- الإعلانات -

”چور نالے چتر“

مصطفی کمال اور انیس قائمخانی تین سال قبل اس طرح غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ اس عرصے کے دوران کسی کو کچھ خبر نہ تھی کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں۔ اوراب ان کی واپسی ہوئی ہے تو نیوٹن کے قانون کے عین مطابق، جس غضب پراسراریت کے عالم میں وہ غائب ہوئے اب اسی قدر دھماکہ خیزانٹری انہوں نے دی اور ایک بار تو بالعموم ملکی سیاست اور بالخصوص کراچی کی سیاست کی چولیں ہلا کے رکھ دی ہیں، اور پنجابی میں کہا جائے کہ ایم کیو ایم کی ”منجی“ ٹھوک کے رکھ دی ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ بہت سے سیاسی پنڈت اشارہ دے رہے ہیں کہ اس سے ایم کیو ایم کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا، بلکہ الٹا مصطفی کمال اور انیس قائمخانی ہی کی منجی ٹھک جائے گی۔ مثالیں دے رہے ہیں صولت مرزا جیسے لوگوں کی۔ لیکن ان پنڈتوں سے معذرت کے ساتھ میرا خیال کچھ مختلف ہے۔ مانا کہ صولت مرزا اور اس جیسے دیگر جرائم پیشہ عناصر کے انکشافات سے ایم کیو ایم کو کوئی خاطرخواہ نقصان نہیں پہنچا لیکن اس کی وجہ مجھے یہ سمجھ آتی ہے کہ ان کے انکشافات کو ہمارے ملک کے کرتادھرتاﺅں نے درخورِ اعتناءنہیں سمجھا، ان انکشافات پر جس قدر تحقیقات کی جانی چاہئیں تھیں، نہیں ہو سکیں۔ نتیجتاً ایم کیوایم اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوئی۔
اندر کی خبر جاننے والے بتاتے ہیں کہ گزشتہ دنوں کراچی میں آپریشن کرنے والی قوتوں نے نائن زیرو کے رہنماﺅں سے کہا کہ ”جرائم پیشہ افراد سے علیحدگی کا اعلان کرو اور انہیں ہمارے حوالے کر دو۔“ نائن زیرو کے رہنماﺅں کے پنجابی محاورے ”چور نالے چتر“ کی مجسم تصویر بنتے ہوئے ان کے مطالبے کو اپنے ایک مطالبے کے ساتھ مشروط کر دیا۔ نائن زیرو والوں نے کہا کہ ”آپ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کو گورنرہاﺅس سے نکلوا دیں، ہم اپنے جرائم پیشہ افراد کو آپ کے حوالے کر دیں گے۔“بات یہاں آ کر رک گئی۔ اس سے اور کچھ برآمد تو ہوا ہے یا نہیں وہ اندر کی خبریں جاننے والے جانیں لیکن مجھے ایک تو یہ بات سمجھ آئی ہے وہ یہ کہ ایم کیو ایم نے آپریشن کرنے والی قوتوں کے سامنے یہ اعتراف ضرور کر لیا ہے کہ ان کی تنظیم میں جرائم پیشہ افراد موجود ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جس سے ملک کا بچہ بچہ واقف ہے لیکن پھر بھی ایم کیو ایم کا کوا سفید ہی ہے۔ دوسری بات جو میں نے اس سے اخذ کی وہ یہ کہ جب کبھی گورنر عشرت العباد گورنرہاﺅس سے نکلے وہ دوسرے مصطفی کمال اور انیس قائمخانی بن جائیں گے اور وہ دن ایم کیو ایم کے لیے اس دن سے بھی کڑا ہو گا۔
صولت مرزا کی پوزیشن اور تھی ، مصطفی کمال اور انیس قائمخانی کی پوزیشن اور ہے۔ اس لیے دونوں بلکہ تینوں کے انکشافات نما بیانات کی پوزیشن اور ان کے اثرات بھی یقینا مختلف ہوں گے۔اگر مصطفی کمال اور انیس قائمخانی کے انکشافات دراصل اعترافات کی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ یہ ایم کیو ایم کے اندر کے لوگ تھے، ان کے یہ اعترافات ایم کیو ایم کے خلاف حقیقی معنوں میں چارج شیٹ ہیں۔ جس قدر ایم کیو ایم کی دیسی رابطہ کمیٹی کے اراکین کے متعلق میں جانتا ہوں، الطاف حسین کے متعلق ان کی اکثریت کے خیالات مصطفی کمال سے ملتے جلتے ہیں، مگر انہیں تاحال وہی خوف لاحق ہے جس کا ذکر مصطفی کمال نے کیا ہے، اس لیے ان کی زبان پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔ انٹرنیٹ پر کئی الطاف حسین ہی کے بیانات پر مشتمل درجنوں ایسی ویڈیوز موجود ہیں جو ان کے حب الوطنی کے دعوے کی نفی کرتی ہیں، ہاں ان کے مفادات پاکستان سے وابستہ ہیں اور وہ مفادات عین وقت پر لندن پہنچ رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ الطاف حسین نے پارٹی میں اپنے خاندان کو کوئی عہدہ نہیں دیا۔ دبئی، ساﺅتھ افریقہ، لندن اور امریکہ جیسے ممالک میں جو جائیدادیں بن رہی ہیں وہ ان کے خاندان کے لیے کافی ہیں، جو کام انہوں نے پارٹی عہدہ لے کر خود کرنا تھا وہ ان کے لیے کوئی اور لوگ کر رہے ہیں۔ انہیں کیا مصیبت کہ خود کو مصیبت میں ڈالیں۔ کھابے بھی مل رہے ہیں اور نیب وغیرہ کی فہرست میں نام بھی شامل نہیں۔ لندن میں سکاٹ لینڈ یارڈ نے الطاف حسین کی رہائش گاہ کی چھتوں اور فرش سے جو پاﺅنڈز، ڈالرز اور یوروز برآمد کیے تھے، وہ الطاف حسین کی خون پسینے کی کمائی تھی؟ بالکل نہیں، دنیا جانتی ہے کہ وہ کراچی والوں کے ”خون“ کی کمائی تھی۔
مصطفی کمال نے کراچی میں جاری قتل و غارت گری میں ایم کیو ایم کے جس کردار کی رونمائی کی ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ میں اس عمل میں ملک کی دیگر بڑی سیاسی جماعتوں کو بھی حصے دار سمجھتا ہوں جنہوں نے کراچی کی سیاست سے خود کو دور رکھا اور ایم کیو ایم کو کھل کر کھیلنے کا موقع دیا۔ پیپلزپارٹی پھر بھی کراچی میں کچھ ہاتھ پاﺅں مارتی رہی، وہ بھی اس لیے کہ وہ سندھ کی جماعت تھی۔ مسلم لیگ ن نے تو کراچی کو اپنی سیاسی کتاب سے حرفِ غلط کی طرح مٹا رکھا ہے اور کبھی جرا¿ت نہیں کی کہ ایم کیو ایم کے امیدواروں کے مقابلے میں اپنے بندے لائے۔ اگر یہ مشق آغاز سے جاری رہتی تو ایم کیو ایم اتنی بے لگام کبھی نہ ہوتی۔گزشتہ عام انتخابات میں اور اس کے بعد ہونے والے ضمنی انتخابات میں جس طرح عمران خان نے ایم کیو ایم کے مقابلے میں تحریک انصاف کے امیدوار کھڑے کیے اور مقابلہ کیا اس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کراچی میں ایم کیو ایم کے خوف کے بت کو پاش پاش کیا اور یہ ان کا ایسا کارنامہ ہے جس کی آج تک کسی اور کو توفیق نہیں ہو سکی۔اب وقت ہے کہ مصطفی کمال اور انیس قائمخانی کے اعترافات پر نتیجہ خیز تحقیقات کرائی جائیں اور دیگر سیاسی جماعتیں ہر الیکشن میں اور کراچی کے ہر حلقے میں اپنے امیدوار کھڑے کریں۔ قطعاً ناممکن نہیں کہ ایم کیو ایم کا سوا نیزے پر کھڑا سورج ، جو کراچی کے عوام کے جھلسائے چلا جا رہا ہے، غروب نہ ہو سکے۔ اب وہ وقت نہیں رہا کہ کراچی کے اردو بولنے والے پاکستانیوں کے دلوں میں پنجابیوں، سندھیوں اور پشتونوں کی نفرت کے بیج بو کر الطاف حسین اپنا مفاد حاصل کرسکیں اور بیرون ممالک اپنے خاندان کے لیے دولت کے انبار لگا سکیں۔