- الإعلانات -

احسانِ عظیم

حضور اکرم ﷺ کے حسن و جمال کا احاطہ کرنا انسان و جنات کے بس کا روگ نہیں ۔ آپ ﷺ سب سے اعلیٰ و ارفع ہیں ۔ آپﷺ جےسا کوئی نہیں ہے ۔ حضرت انس بن مالک ;230; رواےت کرتے ہیں کہ حضورکرےم ﷺ نے فرماےاکہ اللہ تعالیٰ نے انبےاء کرام خوبصورت چہرے اور دلکش آواز والے پیدا کیے اور تمہارے نبی کرےم ﷺ کا چہرہ سب سے زےادہ خوبصورت اور ان کی آواز سب سے زےادہ دلکش ہے ۔ حضرت ابو ہرےرہ ;230; فرماتے ہیں کہ میں نے کسی کو رسول کرےم ﷺ سے زےادہ خوبصورت نہیں دےکھا ۔ ےوں معلوم ہوتا تھا گوےا آفتاب حضور کے رخ انور میں درخشاں ہے ۔ حضورکرےم ﷺ جب ہنستے تھے تو اس روشنی سے دےوارےں چمکنے لگتی تھےں ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو حضور ﷺ کو اچانک دےکھتا تھا تو ہیبت زدہ ہوجاتا اور جو حضور ﷺ کے ساتھ میل جول کرتا ،وہ حضورﷺ کی محبت کا اسےر بن جاےا کرتا تھا ۔ حضرت ہند بن ابی ہالہ کی رواےت حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ;34; رسول اللہ ﷺ لوگوں کی نگاہوں میں بڑے جلیل القدر اور عظےم الشان دکھائے دےتے تھے ۔ حضور ﷺ کا چہرہ اس طرح چمکتا تھا جس طرح چودہوےں رات کا چاند،چھوٹے قد والے سے لمبے اور زےادہ طوےل قد والے سے کم،سرمبارک بڑا تھا،گےسوئے مبارک زےادہ گھنگرےالے نہ تھے،اگر موئے مبار ک الجھ جاتے تو حضورمانگ نکال لےتے،ورنہ حضور کے گےسوکانوں کی لوسے نےچے نہ جاتے، کانوں کی لو تک آوےزاں رہتے،چہرہ کا رنگ چمکدارتھا،پیشانی مبارک کشادہ تھی،ابرو مبارک بارےک بھرے ہوئے لیکن باہم ملے ہوئے نہ تھے، دونوں ابرءوں کے درمےان اےک رگ تھی جو غصے کے وقت پھول جاتی ۔ ناک مبارک اونچی تھی ۔ اس کے اوپرنور برس رہاہوتا دےکھنے والاگمان کرتا کہ ےہ بہت اونچی ہے ۔ ڈاڑھی مبارک گھنی تھی،دونوں رخسار ہموار تھے ، دہن مبارک کشادہ اور دندان مبارک چمکدار اور شاداب تھے ۔ دندان مبارک کھلے تھے ۔ گردان مبارک ےوں تھی جےسے کسی چاندی کی گڑےاکی صاف گمان ہو ۔ تمام اعضاء متعدل تھے اور ان کا اعتدال آشکار اتھا ۔ شکم اور سےنہ مبارک ہموارتھا، سےنہ مبارک کشادہ تھا ۔ دونوں کندھوں کے درمےان کافی فاصلہ تھا ۔ آپ ﷺ جب قدم اٹھاتے تو قوت سے اٹھاتے اور جماکر رکھتے، آہستہ خرام مگر تےز رفتار ۔ جب چلتے تو ےوں معلوم ہوتا کہ بلندی سے پستی کی طرف تشرےف لے جارہے ہیں ۔ جب کسی کی طرف التفات فرماتے تو ہمہ تن ملتفت ہوتے ۔ نگائےں جھکی ہوئی ہوتےں ۔ آپ ﷺ آسمان کی بجائے زمین کی طرف نگاہ رکھتے تھے ۔ آپ ﷺ کا دےکھنا گہرا مشاہدہ ہوا کرتا تھا ۔ آپﷺ حسن تدبےر سے اپنے صحابہ کو شاہراہ ہداےت پر چلاتے،جس سے ملاقات فرماتے تو اسے پہلے خود سلام کرتے ۔ ;34; ام معبد نے فرماےا کہ جب آپ ﷺ خاموش ہوتے تو پروقار ہوتے، جب گفتگو فرماتے تو چہرہ پر نور اور بارونق ہوتا ۔ شےرےں گفتار اور گفتگو واضح فرماتے تھے ۔ دور سے دےکھنے پر آپ ﷺ سب سے زےادہ بارعب اور جمیل نظر آتے ۔ حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے اپنا دست مبارک مےرے چہرے پر پھےرا ، میں نے اس کی ٹھنڈک اور خوشبو اےسی محسوس کی گوےا حضور کرےم ﷺ نے ابھی اپنے دست مبارک کو عطار کی عطر دانی سے باہر نکالا ہے ۔ حضرت انس ;230; فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی مشک اور عنبر اےسا نہیں سونگھا جس کی خوشبو حضور کرےم ﷺ کی مہک سے زےادہ عطر بےز ہو ۔ صحابہ کرام ;230; فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جس کسی سے مصافحہ فرماتے دن بھر اس کے ہاتھوں سے خوشبو آتی رہتی تھی اور جب کسی بچے کے سر پر ہاتھ پھےرتے تو اپنی مخصوص مہک کی وجہ سے وہ دوسرے بچوں سے ممتاز ہوا کرتا تھا اور اسے با آسانی پہچان لیا جاتا تھا کہ اس خوش نصےب کے سر پر حضور کرےم ﷺ نے اپنا دست مبارک رکھا ہے ۔ حضرت جابر;230; فرماتے ہیں کہ نبی کرےم ﷺ جس راستے سے گزرتے صحابہ کرام کو اس بھےنی بھےنی خوشبو کی وجہ سے پتہ چل جاتا تھا کہ ےہاں سے آقا ﷺ کا گزر ہوا ہے ۔ اےک شخض کی حضور ﷺسے اچانک ملاقات ہوئی تو وہ شخص حضور اکرم ﷺ کے دلکش اور پرنور چہرہ سے محسور ہوئے اور آپ ﷺ سے نام درےافت کیا ۔ جب حضورﷺ نے اپنا نام بتاےا تو وہ کہنے لگاکہ وہی محمدﷺ ہیں جسے قرےش کذاب کہتے ہیں ۔ حضور کرےم ﷺ نے فرماےاہاں ، میں وہی ہوں ۔ وہ شخص بے ساختہ کہہ اٹھا کہ ےہ روشن چہرہ کسی جھوٹے کا ہرگز نہیں ہوسکتا ۔ پھر اس شخص نے پوچھا کہ آپ کس چےز کی دعوت دےتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے دےن اسلام کے بارے بتاےا تو وہ شخص مسلمان ہو گےا ۔ اللہ رب العزت نے اپنے حبےب ﷺ کو تمام جسمانی عےوب سے مبرا پےدا کیا ۔ آپﷺ جےسا حسےن نہ پےدا ہوا ہے اور نہ ہوگا ۔ خالق کائنات نے آپ ﷺکو حسےن و جمیل پیدا کیا جس میں کمال کشش کے ساتھ وقار کی حسےن آمےزش تھی ۔ اللہ رب العزت نے سرور کائنات ﷺ کو پیکر رعنا فرماےا ۔

;34;زفرق تابقدم ہر کجا کہ می نگرم

نظارہ دامن ِ دل می کشد کہ جا اےنجا است;34;

قارئےن کرام!اللہ رب العزت کا ہم پر عظےم احسان ہے کہ ہ میں سرکار دوعالم ﷺ کے امت میں پیدا کیا ۔ ہ میں اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے اور ہ میں خوشی ومسرت کا اظہار بھی کرنا چاہیے ۔ اللہ رب العزت قرآن مجےد فرقان حمےد سورۃ ےونس آےت نمبر58 میں فرماتے ہیں کہ;34; اے حبےب ﷺ! آپ فرمائیے اللہ کا فضل اور اس کی رحمت سے اور پس چاہیے کہ اس پر خوشی منائےں ےہ بہتر ہے ان تمام چےزوں سے جن کو وہ جمع کرتے ہیں