- الإعلانات -

سیاسی عدم استحکام ، جمہوری تسلسل کی جڑ کاٹ سکتا ہے

جمہوری معاشروں میں سیاسی جماعتیں قومی وحدت کو ایک لڑی میں پروئے رکھنے کا ذریعہ بنتی ہیں ۔ پاکستان میں جب کبھی کوئی مشکل کھڑی درپیش ہوئی ملک کی سب چھوٹی بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے اس کا عملی ثبوت دیا اور قوم کے حوصلے پست نہ ہونے دیئے ۔ جیسے ابھی چند ماہ قبل ماہ فروری میں بھارت نے پلوامہ واقع کی آڑ میں جارحیت کی ناپاک کوشش کی تو تمام جماعتیں سینہ سپر ہو کر بزدل دشمن کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہو گئیں ۔ اس عظیم ملی وحدت کے مظاہرے سے قوم کو ایک نیا حوصلہ ملا ۔ یقینناً جب اجتماعی دانش اور سیاسی بلوغت بروکار ہوتی ہے تو پھر بڑے سے بڑے مراحل آسانی سے طے ہو جاتے ہیں ۔ اس وقت بھی ملکی سرحدوں سے خطرات ٹلے نہیں کہ ایک عاقبت نا اندیش مذہبی قیادت ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے در پے ہے ۔ اس کوشش کو اجتماعی دانش سے افہام تفہیم سے ناکام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ بے وقت کی راگنی کے سوا کچھ نہیں ۔ مولانا فضل الرحمن ایک مخصوص مکتبہ فکر کے پیروکار مذہبی سیاسی جماعت کے قائد ہیں جنہیں 2018کے الیکشن میں سخت ناکامی ہوئی اور وہ اسمبلی میں نہ پہنچ سکے ۔ جس کے باعث وہ الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہیں ۔ ان دنوں وہ ایک مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد میں ڈی چوک سے پانچ چھ کلو میٹر دور پشاور موڑ چوک کے قریب دھرنا دئیے بیٹھے ہیں اور حکومت کو دھمکی دی ہوئی ہے کہ اگر عمران خان نے دو تین روز میں استعفی نہ دیا تو وی ڈی چوک کی طرف مارچ کرتے ہوئے زبردستی استعفی لے لیں گے ۔ صرف یہی نہیں بلکہ انتہائی نا مناسب لہجے میں وزیراعظم کو گھر سے گرفتار کرنے کی بھی دھمکی بھی دے ڈالی ۔ اس دھمکی آمیز لہجے کے باعث گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں سے اسلام آباد میں جہاں ایک تناو کی کیفیت ہے وہاں مولانا فضل الرحمن کو شدید تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ جن حلقوں سے انہیں تنقید کا سامنا ہے وہ کسی حد تک بجا اور ان کی تنقید جائز بھی ہے کیونکہ اس سے ملک بلاوجہ انارکی کا شکار ہو جائے گا ۔ مولانا کو تنقید کا سامنا اپنے مارچ کے عارضی اتحادیوں کی جانب سے بھی ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کے کئی سنجیدہ رہنما سے انارکی پھیلانے کی کوشش سمجھتے ہیں اور وہ دستوری حق کے غلط استعمال کے حق میں نہیں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس نام نہاد آزادی مارچ کی دو بڑی اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) نے مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے اور مستقبل کے کسی بھی غیر جمہوری پلان میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو لائق تحسین اور دور اندیشی کا مظہر ہے ۔ سیاسی احتجاج ہر سیاسی جماعت کا دستوری حق ہے ایک عام پاکستانی بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا مگر مولانا فضل الرحمن جس طرح نادیدہ قوتوں کی شہہ پر عدم استحکام کو ہوا دینے کے اسیر دکھائی دیتے ہیں کوئی بھی سیاسی بلوغت رکھنے والی جماعت اس کی حمایت نہیں کر سکتی اور ہم سمجھتے ہیں بالغ نظر سیاسی جماعتوں کو ایسا کرنا بھی نہیں چاہئے ۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کو پہلے ہی آگاہ کرچکے ہیں کہ وہ صرف عوامی جلسے میں شرکت کریں گے اور کسی دھرنے وغیرہ کی حمایت نہیں کریں گے ۔ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے کے مطابق انہوں نے اپنے کارکنوں کو دھرنے میں شرکت سے متعلق کوئی ہدایات بھی جاری نہیں کیں ہیں ۔ اس حوالے سے اگلے روز پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف کے ہمراہ آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا تھا کہ پارٹی کے تاحیات قائد نواز شریف نے انہیں آزادی مارچ میں صرف ایک روز کے لیے شرکت کرنے کا کہا تھا ۔ اسی طرح پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی نے کثیر الجماعتی کانفرنسز اور رہبر کمیٹی کے اجلاس کے دوران واضح کردیا تھا کہ وہ غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والے دھرنے میں شرکت نہیں کریں گے ۔ ادھر حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ اور وزیر دفاع پرویز خٹک نے مولانا فضل الرحمن کی طرف سے وزیر اعظم کو گھر سے گرفتار کرانے کی دھمکی پر شدید رد عمل دیتے ہوئے اسے بغاوت قرار دیا ہے اور کہا ہےاس بیان پر ہم عدالت جارہے ہیں کیونکہ یہ لوگوں کو ایک غیر آئینی اقدام اٹھانے پر اکسا رہے ہیں اور یہ بغاوت کے زمرے میں آتا ہے ۔ یہ ساری صورتحال واضح کرتی ہے کہ مولانا فضل الرحمن جس سیاسی عدم استحکام کو ہوا دینے کے ایجنڈے پر نکلے ہیں اس سے ملک انارکی کا شکار ہو جائے گا جس سے تاک میں بیٹھا دشمن فائدہ اٹھا سکتا ہے لہذا مولانا فضل الرحمن صاحب جوش کی بجائے ہوش سے کام لیں ۔ ملک کی سرحدوں پر دشمن لشکر کشی کے منصوبے بنا رہا ہے جبکہ کشمیر ایشو اس مارچ اور دھرنے کے شور شرابے میں پسمنظر میں چلا گیا ہے ۔ 31اکتوبر کو ہی جب اسلام آباد میں مارچ کا ہنگامہ برپا تھا تو ادھر اسی روز نریندر مودی حکومت مقبوضہ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر رہی تھی ۔ کسی کو خبر ہی نہ ہوئی کہ زمانہ کیا چال چل گیا ہے ۔ دوسری طرف وطن عزیز میں جمہوریت جو بڑی جدوجہد کے بعد تسلسل کے ساتھ آگے بڑھنے کے قابل ہوئی ہے ، کہیں خدانخواستہ محدود مفادات کی خاطر کسی بڑے دھچکے سے دوچار نہ ہو جائے،اگر ایسا ہوا تو اس کی ذمہ داری آخر کس پر ہو گی ۔

مقبوضہ وادی،جبرواستبداد کے نوے روز، اقوام عالم اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے سکیورٹی دستوں کے غاصبانہ قبضے اور لاک ڈاءون کو 90 روز مکمل ہوگئے ہیں ۔ ان تین ماہ کے دوران پابندیوں ،کرفیو،اور گرفتاریوں سے کشمیری عوام کی زندگی اجیرن بنی رہی جبکہ اس جنت خطے کی سیاحت اور معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے ۔ ذراءع ابلاغ کی معطلی کے باعث دنیا حقیقی صورتحال سے بے خبر رہی ۔ اگر کوئی میڈیا پرسن اپنی کوشش سے رسائی حاصل بھی کر لیتا تو اسے فورسز کی جانب سے تشدد کا سامنا کرنا ہڑتا رہا ہے،90 روز سے معمولات زندگی مفلوج ہے،ماسوائے چند دکانوں کے کچھ دیر کھلنے کے علاوہ کاروباری مراکز،تعلیمی ادارے اور ٹرانسپورٹ بھی بند ہے ۔ میٹرک اور بارہویں جماعت کے ہونے والے امتحانات بھی ان پابندیوں سے شدید متاثر ہوئے ہیں ۔ نماز جمعہ کے اجتماعات تک منعقد نہیں ہونے دیئے جا رہے ۔ حتی کہ ہسپتالوں تک ایمرجنسی رسائی بھی مشکل بنا دی گئی ہے ۔ غذائی اجناس اور ادویات کی قلت کے باعث شرح اموات بھی بڑھ رہی ہے ۔ اس کے باوجود مودی حکومت سب اچھا کی رٹ لگائے ہوئے ہے ۔ انسانی حقوق کی تنظی میں مسلسل احتجاج کر رہی ہیں کہ کشمیر کے لاک ڈاون کو ختم کیا جائے ۔ اقوام متحدہ بھی اس ساری صورتحال پر بار بار تشویش کا اظہار کر رہی ہے ۔ جبر و استبداد کے ان نوے دنوں میں بھارت کشمیری عوام کے دل و دماغ سے نزید دور چلی گئی ہے ۔ اگرچہ تمام سیاسی قیادت جیلوں میں ہے لیکن کشمیری عوام کو جب کہیں موقع ملتا ہے وہ بھارتی حکومت اور فورسز کے خلاف اپنا غم و غصہ نکالنے میں دیر نہیں لگاتے ۔ مقبوضہ کشمیر کی اس بدترین صورتحال پر اقوام عالم کی تشویش ضرور ہے لیکن وہ اپنا کردار ادا کرنے میں پوری طرح ناکام ہے ۔