- الإعلانات -

کراچی اور سندھ (دوسری قسط )

ایم کیو ایم سیاست میں دخیل ہوئی مینڈیٹ کا مسئلہ گن پوائنٹ سے حل ہو گیا پارٹی ممبران کی خاصی تعداد صوبائی اور قومی اسمبلیوں میں داخل ہو گئی پھر سینیٹر حضرات منتخب ہو گئے یوں طاقت کے مراکز میں ایم کیو ایم کو اہم حصہ مل گیا مرکز اور سندھ میں تھندی وزارتیں بھی حق ٹھیریں اب کراچی کچھ پاکٹس کے استثنائ کے ساتھ پورا کراچی ایم کیو ایم کے سایہ عاطفت میں چلا گیا سیاست کی حد تک تو یہ ٹھیک تھا لیکن قابل اعتراض بات وہ ایجنڈہ تھا جو ریاست پاکستان کے خلاف تھاچونکہ RAW کا network کافی عرصہ پہلے سے اندرون سندھ میں پوری فعال ہو چکا تھا انڈیا سے باقاعدہ فنڈنگ ہوتی تھی اور معروف لیڈر باقاعدہ نقد وصول کرتے تھے کئی لیڈر اجمیر شریف اور دیگر بزرگوں اور دربار صاحب کی زیارت کے نام سے جاتے اور پورا وقت دہلی میں اپنے میزبانوں کے ہاں عیاشی کرتے اس میں کسی ایک صوبے کی تخصیص نہیں تھی kpk کی طرح سندھ میں یہی لابی کالاباغ ڈیم کی مخالفت کرتی وہ بھی کسی منطق یا دلیل کے بغیر کے پی کے میں کہا جاتا کہ پنجاب ہمارے پانی میں سے بجلی نکال لے گا اور ڈیم بننے سے سندھ ڈوب جائے گا کیا ڈیم پانی روکنے کے لئے ہوتے ہیں کبھی کہتے پانی روک لیا جائے گا کیا بہتا دریا رک جائے گا ہمیشہ انڈیا ہی کی لائن TOWکی جاتی کراچی اور اندرون سندھ دونوں جگہ را کا نیٹ ورک اس قدر فعال تھا کہ کراچی کے ٹارگٹ کلر جرم کے بعد اندرون سندھ روپوش ہو جاتے ان کی جگہ سندھی بولنے والے را کے لوگوں کراچی میں فعال کردیا جاتا پولیس الجھ جاتی کہ مجرموں کو آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی را کا نیٹ ورک سندھ میں اسقدر فعال تھا کہ اسکولوں کے چھوٹے چھوٹے بچے شکایت کرتے کہ پنجاب ہمیں کھا گیا جب کہ ان معصوموں کو لفظ پنجاب لکھنا تک نہین آتا اساتذہ بھی اسقدر جاہل مطلق کہ بعینہ وہ لفظ دہراتے جن کا پس منظر تک وہ نہین جانتے تھے ان کے اساتذہ جن میں سے اکثر بمشکل اپنا نام ہی لکھ پاتے اکثریت یا تو پیسے دے کر بھرتی ہوئی یا کسی وڈیرے نے بطور سیاسی رشوت ایک آدھ ویکنسی عطا کردی . وہاں ان دونوں ایسے اساتذہ بھی دیکھے گئے جن کے شناختی کارڈ پر دستخط کی جگہ انگوٹھا لگا تھا یہ لوگ انجانے میں را کے ایجنٹوں کے جھانسے میں آ گئےاپنی کم علمی اور پروپیگنڈے کے زیر اثر غلط اور بے بنیادباتیں حقیقت باور کرادی گئیں اور جس کو وہ درست سمجھتے تھے بنا سوچے سمجھےوہی سوچ آگے بچوں کو منتقل کردیتے یہ سب کم علمی کا شاخسانہ تھاانہی دنوں تعلیم نظام تباہ ہو گیا تھا کہ ایک پوسٹ گریجویٹ کو چھٹی کی درخواست تک لکھنی نہیں آتی تھی انہی دنوں میں دادو گورنمنٹ کالج میں فوجی بھرتی کی ایک ٹیم گئی جس کا مقصد لڑکوں بطور فوجی افسران بھرتی کے لئے آمادہ کرنا تھا لیکن سب لڑکوں نے صاف انکار کردیا کہ ہم پاکستان کی فوج میں ہم نہیں جانا چاہتے وجہ پوچھنے پر کوئی ایک لڑکابھی جواب نہ دے سکا کہ وہ ایسا کیوں چاہتا ہے صرف ایک بات کہ ہم پاکستان نہیں چاہتے کیوں اس کا جواب ان کے پاس نہیں تھا بہرحال اب ماشاءاللہ سندھ سے بہت بڑی تعداد میں افسران اور دیگر رینک فوج میں قوم کی خدمت کر رہے ہیں اور وطن اور قوم کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں۔بہت زیادہ فنڈنگ اور پروپیگنڈے کے باوجود ما سوائے اکا دکا کے صوفیاءکی سرزمین کے باسیوں عام محب وطن سندھیوں نے یہ چورن نہیں خریدا کچھ ہی عرصے میں اس زہریلے پروپیگنڈے کا خود بخود توڑ ہوگیا لوگوں پر اصل صورتحال واضح ہوئی اور پروپیگنڈہ کرنے والوں کا غازہ اتر گیا اور ان کا اصل چہرہ عیاں ہوگیا خاص طور پر جب کراچی میں سندھی بولنے والوں کو لسانی بنیادوں پر قتل کیا گیا تو اندرون سندھ میں را کا nexus اپنی موت آپ مرگیا جس کی بنیاد ہی جھوٹا پروپیگنڈا تھایہاں تک کہ نامی گرامی لوگوں نے دست تعاون کھینچ لیا جو عیاشی اور مفت کی شراب نوشی کےلئے حیلوں بہانوں سے انڈیا آتے جاتے تھے۔
(باقی:سامنے والے صفحہ پر)
را کے ایجنٹوں کا پاکستان میں داخلہ بذریعہ سمجھوتہ ایکسپریس بھی نہایت آسان تھا چونکہ امیگریشن لاہور ریلوے اسٹیشن ہر ہوتا ٹرین کے ڈرائیور کی جیب میں کچھ ڈالتے اور وہ کسی بہانے سے ٹرین راستے میں روک دیتا یا اتنا آہستہ کردیتا کہ ایجنٹ آرام سے اتر کے پناہ گاہوں میں چلے جاتے نام نہاد انڈین جیمزبانڈ اجیت دوول کا پاکستان میں داخلہ بھی ایسے ہی ہوا تھا بعد میں ملکی سلامتی کے اداروں نے اس پر مکمل قابو پا لیا کراچی کی حد تک یہ نیٹورک زیادہ مضبوط تھا جہاں را کے انڈین لوگ براہ راست ہر معاملے میں خود آگے ہوتے روزانہ کی بنیاد پر انڈین تخریب کار دبئی کا ٹکٹ لے کر کراچی ایرپورٹ پر اترتے اور ٹرانزٹ لاﺅنج یاہوٹل سے باہر نکل جاتے جب ان کا ٹاسک پورا ہوتا ایرپورٹ جاتے اور وہاں سے نکل جاتے اس طرح پاکستان آتے اور جاتے تھے کراچی میں را کا نیٹوک اتنا فعال کہ ہدایت دہلی سے آتی اور ایک گھنٹے میں کراچی بند ہو جاتا اور 10 بیس لاشیں گر جاتیں 15 بیس گاڑیاں جلادی جاتیں یہ ایم کیو ایم/را کے عروج کے دن تھے مسلمہ اصول ہے کہ کبھی نہ کبھی برائی کا خاتمہ ہوتا ہی ہے ایک مسیحا کی آمد نے سب کچھ بدل دیا اب سیاسی تخریب کاروں اور دہشتگردوں پر ریاست پاکستان نے ہاتھ ڈالا ہے اور بالکل ٹھیک ڈالا ہے رینجرز نے وہ کچھ حاصل کرلیا اور کراچی کو وہ کچھ لوٹا دیا جس کا تصور بھی محال تھا لیکن ابھی منزل خاصی دور ہے لیکن سمت بالکل درست ہے اللہ سے دعا ہے کہ آپس کی محبتیں بڑھیں بھائی چارے کو فروغ ملے مسیحا کی استقامت کی اور ہمت کی دعا مت بھولیے گا اللہ پیارے وطن کی حفاظت فرمائے آمین