- الإعلانات -

بھارتی میڈیا ہاءوسنز ۔ گمراہ خبروں کے گڑھ

جھوٹی خبریں ،بناوٹی خبریں ،من گھڑت خبریں ،فرضی خبریں ’’فیک نیوز‘‘ہی کی مختلف اقسام لیئے ہوتی ہیں جن میں دانستہ پروپیگنڈا یا پیلی صحافت کے واضح اثرات نمایاں ہوتے ہیں ایسی من گھڑت اور منفی خبروں کے پیچھے ذاتی مقاصد کی کار فرمائیاں ہرکسی کو صاف نظرآتی ہیں ایسی بناوٹی خبروں کو شاءع کروانے،نشریا ٹیلی کاسٹ کروانے کا مطلب دھوکہ دہی کے فریب زدہ ماحول کو ہمیشہ کے لئے ہموار بنانے کے علاوہ اور کوئی منفی مقصد نہیں ہوتا، دنیا بھر میں فی زمانہ مودی کی فاشسٹ قیادت نے بھارت کوایک ایسا ملک دیا، جہاں اس طرح کی فیک نیوز کا کاروبار سرکاری سرپرستی میں بہت تیزی سے عام ہوتا جارہا ہےاب جبکہ یہ عہد سوشل میڈیا جیسے جدید ڈیجیٹل ذراءع ابلاغ کا عہد ہے اس دور میں نئی دہلی سرکارکی سرپرستی پرمکمل مالی بھروسہ رکھنے والے زیادہ تر متعصب ’’گودی میڈیا ہاوسنز‘‘ نے اسلام فوبیا میں اور خاص کر پانچ اگست کے مقبوضہ وادی پر شب خون مارنے والے غیرانسانی اور غیر اخلاقی اقدام نے مودی سرکار کی دنیا بھر میں جو مٹی پلید کی ہے، بھارتی وزیراعظم مودی اور اْن کے جنونی ہندوتوا کے حامی اپنی اس انتہائی فاش غلطی پر اپنی سی لاکھ کوششوں اور لگاتار سعی وجستجو کے باوجود اب تک سنبھل نہیں پائے اور بھارتی سرکاری اور پرائیویٹ میڈیا مسلسل لگاتار غلط بیانیوں ،مبالغہ آرائیوں اور دروغ گوئیوں کی کہاونتوں میں بْری طرح سے خود الجھتے جارہے ہیں دلیل اور منطق سے ماورا بھارتی میڈیا کے اخبارات،میڈیا کے جدید ذراءع جن میں نجی اور سرکاری الیکڑونک میڈیا،ایف ایم ریڈیو شامل ہیں بھارت کی نیم خواندہ اور پسماندہ ذہنیت کی ہندوتوا کی جنونیت میں رنگے طبقات کی اکثریت نے اکہتربرس گزرنے کے باوجود آج تک ’’کشمیر‘‘کا نام تو ضرور سنا مگر وہ کشمیر کے بارے میں جانتے بوجھتے کچھ نہیں ،ہاں مگروہ مودی جی کی اس زورروز کی تکرار سے مطمئن اورخوش ہوجاتے ہیں کہ’’ مودی جی نے اور کچھ نہیں تو کشمیرضرورفتح کرلیا;238;‘‘ اْن بچاروں کا کیا پتہ;238; کشمیر کا اصل مدعاہے کیا;238; یہ سب توآرایس ایس سرکار کی سرپرستی میں دیش بھر میں کیئے جانے والے پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر اْسی پر انحصار کیئے بیٹھے ہیں اترپردیش،مدھیہ پردیش،بہار، مغربی بنگال اور بھارت کی دیگر ریاستوں کے شہروں اور دورافتادہ پسماندہ ہندوتوا کے جنون میں بے نہیں پرواہ ہوکر بس مودی اور امیت جی کی باتوں کے فریب کے اسیر ہیں ، یہ سب بے خبر مبالغہ آرائیوں میں گھرے مقبوضہ وادی کی تاریخی اہمیت وافادیت سے لاتعلق اِنہیں علم نہیں کہ پاسین ملک کون ہے سید علی گیلانی کا کیا مقام ہے میرواعظ عمرفاروق بلکہ یہ توشیخ اور مفتی فیملیوں کے سیاسی بیک گراونڈسے واقف نہیں بس جو ’’گودی میڈیا‘‘نے لکھا،نشریا ٹیلی کاسٹ کیا اْس پر اپنی آنکھیں بند کرکے اِن کروڑوں نیم خواندہ یا جذباتی جنونی ہندوکارسیکوں نے من وعن تسلیم کرلیا یہ مودی کا بھارت ہے;238;جو جنونی اور مفروضی پروپیگنڈوں کے سہارے ’’گودی میڈیا‘‘ سے لیس نئے سرے سے جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں قدم رکھنے جارہا ہے جیسے ہم بین السطور بیان کیا کہ ’’مودی قیادت کے پائے‘‘کس قدر کمزور اور دیمک ذدہ ہوچکے اس کا اسے بالکل اندازہ نہیں ویسے مودی جی’’توانا‘‘ نظرتو آتے ہیں لیکن اْس کے اندر کی شدید ٹوٹ پھوٹ اوربکھرنے کے آثار پانچ اگست کے بعد سے دکھنا شروع ہوگئے تھے اور یکم نومبرکے بعد تو مودی سرکار مزید ننگی ہوگئی 24 اکتوبر 2019 کو بھارت کی جانب سے جب یہ اعلان سامنے آیا کہ نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قید کشمیری رہنما پاسین ملک پر دہشت گردی،کارسرکار میں مداخلت سمیت انڈین آئیر فورس کے چار اہلکاروں کے قتل کا مقدمہ چلایا جائے گا تو ہ میں پختہ یقین ہوچلا ہے کہ ’’مودی سرکار پانچ اگست کے اقدام کے بعد شدید دباو میں آگئی ہے، کہاں پانچ نومبر انیس سونوے اور کہاں پانچ اگست دوہزار انیس;238; انتیس سال کے بعد کشمیری عوام میں مقبول کشمیر کی آزادی کے لیئے مزاحمت میں صف اول کے ممتازکشمیری لیڈر یاسین ملک پر ایک ایسا الزام چسپاں کردیا گیا اب باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے گا جس کی شہادت گواہی کون دے گا;238;یہ خبر چوبیس اکتوبر کے ہندوستان ٹائمز کی اشاعت میں شاءع ہوئی ہے یاد رہے کہ یاسین ملک جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی قائد ہیں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی ملک یاسین پراس وقت اس وقت کے وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی بیٹی روبیا سعید کو اغوا کرنے کا مبینہ الزام بھی عائد ہے;238; اور وہ اس وقت تہاڑ جیل میں قید ہیں اس سلسلے میں ’’گودی میڈیا‘‘ نے ایک سنسنی خیز قیاس پھیلایا ہوا ہے اوربھارت کی مودی حکومت اپنے پانچ اگست اور یکم نومبر کے کشمیر کو ہڑپ کرنے جیسے انتہائی اقدامات سے دنیا کی توجہ بٹانے کے لئے ایک فاشسٹ حکومت کی طرح کا برتاوَ کررہی ہے اور بہت سے بین الاقوامی انسانی حقوق کے خدشات کے مطابق انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہے بھارتی حکومت عوامی رد عمل سے بچنے کے لئے بیمار یاسین ملک سے خوفزدہ ہے، جناب یاسین ملک کی کئی بار گرفتاریاں ہوئیں اور ہر بار ان میں کوئی نہ کوئی تبدیلی رونما ہوئی جب سنہ 1994 میں انہیں حراست میں لیا گیا تو انھوں نے کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے تشدد کے بجائے امن کے راستے کی پیروی شروع کردی اور ;39;گاندھین;39; بن گئے تھے اور بات چیت کے ذریعے جس میں انڈیا اور پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کی بھی شمولیت ہو کی حمایت کرنے لگے تھے، انہوں نے کشمیر کی آزادی کے لئے مسلح جدوجہد بھی کی اور پھر بعدازاں سیاسی جدوجہد شروع کی جس کی وجہ سے وہ شروع سے ہی ایسی گرفتاریوں کا سامنا کرتے آ رہے ہیں ،مودی ،اجیت اورامیت ٹرائیکا‘‘ ہوسکتا ہے اپنی آخری اننگزکھیل رہے ہونگے تبھی تو اْنہیں دیش کے عوام کی نیم خواندہ کچے فکری ونظری جنونی شعور کے حامل طبقات کو’’فرضی خوشیاں اور مسرتیں ‘‘منانے کے لئے مقبوضہ وادی جیسے حساس ایشو سے جڑے نازک مسائل کے ’’بھڑکے چھتے‘‘کو ہلادیا ہے پاکستان کے پوائنٹ ا;63;ف ویویو سے ایک لحاظ سے مودی نے وہ کام کردکھایا جس کے نتیجے میں ’’کشمیر کا مسئلہ دنیا کے لئے خصوصی اہمیت وافادیت حاصل کرگیا‘‘جو کام نہرو اور واجپائی نہ کرسکے اپنی جلدباز جنونی کارستانی میں یہ مشکل ترین کام مودی نے بالا آخر کرڈالا شیخ عبداللہ فیملی،مفتی فیملی جو بھارت کے طرفدار کشمیری رہنما تھے اْنہیں قید کرکے اور ملک یاسین جیسے ممتازقانون کے پاسدار اورپْرامن کشمیری رہنماوں پر جھوٹے من گھڑت قتل کے سنگین الزامات کے مقدمات قائم کرکے مودی جی نے اپنے ’’سنگ خود ہی پھنسالیئے ہیں ‘‘اور دنیا کی مہذب اقوام کو کشمیر کی جانب متوجہ کرلیا ہے کشمیریوں کے لئے اور ہم پاکستانیوں کے لئے یہی بہت زبردست ہوگیا اور اوپر سے بھارتی میڈیا کے ڈرامے اور من گھڑت خبروں کے سلسلوں نے عالمی غیر جانبدار صحافیوں کی توجہ کشمیر کی جانب مبذول کرادی اب ’’مودی جی ! آپ تیل دیکھیں اور تین کی دھار دیکھیں وہ ہوگا جو آپ نے تصورات میں بھی نہیں سوچا ہوگا ۔