- الإعلانات -

جناح سے عمران خان تک

برصغیر کے ممتاز دانشور اداکار یوسف خان المعروف یوسف خان دلیپ کمال نے کینسر ہسپتال کی فنڈریزنگ کی تقریب میں عمران خان کے بارے یہ کلمات ادا کئے تھے ۔ ’’کہ خوش قسمت ہے ماں جس کی کو کھ سے عمران خان جیسے سپوت نے جنم لیا ہے اس کی ایمانداری اور وجاہت کی مثال نہیں ‘‘دلیپ کمار صرف عظیم ادا کار ہی نہیں بلکہ ادب فلسفہ اور سماجیات کے ماہر سمجھتے جاتے ہیں انکے یہ کلمات اس وقت گونجے جب عمران خان کا سیا ست سے دور دور تک واسطہ نہ تھا ۔ کسی کا کوئی بھی بڑا کارنامہ تاریخ شاہد ہے ۔ اُن انسانوں کے ہاتھوں سرزد ہوتا ہے جو کائنات کے اصولی نظام جو کہ ایمانداری اور مسلسل جدوجہد کی بنیادوں پر قائم ہو، اور استحکام خوری کے ساتھ واضح نصب العین ہو ۔ ورنہ دنیا میں ذہن اور کوشش کرنے والوں کی کمی نہیں ۔ اور کامیابی انکی تقدیر میں نہیں ہوتی ۔ اللہ تعالی کا قانون اس انسان کی کوششوں کو نتیجہ خیز بناتا ہے ۔ جوجمود سے نکل کر حرکت کرتا ہے ۔ لیکن اعلیٰ نصب العین اور مقصد حیات کے ساتھ کوشش کو دوام حاصل ہوتا ہے ۔ عمران خان دنیائے سیاست سے پہلے دنیا بھر میں ایک مشہور کھلاڑی اور طلسماتی شخصیت کے مالک تھے ۔ انکی وجہ شہرت کھیل کا میدان بنا ۔ 1922کے ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کی حیثیت سے جب وہ عروج پر تھے ۔ اپنے مقصد کے حصول کے لئے اپنے عزائم کا بر ملا اظہار کیا ۔ پاکستان میں شوکت خانم میموریل ہسپتال ۔ عمران خان کا کرشمہ ہے ۔ جو ایشیاء میں پہلا بڑا چراٹی ادارہ ہے ۔ نمل یونیورسٹی کا قیام تعلیم کے شعبے میں ایک سنگ میل ہے ۔ ان دونو ں اداروں سے کم آمدن طبقہ مستفید ہو رہا ہے ۔ سیاست میں آمد ان کےلئے ایک حادثہ ثابت ہوا ۔

اللہ جب کسی سے کام لینا چاہے تو وہ دیکھتا ہے ۔ کہ اس انسان کی نیت ، ارادے اور مقاصد کیا ہیں تو اس کو بڑی ذمہ داری سونپ دیتا ہے یہاں اس بات کا ادراک سطحی طور پر نہیں بلکہ گہرائی کا متقاضی ہے ۔ جناح اور عمران خان کی شخصیات ، نجی زندگی ، مقاصد، ناکامیاں اور کامیابیاں عجیب مماثلت رکھتی ہےں ۔ جناح کا نگریس سے مسلم لیگ آتے تو ہندو مسلم اور مسلم مسلم میں نا چاکیاں انہیں انگلستان لے گئیں ۔ جناح اپے عہد کے معروف وکیل تھے ۔ انکی خوبی یہ تھی کہ وہ ایماندار تھے مذہب سے انکا واچبی سے تعلق تھا ۔ لیکن انکی ایمانداری تھی جس پر اپنے عہد کے عظیم مفکر اور فلسفی حضرت علامہ اقبال کی نگہ پڑگئی اور ان دونوں نایفوں نے طویل مباحت ، انکی د لائل اوران کو ایک مقصد کے قریب لے آئی ۔ جو آگے چل کر ۔ جناح ہندوستان آنے پر مجبور ہوا ۔ عمران خان کو بھی کئی بین الاقوامی اور ملکی شخصیات نے سیاست میں آنے کے مشورے دیئے ۔ کیونکہ پاکستانی سیاست اور بگڑتی صورتحال کے پیش نظر ملک کےلئے سود مند ثابت ہوسکتاہے ۔ وہ جس کا تعلق کسی سیاسی خانوادے سے نہ ہو ۔ اس وقت اقتدار پر قابض دو سیاسی جماعتوں نے اجارہ قائم کر رکھی تھی اور یہاں تک کہ پاکستان کو اپنے مفادات کےلئے بے دریغ استعمال کر تے رہے ۔ عمران خان نے جب سیاسی زندگی کا آغاز کیا تھا وہی ہوا جو ہوتا تھا ۔ عمران خان کو یہودی ایجنٹ کہا گیا اور ان کی بیوی جمائمہ جو مسلمان ہوگئی تھیں ۔ ان کو الزامات کا نشانہ بنایا ۔ جمائمہ کو آخر طلاق لینا پڑی ۔ اسکی شرط یہ تھی کہ عمران برطانیہ میں سکونت اختیار کرے ۔ عدالت میں جج کے ریمارکس عمران خان کی ایمانداری کیلئے سند کا درجہ اختیارز کر گئی ۔ قانون کے مطابق جمائمہ نے اپنی جائیدار کا آدھا حصہ دینا تھا ۔ مگر عمران خان نے لینے سے انگار کیا ۔ جج نے جمائمہ سے کہا کہ آپ ایسے عظیم انسان سے طلاق لے رہی ہیں ۔ آس نے جواب دیا وہ تو میں مانتی ہو ں مگر پاکستان میں سیاستوں میرا جینا دو بھر کیا ۔ جج نے عمران خان سے کہا آپ کیا کہتے ہیں ۔ عمران خان نے اپنی سابقہ ہونے والی بیوی کے بارے کہا کہ یہ ایک عظیم ماں ہے اور میرے بچوں کی اچھی دیکھ بال کرے گی ۔ لیکن مجھے پاکستان اور پاکستان کے عوام عزیز ہیں کیونکہ وہ بہت مصیبت میں ہیں ۔ میں انکے لئے کچھ کرنا چاہتا ہوں ۔ جناح کی رتی باتی جو کہ پارسی تھی انکی شادی پر ہندوستان کے مسلمان علماء جن میں حسین احمد مدنی ۔ رئیس الاجرار، مولوی کفایت اللہ نے قائد اعظم کو کافر و مرتد کہا ۔ کہ اس نے پارسی خاتون سے شادی کی ۔ اس شعر کو ہندوستان بھر میں مشہور کیا ۔

اک کافرہ کی خاطر اسلام کو چھوڑا

یہ قائداعظم ہے کہ ہے کافر اعظم

جناح کا نکاح نامہ جو بمبئی کی مسجد میں طے ہوا ۔ اُس مسجد کے خطیب کے دستخط اور رتی بانی مذہب اسلام درج کیا گیا تھا ۔ مگر ان فسادیوں نے قائد کی تحریک اور اقبال کے افکار کو زج پہنچانے کیلئے یہ شیطانی ڈرامہ کھیلا ۔ پروپیگنڈا اُن اشخاص کے بارے میں ہوتا ہے ۔ جب مفادی ٹولے کو یقین ہو چلے کہ اُن کے مفادات بکھرنے والے ہیں ۔ نیشلیسٹ علماء نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا یہاں تک عوام کو گمراہ کرنے کے لئے قائداعظم کو کافر تک قرار دیا ۔ بعینہ جیسے آج اُنہی نیشنلسٹ علماء کی باقیات عمران خان کو کافر یعنی یہودی قرار دیا ہے ۔ جناح کے مقابل انگریزوں ، ہندواؤں اور ان مسلمان علماء نے ایک او ردہم مچا رکھی تھی ۔ مگر ایمانداری قائداعظم نے تن تنہا پاکستان کا کیس لڑا ۔ اگرچہ قائداعظم بھی تحریک پاکستان کے دوران میں ساتھیوں کی دغا کا سامنا کرتے رہے ۔ انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں ماسوائے سردار عبدالرب نشتر کے ۔ قائداعظم ;78;o compromiseکا نعرہ بلند کرتے کرے ۔ یہ جیت قائداعظم کی متانت ، ایماندار مسلسل جدوجہد، اعلیٰ نصب العین کی صفات سے ممکن ہوا ۔ اور یہی اللہ کی مدد ہوتی ہے جسطرح بدر کی جنگ میں مسلمانون کی تعداد صرف 313تھی ۔ مگر جو نفسیاتی مدد انکو اللہ اور ملاءکہ کی طرف سے ملی ۔ اس جنگ نے فتح مکہ کی پہلی اینٹ رکھ دی ۔ عمران خان آج اُسی دور سے گزر رہے ہیں جب قائداعظم 1940تا 1947 کے گزر تے ۔ استقلال اور استحکام کے ساتھ ساتھ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ;78;o compromise ان مداری سیاست دانوں کےلئے موت ثابت ہوگا ۔ جناح کے بعد عمران خان ۔ انہتائی مضبوط اعصاب کے مالک ہیں ۔ اس کی جماعت میں بھی آستین کے سانپ ہیں ۔ 50سال سے جاری اس گندے سیاسی نظام سے تو یہی نمونے نکلنے تھے ۔ جناح کے پاس بھی گندے انڈوں کی بھر مار تھی ۔ لیکن سب جناح کی شخصیت سے مرعوب تھے ۔ انہوں نے صبر سے کام لیا اور مستقبل پر نظر رکھی ۔ اور جونہی قائداعظم وفت پاگئے انہوں نے وہی کیا جس کے لئے مولانا چلا رہے ہیں ۔ جناح کی وفات سے آج کی موجودہ صورتحال یہ قوم جیسے کسی عظیم گناہ کی پاداش میں راندہ درگا ہ ہیں ۔ لیکن قاضی فطرت کا فیصلہ حق کے ساتھ کھڑا رہتا ہے ۔ امتحانات، آزمائشوں سے نکلنے کے بعد ہی مستحکم خودی تشکیل پاتی ہے ۔

مولانا فضل الرحمن کے آباؤں نے جناح کو شدید تکالیف سے گزارا جس طرح آج وہ عمران خان کو للکار رہا ہے ۔ انکے مراسم آج بھی ہندوستان کے ساتھ قدیمی ہیں ۔ دیوبند کے مسلمانوں نے متفقہ طور ہندوستان کے حق میں ووٹ ڈالاتھا ۔ مگر یہ فتنہ پاکستان میں انکا نمائندہ بن کر رہ گیا ۔ ۔ اسفندیار ولی ۔ باچا خان کا پوتا ۔ کانگریس کا حصہ ۔ پاکستان میں ان کا نمائندہ بن کر ۔ انکے مفادات کا تحطظ کر رہا ہے ۔ انہوں نے ببانگ دیل وجود پاکستان سے نفر ت کرتے ہیں ۔ مگران سب خرافات کے باوجود ۔ ۔ ۔ اس کا لی رات نے صبح میں بدلنا ہے ۔ سوچ لیں جناح کی شہادت کے بعد اس ملک کے نالائق طبقات نے قائداعظم کی ساری محنت اور ایمانداری کے انعام کو اپنے لئے زحمت بنا دیا ۔ جس کی شدت آج زور اختیار کر گئی ۔ پاکستان سے محبت کرنے والوں کی دعا شاید قبول ہوگئی ہے کہ جناح کی شخصیت دوبارہ زندہ ہوگئی اور عمران خان کی صورت جنم لے چکی ہے ۔ اس شخص کی قدر اور پاکستان کا روشن مستقبل دیکھنا اب خواب نہیں ۔ عمران خان کی کرشماتی شخصیت نے نوجوانوں کے سینوں میں اک تحرک پیدا کردی ہے ۔ ایسے کئی عمران اور جناح پیدا ہوتے رہیں گے اور مفکر قرآن کی بصیرت کےمطابق جب جوانوں میں خودی بیدار ہوتی ہے ۔ تو وہ کائنات کی باگ دوڑ سنبھال لیتے ہیں ۔ خراج عقیدت اقبال کےلئے کہ جس کی دورنگیی نے جناح کا انتخاب کیا ۔ اگر جناح کا کردار ہمارے سامنے نہ ہوتا تو عمران خان کہاں سے پیدا ہوتا ۔ قوم خودی اوعظیم با وصف اور ایماندار رہنماؤں کے بل عروج پاتی ہیں

جوانون کو میری آہ سحر دے

پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے