- الإعلانات -

بھارتی متنازع بل اور عالمی اداروں کی خاموشی

بھارت اقلیتوں کیخلاف امتیازی قانون کو جاری رکھے ہوئے ہے اور دنیا تماشا دیکھ رہی ہے ، کروڑوں مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے ، یونیورسٹیوں میں ہنگامے شروع ہوچکے ہیں ، مسلمانوں کو شہید کیا جارہا ہے، کلاسوں پر شیلنگ کی جارہی ہے، مودی پورے بھارت کو ہندو کی جاگیر بنانا چاہتا ہے جبکہ وہاں مختلف قومیت اور مذاہب کے لوگ رہتے ہیں ۔ لیکن جمہوریت کے نام پر نریندر مودی انسانیت کا قتل عام کررہا ہے، وادی کے حالات بھی دگرگوں ہیں ، جب مودی نے مقبوضہ کشمیر میں آئین کی شق 370 اور 35;65; کو ختم کیا تھا اسی وقت اگر عالمی برادری اس کو نتھ ڈال دیتی تو آج یہ حالات نہ پیدا ہوتے ۔ وادی میں تو انسانی المیہ پیدا ہوہی چکا ہے اب پورے بھارت میں یہی حالات جارہے ہیں ۔ جگہ جگہ عوام احتجاج کرتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ بھارت صرف اکیلے مودی یا ہندوءوں کا نہیں ہے ہماری نسلیں بھی یہاں پر صدیوں سے آباد ہیں ایسا ہم کسی طور نہیں ہونے دیں گے ۔ اسی وجہ سے بھارتی متنازع بل کیخلاف مظاہروں میں شدت آچکی ہے، نئی دہلی کی مرکزی جامعہ میں اس بل کیخلاف جب طلباء و طالبات نے احتجاج کیا تو پولیس نے آنسو گیس کے استعمال کے ساتھ ساتھ نہتے طالبعلموں پر لاٹھی چارج کیا ۔ 100 سے زائد گرفتاریاں ہوچکی ہیں جبکہ 10 سے زائد ہلاکتوں کی خبر ہے ۔ غیر ملکی میڈیا بھی اس بات کا گواہ ہے کہ وہاں پر نہتے مسلمانوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ اعلیٰ پولیس عہدیدار نے کہاکہ مظاہروں کے دوران چھ پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں ۔ ان مظاہروں کو روکنا ان کے بس کی بات نہیں ہے ، حالات قابو سے باہر جارہے ہیں ۔ اِدھر وزیراعظم عمران خان سے امریکی سینیٹر لینزے گراہم کی ملاقات کا اعلامیہ جاری کیا گیا ۔ اعلامیہ کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماءوں کے درمیان خطے میں امن، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے بھارت میں مسلمانوں سے ناروا سلوک کا معاملہ امریکہ سے اٹھایا، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اقلیتوں کے خلاف بھارتی حکومت امتیازی پالیسیاں اپنا رہی ہے، خطے میں امن کا بگاڑ روکنے کےلئے امریکہ کی مستقبل میں توجہ ضروری ہے ۔ امن، خوشحالی اور ترقی کےلئے پاکستان اور امریکہ میں شراکت داری اہم ہے، اقتصادی تعاون مضبوط کرنے کے اقدامات تیز کرنے کی ضرورت ہے ۔ اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں افغانستان میں امن و استحکام کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی، پاکستان افغان امن اور مفاہمتی عمل میں سہولت کاری کرتا رہے گا ۔ امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے افغان عمل میں پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا ۔ اعلامیہ کے مطابق اقتصادی تعاون اور مارکیٹ تک رسائی میں اضافہ اور سرمایہ کاری پر بھی گفتگو ہوئی، سابق فاٹا کو ترقیاتی دھارے میں شامل کرنے پر پاکستان کی کامیابیوں کو سراہا ۔ اعلامیہ کے مطابق امریکہ سینیٹر نے سرحدی باڑ لگانے کے اقدام پر پاکستان کی تعریف کی ۔ نیز وزیراعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر بحرین پہنچے، بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ نے وزیراعظم کا استقبال کیا ۔ اس موقع پر شاہ بحرین شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ نے وزیراعظم عمران خان کو بحرین کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ عطا کیا ۔ ملاقات کے دوران دونوں سربراہان مملکت کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

دہشت گردی کی بیخ کنی کیلئے مسلح افواج پرعزم

سانحہ ;200;رمی پبلک سکول کے شہداء کی پانچویں برسی منائی گئی ۔ اس سلسلہ میں ملک بھر میں تعلیمی اداروں سمیت مختلف مقامات پر قر;200; ن اور فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا گیا اور شہداء کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ مختلف مقامات پر شہداء کی یاد میں شمعیں بھی روشن کی گئیں اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کے دشمنوں کو ان کے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیاجائے گا ۔ اس دن کی مناسبت سے ملک کے مختلف تعلیمی اداروں میں خصوصی تقریبات کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں شہید طلبا ء اور اساتذہ کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ 2014 میں 16دسمبر کے دن ;200;رمی پبلک سکول پشاور میں دہشت گردی کی کارروائی میں 134 بچوں اور عملے کے اراکین سمیت 150سے زائد افراد شہید ہوگئے تھے،سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کو 5 سال بیت گئے لیکن شہداء کے لواحقین کے غم آج بھی تازہ ہیں اپنے پیاروں کو کھونے کے بعد قوم نے نئے عزم کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی جو ملک بھر میں جاری تعلیمی سرگرمیاں ملک دشمنوں کو پیغام دے رہی ہیں کہ قوم کے عزم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور شہداکی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ۔ وزیراعظم عمران خان کا سانحہ اے پی ایس پشاور پر اپنے خصوصی پیغام میں کہنا تھا کہ ہم آج کے دن لواحقین اور شہدا کے لئے دعاگو ہیں ، معصوم بچوں کے خون نے قوم کو دہشت گردوں کے خلاف ایک کردیا ۔ پاک فوج، پولیس اور ایجنسیوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی، پاک فوج اور پولیس کی قربانیوں کو بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق سانحہ ;200;رمی پبلک اسکول کی 5 ویں برسی پر اپنے پیغام میں ;200;رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ اے پی ایس کا قتل عام کبھی نہیں بھولیں گے، سانحے کے شہدا اور غمزدہ خاندانوں کو سلام پیش کرتے ہیں ۔ اے پی ایس سانحہ کے پانچ مجرموں کو فوجی عدالتوں نے پھانسی دی اور دہشت گردی کو شکست دینے کیلئے بطور قوم طویل سفر طے کیا، متحد ہوکر پاکستان کے پائیدار امن اور خوشحالی کی جانب گامزن ہیں ۔

سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ، کافی افواہیں دور ہوگئیں

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے معروف پروگرام’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا بہت اچھا فیصلہ ہے،کافی افواہیں اور پریشانیاں دور ہو گئی ہیں ،فیصلے میں آرمی ایکٹ میں تبدیلی کا کہا گیا ہے جس کیلئے سادہ اکثریت کی ضرورت ہے،آئین میں ترمیم کی ضرورت ہوتی تو حکومت کو دو تہائی اکثریت درکار تھی،احتجاج میں حسان نیازی کو کسی پر ڈنڈے برساتے یا اسلحہ اٹھاتے ہوئے نہیں دیکھا،حسان نیازی کو احتجاج میں زخمی وکلاء کی مرہم پٹی کرتے دیکھا گیا ہے، معاملات کوحل کی طرف لے کر جانا چاہیے،ہوا نہیں دینی چاہیے،کسی بھی معاملے کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش نہیں کرنا چاہیے،لاہور میں پی آئی سی پر حملہ غلطی تھی،ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے،اے پی ایس شہداء کے والدین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں ،پاک فوج نے ہمیشہ شاندار اور بہت بہتر کردار ادا کیا ہے،پاک فوج کی مسلسل جدوجہد سے ہی ملک سے دہشت گردی ختم ہوئی ہے،دہشت گردی کے معاملے میں نواز شریف نے ہمیشہ پاک فوج کی تعریف کی ۔ پروگرام میں شریک جسٹس (ر)وجیہہ الدین نے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ ایس کے نیازی کیساتھ میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ میں تبدیلی سے آرمی چیف کی مدت میں اضافہ یا کمی کی جا سکتی ہے،آرمی ایکٹ میں تبدیلی سادہ اکثریت سے کی جا سکتی ہے،معاملے کے حل کےلئے حکومت کو دو تہائی اکثریت کی ضرورت نہیں ہو گی ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے نے کام آسان کر دیا اور ابہام ختم ہو گیا ۔ سابق نگرانی وزیر دفاع جنرل (ر)خالد نعیم لودھی نے پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ بیرونی دشمنوں سے نمٹنے کیلئے ضروری ہے اندرونی معاملات کو درست کریں ،کشمیر لہو لہو ہے ، کشمیری بہن بھائی ہماری توجہ کے منتظر ہیں ، مودی کا رویہ تبدیل نہیں ہو سکتا، بھارت نے پاکستان میں ہر موقع پر انتشار پھیلایا ۔