- الإعلانات -

کیا پاکستان 14 اگست کو معرضِ وجود میں آیا؟

2000px-Flag_of_Pakistan.svg

asifاگست کے ان مبارک اور خوشی بھرے لمحات میں اس دعاکے بعد کہ خدا ہماری پاک دھرتی کو خوشیوں کا گہوارہ بنائے، سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان چودہ اگست کو قائم ہوا تھا؟اس سوال کے تعاقب میں جو شواہد مجھے دستیاب ہوئے وہ میں اپنے قارئین کے سامنے رکھتا ہوں۔
1 ۔ہمارے نظام تعزیر کی اہم ترین کتاب کا نام ’تعزیرات پاکستان‘ ہے۔اس کی دفعہ (a) 123کے مطابق پاکستان 15اگست کو قائم ہواتھا۔
2۔Indian Independance Act 1947 وہ قانون ہے جس کی روشنی میں بر صغیر کی تقسیم ہوئی۔اس میں صاف طور پر لکھا ہے کہ 15اگست 1947کو پاکستان معرض وجود میں آئے گا۔
3۔حضرت قائد اعظم سے زیادہ معتبر گواہی کس کی ہو سکتی ہے۔حضرت قائد اعظم کا اپنا بیان ہے : ’’ 15اگست آزاد پاکستان کا جنم دن ہے‘‘۔اور یہ بیان 15اگست 1947کو شائع ہونے والے اخبارات کے صفحات پر موجود ہے۔(کسی کو چاہییں تو یہ اخبارات مجھ سے لے کر دیکھ سکتا ہے)۔پاکستان آرکائیوز میں بھی سارا ریکارڈ موجود ہے۔
4۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ریڈیو سے پاکستان کے قیام کا اعلان 14اور15اگست کی درمیانی رات کو اس وقت کیا گیا جب کیلنڈر پر پندرہ شروع ہو چکا تھا۔1997میں جب آزادی کے پچاس سال کا جشن منایا گیاتو ایک جعلی ٹیپ تیار کی گئی جس میں ایک جعلی اعلان سنایا گیا اور ظاہر کیا گیا کہ یہ اعلان 13اور14اگست 1947کی درمیانی رات کا ہے۔یقین نہ آئے تو ریڈیو پاکستان کا ریکارڈ جا کر دیکھ لیجئے۔حقیقت واضح ہو جائے گی۔
5۔کہا جاتا ہے کہ پاکستان 14اگست 1947کو27رمضان کوجمعہ الوداع کے دن قائم ہوا۔اس وقت 1947کا نوائے وقت،ڈان،پاکستان ٹائمز سمیت درجنوں اخبارات میرے سامنے رکھے ہیں اور ان کی پیشانی پر چھپی تاریخ کے مطابق 14اگست کو 26رمضان المبارک تھااور جمعرات کا دن تھا۔27رمضان اور جمعہ الوداع 15اگست کے دن تھا۔گویا پاکستان 14کو نہیں 15اگست کو قائم ہوا۔
6۔اسٹینلے والپرٹ معروف محقق ہیں۔خود حکومت پاکستان نے ان سے کہہ کر قائد اعظم پر کتاب لکھوائی۔’جناح آف پاکستان‘ نامی یہ کتاب قائد اعظم پر لکھی گئی معتبر کتابوں میں سے ایک ہے۔اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان15اگست کو قائم ہوا۔
7۔اسٹینلے والپرٹ ہی کی ایک اور کتاب ہے جس کا نام ہے "A New History Of India”,۔اس کے صفحہ 349پر وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان 15اگست کو بنا۔
8۔خود پاکستان کے سابق وزیر اعلی چودھری محمد علی کی گواہی بھی یہی ہے۔اپنی کتاب "Emergence Of Pakistan”جس کا اردو ترجمہ’ظہور پاکستان‘ کے نام سے مارکیٹ میں موجود ہے، کے دیباچے میں لکھتے ہیں کہ پاکستان 15اگست کو معرض وجود میں آیا۔
9۔وکٹوریہ شیفلڈ کی کتاب ہے’”Kashmir In The Crossfire”۔اس کے صفحہ 132پر وہ لکھتی ہیں کہ پاکستان 15اگست 1947کو معرض وجود میں آیا۔
10۔کے کے عزیز کی کتاب ہے "Briton and Muslim India”۔اس کے صفحہ 183پر لکھا ہے کہ پاکستان 15 اگست کو وجود میں آیا۔
11۔عائشہ جلال اور سجاتا پوش کی مشترکہ کتاب”Modern South Asia”کے صفحہ 188اور210پر قیام پاکستان کی جو تاریخ درج کی گئی ہے وہ 15 اگست 1947ہے۔
12۔ایس ایم برکی اور سلیم الدین قریشی کی کتاب "The British Raj in India”کے صفحہ 609,622,642اور518پر لکھا ہے کہ پاکستان 15اگست کو معرض وجود میں آیا۔
13۔پنجاب یونیورسٹی کی ریسرچ سوسایٹی آف پاکستان نے جناب لیاقت علی خان کی تقاریر کا ایک مجموعہ 1975میں شائع کیا۔اس میں لیاقت علی خان کی کچھ تقاریر کے اقتباسات پڑھیے۔اس کتاب کے صفحہ 117پر لیاقت علی خان کی وہ تقریر درج ہے جو انہوں نے دستور ساز اسمبلی میں قومی پرچم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کی۔وہ کہتے ہیں؛’’یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ 15اگست کو جب پاکستان قائم ہو تو اس کا اپنا قومی پرچم ہی نہ ہو‘‘۔
14۔اس کے صفحہ 115پر لیاقت علی خان کی وہ تقریر ہے جو انہوں نے اس وقت کی جب وہ اسمبلی میں پرچم پیش کر رہے تھے اور قوم کو دکھا رہے تھے کہ یہ اس کا قومی پرچم ہے۔انہوں نے کہا:’’یہ پرچم پاکستان کا پر چم ہے۔یہ پاکستانی قوم کا پرچم ہے۔یہ اس ریاست کا پرچم ہے جس نے 15اگست کو معرض وجود میں آنا ہے‘‘۔
15۔بابائے قوم نے قوم کو آزادی کی مبارک 15اگست کو دی تھی۔لیاقت علی خان نے بھی قوم سے پہلا خطاب 15اگست کو کیا ۔صفحہ 185پر یہ خطاب بھی موجود ہے۔وہ کہتے ہیں؛’’کل جب 14اگست کا سورج غروب ہوا تھا تو پاکستان نام کی کوئی چیز بین الاقوامی سطح پر موجود نہ تھی مگر آج 15اگست سے ہم ایک حقیقت ہیں‘‘۔
16۔پاکستان ٹائمز، نوائے وقت ،دان سمیت 1947کے کئی اخبارات میرے سامنے رکھے ہیں۔سب کے مطابق پاکستان 15اگست کو وجود میں آیا تھا۔10اگست 1947کے نوائے وقت میں مسلم لیگی قیادت کی جانب سے قوم سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ 15اگست کو قیام پاکستان کے موقع پر چراغاں کریں ، نوافل پڑھیں اور غریبوں کا کھانا کھلائیں۔13اگست1947کے نوائے وقت میں شائع ہوا کہ سردار شوکت حیات اور ممتاز دولتانہ نے قوم سے اپیل کہ ہے کہ 15اگست کوقیام پاکستان کے موقع پر چراغاں نہ کریں بلکہ صرف نوافل ادا کیے جائیں۔
17۔چودہ اگست کے پاکستان ٹائمز کی نمایاں سرخی تھی’’Independance Tomorrow‘‘۔اور 15اگست 1947کے پاکستان ٹائمز کا اداریہ ان الفاظ کے ساتھ شروع ہوتا ہے’’ آج پندرہ اگست ہے۔آج طلوع آفتاب نے جہاں دنیا کو ایک نیا دن دیا ہے وہیں ہمارے لوگوں کو ان کی کھوئی ہوئی آزادی بھی لوٹا دی ہے۔‘‘ دل چسپ بات یہ ہے کہ اس اداریے کو عنوان ہی "August 15″تھا۔برطانوی ترانے "God Save the King”پر 15اگست کو پابندی عائد کر دی گئی۔چودہ اگست رات گئے تک چونکہ ابھی پاکستان نہیں بنا تھا اس لئے یہ ترانہ بجتا رہا۔
اب سوال یہ ہے کہ یوم آزادی 15اگست کی بجائے14اگست کیوں کیا گیا؟کس نے کیا؟ کب کیا؟یاد رہے کہ جب قیام پاکستان کے ایک سال بعد حکومت نے نامعلوم وجوہات کہ بنیاد پر 15کو 14کر دیا تو بابائے قوم اس وقت شدید بیماری کے عالم میں معاملات سے لاتعلق ہو چکے تھے۔
سابق وزیر اعظم محمد علی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ایسا نجومیوں کے کہنے پر کیا گیا کیونکہ نجومیؤں نے لیاقت علی خان کو بتایا کہ 15اگست منحوس دن ہے۔
ایک عذر یہ تراشا جاتا ہے کہ وائسرائے نے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کو اقتدار 14اگست ہی کو سونپ دیا تھا جب کہ بھارت کو 15کوسونپا گیا۔اس لیے ہم بھارت سے ایک دن پہلے دن مناتے ہیں۔یہ بات بھی درست نہیں ہے۔15اگست 1947کے اخبارات میرے سامنے پڑے ہیں۔ان میں ساری رپورٹنگ موجود ہے۔وائسرائے نے 14اگست کو کراچی میں کہا تھا:’’آج میں آپ سے وائسرائے کی حیثیت سے بات کر رہا ہوں ۔کل کا دن طلوع ہوتے ہی ایک ریاست پاکستان کی زمام کار آپ کے ہاتھوں میں ہو گی‘‘
ہم یہ تو کر سکتے ہیں کہ جشن جس روز چاہے منائیں کیونکہ یہ ہمارا اپنا فیصلہ ہے کہ ہم نے یہ آزادی کی خوشی کس دن منانی ہے مگر ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ پاکستان بنا ہی 14کو تھا۔ہم تاریخ نہیں بدل سکتے۔یہ جرم ہے۔اب تو میں یہ بھی سوچ رہا ہوں کہ ابھی کل کی تاریخ بدل دی گئی ہے اور ڈھٹائی سے جھوٹ بولا جا رہا ہے۔تو باقی کی تاریخ جو ہمیں پڑھائی جا رہی ہے کس حد تک درست ہے۔مثال کے طور پر حضرت اورنگ زیب عالمگیر جنہوں نے نہ کوئی نماز چھوڑی نہ کوئی بھائی چھوڑا کیا واقعی اتنے نیک اور متقی تھے کہ ٹوپیاں سی کر گزارا کرتے تھے؟