- الإعلانات -

ترقی کے ثمرات عوام تک لازمی پہنچنے چاہئیں

ملک کی اندرونی اور بیرونی صورتحال کا تقاضا ہے کہ حالات باہمی افہام و تفہیم کے تحت درست ہوں ۔ اگر کوئی مسئلہ بھی درپیش ہو تو وہ گفت و شنید سے حل کیا جانا چاہیے ۔ پاکستان اس وقت جس ترقی کی منزل کی جانب گامزن ہے وہ بڑی مشکل سے حاصل ہوئی ہے اور اس کا تعین بڑی قربانیوں کے بعد کیا گیا ہے لہٰذا اگر اس ترقی کے ثمرات عوام الناس تک نہ پہنچیں تو کتنے ظلم کی بات ہوگی ۔ جب ترقی کے پھل کی نچلی سطح تک ترسیل نہ ہو تو اس ترقی کا کوئی حاصل وصول نہیں ۔ چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے آج قوم اس موڑ پر کھڑی ہے ۔ جہاں سے منزل بہت دور نہیں لیکن اگر ایسے میں کوئی ترقی کی منازل کو سبوتاژ کرنے کی مذموم کوشش کرے تو یہ سراسر نا انصافی کے مترادف ہوگا ۔ ایسے میں حکومت کو یقینی طورپر ایسے اقدامات اٹھانے پڑیں گے کہ جن کے ذریعے عوام کے حقوق کا تحفظ ہو ۔ ترقی کے ثمرات ضائع نہ ہوں ، امن و امان قائم ہو ، بین الاقوامی سطح پربھی ملک کانام روشن ہو،ہ میں دنیا کے سامنے سبکی برداشت نہ کرناپڑے، اس سلسلے میں ہمارے سیاسی رہنماءوں کوکلیدی کردار ادا کرنا ہوگا ۔ کورکمانڈرکانفرنس جوکہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ کی زیرصدارت ہوئی ۔ انہوں نے بھی واضح کیاکہ کسی بھی مذموم مقصد کے لئے قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے ۔ کورکمانڈرکانفرنس میں قومی سلامتی اور جیو اسٹرٹیجک حالات کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ داخلی سلامتی اور کشمیر کی مکمل صورتحال کا جائزہ لیا گیا ۔ کانفرنس میں کور کمانڈرز نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہر حال میں ملک کا دفاع کریں گے، کانفرنس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ملکی امن و استحکام قومی اداروں افواج پاکستان کی قربانیوں کی مرہون منت ہے جبکہ کسی بھی مذموم مقصد کےلئے قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے ۔ آرمی چیف نے کہا کہ پاک فوج ملکی اداروں کی مدد کےلئے آئین کے تحت فراءض انجام دیتی رہے گی جبکہ افواج پاکستان ہر قسم کے چیلنجز سے نمٹنے کےلئے تیار ہے جبکہ مشرقی سرحد اور ایل او سی پر ہر قسم کے چیلنجز سے بھی نمٹنے کےلئے ہر دم تیار ہیں ۔ آرمی چیف نے کہا کہ اہم قومی معاملات پر تمام اسٹیک ہولڈرز کی مسلسل ہم آہنگی ضروری ہے اور یہ ہم آہنگی دشمن قوتوں کو شکست دینے کےلئے انتہائی ضروری ہے ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر ریاستی اداروں کا بھر پور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا استحکام اداروں کے ساتھ وابستہ ہے، ملک کے ادارے مزید مستحکم کریں گے ۔ اے ٹی سی سے لے کر سپریم کورٹ تک ہر جگہ خود پیش ہوا، ریاست پہلے سیاست بعد میں ;200;تی ہے، کسی کو قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیں گے ۔ کرتار پور راہداری بین المذاہب ہم ;200;ہنگی کی بہترین مثال ہوگا، دنیا بھر سے ;200;نیوالے سکھ زائرین کو خوش ;200;مدید کہنے کو تیار ہیں ۔ معاشی استحکام کیلئے کی جانے والی کوششیں رنگ لا رہی ہیں ، کرنٹ اکانٹ خسارے میں 32 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ۔ تجارتی خسارے میں کمی اور بر;200;مدات میں اضافہ خوش ;200;ئند ہے، مزید اقدامات جاری ہیں ، چند ماہ میں مزید بہتری ;200;ئے گی ۔ اُدھرپاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی اور اتحادی جماعتوں نے وزیراعظم عمران خان پر اعتماد کی قرارداد متفقہ طورپر منظور کر لی ۔ قرار داد کے متن میں کہا گیا کہ وزیر اعظم اور حکومت کی کارکردگی پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہیں ، پارلیمنٹ کو جمہوری اقدار کے مطابق بدستور فعال رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، موجودہ حالات میں حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کا کردار اہم تھا اور ہم اس پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہیں ۔ موجودہ حکومت کی تاریخی اصلاحات ملک کی تعمیرو ترقی میں اہم سنگِ میل ثابت ہوں گی ۔ پاکستان کو درپیش معاشی، سفارتی، انتظامی اور دیگر چیلنجز سے نبرد;200;زما ہونے کے لئے وزیرِ اعظم اور حکومت کو مکمل تعاون کا یقین دلایا گیا ۔ دنیا بہت آگے نکل گئی ہے اور ہم ابھی تک دھرنے اور احتجاجات میں الجھے ہوئے ہیں اگر دیکھا جائے تو سابقہ تمام سیاسی چہرے ناکام ہوئے ہیں اور ملک کی معاشی تباہی کے یہ سب ذمہ دار ہیں ۔ مفاد پرستی ، چاپلوسی اور انفرادی سوچ اور طرز سیاست نے ملک و قوم کے مستقبل کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے ۔ مظاہرے ، جلوس اور دھرنے کسی بھی مسئلے کا حل نہےں ہوتے ، مسائل ہمےشہ مذاکرات سے ہی حل ہوا کرتے ہےں ۔ عوام محض سےاسی تماشے کےلئے اپنے بچوں کو بھوکے نہےں رکھ سکتے ۔ مذاکرات کسی بھی مسئلے کا حل ےا باہمی مفاہمت پےدا کرنے کےلئے بات چےت کے عمل کا نام ہے جب مذاکرات اور مفاہمت سے کوئی مسئلہ حل ہو سکتا ہو تو پھر دھرنا ،احتجاج اور آزادی مارچ کرنا ہٹ دھرمی ہی قرار دی جا سکتی ہے ۔ کیا اپوزیشن فوج پر تنقید کر کے اس مشکل وقت میں بھارت کے ہاتھ مضبوط نہیں کر رہی ہے ۔ ہماری فوج نے ملک سے دہشت گردی ختم کی ۔ فوج اب حکومت کے ساتھ مل کر فاٹا میں ترقیاتی کام کر رہی ہے ۔ سرحد پر بھارت جنگ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ اسوقت فوج کے ساتھ ایک پیج پر ہونے کی ضرورت ہے ۔ فوج فاٹا، اندرون ملک اور مغربی باڈر پر دو لاکھ فوج ہے ۔ کسی طرح بھی ملک کے حالات خراب نہیں ہونے چاہئیں ۔ ورنہ اس سے بھارت کو آزاد کشمیر پر حملہ کرنے کا موقع مل جائے گا ۔ اپوزیشن کو چاہیے کہ عدالتوں میں اپنی بے گناہی ثابت کرے ۔ حکومت کو پانچ سال مکمل کرنے دے ۔ اپنے مطالبات جمہوری طرز پر پیش کر کے واپس چلے جائیں ۔ یہی جمہوری طریقہ ہے ۔ اگر ملک میں افراتفری ہوئی تو یہ نہ ہی اپوزیشن اورنہ ہی حکومت اور نہ ہی عوام کےلئے اچھا ہو گا ۔ اس سے بھارت فائدہ اُٹھائے گا اور ایک روایت پڑ جائے گی کہ لاکھ دو لاکھ لوگ اسلام آباد میں جمع ہوکر کسی بھی حکومت کو گراتے رہیں گے ۔ پاکستان میں پہلی دفعہ، اللہ اللہ کرکے پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے اپنے اپنے پانچ سال مکمل کیے تھے اوراب موجودہ حکومت کو بھی پانچ سال پورے کرنے کاموقع دیاجائے تاکہ ملک آگے بڑھے ۔

فضل الرحمان کے ساتھ قوم پرست قیادت کاکھڑا ہوناغیرمعمولی بات ہے

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیاز ی نے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے جو کامیابی حاصل کی ہے اس کی مثال نہیں ملتی،مولانا نے اپوزیشن پارٹیوں اور تمام مکتبہ فکر کے علماء کو اپنے ساتھ کھڑا کیا،ایک دو روز صبر کریں ، مولانا فضل الرحمان اسلام آباد سے چلے جائیں گے ۔ پروگرام میں شریک اینکر پرسن منیب فاروق نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے ضرور پوچھا جائے گا کہ دھرنے کیلئے فنڈنگ کہاں سے ہوئی،دوسری سیاسی جماعتیں مولانا کی اندھی تقلید نہیں کر رہیں ،وہ ساتھ بھی ہیں اور نہیں بھی،مولانا فضل الرحمان احتجاج سے اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے نظر نہیں آ رہے ۔ دوسری جانب کنٹینر کے اندر روزنیوز کو انٹریو دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ایس کے نیازی کا میڈیا گروپ سنجیدہ صحافت کا علمبردار ہے ، مولانا فضل الرحمان نے سردار خان نیازی کو اپنا بھائی قرار دیا ، ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی احتجاجی تحریک سے جمہوریت مضبوط ہو گی ۔ اصل بات یہ ہے کہ دھرنے سے ملک و قوم کو اور مولانا فضل الرحمان کو کیا حاصل ہوا ;238; مولانا کی جماعت دیوبند یوں کی جماعت ہے لیکن ان دائیں جانب بریلوی انس شاہ نورانی اور دوسری طرف اہل حدیث ابتسام الٰہی کھڑے ہیں یعنی مولانا نے ثابت کیا وہ فرقہ واریت سے بالا تر ہو کر سارے مکاتب فکر کو لے کر چل سکتے ہیں ۔ مولانا کے ساتھ قوم پرست بھی کھڑے ہیں ۔ اسفند یار ولی اور محمود خان اچکزئی بھی، مذہبی جماعت کے رہنما کے ساتھ قوم پرست قیادت کا کھڑا ہونا غیر معمولی بات ہے ۔ قومی سیاست دان بھی مولانا کے پیچھے کھڑے ہیں ۔ ن لیگ اور پی پی پی اس وقت مولانا کی امامت میں کھڑے ہیں ، ان کے سیاسی امام مولانا ہیں ۔ مولانا پرامن رہے ۔ یہ دنیا کو ایک اچھا پیغام تھا کہ مذہبی طبقہ بہت پُرامن ہے ۔