- الإعلانات -

کشمیر کی صورتحال کے پیش نظر مولانا احتجاج ختم کر دیں

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمنٰ نے ’’آزادی مارچ‘‘ کو غیر اعلانیہ طور میں ’’دھرنا‘‘ میں تبدیل کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کی تین دن کی مہلت دینے کا اعلان کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کا سمندر اتنی طاقت رکھتا ہے کہ وزیر اعظم کو وزیر اعظم کے گھر سے گرفتار کرکے لے آئے ۔ ہم اداروں کے ساتھ تصادم نہیں چاہتے ۔ اپنے اداروں کا استحکام، انہیں طاقتور اور غیرجانبدار دیکھنا چاہتے ہیں ۔ مولانا نے اداروں کی جو بات کی ہے وہ بڑی خطرناک ہے ۔ اسی بات پر ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ سڑکوں پرآکر الزام تراشی سے مسائل حل نہیں ہوں گے ۔ جمہوری مسائل جمہوری طریقے پرہی حل ہونے چاہئیں ۔ مولانا فضل الرحمان سینئر سیاستدان ہیں تو ان سے یہ پوچھا جائے کہ وہ کس کی بات کررہے ہیں ۔ ان کا اشارہ الیکشن کمیشن،عدالتوں یا فوج کی طرف ہے;238; اگر انہوں نے فوج کی بات کی ہے تو اپوزیشن کے سمجھنے کی بات ہے کہ فوج غیرجانبدار ادارہ ہے ۔ ہم آئین اور قانون کی عمل داری پر یقین رکھتے ہیں ۔ فوج کی سپورٹ ایک جمہوری منتخب حکومت کے ساتھ ہوتی ہے ۔ کسی ایک جماعت کیلئے نہیں ۔ اگر الیکشن کی شفافیت سے متعلق شکایت ہے تو تحفظات متعلقہ ادارے کے پاس لے کر جائیں ۔ فوج نے الیکشن میں آئینی اور قانونی ذمہ داری پوری کی ۔ ہ میں جمہوری روایات اور طریقوں کے مطابق چلنا چاہیے ۔ پاکستان نے گزشتہ20سال بہت مشکل وقت گزارا ہے ۔ بہادر قبائل اور عوام نے گزشتہ دو دہائیاں مشکل میں گزاریں ۔ کے پی کے عوام کو اب فلاح و بہبود کی ضرورت ہے کہ انہوں نے بھی دہشت گردی کا بڑی ہمت سے مقابلہ کیا ۔ اس وقت جب کشمیر کا مسئلہ اپنے عروج پر ہے ۔ کشمیری دو ماہ سے زائد عرصہ سے پابند سلاسل ہیں تو پاکستان ہی ان کی واحد امید ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے بڑی بہادری اور جوانمردی سے دنیا کے سامنے کشمیر کا مسئلہ پیش کیا اور مودی کی اصل بھیانک صورت بھی دنیاکو دکھا دی ۔ اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل سے لے کر مختلف ممالک کے پارلیمنٹ اور عوام تک کشمیریوں کا مقدمہ نہ صرف بہتر انداز میں پہنچایا بلکہ ان کی ہمدردیاں بھی حاصل کیں ۔ دوسری طرف دنیا بھر میں بھارت اور مودی سرکار کی رسوائی بھی ہوئی ۔ ان حالات میں اپوزیشن کا مارچ نہ صرف پاکستان بلکہ کشمیریوں کی پوزیشن کو بھی کمزور کرنے کے مترادف ہے ۔ مولانافضل الرحمن کو آزادی مارچ سے کچھ نہیں ملے گا لیکن وہ کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے میں ضرورکامیاب ہوئے ہیں ۔ پاکستان میں موجود مودی لابی ملک کو معاشی طور پر کمزور کرنے کی سازش کر رہی ہے ۔ مولانا کے آزادی مارچ کا مقصد کرپٹ مافیا اور منی لانڈررز کو تحفظ فراہم کرنا ہے ۔ پاکستان گرے لسٹ سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ فضل الرحمن ملک کو بلیک لسٹ کرنے کیلئے کوشاں ہیں ۔ آزادی مارچ کرنے والے قوم میں تفریق پیدا کرکے ترقی کے سفر کو روکنا چاہتے ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان نے مولانا فضل الرحمن اوراپوزیشن کے آزادی مارچ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت اور بھارتی میڈیا فضل الرحمن کے مارچ سے خوش ہے ۔ بھارتی میڈیا فضل الرحمن کو ایسے دکھا رہا ہے جیسے ان کا شہری ہو ۔ جے یو آئی کہتی ہے کہ اسلام آباد یہودیوں سے قبضہ لینے آئے ہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ کس سے آزادی لینے آئے ہیں ۔ فضل الرحمن کے ہوتے ہوئے یہودیوں کو سازش کی کیا ضرورت ہے ۔ ایسے اسلام آباد آئے ہیں جیسے ہندوستان آزاد کرانے آئے ہیں ۔ مذہب کو ووٹ کے لیے استعمال کرنے سے ملک کو نقصان ہوتا ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت پاکستان کے موجودہ حالات سے بہت خوش ہے ۔ ابھی تک ہماری کامیاب خارجہ پالیسی کی بدولت مودی سرکار دنیا بھر میں ذلیل ہو رہی تھی مگر اب ہمارے ہی کچھ لوگ اپنی ہی حکومت کے خلاف مارچ نکال رہے ہیں ۔ یہ پاکستان کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کو بھی کمزور کرنے کے مترادف ہے ۔ کشمیر پر اپنی گرفت مضبوط کر کے بھارت سب سے پہلے گلگت بلتستان پر حملہ کرنے کا ارادہ بنائے بیٹھا ہے ۔ اس وقت ہ میں مشرقی سرحد پر بے حد توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ اسی طرح افغانستان میں بیٹھا بھارت مغربی سرحد سے بھی کوئی شرارت کر سکتا ہے ۔ لہٰذا ہ میں حالات کو دیکھتے ہوئے بھارت کو کسی بھی شرارت کا موقع نہیں دینا چاہیے ۔ ابھی دو روز قبل ہی وزارت داخلہ نے ایک سازش کا سراغ لگایا ہے جس میں بھارتی دہشت گردوں کی جانب سے مولانافضل الرحمان پر دہشت گردحملے کی منصوبہ بندی کا انکشاف ہوا ہے ۔ دہشت گرد حملے کے لیے بارود سے بھری گاڑی استعمال کرسکتے ہیں ۔ سلامتی کی ذمہ دار ایجنسیوں کے مطابق بھارت، افغانستان کی خفیہ ایجنسیاں را اور این ڈی ایس اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کےلئے مولانا کو نشانہ بناسکتی ہیں ۔ اس مقصد کےلئے انہوں نے باقاعدہ دہشت گرد تیار کیے ہیں ۔ اسی لئے وزارت داخلہ نے 25 اکتوبر کو الرٹ جاری کیا تھا کہ دہشت گردتنظی میں آزادی مارچ کو نشانہ بناسکتی ہیں ۔ دشمن ایجنسیوں نے مولانا فضل الرحمان اور دیگر قائدین کو نشانہ بنانے کے لیے ایک لاکھ ڈالر دہشت گردوں میں تقسیم کیے ۔ امید ہے کہ سلام آباد کی انتظامیہ کے طے شدہ معاہدہ کے تحت آزادی مارچ اور جلسے کے شرکاء مکمل پرامن رہیں گے ۔ نجی اور سرکاری املاک کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچائیں گے ۔ قانون ہاتھ میں نہیں لیں گے اور کسی قسم کا خلفشار پیدا کرنے سے گریز کرینگے ۔ مولانا سے اپیل ہے کہ وہ ایسے وقت میں جب پاکستان اور کشمیر ایک مشکل حالات سے گزر رہے ہیں ، اپنے دھرنے، جلسے کو ختم کر دیں ۔ ایسا نہ ہو کہ دشمنوں کو ہم پر وار کرنے کا موقع مل جائے ۔