- الإعلانات -

اکھنڈ بھارت کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بھارت نے روز اول سے ہی پاکستان کو تسلیم نہیں کیا ۔ وہ پاکستان کو اکھنڈ بھارت کا حصہ سمجھتا ہے ۔ گزشتہ اور موجودہ انتہا پسند بی جے پی حکومت میں بھارتی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے خلاف اس کی جارحیت دن بدن بڑھتی گئی حتیٰ کہ امسال جنوری کے آخر اور فروری کے شروع کے دنوں میں پاک بھارت تصادم کی کیفیت پیدا ہوگئی ۔ اس صورتحال میں پاکستان کا دفاع مضبوط سے مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ بھارت جارحیت کی جرات نہ کر سکے ۔ 2019 کے بھارتی بجٹ میں دفاع کےلئے چار کھرپ اکتیس ارب روپے رکھے گئے ۔ اس طرح بھارت امریکہ، چین اور روس کے بعد سب سے بڑے دفاعی بجٹ والا چوتھا بڑا ملک بن گیا ۔ لیکن ستم یہ کہ بھارت کے اس بڑے دفاعی بجٹ کا 87 فیصد حصہ فوجیوں اور سویلین کی تنخواہوں ، روزمرہ اخراجات، پنشن ، ایندھن کی خریداری اور گولہ بارود خریدنے پر صرف ہو جاتا ہے ۔ لہٰذا نئے جہاز، ٹینک، توپیں ، اسلحہ وغیرہ خریدنے کےلئے صرف 13 فیصد بجٹ ہی بچتا ہے ۔ بھارتی فوج کو نئے جنگی ہیلی کاپٹروں کی ضرورت ہے اور اس کےلئے دس کھرب روپے چاہئیں مگر حکومت کے پاس اتنی رقم نہیں ہے ۔ کیونکہ حکومت نے اسی بجٹ میں باقی ملک بھی چلانا ہے ۔ بھارتی بری فوج میں باقاعدہ اور تربیت یافتہ فوجیوں کی تعداد آٹھ لاکھ ہے ۔ یہ بہت بڑی تعداد ہے ۔ یعنی اگر آٹھ لاکھ فوجیوں کےلئے صرف ایک بنیان ہی خریدنی پڑے تو کروڑوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں ۔ اب جدید ہلکا اسلحہ خریدنا پڑے تو بات کھربوں روپے تک جاپہنچتی ہے ۔ ان فوجیوں کےلئے راءفل، کاربائین اور ہلکی مشین گنیں خریدنے پر پندرہ کھرب روپے خرچ ہوسکتے ہیں ۔ اس پر تماشہ یہ کہ بھارتی حکومت چینی سرحد پر ایک نئی کور بنانا چاہتی ہے جو پہاڑی علاقوں میں نئے اور جدید ہتھیاروں سے لیس ہوگی ۔ اس پر بھی کھربوں روپے خرچ ہوں گے ۔ یہ پیسے کہاں سے آئیں گے;238; ۔ بھارتی حکومت جس کے سربراہ گزشتہ پانچ برس نریندر مودی رہے اور اب بھی وہ کامیاب ہو کر حکومت بنا چکے ہیں ، ان کی طبیعت بھی جنگجوانہ ہے ۔ ہر وقت پاکستان اور چین پر چڑھائی کے منصوبے بناتے رہتے ہیں مگر وہ بھی کھربوں روپے فوج کو نہیں دے سکتے ۔ اس کی ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ بی جے پی اور بھارتی سیاست کے بہت سے سرخیل یہ سمجھتے ہیں کہ بھارتی فوج ایک سفید ہاتھی بن گئی ہے جو خزانے کا ایک بڑا حصہ ہڑپ کرجاتی ہے ۔ دوسری طرف پاکستان کے ساتھ حالیہ جھڑپ میں بھارتی بری فوج اور فضائیہ نے جو کارکردگی دکھائی ہے وہ بھی بھارتی عوام کےلئے ایک دھچکے سے کم نہیں ۔ اسی لیے مودی حکومت بھی عسکری قیادت پر زور دے رہی ہے کہ وہ اخراجات کم کرے تاکہ رقم کی کمی دور ہوسکے ۔ رافیل طیارے حاصل کرنے کے بعد بھارتی فضائیہ کی کارکردگی میں کوئی ڈرامائی بہتری نہیں آئی ۔ کیونکہ ابھی تک تو بھارت صرف ایک ہی رافیل طیارہ ملا ہے اور اس کی بھی ابھی پوجا پاٹ ہو رہی ہے ۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رافیل جنگی طیاروں کو حاصل کرنے کے بعد اس طیارے میں مہارت حاصل کرنے اور پائلٹس کو تربیت دینے میں 2 برس تک کا عرصہ لگ سکتا ہے ۔ یوں اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ رافیل طیارے حاصل کرنے کے فوری بعد پاک فضائیہ پر برتری حاصل کرلے گا تو یہ بات حقیقت پر مبنی نہیں ہے ۔ بھارتی ائیر فورس کو مزید بہتر اورجدید بنانے کے لیے فرانسیسی ایوی ایشن کو 36رافیل طیارے فراہم کرنے کا آرڈر دیا تھا ۔ بھارت نے رافیل طیارے ہنگامی بنیادوں پر حاصل کرنے کا فیصلہ پاک فضائیہ کے ہاتھوں ہونے والی حالیہ شکست کے بعد کیا ۔ بھارتی افواج کا ایک بڑا خرچ سابق فوجیوں کی پنشن ہے ۔ بھارت میں دو کروڑ سابق فوجی افسر و جوان آباد ہیں ۔ حکومت ہر سال انہیں پنشن کی مد میں دس کھرب روپے ادا کرتی ہے ۔ اس رقم کی وسعت کا اندازہ یوں لگائیے کہ یہ پاکستان کے کل دفاعی بجٹ کا دوگنا حصہ ہے ۔ ظاہر ہے آنے والے برسوں میں یہ رقم مسلسل بڑھتی چلی جائے گی ۔ گویا بھارتی افواج کو تنخواہوں اور پنشن کی مد میں زیادہ رقم خرچ کرنا پڑے گی ۔ مودی حکومت بھارت کو علاقائی سپرپاور بنانا چاہتی ہے لیکن خیال اور عمل بالکل جداگانہ چیزیں ہیں ۔ اگر حکومت نے جدید ترین اسلحہ نہیں خریدا، اپنے جوانوں کو مناسب تنخواہیں اور سہولیات نہیں دیں تو علاقائی سپرپاور بننا تو دور کی بات ہے بھارتی افواج مملکت کا دفاع صحیح طرح نہیں کرسکیں گی ۔ گویا بڑھتے اخراجات نے بھارتی بری فوج کو بڑی مشکل صورتحال پر لاکھڑا کیا ہے ۔ اگر وہ ڈاءون سائزنگ کرکے اخراجات کم کرتی ہے، تو وہ نئے مسائل میں گھر سکتی ہے ۔ مثلاً کئی معاملات افرادی قوت کم ہونے سے ٹھپ ہوسکتے ہیں ۔ اگر وہ ڈاءون سائزنگ نہیں کرتی، تو فوج کو ملنے والی بیشتر رقم غیر عسکری اخراجات ہڑپ کر جائیں گے ۔ یوں بھارتی فوج جدید ترین ہتھیار اور عسکری سامان خرید کر خود کو ہائی ٹیک آرمی کا روپ نہیں دے سکتی ۔ اسے پھر فرسودہ اور قدیم ہتھیاروں اور سامان پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا ۔ لیکن اس صورت حال میں بھارتی فوج اپنی مملکت کا بخوبی دفاع ہی کرلے، تو یہ بڑی کامیابی سمجھی جائے گی ۔ جہاں تک ہمارے دفاع کی بات ہے تو بھارتی مزاج اور مسئلہ کشمیر کی وجہ سے اوائل ہی میں پاکستان کو طاقتور افواج کھڑا کرنا پڑیں تاکہ ملکی دفاع مضبوط بنایا جا سکے ۔ دفاع پہ کثیر سرمایہ خرچ کرنے کا مثبت نتیجہ نکلا ۔ دشمن نے کئی بار حملے کیے مگر اللہ پاک کے فضل وکرم سے پاکستان کا وجود قائم ودائم ہے ۔ بھارتی ڈاکٹرائن کا مقابلہ کرنے کےلئے ہم نے اپنے دفاعی پروگرام کو خود بنانے کا بیڑہ اٹھایا اور بہت حد تک اس میں کامیاب ہوئے ۔ ہماری میزائل ٹیکنالوجی نہ صرف بھارت بلکہ کئی ترقی یافتہ ممالک سے بہتر ہے ۔ اس وقت پورا بھارت ہمارے نشانے پر ہے ۔ ہمارے ہاں بنے ہوئے ٹینک، توپیں ، ایئر ڈیفنس سسٹم ،جنگی جہاز غرض ہر میدان میں ہم الحمد اللہ خود کفالت رکھتے ہیں ۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم بھارت سے زیادہ بڑی اور موَثر جوہری طاقت بھی ہیں ۔