- الإعلانات -

عوام دشمن پالیسیاں

ملک کی سیاسی صورتحال کا عوام پر براہ راست اثر ہوتا ہے ۔ اگر ملک کے سیاسی حالات بہتر ہوں تو عوام کی حالت بھی بہتر ہوتی ہے ۔ ہمارے ایک سیاسی اکابر نے ایک موقع پر کہا کہ جمہوریت آمریت کے خلاف بہترین انتقام ہے ۔ اس کے بعد ان کی عوام دشمن پالیسیوں نے جمہوریت کو جمہور کے خلاف انتقام ثابت کر دیا ۔ جمہوریت نے آمریت کے ستونوں کو مضبوط کیا اور جمہوریت کی بنیاد عوام کو محروم رکھا ۔ بیشک کہ اس وقت گلوبل ویلج میں جتنے معاشرے مہذب و متمدن کہلاتے ہیں وہ سب جمہوریت کے پاسدار اور پاسبان معاشرے ہیں ۔ ان میں جمہور کو اہمیت دی جاتی ہے اور جمہورکو ہی اپنے حکمران منتخب کرنے اور انہیں جمہور کے مفاد میں فیصلے کرنے کا حق دیا جاتا ہے ۔ عوام کا کام نمائندوں کو منتخب کرنا ہے ۔ اس کے بعد منتخب نمائندوں کاکام جمہور کے مفادات کی نگہبانی ہوتا ہے ۔ یہ نمائندے عقل فہم و فراست سے کوشش کرتے ہیں کہ جن لوگوں نے انہیں منتخب کر کے اپنی نمائندگی کا اعزاز بخشا ہے وہ انہیں ہر قسم کی سہولیات سے فیضیاب کریں تاکہ انہیں اپنی نمائندہ پر فخر ہو اور وہ خود عوامی نمائندگی کے فخرسے بہرہ مند ہو سکیں ۔ شاید پاکستان کے عوام کی بد قسمتی ہے کہ وہ جسے بھی اپنا جان کر اپنا نمائندہ منتخب کرتے ہیں وہ ان کا نہیں بنتا ۔ منتخب ہونے سے پہلے یہی امیدوار چھوٹے بھائی بن جاتے ہیں اور منتخب ہو کر بھائی سے ایک دم باس بن جاتے ہیں ۔ ہمارے لوگ مروت میں اگلی باری پھر اس کی غلطیاں معاف کر کے اسے موقع دیتے ہیں ۔ اگر احتساب کی بات چل پڑے تو یہ سیاسی انتقام ہے ۔ اگر ان سے کوئی سخت سوال پوچھا جائے تو اس سے ان کا استحقاق مجروح ہو جاتا ہے ۔ مشاہدے میں آتا ہے کہ سیاسی خانوادوں کے اکابرین و متعلقین کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے سیاسی کارکن حد سے بڑھ کر ان کی چاپلوسی اورخوشامد کرتے ہیں ۔ انہیں وقت حاضر کے مفکر اور مدبر طبقہ میں لے جانے کیلئے ان کے مقلدین ایک دوسرے کے دست و گریبان ہو رہے ہوتے ہیں ۔ اس خدمت کے عوض میں وہ اپنے راہنماءوں سے اپنے مفادات کی تکمیل کراتے ہیں ۔ زیادہ تر معاشی اور معاشرتی مفادات اکثر اسی وجہ سے بے انصافی اوربے اعتدالی اور میرٹ سے انحراف کا سبب بنتے ہیں ۔ نسل در نسل خدمت کے دعویدار ان کی خدمات کا انڈکس بس ان کے خاندان کے منتخب ہونے والے افراد کی لمبی فہرست پر ہی مبنی ہوتا ہے ۔ حقیقت میں تین دفعہ کے منتخب وزیر اعظم کوئی ایسا سرکاری ہسپتال نہیں بنوا سکے جس میں وہ خود اپنے امراض کے علاج کیلئے جا سکیں ۔ ایسا کوئی ہسپتال نہیں جہاں ان کے بیوی بچے اور ان کے عزیز علاج معالجے کی سہولت سے فیضیاب ہو سکیں ۔ ایسے سرکاری سکول نہیں جہاں ان کے بچے فخرکے ساتھ اپنے معاشرے کے دوسرے بچوں کے ساتھ تعلیم حاصل کر سکیں ۔ ایسی سرکاری بس سروس ٹرین سروس نہیں جس پر وہ خود فخرکے ساتھ اپنے عوام کی ہمراہی میں محفوظ سفر طے کر سکیں ۔ ایسی کوئی جیل نہیں جہاں پر یہ اپنے معاشرے کے دوسرے عام لوگوں کے ساتھ اپنا برا وقت کاٹ سکیں ۔ ایسا کوئی ادارہ نہیں جو بے غرض بے لوث اور بغیر کسی مداخلت کے ان کا احتساب کرے ۔ ایسی پولیس نہیں جو انکی حفاظت اقتدار کے باہر ہونے پر بھی کرے ۔ ایسی عدلیہ نہیں جو اقتدار ہو یا اقتدار سے باہر ہر حال میں انصاف کے تقاضوں کو ہاتھ سے نہ جانے دے ۔ آج انہیں سب سے گلہ کیوں ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے میرٹ سے ہٹ کر فیصلے کیے ۔ جن کا حق نہیں تھا انہیں حق دیا تو آج بھی وہ ناحق ہی فیصلے کریں گے ۔ اس وجہ یہ ہے کہ کل وہ آپ کو خوش رکھتے تھے تو آج آپ کے سیاسی مخالفین کی خوشی کو مقدم رکھنا ان کی نوکری کیلئے ضروری ہے ۔ وہ پہلے خوشامد کرکے آپ سے ترقی حاصل کرتے رہے اب وہ موجودہ صاحب اقتدار کیلئے کورنش بجا لانے میں ہی حال کی گھڑی کو محفوظ جانتے ہیں ۔ چڑھتے سورج کی پوجا کرنے والوں کو اگر عوام کی خدمت کا منصب دے دیا جائے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ کوئی عوامی مفاد کا فیصلہ کر پائیں ۔ انہیں صرف اپنا آپ ہی نظر آتا ہے ۔ یہاں پر ایم اے والا پچیس ہزارلے رہا ہے اورایک مالی جسے دستخط کرنا مشکل ہیں ان کی سفارش آرمی چیف سے کی جاتی ہے کہ ان کی تنخواہ میں ایک دم ہی تیس ہزار کا اضافہ کیا جائے ۔ ایم اے والا ان کے انڈر کام کرتا ہے کیونکہ خوش آمد کی ڈگری اس کے پاس نہیں ۔ جن کے پاس کوئی تجربہ نہیں وہ صرف عوامی نمائندہ ہونے کی دھونس اور طاقت سے ہر ادارہ کے سربراہ بن بیٹھتے ہیں ۔ جمہوریت کے بل بوتے پرمودی جیسا چائے بیچنے والا بھی آرمی کا سپریم کمانڈر بن جاتا ہے ۔ جب بندر کے ہاتھ ماچس لگ جائے تو وہ جنگل میں ہر طرف آگ آگ کا کھیل کھیل کر پورے جنگل کی زندگی کو داءو پر لگا دیتا ہے ۔