- الإعلانات -

وکلا ڈاکٹر آمنے سامنے کیسے ہوئے

لاہو ر میں جو واقع وکلا اور ڈاکٹروں کے درمیان پیش آیا کیا یہ کسی سازش کا نتیجہ ہے یا ہمارے انسانی رویوں کا زوال ہے ۔ اس واقع کا ذمہ دار کون ہے ۔ اس پر ہر کسی کی رائے مختلف ہے ۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ اصل حقائق تک پہنچا جائے ۔ اس واقع کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ تین ہفتے قبل دو وکلا جب پی آئی سی اسپتال میں اپنی والدہ کی ادویات لینے پہنچے، ادوایات پوری نہ دینے پر وکلا نے احتجاج کیا ۔ اسپتال کے سٹاف سے تلخ کلامی ہوئی اس کے بعد ڈاکٹروں سمیت اسپتال کے تمام اسٹاف نے ملکر ان وکلا پر تشدد کیا ۔ اس لڑائی کی وڈیو بنائی اور پھر اس وڈیو کو وارل کر دیا ۔ اس وڈیو کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ ڈاکڑوں نے اسپتال کا تقدس پامال کیا ۔ اس واقع کے بعد وکلا نے قانونی چارہ جوئی کےلئے ہر دروازے پر دستک دی لیکن کئی بھی ان کی شنوائی نہ ہوئی ۔ یہ بات وکلا یا میری نہیں ۔ یہ ڈاکٹروں کی اپنی وڈیو سے سب سن سکتے ہیں دیکھ سکتے ہیں ۔ ڈاکٹروں نے اس موقع پر ہسپتال کے تمام عملے کو اکھٹا کیا ۔ اسی اسپتال کے ینگ ڈاکٹر عرفان نے سب کو خطاب کرتے ہوئے اور شاعری سے ان وکلا کا مذاق اڑایا پھر یہ ویڈیو بھی وائرل کر دی گئی ۔ اس وڈیو میں ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ وکلا س اپنی قانونی دادرسی کی خاطر سیکٹر یٹ میں گئے انہیں کچھ نہ ملا ۔ وہاں سے یہ وکلا واپس آ گئے ۔ پھر یہ وکلا آئی جی آفس گئے کہ فلاں کو پکڑو ، فلا ں کو اتارو مگر جواب میں انہیں کہا گیا ہم ایسا کچھ نہیں کر سکتے ۔ ایس ایچ او سے ملے کہا ا ان ڈاکٹروں پر سیون ا ے ٹی اے لگاءو ۔ انہیں جواب ملا آج یہ لگے گی کل اتر جائے گی ۔ یہ وکلا جن کی ڈاکٹروں نے پٹائی کی تھی وہ جہاں بھی اپنی داد رسی کے لئے گئے کئی بھی ان کی سنوائی نہ ہوئی ۔ یہ باتیں ان ڈاکٹروں نے سب کو اپنی اس وڈیو میں بتائیں ۔ اگر وکلا خود بتاتے تو شائد کوئی بھی اس پر یقین نہ کرتا ۔

اس موقع پر پھر ڈاکٹر نے وکلا کے حوالے سے ایک شعر سنایا ۔ سنا ہے ان کے اشکوں سے بجھی ہے پیاس صحرا کی ۔ جو کہتے تھے ہم پتھر ہیں ہ میں رونا نہیں آتا ۔ یہ سن کر اس اسپتال کے سٹاف نے تالیاں بجائی پھر وکلا پر مزید جملے کستے ہوئے کہا جو کہتا تھا کچھ نہیں ہو گا ۔ اب وہ روتا ہے چپ نہیں ہوتا ۔ اس پر وہاں پر موجود سب نے سن کر قہقہے اور تالیاں بجائیں ۔ ڈاکٹروں نے خود بتا دیا کہ جب ہم نے ان وکلا کو مارا تو وکلا قانونی داد رسی کےلئے ہر جگہ گئے مگرکئی بھی ان کی سنوائی نہیں ہوئی ۔ جس پر ڈاکٹروں نے خوشی کے شاد ما نے بجائے ۔ ان ڈاکڑوں کے بقول ہر جگہ وکلا گئے کہ ان کے خلاف کاروائی قانون کے مطابق ہو لیکن کسی نے بھی ان کا ساتھ نہ دیا اگر وکلا کو انصاف مل جاتا توکچھ بھی نہ ہوتا ۔ وکلا اگر ڈبل لا گریجویٹ ہیں تو کسی طرح ڈاکٹرز بھی ان وکلا سے تعلیم میں کم نہیں ۔ مگر تربیت میں فقدان ہے کیا ان ڈاکٹروں کا ایسا رویہ انہیں زیب دیتا ہے ۔ کیا وکلا کو ایسا رویہ زیب دیتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ اس اسپتال میں ڈاکٹروں نے غیر قانونی گرینڈ ہیلتھ الائنس بنا رکھا ہے جس میں لوئر گریڈ ورکرز

سے لیکر تمام ڈاکٹرز شا مل ہیں ۔ ان کے اس الیگل ایکٹ پر ابھی تک حکومت خاموش ہے ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ۔ ہر دوسرے روز ہڑتالیں ڈاکٹر کرتے ہیں ۔ ان کے مسائل کیوں نہیں سنے جاتے ۔ کیا ان کی ہڑتالوں سے اموات نہیں ہوتی ۔ اگر اس روز کسی وکیل نے وارڈ میں اپریشن تھیٹر میں گھس کر کسی کو مارا یا توڑ پھوڑ کی تھی تو اسکی فوٹج کیوں سامنے نہیں لائی گئی ۔ جب کہ کہا جاتا ہے ڈاکٹراس موقع پروکلا سے لڑنے کےلئے ان مریضوں کو بے آسرا چھوڑ کر خود چلے گئے تھے ۔ بہتر یہی ہے کہ اس واقع پر جو ڈیشل کمیشن بنایا جائے ۔ تانکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو سکے کہ قصور وار کون ہے ۔ ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ وکلا نے ہماری اس وڈیو کو جواز بنا کر اسپتال پر حملہ کیا ۔ جبکہ ہم وکلا سے پہلے معافی اور مذاکرات کر چکے تھے پھر بھی وکلا نے اسپتال پر حملہ کیا ۔ جبکہ اس پورے واقع میں ڈاکٹر قصور وار دکھائی دیتے ہیں ۔ پہلے روز جب دو وکلا سے جھگڑا ہوا تھا اس وقت ان وکلا کو مارنے کا اور اسپتال میں ہنگامہ کرنے کا کوئی جواز نہ تھا ۔ آپ کے پاس اسپتال کی سیکورٹی تھی اس کے ذریعے انہیں گرفتار کرتے ۔ حکومت سے اس واقع کی شکایت کرتے ۔ ان ڈاکٹروں نے ملکر سب سے پہلے دو وکلا کی پٹائی کی پھر ان ڈاکٹروں نے اپنے تمام اسٹاف کے سامنے جن وکلا کی پٹائی کی تھی ان کا مذاق اڑایا ۔ ان پر شاعری سے وکلا کے زخموں پر نمک چھڑنکا ۔ اس وڈیو کو دیکھنے سے ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ ڈاکٹروں نے جلتی پر تیل کا

کام کیا ۔ انتظامیہ نے بھی اپنا رول ادا نہ کیا ۔ وکلا جب اسپتال کے لئے چل نکلے تھے اس وقت انتظامیہ ایکشن میں کیوں نہیں آئی ۔

وکلا کہتے ہیں ہم اسپتال پر حملہ کرنے نہیں گئے تھے ۔ ہم تو اسپتال کے گیٹ پر اپنا ا حتجاج ریکارڈ کرانے گئے تھے ۔ جب وہاں پہنچے تو ڈاکٹروں اور اسپتال کے ہر فرد نے ہاتھوں میں ڈنڈے پتھر اٹھائے ہماری جانب بڑھتے آئے ۔ جس کے بعد حالات فوری بدل گئے ۔ اسپتال کی چھت سے بلیک برقعہ پوشوں نے پتھراءو شروع کر دیا ۔ جس سے وکلا بھی زخمی ہوئے لیکن ڈاکٹروں نے کسی زخمی وکیل کی مرہم پٹی نہ کی ۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہاں پر موجود کاروں کی توڑ پھوڑ کی گئی اسپتال کے باہر پولیس کی گاڑی کو جلا یا گیا ۔ سوال ہے کہ پولیس اپنی گاڑی کو کیوں نہیں بچا سکے ۔ ہم سب کو چائیے کہ احتجاج میں کسی مسجد کسی اہسپتال اورکسی اسکول کو نقصان نہ پہنچایا جائے ۔ باقی احتجاج کرنا ہر ایک کا حق ہے ۔ اس واقع میں وکلا کی گرفتاریاں ہوئیں لیکن ڈاکٹروں اور ان کے کسی سٹاف کے عملے کی کوئی گرفتاری عمل میں نہ لائی گئی ۔ یعنی یک طرفہ پولیس نے کاروائی کی ۔ جن وکلا کو پولیس نے گرفتار کیا ان پر پولیس نے رات بھر وحشیانہ تشدد کیا ۔ ننگے پاءو ں اور چہروں کو ڈھاپ کر عدالتوں میں پیش کیا گیا ۔ وکلا کو چہروں پر نقاب پہنا کر پیش کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں تھا ۔ سوائے اس کے کہ وکلا برادری پولیس کےخلاف بھی اٹھ کھڑی ہو ۔ میڈیا پر پچھلے دس سالوں سے وکلا کے ہر برے ایکشن کی وڈیو ز کو دکھایا جارہا ہے ۔ کیا یہ وکلا کو بد نام کرنے کی سازش نہیں ۔ کہا جاتا ہے وکلا نے جو احتجاج کا طریقہ اپنایاتھا اس میں کوئی خرابی نہیں تھی ۔ ان وکلا نے سارے راستے کسی کا کوئی نقصان نہیں کیا ۔ خرابی اس وقت ہوئی جب اسپتال کا سٹاف ڈنڈے لاٹھیاں پتھر وں سے وکلا کا مقابلہ کر نے گیڈپر وکلا کی جانب بڑھے ۔ اس موقع پر اگر رینجر ہوتے تو جنگ نہ ہوتی ۔ پولیس کی نا اہلی سے قومی خزانے کو نقصان ہوا ۔ کیا ان کے اس ہنگامے سے پہلے رینجر کو کیوں نہیں بلایا گیا ۔ یہ سچ ہے کہ وکلا کو کسی صورت بھی اسپتال کے اندر جانا نہیں چاہتے تھے ۔ کہا جاتا ہے کہ اس سارے واقع میں جس طرح میڈیا یکطرفہ چیخ و پکار کرتا رہا ہے لگتا تھا کہ میڈیا بھی اس واقع کا حصہ تھا ۔ میڈیا کے اس رویہ سے وکلا بد نام ہوئے ۔ میڈیا کو یہاں ڈاکٹروں اور ان کے سٹاف کا کوئی فرد قصوروار دکھائی نہیں دیا ۔ پولیس نے وکلا کی گرفتاری کے بعدجو تشدد کیا اس پربھی میڈیا خاموش رہا ۔ اب تمام وکلا کو فوری رہا کریں ۔ جو ڈیشل انکوائری کروائی جائے ۔ جوڈیشیل کمیشن کی جو بھی روپورٹ سامنے آئے اسے تسلیم کیا جائے ۔ اس رپورٹ پر عمل کرایا جائے ۔ جو کچھ ہوا اس پر ساری قوم شرمندہ ہے ۔ اس پر ہر ایک کو اپنا رول ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ تانکہ ایسے واقعات دوبارہ جنم نہ لیں ۔ کہا جاتا ہے کہ تین چیزیں انسان کو کرائم کرنے سے روکتی ہیں ۔ نمبر ایک معاشرہ ۔ نمبر دو مذہب ۔ نمبر تین قانون ۔ اس وقت یہ تنیوں چیزیں انسان کو کنٹرول کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں ۔ معاشرہ اس لئے ناکام ہے کہ یہ خود توڑ پھوڑ کا شکار ہے ۔ مذہب پر باتیں کرتے ہیں ۔ لمبی لمبی تقریں کرتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے ۔ رہا سوال قانون کا ۔ ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ قانون برائے نا م ہے ۔ اس لئے قانون سے ہر کوئی چھیڑ خانی کرتا دکھائی دیتاہے ۔ بہتری اسی میں ہے کہ ہم سب آئین اور قانون کا احترام کریں ۔ اسی کے مطابق زندگی بسر کریں ۔ ا;203; ہم سب کا حامی و ناثر ہو ۔