- الإعلانات -

منی پور ، آزادی کی راہ پر

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور خطے کوبراہ راست بھارتی عملداری میں لانے کے مودی سرکار کے فیصلے کے بعد بھارت میں ریاستی ٹوٹ پھوٹ بڑھتی جا رہی ہے ۔ 5 اگست کو مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 ختم کرنے کا اعلان کیا تو نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر کو چونکا کر رکھ دیا ۔ کشمیریوں نے فوری طور پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے جلسے ، جلوس، ہڑتالیں کیں جن پر قابو پانے کےلئے وادی میں کرفیو لگا دیا گیا جو آج تین ماہ بعد بھی جوں کا توں ہے ۔ 5 اگست کے بھارتی حکومت کے متنازع فیصلے کے فورا بعد ہی ناگا لینڈ نے بھارت سے آزادی کا اعلان کرتے ہوئے 14 اگست2019 اپنے 73 ویں یوم آزادی کے طور پر منایا ۔ ناگا لینڈ میں یوم آزادی کے حوالے سے باقاعدہ تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ اس موقع پر ناگا لینڈ کا قومی پرچم اور قومی ترانہ بھی پیش کیا گیا ۔ ناگا لینڈ نے 14 اگست کو صرف اپنا یوم آزادی ہی نہیں منایا بلکہ پاکستان، کشمیریوں اور خالصتان کے عوام کی طرح بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منا یا ۔ چیئرمین نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالزم (این ایس سی این) یروئیوو ٹکو کا 73 ویں یوم آزادی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ بات ٹھیک ہے کہ بہت زیادہ چیلجز ہیں لیکن بھارت سرکار اور این ایس سی این کو سیاسی ذہانت کے ذریعے ان معاملات کو حل کرنا چاہیے ۔ دونوں ریاستوں کے لیے بہترین سیاسی حل یہی ہے کہ ماضی کی ایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف کر کے آگے بڑھا جائے ۔ ناگا لینڈ کے عوام اپنے آباوَ اجداد کے قومی فیصلے پر بالکل مطمئن ہیں کہ ناگا لینڈ 14 اگست 1947 کو آزاد ہوا اور ہم ناگا لینڈ کی عوام کے درمیان تقسیم کرنے والے کسی بھی بیرونی فیصلے کو تقسیم نہیں کریں گے ۔ ناگا لینڈ کی انتظامیہ کی جانب سے بھارت کی آزادی کا اعلان کیا گیا اور ناگا لینڈ کے باسیوں کا کہنا ہے کہ ناگا لینڈ کبھی بھارت کا حصہ نہیں رہا کیونکہ ہماری اپنی زبان، اپنا مذہب اور اپنا کلچر ہے لیکن بھارت نے 1947 سے بعد جس طرح مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کیا بالکل اسی طرح ناگا لینڈ پر بھی قبضہ کر رکھا ہے ۔ ناگا لینڈ بھارت کے شمال مشرق میں واقع ایک انتہائی خوبصورت پہاڑی خطہ ہے اور یہاں کے لوگ قدیم قبائلی رسم و رواج کے مطابق اپنی زندگیاں گزارتے ہیں ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ناگا لینڈ کی 88 فیصد آبادی غیر ہندو مذاہب سے تعلق رکھتی ہے جس میں سے 67 فیصد عیسائی جب کہ باقی دیگر مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں ۔ 1951 میں ہونے والے ریفرنڈم کے مطابق ناگا لینڈ کی 99 فیصد سے بھی زائد عوام نے بھارت سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن اس کے باوجود بھارت نے وہاں اپنی فورسز کو بھیج کر قبضہ کر لیا تھا ۔ ناگا تحریک کی حمایت میں بڑی تعداد میں لوگوں کا نکل کر اس تاریخی دن کا جشن منانا عوام کی جانب سے واضح پیغام ہے کہ لوگ حکومت کی پالیسیوں سے تھک چکے ہیں ۔ کوئی اسے ;39;بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے;39; ہونے کی ابتدا کہہ رہا ہے تو کوئی اسے مرکز کی نریندرمودی حکومت کی ناکامی قرار دے رہا ہے جبکہ بعض مبصرین اسے ناگا آزادی کی ;39;نئی لہر;39; کہہ رہے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ;39;ایک ملک، ایک آئین اور ایک پرچم;39; والا نعرہ کہاں گیا;238;اور اب 31 اکتوبر کو جب کشمیر کی تقسیم پر عملاً عمل درآمد کیا گیا اوروادی کے دونوں حصوں میں بھارت کی مرکزی کے نمائندوں کا تقرر کیا گیا تو ہندوستان کی ریاست منی پور کے علیحدگی پسند رہنماؤں نے ہندوستان سے یکطرفہ آزادی کا اعلان کر تے ہوئے برطانیہ میں اپنی جلاوطن حکومت کا بھی اعلان کردیا ۔ برطانیہ سے ہندوستان کی آزادی کے دو سال بعد انیس سو انچاس میں منی پور ریاست ہندوستان کا حصہ بنی تھی تاہم وہاں کے مقامی لوگ ایک عرصے سے علیحدگی کے لئے تحریک چلا رہے تھے ۔ خودساختہ منی پور اسٹیٹ کونسل کے وزیر برائے امور خارجہ نارینگبام سمرجیت نے ریاست منی پور کی آزادی کا اعلان بآواز بلند پڑھنے کے بعد لندن میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آج تیس اکتوبر سے یہاں سے جلاوطن حکومت چلائیں گے ۔ نارینگبام سمرجیت نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کا رکن بننے کے لیے مختلف اقوام سے خود کو تسلیم کروائیں گے، ہ میں امید ہے کہ کئی ممالک ہماری آزادی کو تسلیم کریں گے ۔ انھوں نے الزام لگایا کہ ہم ہندوستان میں آزاد نہیں ہیں ۔ مہاراجہ کا محل ہمارا ہیڈ آفس ہو گا ۔ ملکہ برطانیہ کو بھی آزاد منی پور ریاست کے فیصلے سے متعلق قرارداد پیش کریں گے ۔ کشمیر کی طرح ریاست منی پور میں بھی افسپا جیسا قانون 1958 سے نافذ ہے جس کے تحت سکیورٹی فورسز کو بہت سے خصوصی اختیارات حاصل ہیں ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا الزام ہے کہ 1979 سے 2012 کے درمیان منی پور میں بہت سے لوگوں کو فرضی مقابلوں میں مارا گیا ہے ۔ ان کے مطابق اس میں نابالغ بچے اور بہت سی خواتین بھی شامل ہیں ۔ جولائی 2017 میں بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کو شمال مشرقی ریاست منی پور میں 62 لوگوں کی مبینہ فرضی تصادم میں ہونے والی ہلاکتوں کی تفتیش کا حکم دیا تھا ۔ بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں وقتاً فوقتاً علیحدگی پسند تحریکیں زور پکڑتی رہی ہیں ۔ حال ہی میں ناگا لینڈ میں علیحدہ آئین اور علیحدہ پرچم کے مطالبے نے زور پکڑا تھا لیکن منی پور کی طرح کسی ’جلاوطن حکومت‘ کے قیام کا اعلان شاید پہلی بار کیا گیا ہے ۔ یہ ہندوستان کا اصل چہرہ ہے کہ وہاں تمام اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں ۔ سب باری باری آزادی کا اعلان کر رہے ہیں ۔ اب باری خالصتان، ناگالینڈ، میزورم، اروناچل پردیش، میگھالیہ، تریپورہ، چھتیس گڑھ اور اڑیسہ کی ہے ۔ بھارتی وزارت داخلہ کے ترجمان نے ملکی سلامتی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے چھ سو میں سے دو سو اضلاح میں علیحدگی پسندوں کی سرگرمیاں عروج پر ہیں ۔ صرف علیحدگی کی تحریکیں ہی نہیں نسلی تنازعات اورذات پات کے جھگڑے بڑھ چکے ہیں ۔ اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ بھارت کا وفاق جبر کے نظام کے ذریعے قائم کیا گیا ہے اور خود بھارتی حلقے ماضی میں خبردار کرتے رہے ہیں کہ بھارت ٹوٹ جائے گا ۔