھتی ۔ حکومت کو پانچ سال پورے کرنے کا موقع دیتی ۔ حکومت کے غلط کاموں پر آئین کے مطابق گرفت کرتی ۔ اگر دیکھا جائے تومولانا فضل الرحمان، عمران خاں حکومت کو گرا خود توکبھی بھی پاکستان میں اکثریت حاصل نہیں کر سکتے ۔ توکیا پھر ملک پر چایس سال باریاں بدل بدل کر حکومت کرنے والی نون لیگ یا پیپلز پارٹی کو پھر سے حکومت دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ذراءع کہتے ہیں اگر پاکستان میں اس وقت کرپشن پر کنٹرول نہ کیا گیا تو پھر کبھی بھی نہیں ہوسکے گا ۔ جماعت اسلامی ۶۳۴ آف شور کمپنیوں والوں کے خلاف سپریم کورٹ میں مقد مہ دائر کیا ہوا ہے ۔ ان کو عدالت کے سامنے لا کر قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے ۔ کیا اپوزیشن فوج پر تنقید کر کے اس مشکل وقت میں بھارت کے ہاتھ مضبوط نہیں کر رہی ہے ۔ ہماری فوج نے ملک سے دہشت گردی ختم کی ۔ اب حکومت کے ساتھ مل کر فاٹا میں ترقیاتی کام کر رہی ہے ۔ سرحد پر بھارت جنگ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ اسوقت فوج کے ساتھ ایک پیج پر ہونے کی ضرورت ہے ۔ فوج فاٹا، اندرون ملک اور مغربی باڈر (۲) دو لاکھ فوج لگی ہے ۔ کسی طرح بھی ملک کے حالات خراب نہیں ہونے چاہئیں ۔ ورنہ اس سے بھارت کو آزاد کشمیر پر حملہ کرنے کا موقع مل جائے گا ۔ اپوزیشن کو چاہیے کہ عدالتوں میں اپنی بے گناہی ثابت کرے ۔ حکومت کو پانچ سال مکمل کرنے دے ۔ اپنے مطالبات جمہوری طرز پر پیش کر کے واپس چلے جائیں ۔ یہی جمہوری طریقہ ہے ۔ اگر ملک میں افراتفری ہوئی تو یہ نہ ہی اپوزیشن اورنہ ہی حکومت اور نہ ہی عوام کے لیے چھا ہو گا ۔ اس سے بھارت فائدہ اُٹھائے گا اور ایک روایت پڑ جائے گی کہ لاکھ دو لاکھ لوگ اسلام آباد میں جمع ہوکر کسی بھی حکومت کو گراتے رہیں گے ۔ پاکستان میں پہلی دفعہ، اللہ اللہ کرکے پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے اپنے اپنے پانچ سال مکمل کیے تھے ۔ اس تحریر تک اسلام آباد میں اپوزیشن کا دھرنا جاری ہے ۔ مورخ لکھ رہا ہے کہ پاکستان کی اپوزیشن نے کیا اپنا ملک، اپنی شہ رگ کشمیر کو بچانے کی کوشش کی، اقتدارحاصل کرنے یا اپنے ازلی دشمن بھارت کے ہاتھ مضبوط کرنی کی نادنستہ کوشش کی ۔