- الإعلانات -

دوربین نہیں جناب ۔ عقل سلیم سے کام لیں

چھوٹی سی ریلی کو بہت بڑا ریلا ، دھرنی کو دھرنا بلکہ جم غفیر دکھانا صرف کیمرہ ٹرک سے ممکن ہے، لیکن کراچی کی ایک سیاسی کم لسانی جماعت کا ایجاد کردہ ۔ ۔ پارٹی نظم و ضبط ۔ ۔ شروع سے کچھ ایسے مثالی رہا کہ وہ لوگ صرف چند منٹوں کے نوٹس پر اپنے تربیت یافتہ کارکنان کو اکھٹا کر کے بیٹھنے کی ایسی ترتیب بناتے کہ چند سو بندے ہزاروں میں نظر آتے، یعنی بندے سڑکوں پر پھیلا دو اور قطرے کو سمندر بنا دو اور یوں وہ اپنے حریفوں پر عددی دھاک بٹھاتے ۔ اور کچھ اسی ترتیب سے بالاخر لاکھ سوا لاکھ انسانوں کا ٹھانٹھیں مارتا سمندر مولانا صاحب کی قیادت میں اپنے پروگرام کے مطابق 31 مارچ کی شام کو ایوان اقتدار سے صرف چند فرلانگ دور وزیراعظم ہاوس پر اپنی نظریں جمائے اپنے پہلے پڑاو کی خاطر کشمیر ہائی وے پر قابض ہو کر بیٹھ گیا ہے ۔ خبروں کے مطابق پورا اسلام آباد سیل ہے اور زندگی جام ہو کر رہ گء ہے ۔ لشکر کشی کے بعد سب سے پہلا کام مولانا صاحب نے جو دوسروں سے اچھوتا کیا وہ مجمعے کا دوربین سے مشاہدہ و معائنہ تھا ۔ پچھلے چند دنوں سے مسلسل کم از کم 15 لاکھ انسانوں کا اکٹھا کرنے کا دعوی کیا جاتا رہا، آج بھی کراچی سےخیبر تک عام عوام کی شرکت کے دعوے کیے جا رہے ہیں جو کسی حد تک درست مان لیتے ہیں ، ہاں عام عوام تو ان کا تماشہ دیکھ رہی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس خاص مذہبی فرقے کے ۔ ماشا اللہ ۔ گوادر سے کراچی اور خیبر سے اسلام آباد تک راستے میں سیکڑوں مدرسے اور مساجد ہیں جہاں سے اگر پندرہ بیس بیس لوگ بھی شرکت کریں اور سپانسر پارٹیوں کے پانچ دس ہزار ورکروں کو بھی شمار کریں تو بات ہزاروں میں پہنچ سکتی ہے ۔ لیکن بھلا ہو ان جدید ۔ ڈرونز ۔ کا، جو ایک ہی گول چکر میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیتے ہیں ۔ دراصل مولانا صاحب دوربین سے مشاہدہ اس بات کا کر رہے تھے کہ دونوں اطراف کشمیر ہائی وے پر نہایت ہی عمدہ ترتیب سے پھیلائے گئے کارکن کتنی دور تک پھیلے ہوئے ہیں ، مجمعے کی ترتیب دیکھیں تو عام کارکن تو سٹیج سے ویسے بھی کافی دور تھے کیونکہ سٹیج کے سامنے مولانا کی خاکی ملیشیا قطار در قطار ایسے بٹھاء گئی کہ وہ خود ایک بڑا کراوڈ لگتا ہے ۔ دوربین سے بہرحال دیکھنے سے چاہے تعداد 15 لاکھ نہ بھی ہو تو ایک نفسیاتی دھوکہ ضرور دیا جا سکتا ہے کہ بندے اتنے ذیادہ ہیں کہ عام نظریں اسکا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں اسی لیے دوربین کا سہارا لیا جا رہا ہے ۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ مولانا صاحب دوربینوں سے سیدھا سڑک پر دیکھ رہے تھے دائیں بائیں بالکل نہیں گھومے ۔ کیونکہ مجمع سارا سامنے سیدھا براجمان تھا اور دائیں بائیں خالی تھا ۔ بھائی ظاہر ہے جب بندے اکھٹے کرنے کی ترتیب کچھ ایسی ہو کہ قطاروں کو پیچھے کی طرف اتنا دور تک بڑھایا جائے تو دوربین ہی سے پھیلاوَ کا پتہ چل سکتا ہے ۔ اور اس کام کیلئے انکی ملیشیا خاصی مہارت رکھتی ہے جو تھوڑے تھوڑے وقفے سے کارکنان کی صفوں کو اپنے حساب سے ترتیب دیتے رہتے ہیں ۔ ہاں یہ بھی ممکن ہے کہ تین چار دنوں کے سفر کے بعد ان مخصوص دوربینوں سے مولانا اپنی اصل منزل مقصود یعنی ۔ پارلیمنٹ ہاوَس ۔ کا بقیہ فاصلہ ماپ رہے تھے یا واقعی بندے گن رہے تھے ۔ جو بھی تھا طریقہ بڑا اچھوتا اور نرالہ تھا ۔ اور نفسیاتی حربہ کے طور پر یقینا اپنا کام کر گیا ہو گا ۔ ایک بات یہ ضرور ثابت ہوتی ہے کہ ایک بڑے پاور شو کے باوجود بندے لاکھ سوا لاکھ سے زیادہ یہاں موجود نہیں ہو پائے، جبکہ اس سے دس گنا تو آپ کا حاصل کردہ ووٹ ہے ۔ اب فیصل واوڈا اور سومرو صاحب نے ایک ٹاک شو میں جو آپس میں شرطیں لگائیں تھیں انکا کیا بنے گا ۔ مولانا غفور حیدری صاحب کے متکبرانہ بلند دعوءوں کا کیا ہو گا کہ لاکھوں کی نہیں کروڑوں کی بات کریں ۔ اس پہلے بھی ہم ۔ ظالموں قاضی آ رہا ہے ۔ کا بہت شور و غلغلہ سنتے رہے، وہ بھی مذہبی طبقے کا مارچ یا دھرنا تھا ، لیکن قاضی صاحب جسکے خلاف آ رہا تھا، اسوقت کا ۔ ۔ وہ ۔ ۔ اپنی جگہ سے ایک انچ پیچھے نہ ہٹا، لیکن قاضی صاحب کی آمد کو اکھیاں اڈیکدیاں اور دل واجاں ہی مارتا رہ گیا ۔ ڈبے خالی کے ساتھ ساتھ عوام کے دل بھی قاضی صاحب کیلئے با لکل خالی نکلے، یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی اپنی تمام تر اچھائیوں کے ملکی سطح پر آج تک کوئی خاص کردار ادا نہ کر سکی ۔ ٹھیک ہے مولانا فضل الرحمان صاحب نے مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہوئے ۔ جمعیتی طالبان ۔ کا ایک اچھا مجمع اکھٹا کر لیا، اور اسلام آبار جیسے چھوٹے شہر میں تو پچاس ہزار بندوں کا اکھٹ ہی بہت بڑی بات ہے، لیکن دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ انکے موجودہ دور کے اتحادی 9 ستاروں کی حاضری اس میں بالکل برائے نام رہی ۔ بڑے بڑے لیڈر ایسے سامنے آئے جیسے عام سی فلموں میں دو چار منٹ کے مہمان اداکار آتے ہیں ، یہ بھی ایک ایک کر کے آئے، مولانا کا شکریہ ادا کیا اور خدا حافظ ۔ یہ بڑی بڑی مین سٹریم پارٹیاں اسقدر گر جائیں گی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا،انہیں معلوم نہیں کہ انکا کتنا ناقابل تلافی نقصان ہو چکا ہے، انہوں نے یہاں صرف حاضریاں نہیں لگائیں بلکہ اپنی اپنی سیاسی قبریں کھودتے رہے ہیں جو وقت آنے پر انکے گلے پڑے گا ۔ شہباز شریف صاحب نے بھی اپنا ہومیوپیتھک قسم کا شو لگایا اور کھسکنے میں ہی عافیت جانی ۔ دلچسپ صورت حال اسوقت دیکھنے کو ملی جب بلاول بھٹو زرداری کنٹینر پر کھینچ کر چڑھائے گئے، اوپر آنے پر مولانا نے انکو فورا اچک لیا، ہاتھ کھڑے کرا کے حاضری لگواء، اپنا تازہ کلام سنانے کی دعوت دی اور انکے رٹے رٹائے خطاب کے بعد ابھی انہیں بھاگنے کا پورا موقع ہی نہیں ملا کہ بلند و بالا لاوڈ سپیکروں پر اسلامی دھنوں پر ترتیب دیے گئے جدید اسلامی دور کے آج کے ملاں کی شان میں یہ بول گونجنے لگے،’’مولانا آ رہا ہے، مولانا آ رہا ہے ۔ ‘‘ بے پناہ عوامی مقبولیت کی حامل پاکستان کی کسی دور میں سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے نوزائیدہ لیڈر نے بحرحال خفت مٹانے کےلئے مولانا کی لمبی چوڑی کمر کے پیچھے چھپنے میں ہی عافیت جانی، لیکن انکی بے تکی مسکراہٹ کے پیچھے چھپی حسرت و یاس یہ صاف بتا رہی تھی کہ وہ ضرور ماضی کے ان دھندلکوں میں کہیں گم تھا جب کبھی انکی ممی اور پہلے انکے نانا اپنے اپنے ادوار میں کیسے اس سے بھی دس دس گنا مجمع اکھٹا کر لیا کرتے ۔ بحرحال آج تک کی کارگزاری کا نتیجہ کہہ لیں یا تجزیہ، تو سیاسی طور پر تو سب کچھ مولانا صاحب نے ہی لوٹا ہے اور باقی لوگ ہر چیز داو پر لگانے کے باوجود سارے ہارے ہوئے جواری ہی لگتے ہیں ۔ شام کے اس اجتماع میں مولانا کے دیو ہیکل سائے میں وقفے وقفے سے کء دوسرے اتحادی لیڈر آتے جاتے، اپنا اپنا دکھڑا سناتے رہے، جن سب کا جواب مولانا صاحب نے اپنی تقریر میں مفصل طور پر جواب دیا، خاص طور پر مذہبی کارڈ پر چند دنوں قبل بلاول بھٹو زرداری کے واضح موقف پر کھڑے کھڑے ایسا کھرا جواب ان کے منہ پر دے مارا کہ جہاں ہم چاہیں گے مذہبی کارڈ بھی استعمال کریں گے، وہ کون ہوتے ہیں ہ میں روکنے والے ۔ جس پر بلاول کی شرمندگی قابل دید تھی ۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ ہنس رہے تھے یا رو رہے تھے ۔ بہرحال مولانا صاحب نے جب ان سب کو اکھٹا کر لیا تو پھر اچانک اپنے دل کے اندر چھپی وہ شاطرانہ چال چلی ہے کہ یہ سارے نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے ۔ مولانا نے غیر متوقع طورپر اپنے مطالبے کو دو دن کے اندر اندر وزیر اعظم کے استعفے تک محدود کر کے انہیں آگے کھڈا پیچھے کھاء والی صورت حال سے دو چار کر دیا ۔ اوپر سے مولانا کا چیلنج کہ انکے کارکنان وزیراعظم ہاءوس میں گھس کر وزیراعظم کو گرفتار کرنیکی قدرت رکھتے ہیں ۔ مولانا کی یہ دھمکی دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے، جو کسی وقت ان سب کے گلے پڑنے والی ہے ۔ آئے تھے نمازیں بخشوانے، روزے گلے پڑ گئے ۔ مولانا صاحب نے کام کو کچھ اتنا اونچا کھینچ لیا ہے کہ اب ان سب کی واپسی وہاں سے تقریبا ناممکن ہے ۔ نہ عمران خان استعفیٰ دے گا نہ انکو کوئی یہاں سے آگے بڑھنے دے گا ۔ مولانا تو پہلے کا ڈوبا ہوا تھا، یہ اب 9 ستاروں کو بھی ڈبونے کا پروگرام بنا چکے ہیں ، ایک طرف عمران خان کہتا ہے کہ وہ آخری گیند تک کھیلتا ہے ، مولانا بھی کہتا ہے کہ وہ تمام کی تمام کشتیاں جلا کر آیا ہے، سخت اعصابی جنگ شروع ہو چکی ہے،دیکھتے ہیں کون ، کب اور کیسے اپنے موقف پر قائم اور کون یوٹرن لیتا ہے ۔ سو جناب گھوڑا بھی حاضر ہے اور میدان بھی ۔ لیکن جو بات اس نازک صورتحال میں کرنیوالی ہے وہ صبر و تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دور بینوں کی بجائے صرف عقل سلیم سے کام لینا ہے اور اگر حکومت اس میں پہل کردے تو یہ اسکا بڑا پن ہو گا ۔ وگرنہ آئین شکنوں کیلئے قانون اپنا راستہ خود بناتا ہے ۔