- الإعلانات -

مسلم بنگلہ دیش اپنا تاریخی ثقافتی تشخص داغدار نہ کرئے

بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور پاکستان مخالف عالمی طاقتوں کی ایماءپر پاکستان کو 1971ءمیں دولخت کرنے اور بنگلہ دیش بنانے کے اندوہناک تاریخی واقعہ کو گزرے45 برس ہوگئے ساڑے چار دہائیاں بیتنے جانے کے بعد بنگلہ دیش کی بھارت نواز عوامی جماعت نے آج تک سنجیدگی کا دانش مندانہ نہ سیاسی رویہ اپنایا اور نہ ہی بنگلہ دیش کی برسر اقتدار جماعت عوامی لیگ نے عدم برداشت کا‘تحمل مزاجی کا مدبرانہ طرز ِ عمل اختیار کیا غالباً لگاتار عوامی لیگ کو مسلم بنگلہ دیش میں ایوان ِ اقتدار میں رہنے کا یہ دوسرا ختمہونے والا موقع ملا ہوا ہے اِس دوران پُرامن اور غیر جانبدار عالمی حلقوں کو یہ بالکل محسوس نہیں ہوا ہوگا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی بدنام ِ زمانہ مکتی باہنی ازم بنگلہ دیش میں ختم ہوگیا ہو اور وہاں کے عوامی حلقوں میں اب کوئی سنجیدگی کے احساسات نے جگہ پکڑلی ہو مسلمان بنگلہ دیشی یا بھارت کی مسلمان بنگالی اکثریت میں اِس قدر پیمانے پر انتہا پسندی اور جنونیت کی دشمنی کے اثرات ماضی میں ہمیں تو نظر نہیں آتے ہوسکتا ہے ہم اِس سے باخبر نہ ہونگے ماضی میں بنگالیوں کی سامراج دشمن حریّت پسندی کے تاریخ ساز واقعات تو ہم نے پڑھے مگر باہم مسلم دشمنی اور ایک دوسرے کے مسلم خون سے بنگالیوں کے ہاتھ رنگے ہوئے ہم نے دسمبر1971ءمیں ہی دیکھے ہیں،مگر‘ اتنی بڑی کھلی دلوں کو دہلادینے والی خونریزی میں ہم اکیلے بنگلہ دیشیوں کو ملوث نہیں دیکھتے اِس میں حقیقتاً ہندو متشدد بنگالی جو سرحد پار سے ’را‘ نے سقوط ِ مشرقی پاکستان کی سیاسی افراتفری‘ اندورنی انتشار‘ اور سماجی وثقافتی بھگدڑ میں داخل کیئے یہ سب اُن ہندو بنگالیوں کا کیا دھرا تھا ہاں یہ کسی حد تک بالکل صحیح اور حق بجانب بات ہے جس میں موجودہ بنگلہ دیشی حکمران جماعت عوامی لیگ کے مقامی مسلح کارکن ضرور شامل تھے جن کی عمریں اُس وقت بیس بائیس سال سے کیا زیادہ ہونگی جو اب 70-80 کے پیٹھے میں تو ضرور ہونگے اگر اُن میں کچھ بقید ِ حیات ہوئے لیکن بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد کے دلوں میں موجود پاکستان مخالفت کی نفرتوں کو دوبارہ عروج پہ پہنچانے میں کسی اور نہیں بلکہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ نے یقینا اپنی مذموم مہم جوئی کی جس کا نتیجہ ہم گزشتہ ایک دو برسوں سے دیکھ رہے ہیں کیا یہ سچ نہیں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد دس برس قبل وہاں کی پارلیمنٹ میں جن ارکان ِ اسمبلی نے بنگلہ دیش کے آئین کے تحت حلف اُٹھایا وہ بنگلہ دیشی پارلیمنٹ کے ممبر بھی رہے اُن میں سے جن سیاسی جماعتوں نے عوامی لیگ کے ساتھ کوئی الحاق کرنے سے پہلو تہی کی مثلاً بنگلہ دیشی جماعت ِ اسلامی کے منتخب ارکان ِ پارلیمنٹ نے ‘ اُن ستر ستر برس کے بزرگ ارکان ِ پارلیمنٹ کو کیسے اور کیونکر بنگلہ دیش کی موجودہ سیاسی جماعت نے ’غدار ‘ قرار دے کر اُنہیں تختہ ¾ ِ دار پر کھینچ دیا انسانی حقوق کی نام نہاد عالمی تنظیموں کی مشکوک خاموشی پر ہمیں شدید تحفظات ہیںبنگلہ دیش کی موجودہ سیاسی حکومت نے ’آئین ِ بنگلہ دیش ‘ سے غداری پر نہیں بلکہ عوامی لیگ کے سیاسی مفادات کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ بننے والی بنگلہ دیشی اپوزیشن جماعت کے رہنماو¿ں کو پھانسی پر لٹکانے کا جرم بنگلہ دیش میں ہوا ہے جس پر پاکستانی مسلمان قوم کے مذہبی جذبات کو سخت دھچکا پہنچا اور وہ اِس پر سخت برہم اور مضطرب ہیں جب سے حسینہ واجد نے بھارت نوازی کا ’چولا ‘ پہنا اور عوامی لیگ کی سینٹرل سطح کے فیصلے کرنے والی کرسیوں پر’را‘ کے ایجنٹوں کو بیٹھایا وہ دن ہے اور آج کے یہ افسوس ناک اور شرم ناک لمحات ‘ بنگلہ دیش اور پاکستانی قوم کے درمیان فاصلے اور دوریاں بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں یہاں ہم اپنے سیاسی حکمرانوں کو بھی یہ بتا نا اپنا پیشہ ورانہ فرض سمجھتے ہیں کہ وہ بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت کی پاکستان دشمن پالیسیوں پر گہری اور عمیق نظریں رکھے گزشتہ دنوں بنگلہ دیش میں ہونے والی ’سیاسی پھانسیوں ‘ پر پاکستانی وزارت ِ خارجہ نے کسی رد ِ عمل کا اظہار کیوں نہیں کیا کرنا چاہیئے تھا اور یہ ہی نہیں بنگلہ دیش کو پاکستان میں کھلی تجارت کرنے اکستانی ویزے جاری کرنے پر دی جانے والی سہولتوں کا ازسرنو جائزہ لینا بہت ضروری ہوگیا پاکستان دشمنی اور پاکستان کے خلاف بنگلہ دیشی عوامی حلقوں میں ریاستی پیمانے پر فضا ہموار کی جارہی ہے اور یہاں ’مسلم بنگلہ دیش ‘ اور بنگلہ دیشی برادری ‘ کے پُرفریب نعرے لگائے جارہے ہیں حد ہوتی ہے احسان فراموشی کی ‘ کیا بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم وہ دن بھول گئی جب آج سے 16 برس قبل انٹرنیشنل کرکٹ میچ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے جان بوجھ کر اپنے آپ کو ہارایا تاکہ بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کو بھی عالمی کرکٹ کیپ مل جائے اور ایسا ہی ہوا آج اُس کا احسان بھارتی نواز بنگلہ دیشی سیاسی جماعت کس انسانیت سے گرئے ہوئے انداز میں واپس دے رہی ہے اگر یہ کہا جائے تو یقینا بے نہ ہوگا کہ بنگلہ دیش پاکستان دشمنی میں بھارت سے بھی آج ایک قدم آگے نکل آیا ہے دیکھا نہیں آپ نے کہ بنگلہ دیش کے شہر میر پور میں پاکستان اور بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیموں کے میچ کے دوران بنگلہ دیشی رکن ِ پارلیمنٹ الیاس الدین ملا اور شائقین نے عدم برداشت کی کیسی ایک نئی مثال قائم کی ہمارے ایک مشہور پاکستانی شائق بشیر احمد کی پاکستانی پرچم والی قمیض اترواکر اُنہیں چند بنگلہ دیشی غندوں نے گھیر کر زبردستی بنگالی جھنڈے والی قمیض پہنادی اُنہیں رعام خوب ہراساں تک کیا گیا، بی بی سی بنگلہ سروس کے مطابق فیس بک اور سماجی رابطے کی دیگر ویب سائٹ پر سامنے آنے والی تصویروں میں اِس صورتحال کی تصدیق ہو چکی ہے تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اِن کے گرد بنگلہ دیشی جنونی شائقین نے گھیرا ڈالا ہوا تھا رپورٹس کے مطابق رکن ِ اسمبلی نے جنونی بنگلہ دیشی شائقین پر زور دیا کہ وہ بشیر کو زبردستی بنگلہ دیشی جھنڈے والی قمیض پہنادیں اِس موقع پر مشتعل بنگلہ دیشی انتہا پسند شائقین کے سامنے پاکستانی کرکٹ شائق بشیر احمد بالکل بے بس نظر آئے جبکہ یہ میچ بنگلہ دیش کی ٹیم نے جیت لیا تھا اور اگر اِس میچ میں بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم ہار جاتی تو کوئی سوچ لے پھر وہاں کیسا خونریز تماشا لگا ہوتا سب سے اور خاص بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش اور پاکستان کی کرکٹ ٹیموں کے مابین اِس کھیلے جانے والے میچ کو دیکھنے کے لئے وزیراعظم حسینہ واجد بھی آگئیں تھیں جب اُنہیں یہ اطلاعات ملیں کہ اِس میچ میں بنگلہ دیش ’ون ‘ کرئے گا اور پاکستانی کرکٹ ٹیم میچ ہار جائے گی یہ اُس کے اندر کا بغض وعناد تھا چونکہ جب بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ٹی ٹونٹی کا فائنل کھیلا گیا تو اُس اہم میچ وزیر اعظم حسینہ واجد نہیں آئیں پاکستانی قوم بنگلہ دیش کی موجودہ سیاسی جماعت کے اِس بہیمانہ طرز ِ یکطرفہ طرز ِ عمل پر شدید اور سراپا احتجاج کرتی ہے یعنی اب ہم بنگلہ دیش کو بھی ’بھارتی صوبہ ‘ یا بھارتی ریاست تصور کریں چونکہ بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد ’را‘ کے بتائے ہوئے نقش ِ قدم پر چلنے سے باز آتی دکھائی نہیں دیتیں ہماری حکومت کے لئے یہ لمحات ’لمحہ ِ فکریہ ‘ ہیں ۔