- الإعلانات -

سوالیہ نشان ۔۔۔؟

جیسے اس دنیا میں شادی وخوشی طوام ہیں ۔اس نرنگئی زمانہ میں بدخبری اورخوشخبری بھی ساتھ ساتھ ہی چلتی رہتی ہے ۔عجب باغ وبہار کا سماں ہے ،کوئی کہیں کے قلاوے ملاتا ہے تو کوئی کہیں سے کروٹ لیکر سائیڈ مار جاتا ہے ،ہر ایک کیلئے ہر خوشخبری ،خوشخبری نہیں ہوتی ،ہر ایک کیلئے بدخبری ،بدخبری نہیں ہوتی۔سب کا اپنا اپنا پیمانہ ہے ،کوئی خوشی سے نہال ہورہا ہے تو کوئی غم کے آنسوﺅں میں ڈوبتا جارہا ہے ،اچانک ،انہونی،ناقابل یقین ،ناقابل فہم ،عقل سے ماوراء،بعید از خیال واقعات رونما ہوتے جارہے ہیں ۔معلوم نہیں منصوبہ بندی کے تحت منصوبے ہیں یا پھر کوئی اچنبھا عقل تو کچھ کہہ رہی ہے ،شعورکچھ سوچ رہا ہے ،دل ودماغ کی آپس میں جنگ ہے ،پہلے سے طے شدہ معاملات تھے ،اب کامیابی ہوگئی ہے ۔کہا جارہا ہے کہ یہ تازہ کامیابی ہے ،ہم بھی مان لیتے ہیں کیونکہ لوگ مختلف آراءرکھتے ہیں مگر جو بااثر رائے آئے اس پر یقین کرلینا چاہیے ۔لہذا ہم تو یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ کارروائی تازہ ہی ہے اور اس پر مزید رائے زنی کرنے سے اورہی گورکھ دھندے کھلتے چلے جائیں گے ۔لہذا جتنا بھی گہرائی میں جاﺅں اتنا ہی کھو جاﺅں اس کو یہیں پر ترک کردینا چاہیے ۔بہتری بھی اسی میں ہے اور خوبی بھی یہی ہے ،حالات خود پردہ اٹھائیں گے اور وقت بتائے گا کہ حقیقت کیا ہے ۔بہرحال بظاہر حلیہ جو بتارہا ہے وہ تو ایک طویل کہانی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔اس داستان کو پڑھنے کیلئے کچھ تو وقت درکارہوگا ۔اتنے عرصے آخر کیا وجوہات تھیں کہ کامیابی نے قدم کیوں نہیں چومے اور پھر کچھ خاص وقت کے بعد اس خاص اقدام کامیاب ہوجانا اپنے اندر معنی کا ایک گہرا سمندر رکھتا ہے ۔اس میں غوطہ زن ہونے سے حاصل کچھ بھی نہیں ہونا اگر تہہ کو چھونے کی کوشش کی تو بہت زیادہ ممکن ہے کہ نیچے جاکر سلنڈر میں آکسیجن ہی ختم ہوجائے اور اوپر سمندر کی سطح پر چند بلبلے ابلیں اور بس پھر ایک طویل خاموشی چھا جائے گی ۔اس سے کیا حاصل وصول کرنا ہے جو کچھ ہونا تھا وہ کچھ ہوچکا ہے ۔اب لکیر کو پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں،مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے ۔ایسی طویل تاریخ رقم ہوگئی ہے جس کے بارے میں بھی ہر کوئی اپنے اپنے خیالات رکھتا ہے ۔یہ بات تو ظاہر ہے کہ اس تاریخ کو سنہرے لفظوں میں سجنے کا موقع تو حاصل نہ ہوا یہ ایک تاریخ کا سیاہ باب ہے اور پھر اسلامی نظریاتی ملک میں اس واقعے کا ہونا یقینی طور پر ایک سوالیہ نشان ہے ۔امام حنبلؓ نے فرمایا تھاکہ اب فیصلہ جنازے پرہوگا ۔واقعہ کچھ اس طرح سے ہے کہ ان کے خلاف بادشاہ وقت کے خاص لوگوں نے کان بھرنے شروع کردئیے ۔حالات یہاں تک پہنچے کہ امام حنبلؓ کو زندان میں پابندسلاسل کردیا گیا ۔کوئی راستہ نہ نکلتا تھا کہ وہ باہر آئیں ،حالات تشدد کی انتہا تک جا پہنچے ،پھر جب امام حنبلؓ نے دیکھا کہ اب رہائی ناممکن ہے تو انہوں نے کہا کہ اب بادشاہ وقت سے ملاقات کرنے کا وقت گزر گیا ۔فیصلہ اب جنازہ کریگا پھر ان کا وقت آن پہنچا اور وہ شہادت کے مرتبے پرفائز ہوگئے جب ان کا جنازہ چلا تو وہ ایک تاریخ کا جنازہ تھا ۔تل دھرنے کی جگہ نہ تھی اس وقت بادشاہ کو سمجھ آیا اور اس نے کہا کہ وہ بے شک امام حنبلؓ حق پر تھے ،کاش کہ یہ میرا جنازہ ہوتا ۔بہرحال حالات کو دیکھا جائے تواب بھی کچھ ایسے ہی واقعات رونما ہوئے ہیں ۔سیاسی دنیا میں ہلچل پیدا ہوگئی ،فیصلے ہوگئے ،عمل ہوگئے ،بازیابی ہوگئی ،بس ابھی ایک اور بازیابی رہ گئی ہے ،امکانات ہیں کہ وہ بھی جلد ہوجائے گی ،ملک کے حالات جمہوریت کو لیے ہوئے پٹڑی پر رواں دواں ہیں ۔ٹرین کبھی ہچکولے کھاتی ہے ،کبھی اوورسپیڈ ہوتی ہے ،کبھی ریڈ سگنل ملتا ہے مگر وزیراعظم اس جمہوری ٹرین کو لیے ہوئے ایک کامیاب کپتان کی طرح رواں دواں ہیں ۔حالات کتنے ہی سخت آئے ،دھرنے ہوئے ،مظاہرے ہوئے ،ہڑتالیں ہوئیں ،مذاکرات ہوئے ،مشترکہ اجلاس ہوئے ،فائرنگ ہوئی ،دھماکے ہوئے ،پتہ نہیں کیا کیا ہوا ،مگر اس مرتبہ وزیراعظم نے ماضی کے مقابلے میں بہترین مثال قائم کی اور اب امید کی جاسکتی ہے کہ یہ حالات رواں دواں ہی رہیں گے ۔بہرحال کبھی کوئی مارچ کا ذکر کرتا ہے تو کوئی بھی کوئی اپریل کا ذکر کرتا ہے ۔یہ ماہ وسال ،یہ دن اورات اسی طرح آتے جاتے رہیں گے ۔سورج ،چاند اسی طرح طلوع ہوتے رہیں گے ،حکومتیں بھی یونہی بنتی ٹوٹی رہیں گی ۔دراصل سب کی منزل صرف ایک ہونی چاہیے وہ ہے اپنا وطن ،اپنی قوم ،اپنا ملک ،امن وامان، ترقی وخوشحالی ،دہشتگردی سے پاک معاشرہ ،روزگار کے مواقعوں والا ملک ،تعلیم سے مالا مال،صحت کی سہولیات سے آراستہ،عوام کے بنیادی حقوق کاحصول ،یہ ساری چیزیں ہونگی تو ہی ایک کامیاب ریاست کا تصور ابھر کر سامنے آتاہے ۔گو کہ موجودہ حکومت ان زاویوں پر کام کررہی ہے مگر ابھی بنیادی طورپر اس جانب مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔کیا کمال کی بات ہے کہ ہم اپنے پڑوسی دشمن ملک کو تو آگاہ کردیتے ہیں کہ وہاں کوئی دہشتگردی کے واقعات رونما ہونے والے ہیں،انہیں الرٹ کرکے باخبر بھی کردیتے ہیں مگر حیرانگی تو یہ ہے کہ یہاں چراغ تلے اندھیرا کیوں ہے ۔دشمن کیلئے آگاہی اور شبقدر میں تباہی یہ ایک ہے بڑا سوالیہ نشان ۔اس کو حل کرنے کی ضرورت ہے ۔یکجا اور متحد ہوکر ۔