- الإعلانات -

حالات حاضرہ پر ایک نظر

عمران خان کی حکومت قائم ہوئے ابھی ڈیڑھ سال بھی نہیں ہوا کہ سیاسی مخالفین نے اسے جھٹکے دینے شروع کردئیے ہیں ۔ اس عمل کی بڑی وجہ مہنگائی اور وزراء کا اپنے منصب کی مطابقت میں نہ تو کام کرنا یعنی ڈیلیور کرنا اور نہ ہی ذمے دارانہ رویہ ہے ۔ معاشی پالیسیوں کی بات تو الگ رہی ہر گھر میں اخراجات بے قابو ہونے کی باتیں ہیں ۔ آمدنی محدود لگی بندھی تنخواہ دار فکسڈ رقم وصول کرتا ہے اورہر ماہ اخراجات آمدنی سے زیادہ ہوجانے پر کفِ افسوس ملتا رہتا ہے ۔ پٹرول کی قیمت بڑھ جانے سے اشیائے خوردونوش کی ہر چیز متاثر ہوتی ہے ۔ آپ خود ہی غورفرمائیں چند ماہ کے عرصے میں پٹرولیم کی قیمتوں میں کس قدر تیزی دیکھنے کو ملی ۔ آمدنی اگر ہر ماہ پچاس ہزار روپے ہے تو اخراجات ستر ہزار سے بھی تجاوز کرچکے ہوتے ہیں لگژری نہیں سادہ زندگی اور خواہشات اور حسرتوں پر آنسو بہاکر سو جانا مجبوری بن چکی ہے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہر گھر غربت کی لکیر کے قریب قریب آتے محسوس ہورہا ہے ۔ اس بات میں کوئی شک، شبہ نہیں کہ پچھلی حکومتوں نے ملک کو ماما جی کا باڑہ سمجھا اور بے دریغ ملکی دولت کو نت نئے حربوں سے غیر ممالک منتقل کیا ملک غریب ہوتا گیا اور مٹھی بھر افراد طاقت اقتدار کے سہارے امیر سے امیر ترین بنتے چلے گئے ۔ اس کیفیت کو کسی نے شعر میں کیا خوب صورتی سے بیان کیا ہے ’’ بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھی + کسے وکیل کریں کس سے منفی چاہیں ۔ عوام بے بس لُٹ پھُٹ کر بھی ان بین الاقوامی لٹیروں کاکچھ نہیں بگاڑ سکی ۔ ایک حکومت ختم ہوئی تودوسری عنان حکومت سنبھال کر پھر ڈکیتی میں مشغول ہو جاتی عوام کو سبز باغ دکھا کر نیم بیہوشی ایسی طاری کردیتے کہ جب تک وہ ہوش میں آتے انکا سب کچھ لٹ چکا ہوتا سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا ہوا کے مصداق عوام ملک کی معاشی حالت قرضے اور ناکام منصوبوں کے اخراجات برداشت کرتے کرتے مجذوبی کی کیفیت میں داخل ہوگئی ہے ایک مقام پر حیرت کے اندر گم سم منجمد اور جامد ۔ حیران پریشان اس لئے بھی کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ بھی مقروض بوڑھا جوان بچہ اور ہر پاگل بھی مقروض یہ کیسا ملک بن گیا کہ جہاں معیشت ڈوبتی رہتی ہے اور اقتدار میں لوگ پھلتے پھولتے رہتے ہیں خلاءوں سے ایک آواز ابھری سراپا سامنے آیا تو لوگوں کی خوشی کی حد نہ رہی انہوں نے شکر کیا کہ ایسا شخص سیاسی اُفق پر ابھرا ہے جسکا دامن کرپشن کے کیچڑ سے داغدار نہیں ۔ وہ ملک سے باہر رہ کر دولت اکٹھی کرتا ہے اور اسے پاکستان میں لاکر سماجی کاموں میں صرف کررہا ہے صحت اور تعلیم اسکی ترجیحات ہیں ۔ لیکن تعجب اس بات پر ہوا کہ وہی تجربہ کار بنجار ے جن کی سرشت میں وفا نہیں انہوں نے اپنی ان سیاسی پارٹیوں کو چھوڑکر قسمت آزمانے کیلئے پی ٹی آئی کو جوائن کرلیا ۔ معمول کے مطابق قسمت نے یاوری دکھائی اور وہ پروانوں کی طرح عمران خان کے گرد جمع ہوگئے ۔ سب اچھا ہے کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا سماعتوں میں داد و تحسین کی آوازیں سنائی دینے لگیں پی ٹی آئی کی اکثریت مقصد سے کھسکنے لگی نتیجہ یہ نکلا کہ عام آدمی جسے آئی ایم ایف ورلڈ بینک کی کسی پالیسی کی سمجھ نہیں اس نے ڈیڑھ سال کے عرصے میں مہنگائی کے ہاتھوں تنگ آکر زبان کھولنا شروع کردی سیاسی جماعتیں اور ان کے لیڈر ایسے مواقع اورحالات سے فائدہ اٹھاتے ہیں اورجلتی پر تیل کاکام ان کا کھیل بن جاتا ہے ۔ یہی کچھ تقریباً اب ہوا اگرچہ مولانا فضل الرحمن اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے لیکن انہوں نے گاڑی میں ڈینٹ ضرورڈال دیا ہے ۔ ٹیلی ویژن پر حکومتی اراکین چاہے کچھ بھی کہتے رہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ مولانا صاحب اچھی خاصی تعداد میں لوگوں کو سڑوں پر لے آئے ہیں اور اسلام آباد آمد پر بھی واضح تعداد ان کے ساتھ ہے ۔ اللہ نہ کرے کہ حادثات ہوں جمہوریت کی بساط لپیٹ جائے موجودہ حالات قطعی طورپر اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ فوج اندرونی اور بیرونی محاذوں کیلئے توجہ تقسیم کرے ۔ بھارتی ابلیسیت ہر روز دیکھنے کو مل رہی ہے مقبوضہ وادی کو دو حصوں میں تقسیم کردینا اور اسکی آئینی حیثیت کو بدلنے کی مذموم کوشش مودی کے فلسفے کی جھلکیاں ہیں یو این او کی قراردادوں اور دنیا کے کشمیر پر خیالات کو اس نے یکدم فراموش کردیا وہ اپنی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش میں ہے ۔ کرفیو مقبوضہ کشمیر میں اب تک ختم نہیں ہوا ۔ زندگی کی گاڑی وہاں برباد ہوچکی ہے ۔ ہر گھر میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے ۔ کھانے پینے اور طبی سہولتیں ختم ہیں ۔ سکول کالج اور یونیورسٹیاں بند ہیں ، مساجد میں جانے کی اجازت نہیں ان حالات میں کشمیری بہن بھائیوں کے کس طرح دن گزرتے ہوں گے ۔ ایک لمحہ کیلئے آپ سب کچھ اپنے آپ پر طاری کرکے دیکھیں پھر سمجھ آجائے گی کہ نہتے کشمیری حق خودارادیت کیلئے کس طرح بھیک مانگ رہے ہیں لیکن ہندوستان ڈیٹھ بے حس ظالم جابر ڈریکولین حربوں سے کشمیریوں پر ظلم، ستم جاری رکھے ہوئے ہے ایسے وقت میں جب کہ حکومت پاکستان اندرونی اوربیرونی طورپر کشمیر کاز کیلئے بھرپور انداز میں کام کرنے کے نہ صرف مزید منصوبے بنارہی ہے بلکہ عملی طورپر مصروف بھی ہے تو حکومت گراءوجیسے نعرے اور جلسے جلوس بے وقت کی راگنی معلوم ہوتے ہیں ۔ تمام سیاسی جماعتوں کو اور خصوصاً ان کے سربراہان کو اس حقیقت کا علم ہوناچاہیے کہ دھرنوں جلسے جلوسوں سے جہاں عام آدمی کی زندگی متاثر ہوتی ہے وہاں ڈیلی ویجز دہاڑی دار کے دن مزید تنگدستی کی جانب رخ اختیار کرلیتے ہیں ۔ قومی اسمبلی کا پلیٹ فارم کیوں استعمال نہیں ہوتا حکومت اورا پوزیشن کے اراکین وہاں موجودہوتے ہیں ان کو عوامی مسائل پر بات چیت کے بعد لاءحہ عمل بنانا چاہیے ۔ حکومت کو اسمبلی میں مجبور کیا جاسکتا ہے کہ ان تمام پالیسیوں پر نظرثانی کرے جو عوامی سہولتوں کے برعکس ہوں یا انکی معاشی حالت مزید پریشان کرنے والی ہوں سیاسی جماعتیں اسمبلی میں بات چیت کرنے کی بجائے سڑکوں کارخ کیوں کرلیتے ہیں ۔ ان کے غیر حقیقت پسندانہ اقدامات سے قومی دولت بے مصرف خرچ ہوتی ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام کو مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ اور دھرنے پر اٹھنے والے ا خراجات کی تفصیل بتائے یہ ناگہانی اخراجات کہاں سے پورے ہوں گے ۔ قومی خزانے کی حالت تو پہلے ہی بہت کمزور ہے ۔ اب اگرخدانخواستہ وقت سے پہلے انتخابات ہوتے ہیں تو اس کے انتظامات پر کتنا خرچ ہوگا کچھ اندازہ ہے ۔ پیسہ کہاں سے آئے گا ۔ سرحدوں پر فوج چوکس ہے دشمن کو منہ توڑ جواب دے رہی ہے ان پر روزانہ اٹھنے والے اخراجات کا اندازہ بھی ہے گولہ بارودکے بغیرتو جنگ نہیں لڑی جاتی فضائی حدود کی حفاظت کرنے کےلئے کس قدر پیسے چاہیں کچھ معلوم ہے یہ سب اخراجات کے باوجود ملک کی معاشی حالت کمزور ہے پورے کررہا ہے یہ عوام کاپیسہ ہے حکومت اور کہاں سے لائے گی عوام سے لیکر عوام ہی پر خرچ کرے گی لیکن ہم ٹیکس دیتے ہیں اورنہ ہی اصل آمدنی کو ظاہر کرتے ہیں مشیرانکم ٹیکس کس لئے ہیں وہ مالی آنکھ مچولی کھیلنے کے ماہر ہوتے ہیں ان کی خدمات بڑے بڑے سرمایہ دار حاصل کرکے دولت پر ٹیکس دینابچاتے ہیں حکومت اپنے فراءض اورذمے داریاں اسی وقت پورا کرسکتی ہے جب عوام بھی اپنی ذمے داریاں پوری کریں ۔ ہمارے حالات ہی ایسے رہے ہیں کہ ہم سوالی بن کر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے دروازوں پردستک دیتے ہیں کہ ہمارے کاسہ گدائی میں حسب توفیق امداد ڈالیں اور وہ امداد تو دیتے ہیں لیکن اپنی شرائط پر ، لہٰذا سوالی اورسخی کا کیامقابلہ اور کیا جوڑ ۔ ان کی شرائط ماننا ہی پڑتی ہیں ۔ قرض بھی اتارنا ہوتا ہے اور معیشت کی بحالی میں مزیدمستعدبھی ہونا ہے ۔ دھرنوں جلسے جلوسوں کی اس وقت گنجائش نہیں سیاستدانوں کو ملک کومزیدمقروض نہ کریں مصائب میں اضافہ نہ کریں بلکہ تعاون سے مشکلات کوکم سے کم کرنے کی کوشش کریں ۔ حکومت وقت کو سختی کرنے کی بجائے افہام وتفہیم کاراستہ اپنائے رکھناچاہیے ۔ سیاسی افق پر جوگھٹائیں اس وقت چھائی ہوئی ہیں ان کے چھٹنے کابندوبست ہوجائے ، کسی قسم کا کوئی نقصان نہ ہو ۔ حکومت اپنی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کرے وزیراعظم کو اپنی کابینہ کے اراکین کو بھی شفل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ مقابلہ کرنے کی خواہش معاون سے محروم کردیتی ہے ۔ معاونین میں اضافے کی ضرورت ہے ایک شوپربات اشارتاً جو سمجھ آئی ہے جوحسب حال ہے ’’ستم جور ہے یعنی غضب ہے، میرے قاتل کارب میرابھی رب ہے‘‘ موجودہ حالات میں زبان وبیان کی قوت سے مزیدنازک مرحلے پرپہنچ بھی سکتے ہیں اوربہتری کی طرف بھی جاسکتے ہیں ۔ وزیراعظم کی گلگت میں کی گئی تقریرکوسنجیدہ حلقوں میں پسندنہیں کیاگیا ۔ پنجاب کے وزیراطلاعات نے بھی غیرمحتاط بیان دیا جس سے مزیدکشیدگی نے فضا بنائی ۔ کنٹینر والی سیاست اور بیانات اب بہت پیچھے رہ گئے ۔ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو حالات کی نزاکت سمجھنا چاہیے مولانافضل الرحمان نے جس انداز سے اپنی قوت کی جھلکیاں دکھائی ہیں اورنپے تلے بیانات دیئے ہیں اس سے اس کی سیاسی بصیرت اوربرداشت واضح ہیں ۔ وہ اس وقت اس پوزیشن میں ہے کہ لاقانونیت پھیلا دے یانظم ،ضبط سے جو اس وقت قائم ہے مقاصد حاصل کرلے حکومت کوچاہیے کہ سیاسی جماعتوں سے رابطے اورمشاورت کو یقینی بنائے اورگفت وشنید کے ذریعے پرامن طریقے سے سیاسی کشیدگی پرقابو پائے ۔ حقیقتاً موجودہ حکومت کی واضح اکثریت نہیں چندووٹوں سے وہ برسراقتدار ہے ابھی تک ان سے واضح قانون سازی نہیں ہوسکی آرڈیننسزکے ذریعے کام چل رہا ہے انہیں چاہیے ورکنگ ریلیشنز قائم کرتے ہوئے اپوزیشن کو ساتھ لیکرچلیں تاکہ ملک میں سیاسی انتشارموجودنہ ہونے پائے ابھی تو تقریباً ڈیڑھ سال گزرا ہے ساڑھے تین سال باقی ہیں بڑی منزلوں کے مسافرچھوٹادل نہیں رکھتے اپنی ٹیم کے ممبرزکوشائستگی رواداری اخلاقیات کواپنانے کی تلقین کریں اپنے لب ولہجے میں وقارشائستگی اورمتانت کومدنظررکھے غرور اورتکبراللہ کریم کوناپسندہے مغرور وہ ہوتا ہے جو لاعلم ہو ۔ حقیقت نہ جانتا ہو حکومت کے پاس تو بے شمارذراءع ہیں لمحہ لمحہ باختر ہوتے ہیں لہٰذا وقت کی نبض پرہاتھ رکھنا اس وقت بہت ضروری ہے تاکہ مولانافضل الرحمان بھی عزت سے رخصت ہوجائیں اور حالات بھی بے قابونہ ہوں ۔ معاملات کوحل کرنے میں اخلاص کے ساتھ باہمی احترام بھی ضروری ہے اعتبار اور اعتمادکی فضاء قائم کرکے الجھے ہوئے معاملات سلجھائے جاسکتے ہیں ۔