- الإعلانات -

’’لذت غم ‘‘۔۔۔ اور ہم

وہ لوگ بڑے خوش نصیب ہیں جو اپنے غم کا اظہار کر دیتے ٰہیں کیونکہ اس طرح وہ کچھ تو تسلی اورتسکین حاصل کرتے ہیں اور پھر غم کا بہترین علاج مصروفیت ہے ۔ ٹیگور نے کہا تھا کہ جو لوگ چپ چاپ سب کچھ برداشت کر لیتے ہیں اُن کے بارے میں طے ہے کہ ان کا دل زخم خوردہ ہے ۔ زخم خوردہ اورغم زدہ میں ارض و سما کا فاصلہ او راس فاصلے میں لا تعداد نا ہموار راہیں موجود ہیں ۔ سیدہ مصباح حسین کا حسین تخیل پرِ پرواز شاہین کا دیدہ ور ہے جو صدیوں میں نہیں ہزاروں سال نرگس کو اپنی بے نوری پر ماتم کرنا پڑتا ہے تب جا کر’’ لذتِ غم‘‘ کی لذت سے آشنا ہونا پڑتا ہے ۔ سیدہ مصباح حسین ایک بہت بڑی انسان کی حیثیت سے لوگوں کی بھیڑ میں دورسے دکھائی دیتی ہےں کیونکہ ایک انسان ہی غم کی لذت محسوس کرسکتا ہے ۔ سیدہ مصباح حسین شاعرہ، افسانہ نگا ر، ادیبہ اور پروفیسر بھی نہ ہوتیں تو اس کا مقام پھر بھی بہت بلند ہوتا کیونکہ سارے جہاں کا درد موصوفہ نے اپنے نہاں خانہَ دل میں پال رکھا ہے ۔ ’’لذت غم‘‘ موصوفہ کا پہلا شعری مجموعہ ہے جس میں وہ غزل آرا بھی ہے اور غزل سرا بھی، وہ ترنم اور لذت غم کے حسین امتزاج سے اپنی شاعری کی راہیں ہموار کر تی ہے ۔ غموں کو وہ بچوں کی طرح پرورش کر کے بڑا نہیں ہونے دیتی کیونکہ بقول ارسطو جو چیزیں تمہارے قبضہ سے نکل چکی ہیں ان پر افسوس نہ کرو یہ عادت بچوں اور کم عقلوں کی ہے ۔ کوئی شخص بھی دوسرے شخص کی مسرت یا غم کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکتا مگر میں نے ’’لذت غم‘‘ کے مطالعہ سے غموں کے کوہساروں کو نوبہاروں میں بدلتے دیکھا ہے ۔ صوفی شاعرہ سیدہ مصباح حسین پہاڑوں سے زیادہ وزنی غموں کے بوجھ سے بھی افسرہ نہیں ہوتی کیونکہ اس کا دل مطمئن اور دماغ روشن ہے اور وہ مشکلات و مصائب سے کبھی بھی دل شکستہ نہیں ہوئی کیونکہ وہ جانتی ہے کہ دنیا میں کوئی شام ایسی نہیں ہے جس کی صبح نہ ہو ۔ وہ ایک مطمئن دل کی مالک ہے اور وہ دلِ بیدار رکھتی ہے ۔ اس کے دل کی بہار لذت غم سے ہمیشہ دو چار رہی ہے مگر اطمینان کی دولت ہمیشہ غالب رہی ہے ۔

مطمئن دل ہو تو ویرانوں کے سناٹے بھی گیت

دل اجڑ جائے تو شہروں میں تنہائی بہت

’’لذت غم‘‘ میں سیدہ نے شعرو ادب کی ہر اصناف سے انصاف کیا ہے ۔ آزاد شاعری آپ کے ذہن کے بطن میں جنم لے رہی ہے ۔ آزاد شاعری پر آپ کی مبسوط، مربوط اور محفوظ کتاب منظر عام پر بہت جلد آرہی ہے ۔ تدریسی تجربہ آپ کی شاعری کی بنیادوں کو مضبوط اور مربوط کرتا ہے ۔ ساہیوال کے ایک سید زمیندار گھرانے کی دختر نیک اختر ہیں ۔ شاعری کا ذوق، ترنم کی لگن جذبات کی تپش و تمازت آپ کی شاعری کی خوشبو کو فضا میں پھیلاتے ہیں اور ہواءوں کے رخ موڑ دیتے ہیں ۔ ساہیوال میں ہمارے ملک کی ایک نامورشاعرہ بلبل پاکستان محترمہ بسمل صابری سے بھی آپ کا یقینا تعلق ہوگا جن کا شہرہ َآفاق شعر زبان زد عام ہے ۔

وہ عکس بن کر میری چشم تر میں رہتا ہے

عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے

سیدہ مصباح حسین کی شاعری میں آپ کولذت غم کا اثر ملے گا اور یہ اثر اپنی آفرینی میں اطمینان بخش ہوگا :

میرے بعد مسکرانہ پائے گا آئینہ

دیکھنے والوں کو عکس غمگیں دے گا

مہرباں ہوجاتے ہیں ہم نجانے کیوں

کرتا ہم پہ تو کوئی کرم نہیں

’’لذتِ غم ‘‘کا انتساب آپ نے ممتاز صوفی سکالر واصف علی واصف کے مشہور زمانہ شعر سے کیا ہے:

ورق ورق میری نظروں میں کائنات کا ہے

کہ دستِ غیب سے لکھی ہوئی کتاب ہوں میں

اچھی کتابوں کے مطالعہ سے انسانی سوچ کا دائرہ وسیع ہوجاتا ہے ۔ ہماری زندگی فانی ہ اور اگر تم چاہتے ہو کہ یہ لافانی ہوجائے تو کوئی کتاب ہی آپ کو زندہ رکھ سکتی ہے لوگ مر جاتے ہیں کتابیں زندہ رہتی ہیں ۔ سیدہ مصباح حسین کو’’ لذت غم‘‘ کی اشاعت پرمبارکباد پیش کرتا ہوں اور ڈاکٹر سید اشفاق حسین کا بے پناہ ممنون احسان ہوں جنہوں نے ’’لذت غم‘‘ سے آشنا کیا ہے ۔ سیدہ مصباح نے اپنی فانی زندگی کو لافانی بنا دیا ہے ۔ اب وہ کہہ سکتی ہے بقول محسن نقوی کے

عمر اتنی تو عطا ہو میرے فن کو خالق

میرا دشمن میرے مرنے کی خبر کو ترسے

عائشہ افضل نے مکرر نظر ثانی فرمائی ہے اگر پھر کوئی غلطی برآمد ہوجائے تو غالب کا سہارا لے لیں :

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق

آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا

اس کتاب کی تقریب رونمائی لاہور میں ہورہی ہے جس کی نقابت کی باگ ڈور معروف شاعرہ زرقا نسیم کے پاس ہوگی ۔ غالب و میر کے تیر و نشتر کے علاوہ وہ خود بھی ایک اچھی شاعرہ ہے اور اپنے انداز میں اپنی بات کہنے کی صلاحیتوں سے مالا مال ہے:

اپنے انداز میں اپنی بات کہو

میر کا شعر تو میر کا شعر ہے

سیدہ مصباح حسین نے غم کی لذت سے اپنے قاری کو جس طرح آشنا کیاہے اس سے بڑا حوصلہ ملا ہے ۔ غالب نے کہا تھا :

نالہ ہائے غم کو بھی اے دل غنیمت جانئے

بے سدا ہوجائے گا یہ ساز ہستی ایک دن

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح

کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا

نکتہ چیں ہے غمِ دل اُس کو سنائے نہ بنے

کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے

غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا

دم کے جانے کا نہایت غم رہا

دوست غم خواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا

زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ آئیں گے کیا

زخم سلوانے سے مجھ پر چارہ جوئی کا ہے طعن

غیر سمجھا ہے کہ لذت زخم سوزن میں نہیں

ظلم کدہ میں میرے شب غم کا جوش ہے

اک شمع ہے دلیلِ سحر سو خاموش ہے

سیدہ کی شاعری میں ساحری اور ساحری میں مسیحائی کی تاثیر بدرجہ اتم موجود ہے اس لئے کہ شاعرہ کے اپنے خیالات ہیں ، اپنے تصورات ہیں ، اپنے احساسات ہیں ، اپنی زمینیں ہیں اور اپنے افسانے اور کہانیاں ہیں تو پھر لذت غم میں گلہائے رنگا رنگ اور قوس قزح کی کہکشاں دور تک کیوں نہ دکھائی دے ۔ میں سیدہ کی کامرانیوں کے لئے اور پروفیسر اشفاق کی کامیابیوں کے لئے رفتار کن کی دعا دیتا ہوں ۔ جو انسانوں کی بھلائی اور نیکی کے کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہےں ۔