- الإعلانات -

اللہ کے بندے !

جولوگ اللہ رب العزت اور ان کی مخلوق سے بھلائی کرتے ہےں توان کا شمار ارباب سربلند میں ہوتا ہے ۔ ےہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے آرام و آسائش کو چھوڑ تے ہیں اور بہ کمال اےثار دوسروں کے کام آتے ہیں ۔ اےسے اےثار پیشہ اور محب انسان و انسانےت لوگوں کو بلند مقام عطا کرتا ہے ۔ اللہ رب العزت قرآن مجےد فرقان حمےد سورۃ المعران آےت نمبر114 میں فرماتے ہیں کہ;34; اللہ اور قےامت کے دن پر اےمان لاتے ہیں اور اچھی بات کا حکم کرتے ہیں اور برے کاموں سے روکتے ہیں اور نےک کاموں کی طرف دوڑتے ہیں اور وہی لوگ نےک بخت ہیں ۔ ;34;پیر سےد گل بادشاہ گےلانی ;231; کوٹ چاندنہ ضلع میانوالی کی معروف روحانی شخصےت تھی ۔ آپ نےک سےرت اور اعلیٰ اخلاق کے پیکر تھے ۔ آ پ کی ولادت 1901ء میں کوٹ چاندنہ شرےف میں ہوئی ۔ آپ کے والد ماجد کانام سےد غلام رضا شاہ تھا ۔ انھوں نے آپ کی تعلیم وتربےت بطرےق احسن سرانجام دی ۔ پیر سےد گل بادشاہ گےلانی ;231; نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سےد غلام رضا شاہ سے حاصل کی اورپھر مزےد تعلیم کے حصول کےلئے عیسیٰ خیل تشرےف لے گئے ۔ عیسیٰ خیل صوبہ پنجاب کا معروف علاقہ ہے جوکہ ضلع میانوالی کی تحصےل ہے ۔ تارےخ کے اوراق سے عےاں ہوتا ہے کہ شےر شاہ سوری کے سپہ سالار عیسیٰ خان نےازی کے نام سے ےہ شہر آباد ہے ۔ بعدازاں پیر سےد گل بادشاہ گےلانی;231; مزےد تعلیم کےلئے درےائے سندھ کے کنارے آباد شہر مکھڈ شرےف (ضلع اٹک) تشرےف لے گئے ۔ آپ نے حصول تعلیم کے بعداپنے گاءوں کوٹ چاندنہ شرےف میں واپس آگئے ۔ آپ نے کوٹ چاندنہ شرےف میں درس وتدرےس کا سلسلہ شروع کیا ۔ آپ نے ڈےرہ اسماعےل خان کے موسیٰ زائی شرےف کے پیر خواجہ ابراہیم;231; کے دست مبارک پر بےعت کی اوران سے فےضےاب ہوئے ۔ آپ کے والد ماجد سےد غلام رضا شاہ نے کوٹ چاندنہ میں اےک مسجد تعمےر کی تھی جوکہ عصر حاضر میں جامع مسجد گلزار مدےنہ کے نام سے معروف ہے ۔ آپ کی زےست کے معاملات ےہ تھے کہ آپ تہجد کی نماز کےلئے بےدار ہوتے تھے ۔ نماز فجر کے وقت اذان دےتے تھے اور نمازکی امامت فرماتے تھے ۔ قرآن مجےد فرقان حمےد کی تلاوت کرتے تھے اور پھر مراکبے میں بےٹھ جاتے تھے،حتی کہ طلوع آفتاب کے بعد نماز اشراق ادا کرنے کے بعد اپنے خلوت خانے تشرےف لے جاتے اور اپنے اہل خانہ سے ملاقات کرتے تھے ۔ بعد میں گھر سے باہر تشرےف لے جاتے تھے ، جہاں مرےدےن کے مسائل سنتے اور ان کو دم بھی کرتے تھے ۔ آپ کو اللہ رب العزت نے دانش اور بصےرت سے نوازا تھا اور علم حکمت بھی جانتے تھے ۔ آپ نسخہ جات بھی تحرےر فرماتے تھے اور ادوےات لینے کی بھی تاکےد فرماتے تھے ۔ غرےب مرےدےن کی مالی معاونت بھی کرتے تھے ۔ آپ کے گھر سے کچھ فاصلے پر کھےتوں میں اےک کنواں تھا جواوپر والا کھو سے مشہور تھا، آپ وہاں معمول کے مطابق تشرےف لے جاتے تھے ۔ آپ اےک رات حسب معمول اللہ رب العزت کی عبادات کے بعد نےند کی آغوش میں چلے گئے اور آپ نے خواب دےکھا جس میں حضورکرےمﷺ اور حضرت علی رضی اللہ کو گھوڑے پر تشرےف فرماتھے اور نوےد سنائی کہ آپ اللہ رب العزت کے برگزےدہ اور خاص بندے ہیں ۔ آپ دوسرے دن حسب معمول ;34;اوپر والے کھو ;34;تشرےف لے گئے تو ہاں مزارعوں نے عرض کی کہ ہمارے لئے کسی جگہ کا انتخاب فرمائےں تاکہ ہم وہاں نمازادا کرسکیں ۔ اس پر آپ نے تبسم فرمائی اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے، اےک جگہ کی نشاندہی کرتے ہوئے فرماےا کہ آپ اسی جگہ مسجد تعمےر کرےں اور اسی مقام پر سرورکائنات ﷺ اور شےر خدا حضرت علی;230; سے شرف ملاقات نصےب ہوئی ۔ الحمد اللہ عصر حاضر میں بھی اسی مقام پر مسجد ہے جہاں پانچ وقت اذان ہوتی ہے اور نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے ۔ قرآن مجےد فرقان حمےد کی تلاوت ہوتی ہے ۔ آپ ;231;نے تےن مساجد تعمےر کیں ، جہاں صبح و شام اللہ رب العزت کا ذکر اور سرور کونےن ﷺ کا تذکرہ ہوتا ہے ۔ پیر سےد گل بادشاہ گےلانی کا وصال دسمبر1977ء میں ہوا ۔ لارےب اللہ رب العزت کے بندے کھبی مرتے نہیں بلکہ سدا زندہ جاوےد رہتے ہیں ۔ وہ لوگوں کے دلوں میں رہتے ہیں اور ان کو ےاد کرتے تھے ۔ جو لوگ اپنی حےات میں اللہ رب العزت اور آقاﷺ کاذکر کرتے ہیں اور خلق خدا سے بھلائی کرتے ہیں ۔ دنےا اور آخرت میں انہی کے چرچے ہوتے ہیں ۔ جب وہ قبر میں چلے جاتے ہیں اورفرشتے ان کو کہتے ہیں کہ آپ کنومت العروس کے سوجاءو ۔ پیر سےد گل بادشاہ گےلانی کا عرس ماہ دسمبر میں مناےا جاتا ہے اور عقےدت مند عرس میں شرکت کےلئے دور دور سے آتے ہیں ۔ عرس میں قرآن خوانی اور نعت خوانی کی جاتی ہے اور آپ;231; کی سےرت پر روشنی ڈالی جاتی ہے ۔ دوسر ے روز صبح آپ کے مزار پر جاکر فاتحہ خوانی کی جاتی ہے اور اس کے بعد لنگر تقسےم کیا جاتا ہے ۔ آپ;231; سےد شاہ قبول اولیاء ;231; پشاور کی ساتوےں پشت میں سے ہیں ۔ آپ;231; کا شجر نسبت ےوں ہے،پیر سےد گل بادشاہ گےلانی (کوٹ چاندنہ شرےف)بن پےر سےد غلام رضا شاہ (کوٹ چاندنہ شرےف) بن پیر سےد چن بادشاہ گےلانی (کوٹ چاندنہ شرےف) بن پیر سےد آغا نصےر رضا شاہ گےلانی (مکھڈ شرےف ) بن پیر سےد میر آقا میر شاہ گےلانی( پشاور)بن پیر سےد میرمرتضیٰ شاہ گےلانی ( پشاور) بن پیر سےد شاہ قبول اولیاء ;231; (پشاور) ۔ قارئےن کرام!اللہ رب العزت قرآ ن مجید فرقان حمےد سورۃ ےونس میں فرماتے ہیں کہ;34;سن لو بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف اور نہ کچھ غم ہے ۔ وہ جو اےمان لائے اور پرہیز گاری کرتے ہیں ۔ انہیں خوشخبری ہے دنےا کی زندگی میں اور آخرت میں ۔ اللہ کے فرمان بدلا نہیں کرتے، ےہی وہ عظےم کامےابی ہے