- الإعلانات -

کچرے سے سالانہ726 ارب روپے کی گیس

میں وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی میں متبادل ذرائع توانائی کا ایک ا دنی طالب علم ہوں ´ اس ادارے کا بنیادی مقصد ملک میں متبادل ذرائع توانائی جس میں شمسی توانائی، پانی سے بجلی بنانے ، بائیو گیس ، ہوا سے سے چلنے والی چکیاں اور اس سے بجلی بنانے والے ادارے میں متبادل ذرایع توانائی کو فروع دینا ہے،اور اللہ تعالی کے فضل وکرم اس ادارے نے اب تک ملک کے طول و عرض میںگذشتہ 10 سالوں کے دوران 5000 بائیوگیس پلانٹ 20 معکب فٹ سے لیکر 200 معکب فٹ تک 70کمر شل بائیو گیس پلانٹ، ملک کے شمالی علاقہ جات میں9میگا واٹ کے 540چھوٹے پن بجلی گھر قائم کئے ہیں جو انتہائی کامیابی کے ساتھ دور دراز علاقے کے لوگوں کو بجلی مہیا کر رہے ہیں۔ اس قسم کے مزید 45 چھوٹے پن بجلی گھر زیر تعمیر ہیں۔اس ادارے نے شمسی توانائی سے چلنے والے 500 شمسی نظام ملک کے دور دراز کے سکولوں اور مسجدوں میں لگائے ہیں جونکی توانائی کی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔ اس ادارے نے اچھے کوالٹی اور معیارکے 15600 سولر سیلز بھی بنائے ہیں۔علاوہ ازیں سندھ اور بلو چستان میں 155 ہوائی چکیاں ، ایک لاکھ مٹی سے بنے ہوئے چولھے،5000 میٹالک کو ک سٹوز، 533 سولر ڈرائیرز، 200 سولر واٹر ہیٹرز، 1000 سولر کو کرز اور نہر پر بجلی پیدا کر نے کا 330 کلو واٹ کا ایک نظام بنایا ہے جو انتہائی موثر طریقے کام کر رہا ہے۔اسکے علاوہ اس کو نسل نے 16 قومی اور بین الاقوامی ورکشاپ کا اہتمام کیا ۔ مزید بر آں سائنس دانوں نے 261 تحقیقی مکالے لکھے۔7 سائنس دانوں نے پی ایچ ڈی مکمل کی اور تقریباً 80 گریجو ئیٹ انجینیر طالب علموں نے یہاں پر انٹر شپ مکمل کی ۔مختلف انجینیرنگ یونیور سٹیوں کے بی ایس سی اور ایم ایس انجینیرنگ کے طالب علموں کو میرے ذمے لگا دیا گیا ہے کہ ان طالب علموں کو متبادل ذرائع توانائی جس میں بائیو گیس، مائیکرو ہائیڈل پور پلانٹ ،ونڈ انرجی اور سولر انر جی شامل ہے انکو ان ٹیکنالوجیز اور اس سے متعلق تمام پہلو ں کی عملی تربیت دی جائے۔ میری بھی پو ری پو ری کو شش ہو تی ہے کہ وطن عزیز کے ان ہو نہار طالب علموں کو کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ معلومات اور عملی تربیت دی جائے۔ ما شاءاللہ، اللہ تعالی کے فضل و کرم سے یہ تمام طالب علم انتہائی ذہین فطین ہیں ۔اور اُنکی ذہانت اور فطانت سے اُس وقت انتہائی اور بھر پو ر استفادہ کیا جا سکتا ہے جب اُنکی مناسب اور پیشہ ورانہ طریقے سے راہنمائی کی جا سکے۔ میری یہ بھر پو ر کو شش ہے کہ بی ایس سی اور ایم ایس سی انجینیرنگ کے طالب علموں کو انتہائی ایما نداری ، دیانت داری اور پیشہ ورانہ طریقے سے راہنمائی کی جا سکے۔انکو سمجھانے اور منا سب تیاری کے لئے میں رات کے تین اور چا ر بچے تک جا گتا رہتا ہوں ۔ بہر حال خادم کی ان کو ششوں ، کا وشوں اور محنت کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ اب یہ طالب علم متبا دل ذرائع توانائی سے متعلق تمام ایشوز سے اچھے طریقے سے با خبر اور آگاہ ہیں۔ اور وہ اب متبادل ذرائع توانائی سے متعلق کسی مسئلے کا حل با آسانی نکال سکتے ہیں۔گذشتہ دنوں ہم بائیو ما س یعنی کچرے ، گھاس پو ست سبزی اور پھلوں کے چھلکوں سے متعلق توانائی اور بجلی پیدا کرنے کا ذکر کر رہے تھے۔ گجرانوالہ، فیصل آباد، کراچی ، حیدر آباد، پشاور، بنوں ، کوئٹہ اور سبی کے میونسپل کا رپو ریشنوں سے وطن عزیز کے ایک اہم اور قومی ادارے پاکستان انوائرومینٹل پروٹیکشن ایجنسی نے جیکا اور یو این ڈی پی نے جو اعداد و شمار اکٹھے کئے اس سے آسانی سے یہ اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ وطن عزیز کا فرد روزانہ مختلف سر گر میوں سے 0.456گرام کچرا پیدا کرتا ہے ۔ اور وطن عزیز کے اس کچرے میں 36فیصد یعنی کل گند کا 29549ٹن روزانہ ایسا گند پیدا ہوتا ہے جس سے بہترین قسم کی توانائی اور بجلی پیدا کی جا سکتی ہے اور ساتھ ساتھ جو کچرا ہمارا گھروں ، گھروں کے باہر ندی نالوں، گلی کو چوں میں پڑا ہوا ہے اسکو بھی ممکنہ حد تک کم کر کے کئی مختلف قسم کی خطرناک بیماریوں کی بیخ کنی کی جا سکتی ہے۔
میں نے بھارت اور دوسرے ترقی یا فتہ ممالک کے تقریباً 4تحقیقی مقالے اور ریسرچ پیپرز پڑھے اور ان تحقیقی مقالوں اور ریسرچ پیپروں پر میری اور ان طالب علموں کی لمبی گفت وشنید ہو ئی اوراہم اور فکر انگیز گفتگو سے ہمیں اندازہ ہو گیا کہ وطن عزیز میں کچرے جس میں با لخصوص کچن ویسٹ یعنی کچن سے پیدا شدہ کچرہ یعنی سبزی تر کا ریوں کے چھلکے ، ہڈیاں وغیرہ شامل ہیں اس 30 ہزار ٹن گند پر 50 لاکھ 5 معکب فٹ بائیو گیس پلانٹ لگا کر 50 لاکھ خاندانوں اور 3 کروڑ لوگوں کو 2.5 کروڑ کیوبک میٹر گیس دی جا سکتی ہے۔ اگر ہم ان 50 لاکھ بائیو گیس پلانٹوں کی مٹی کے تیل کے حساب سے قیمت نکالیں تو ان بائیو گیس پلانٹوں سے سالانہ 612 ارب روپے، ایل پی جی کے حساب سے 652 ارب روپے سالانہ اور اگر لکڑیوں کے حساب سے انکی قیمت نکالی جائے تو وہ 726 ارب روپے بنتی ہے۔ علاوہ ازیں ان بائیو گیس پلانٹوںسے ہم سالانہ ڈھائی لاکھ ایکڑ جنگلات کی کٹائی روکنے میں مدد دے سکتے ہیں۔اس 50 لاکھ بائیو گیس پلانٹوں سے ہم 8 کروڑ کلوگرام کاربن کی مقدار میں بھی کمی کر کے مختلف بین الاقوامی ایجنسیوں سے 30 ڈالر فی ٹن کے حساب سے کاربن کم کرنے کا54 کروڑ روپے ٹیکس بھی لے سکتے ہیں۔ اب جبکہ ایک دفعہ دوبارہ وطن عزیز میں بجلی لو ڈ شیڈنگ ہو رہی ہے اور وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی کے مطابق اس وقت ملک میں 50 فی صد گیس کی کمی ہے اگر ہم کچرے اور میونسپل ویسٹ پر مند رجہ بالا بائیو گیس پلانٹس لگائیں تو اس سے نہ صرف توانائی کی ضروریات پوری کر نے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ اس سے ہمارے ملک میں وہ گند جس سے مختلف قسم کی بیماریاں پھیلتی ہے اُس کی کمی میں مدد ملے گی۔واقعی کسی نے صحیح کہا ہے کہ Garbage is goldکہ کچرا سونا ہو تا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کے ایک تحقیقی ادارے میں کچرے اور گند سے گیس بنانے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے اور وہ اپنے یو نیور سٹی کے ہو سٹل کی گیس کی ضروریات با ورچی خانے کے ویسٹ یعنی کچن کے کو ڑے کر کٹ سے پو ری کر رہا ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 6 کلو گرام کچن ویسٹ سے 125 کلو گرام گوبر کے برابر بائیو گیس بنائی جا سکتی ہے۔لہذاءاب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں انفرادی طو ر پر ، ہماری حکومت اور غیر سرکاری اداروں کو کچن ویسٹ سے توانائی اور گیس پیدا کرنے پر بھر پو ر توجہ دینی چاہئے تاکہ ملک میں توانائی کی ضرورتیں پو ری ہوں اور دوسری طر ف وہ گند جو ہمارے گھروں، محلوں اور کو چوں میں پڑا ہوا ہے اور جس سے مختلف قسم کی بیماریاں پھیل رہی ہیں انکا سد باب اور تدارک کیاجائے۔