- الإعلانات -

جعلی نوٹ ،جعلی ادویات ، جعلی سگریٹ ، جائیں تو جائیں کہاں

پچھلے ہفتے راقم اپنے میڈیکل ٹیسٹ دکھانے اسلام آباد نوری اہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فہیم صاحب سے آپ کے آفس گیا ۔ آ پ سے ملا قات ہوئی ۔ رپورٹس دیکھ کر کہا سب اچھا ہے ۔ باتوں ہی باتوں میں مجھے اپنے ٹیبل کے دراز سے پانچ ہزار کا نوٹ نکال کر بتایا کہ یہ کوئی مجھے دیا گیا ہے جو کہ جعلی ہے ۔ اس نوٹ کو دیکھ کر راقم کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ واقعی جعلی ہے ۔ میرے پاس بھی ایک پانچ ہزار کا نو ٹ تھا ۔ دونوں کو ایک ساتھ رکھا ۔ سائز میں ایک جیسا ، رنگ میں ایک جیسا ، چمکتی تار بھی موجود ۔ قائد کی فوٹو بھی موجود یعنی ہر چیز وہی تھی جو اصلی نو ٹ میں دکھائی دے رہی تھی ۔ جب نہ سمجھ سکھا تو کہا سر یہ نوٹ بھی اصلی ہے ۔ کہا نہیں یہ نقلی ہے ۔ اسے اپنے پاس رکھو ۔ اس پر ریسرچ کرو ۔ بنک سے انفارمیشن لو اور کالم لکھو ۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا آپ نے میرے دل کی بات کی ہے ۔ میں بھی یہی سوچ رہا تھا ۔ اس کے بعد اس جعلی نوٹ کو الگ سے پرس میں رکھا ۔ دوسرے روز سپریم کورٹ بار میں اپنے چندساتھیوں کو اصلی اور نقلی نوٹ دکھایاتووہ بھی فرق محسوس نہ کر پائے ۔ اس کے بعد سپریم کورٹ میں موجود بنک میں گیا ۔ وہاں آپریٹر منیجر اویس علی سے ملا پوچھا کیا آپ کے پاس نوٹ چیک کرنے والی مشین ہے ۔ کہا جی ہاں ہے ۔ راقم نے دونوں نوٹ اس کے ہاتھ میں دیئے کہ چیک کر کے بتائیں کہ کون سا نو ٹ جعلی ہے ۔ جتنی دیر میں سوال ختم ہوا آپ نے فوری بتا دیا کہ یہ نوٹ جعلی ہے ۔ اتنے میں برانچ منیجر عمران یونس اپنی کرسی سے اٹھے اور کہا دکھائیں میں آنکھیں بند کر کے آپ کو بتا دوں گا کہ کون سا نوٹ جعلی ہے ۔ پھر برانچ منیجر عمران نے دونوں آنکھیں بند کیں اور میں نے دونوں نو ٹ آپ کے ہاتھ میں دیئے ۔ ایک سیکنڈ میں اپنی انگلیوں سے ٹچ کرتے ہوئے کہا یہ نوٹ جعلی ہے ۔ واقعی یہ نوٹ جعلی تھا ۔ پھر مجھے بنک کی دیوار پر لگی جعلی نوٹ کے بارے میں اسٹیٹ بنک کی جانب سے ایشیو پوسٹر دکھایا ۔ جس میں واضح طور پر لکھا تھا کہ عام آدمی کیسے جعلی نوٹ کو پہچان سکتا ہے ۔ لیکن اصل معلومات کم وقت میں جعلی نوٹ کے بارے میں برانچ منیجر عمران یونس نے بتاتے ہوئے کہا کہ اصلی نوٹ کا پیپر رف ہوتا ہے ۔ جبکہ نقلی نوٹ کے پیپر میں پھسلن ہوتی ہے ۔ جعلی نو ٹ پر سلپری سے انگلیاں رگڑنے سے پھسل جاتی ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ ہر کوئی نوٹ لیتے وقت ہر نوٹ کو کوئی غور سے نہیں دیکھتا ۔ انگلیاں پھیر کر چیک نہیں کرتا ۔ اسے یاد بھی نہیں رہتا کہ نوٹ کس نے دیا تھا یہ جعلی نوٹ میرے پاس کہاں سے آیا اگر ایسے میں یہ جعلی نوٹ استعمال کر ے گا تو گرفتار ہوسکتا ہے ۔ پھر ایسے شخص کو پولیس کے حوالے کرنے پر اسے پولیس حراست میں لے سکتی ہے ۔ کیونکہ جعلی نوٹ رکھنا اسے چلانا ایک قابل جرم فعل ہے ۔ لہٰذا احتیاط کی ضرورت ہے ۔ ایک اچھے شہری کا فرض بنتا ہے کہ وہ جانتے ہوئے جعلی نوٹ کو استعمال میں نہ لائیں ، بچوں کو بھی کھیلنے کو نہ دیں ۔ بلکہ بہتر ہے اسے جلادیا جائے ۔ یہی سمجھیں کہ نوٹ کہیں گر گیا ہے مجھے پانچ ہزار کا نقصان ہو چکا ہے ۔ اس نقصان کو برداشت کرنا بہتر ہے ۔ ورنہ اس جعلی نوٹ کو چلا کر خود مشکلات میں پھنس سکتے ہو ۔ اس جعلی نوٹ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کوئی عام آدمی جعلی نوٹ بنانے والی مشین نہیں رکھ سکتا ۔ یہ کام انہی اداروں میں کام کرنے والے افراد کا ہے جو اصل نوٹ چھاپتے ہیں ۔ سوائے پیپر کے باقی سب اصلی کام لگتاہے ۔ اس پر کوئی تحقیقاتی کمیشن بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ پتا چلا یا جا سکے کہ اس کے پیچھے کون لوگ ہیں ۔ فی الحال تو یہی لگتا ہے کہ جعلی نوٹ بنانے والی وہی لوگ ہیں جو اصلی نوٹ چھاپنے کا تجربہ رکھتے ہیں ۔ ورنہ عام آدمی ایسا دھندہ کر نے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ ہمارے ہاں کوئی کرائم نہیں ہو سکتا جب تک مقامی پولیس اس میں شامل نہ ہو ۔ جعلی نوٹوں کے دھندے سے غریب کی زندگی اجیرن ہو سکتی ہے ۔ پولیس اسے بے جا تنک کر سکتی ہے ۔ لہٰذا ایسے اصل دو نمبر لوگوں کا گرفتار کرنا ضروری ہے جنہوں نے عام آدمی کا جینا محال کر رکھا ہے ۔ ابھی تک تو یہی لگتا ہے کہ قانون کمزور ہے جو اس مکروہ دھندے کو ختم نہیں کر سکا ۔ اسی طرح کا ایک دھندہ جعلی ادویات کا بھی ہے ۔ جس کے باعث انسانی جانوں سے کھیلا جا رہا ہے ۔ بہت ساری ادویات ہماری پڑوسی ملک سے سستی ہونے کی بنا پر اسمگل ہوتی ہیں ۔ پھر پاکستانی کمپنیاں اپنی پیکنک میں لپیٹ کر ڈبل قیمت پر فروخت کر تی ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ادویات کا یہ دھندہ وہی کمپنیاں کرتی ہیں جو پاکستان میں یہ اداویات بناتی ہیں ۔ پھر ڈبل پیسے بناتی ہیں ۔ ہمارے ہاں کرپشن پر کوئی کنٹرول نہیں ۔ اگر کہا جائے کہ کرپشن کی دلدل میں ہر کوئی رنگ چکا ہے تو غلط نہ ہو گا ۔ ادویات کی قیمتوں پر کوئی کنٹرول نہیں رکھتا ۔ کہا جاتا ہے کہ فائل پر پہیہ لگاءو اور ادویات کی قیمتیں اپنی مرضی سے بڑھا ءو ۔ کہا جاتا ہے کہ بعض ادویات کے کھانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اس لئے کہ یہ جعلی ہوتی ہیں ۔ ملکہ ترنم نور جہاں مرحومہ جب حیات تھیں تو اپنے علاج سے جب مطمئن نہ ہوئی تو علاج کےلئے امریکہ چلی گئیں ۔ ڈاکٹروں نے وہاں بھی یہی ادویات کھانے کو دیں ۔ میڈم نے ڈاکٹروں کو بتایا یہ تو ادویات تو استعمال کر چکی ہوں لیکن ڈاکٹروں نے میڈم کو بتایا کہ آپ کی بیماری میں یہی میڈیسن ہیں ۔ انہی ادویات سے علاج شروع ہوا اور میڈم تندرست ہو گئیں پتہ چلا کہ جو ادویات یہاں کھا رہی تھیں ان کا نام تو ٹھیک تھا مگر ادوایات جعلی تھیں ۔ یسا ہی حال سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کا ہے ۔ مارکیٹ میں اصلی سگرٹ کو خود ہی کم داموں پر فروخت کرتے ہیں ۔ یہ کم قیمت والے سگریٹ اسی فیکٹری کارخانے میں تیار ہوتے ہیں جو سگریٹ اصل قیمت والے سگریٹ بناتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ایسا اس لئے ہے کہ کسٹم والا مال کم بناتے ہیں جب کہ غیر کسٹم کا مال زیادہ بناتے ہیں ۔ اس میں انہیں کسٹم نہیں دینا پڑتا اس مال سے بننے والے سگرٹ کم قیمت پر فروخت کر کے زیادہ منافع بناتے ہیں ۔ ایسے سگریٹ کھلے عام بازاروں میں فروخت ہو رہے ہیں ۔ مالکان پیسے بنا رہے ہیں ۔ لیکن ان کو پوچھنے والا پکڑنے والا کوئی نہیں ۔ اسلام آباد بار کے ایڈووکیٹ مجیب کیانی میرے دوست بھائی کے سسرالی چائنیز ہیں ۔ ان کے چیمبر میں اکثر چائنیز بیٹھے دکھائی دیتے ہیں ۔ آپ کے چیمبر میں ایک چائنیز بزنس مین سے ملاقات ہوئی ۔ بتایا کہ میرے پاس پاکستانی بزنس کرنے وہاں آتے ہیں ۔ انہیں میں نویش کرنے کی دعوت دوں توفوری قبول کر لیتے ہیں ۔ دونمبر اشیا خریدکر اس پر مشہور برانڈ کی اسٹمپ لگانے کو کہتے ہیں ۔ مگر کھانا کھانے کی آفر دوں تو کہتے ہیں ہم حلال فوڈ کھائیں گے کیونکہ ہم مسلم ہیں ۔ پوچھتا ہوں کیا مذہب پینے کی دو نمبر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔ جواب میں یہ مسکرا کر میر ے سوال کو ٹال دیتے ہیں ۔ یہ چینی دوسرے لفظوں میں یہ سب کچھ بتا کر ہم سب کو آئینہ دکھارہا تھا کہ شائد ہ میں شرم آ جائے ۔ مگر شرم ہم کو نہیں آتی ۔ آئینہ توبہت ساری اشیا ہمارے قول فعل اکثر دکھا تی رہتی ہیں ۔ حاجیوں کی تعداد کے لحاظ سے ہم دنیا میں دوسرے نمبر پر اور عمرہ کرنے والوں میں پہلے نمبر پر ہیں ۔ جبکہ ایمانداری کے انڈیکس کے مطابق ہم ایک سو ساٹھ ویں نمبر ہیں ۔ ہمارے ہاں پانچ سو یو نٹ کو پندرہ سو یو نٹ لکھنے والا میٹر ریڈر بھی ہے ۔ گوشت کے ساتھ چھچڑے مکس کرنے والا قصائی بھی ہے ۔ خالص دودھ میں کیمیکل ملانے والا دودھ فروش بھی ہے ۔ بے گنا ہ کی ایف آئی آر لکھنے والا ایس ایچ او بھی ہے ۔ گھر بیٹھ کر حاضری لگوا کر تنخواہ لینے والا استاد بھی ہے ۔ کم ناپ تول کر کے پورا پیسے لینے والا دوکاندار بھی ہے ۔ دس روپے کے سودے میں ایک روپیہ غائب کرنے والا بچہ بھی ہے ۔ انٹرنیشنل میچوں میں میچ فکسنگ کرنے والا کھلا ڑی بھی ہے ۔ ساری رات فل میں دیکھ کر اذان کے سنتے ہی سونے والا نوجوان بھی ہے ۔ دواءوں اور لیبا ٹری ٹیسٹ پر کمیشن کے طور پر عمرہ کرنے والا ڈاکٹر بھی ہے ۔ اپنے قلم کو بیچ کر پیسہ کمانے والا صحافی بھی ہے ۔ جعلی کیس بنانے والا وکیل بھی ہے ۔ یعنی ہمارے ہاں ایسے لوگ وافر مقدار میں ہیں ایسی چھو ٹی مو ٹی بیماریاں ،خامیوں والے لوگ ہمارے ہاں عام پائے جاتے ہیں ۔ ہ میں دوسروں کی خامیاں تو دکھائی دیتی ہیں اپنی نہیں ۔ نہ انسانیت کا ہم پر اثر ہے اور نہ ہی مذہب کا ۔ لہٰذا اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب اپنی اپنی خامیوں کی نشاندہی او اپنا علاج خود کریں اور جو کام اداروں کے کرنے کے ہیں اس کےلئے دعا کریں ۔