- الإعلانات -

سعودی عرب کا اہم دورہ

وزیراعظم نوازشریف اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف سعودی عرب دورے پر پہنچ چکے ہیں وہاں ان کی سعودی فرمانروا سے بھی ملاقات ہوگی جنگی مشقوں کابھی معائنہ کریں گے ۔وزیراعظم پاکستان اور آرمی چیف کا سعودی عرب کا یہ دورہ خطے کے حوالے سے انتہائی دوررس نتائج کا حامل ہے ۔چونکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ سے انتہائی مضبوط رہے ہیںاوردونوں ممالک کسی بھی مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے ہیں پوری دنیا کو معلوم ہے کہ ماضی میں جب حرم پاک کے حوالے سے ایک ایسا واقعہ درپیش آیا تھا تواس وقت پاک فوج ہی نے جاکر تمام تر معاملہ کلیئر کیا تھا ۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب بھی مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہاہے اسی وجہ سے خطے میں پاکستان اورسعودی عرب کی دوستی کو ایک مضبوط دوستی سمجھا جاتا ہے اور پھر ویسے بھی اس سرزمین پر حرم پاک اور روضہ رسول پاکﷺ ہیں ۔اس عقیدت کی وجہ سے بھی وہ سرزمین مسلمانوں کیلئے ایک مقدس سرزمین کی حیثیت رکھتی ہے ۔تمام چیزیں ایک طرف پاکستان کا اس حوالے سے ہمیشہ ایک واضح موقف رہا ہے کہ اگر سعودی عرب پرکسی بھی قسم کی آنچ آئی تو پاکستان اس کے ساتھ کھڑا ہوگا اور پھر حرم پاک اور روضہ رسولﷺ کی حفاظت کیلئے تو پاکستان ہی کیا دنیا بھر کے مسلمانوں کا بچہ بچہ بھی اپنی جان قربان کرنے کیلئے تیار ہے ۔کیونکہ وہ سرزمین دو جہان کے رحمت اللعالمینﷺ سے وابستہ ہے اور اللہ کا گھر حرم پاک بھی وہاں پر موجود ہے ۔پھر بھلا کوئی مسلمان یہ کیونکر سوچ سکتا ہے کہ اگر سعودی عرب پر ذرا سی بھی کوئی آنچ آئی تو وہ بیٹھ کر تماشا دیکھے گا ۔سعودی عرب کے دشمنوں کو یہ بات جان لینا چاہیے کہ اگر وہاں پر ذرا سا بھی کوئی مسئلہ درپیش ہوا تو دنیا بھر کے مسلمان اپنے لہو کا آخری قطرہ تک بہا دینگے ۔لیکن اس سرزمین پر آنچ نہیں آنے دینگے ۔کئی ایسے دشمن بھی موجود ہیں جو پاکستان اورسعودی عرب کے مابین مضبوط تعلقات سے نہ صرف خائف ہیں بلکہ اس میں دراڑیں ڈالنے کیلئے بھی گاہے بگاہے کوششیں کرتے ہیں مگر انہیں ہمیشہ منہ کی ہی کھانا پڑتی ہے ۔کچھ ممالک اس حوالے سے اقدامات بھی اٹھاتے ہیں لیکن انہیں خاطر خواہ کامیابی نہیں حاصل ہوتی ۔گذشتہ دنوں ایک اور مسئلہ درپیش آیا تھا جس میں سعودی عرب میں ایک ملک کے رہنما کو سعودی قوانین کے تحت پھانسی دیدی تھی جس کی وجہ سے حالات کافی دگرگوں ہوگئے تھے اس موقع پر پاکستان نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان باقاعدہ ایک سفارتکاری کا کردار ادا کیا ۔وزیراعظم نوازشریف اور آرمی چیف نے اہم اقدامات اٹھائے دونوں ممالک کے دورے کیے اور جو خطے پر خراب حالات کے بادل منڈلا رہے تھے ان کو ہٹانے میں اہم کردار ادا کیا چونکہ دونوں ممالک ہی پاکستان کی قدر کرتے ہیں اس وجہ سے اس مسئلے کو ختم کرنے میں پاکستان کا کلیدی کردار پوری دنیا کے سامنے واضح ہے ۔سعودی عرب واحد ملک ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے وزیراعظم اور آرمی چیف نے یہ اہم اقدامات اٹھائے ۔اب بھی دونوں شخصیات کا یہ دورہ بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے چونکہ نوازشریف بحیثیت وزیراعظم سعودی عرب گئے ہیں اور پھر ان کے سعودی فرمانروا سے بھی ذاتی مراسم ہیں ۔پاک فوج کو بھی سعودی حکومت خاص حیثیت اور عزت وتکریم دیتی ہے ۔پھر پاک فوج اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے پوری دنیا میں اپنا لوہا بھی منوا چکی ہے اس کے علاوہ اس وقت جو آرمی چیف جنرل راحیل شریف موجود ہیں وہ ایک انتہائی پروفیشنل سولجر ہیں انہوں نے ملک کے اندر دہشتگردی کو ختم کرنے کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے ۔جہاں پاکستان کی سالمیت اور ملک کے اندر قیام امن وامان کا مسئلہ ہو وہاں پر پوری قوم پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے ۔سیاسی اورعسکری قیادت بھی اس حوالے سے ایک پیج پر ہیں ۔آپریشن ضرب عضب میں بھی پاک فوج نے بے تحاشا کامیابیاں حاصل کیں اور وہ علاقے جہاں کبھی جانے کا سوچا جاسکتا تھا وہاں پر اب امن وامان قائم ہوچکا ہے ڈویلپمنٹ کا کام جاری ہے ۔شہرقائد جو ہر وقت انسانی خون سے لہولہان رہتا تھا وہاں پر رینجرز نے امن وامان قائم کردیا ہے اسی وجہ سے آج سندھ میں بیرونی سرمایہ کار بھی واپس آنا شروع ہوگئے ہیں اور گوادر بندرگاہ بھی اس حوالے سے خاص اہمیت کی حامل ہے ۔پھر پاک چین اقتصادی راہداری کو دیکھا جائے تو وہ یقینی طور پر وزیراعظم کی بہترین کاوشوں کا نتیجہ ہے اور یہ صرف ایک سی پیک منصوبہ نہیں بلکہ خطے کی قسمت کا گیم چینجر منصوبہ ہے اور اس کا تمام تر کریڈٹ موجودہ حکومت کو جاتا ہے ۔جب یہ اقتصادی راہداری تعمیر ہوجائے گی اور تکمیل کے بعد پاکستان یقینی طور پر ایک تجارتی حب بن جائیگا ۔اس کے علاوہ موٹر ویز کا جو جال پھیلانے کا حکومت کا منصوبہ ہے اس سے بھی معاشی طور پر ملک میں مضبوطی آئے گی ۔