- الإعلانات -

غداری کا سنگین الزام

’’جس نے کسی کے بارے میں ایسی بات کہی (الزام لگایا، تہمت،یا جھوٹی بات منسوب کی) جو اْس میں حقیقت میں تھی ہی نہیں ، تواللہ اسے (الزام لگانے والے،تہمت لگانے والے، جھوٹی بات منسوب کرنے والے کو) دوزخ میں ڈالے گا (وہ آخرت میں اِسی کا مستحق رہے گا) یہاں تک کہ اگر وہ اپنی اِس حرکت سے (دنیا میں ) بازآجائے، رک جائے اورتوبہ کر لے تو پھر نجات ممکن ہے یہ متفقہ علیہ حدیث مبارکہ ہے آج کے کالم کا آغاز اسی حدیث مبارکہ سے چونکہ درج ذیل نکات ’’غداری‘‘کی تہمت کے ایک مقدمہ سے متعلق ہیں ‘‘خصوصی عدالت نے سابق آرمی چیف،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اورسابق صدر مملکت جنرل پرویز مشرف کوملکی آئین کو معطل کرنے اور ایمرجنسی لگانے کے سنگین جرم میں آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت اْن کے وکلاکا موقف سنے بغیرمورخہ سترہ دسمبرکو سزائے موت سنادی ہے،جونہی خصوصی عدالت کا یہ فیصلہ میڈیا پرآیا ملک بھرکے سیاسی وسماجی حلقوں سمیت دنیا بھر کے میڈیا میں ایک ہلچل سی مچ گئی ہے بحث ومباحثے کا نہ رکنے والاسلسلہ شروع ہوگیا ہے ہرکوئی اپنی عقلی بساط کے مطابق ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف سے اپنی والہانہ پسندیدگی یا پھرناپسندیدگی کی رْو سے اس بارے میں سوشل میڈیا پراظہارخیال کرنے میں مصروف ہے، ساتھ ہی ملکی عسکری قیادت نے اس یکطرفہ فیصلہ پر اپنے سخت تحفطات کا فوری اظہاربھی کردیا ہے، اس سے قبل ملکی اٹارنی جنرل نے بھی اس سلسلے میں اپنی قانونی رائے دیتے ہوئے یہ کہہ دیا ہے کہ’’ عدالت کو متاثرہ فریق کوہرصورت سننا چاہیئے تھا، متاثرہ فریق کے وکلا کو بھی برابرکا ٹائم دینا قانونی تقاضا تھا اور یہ قانونی تقاضہ پورا نہیں کیا گیا لہذا یہ کہنا بے جانہ نہ ہوگا کہ جلدبازی میں یہ فیصلہ سنایا گیا ہے ۔ خصوصی عدالت کا فیصلہ آنے پر ملک کے مختلف شعبہ ہائے زندگی کی نمایاں شخصیات نے ’جلد بازی کے اس فیصلہ‘‘ پر اپنے ردعمل کا اظہارکیا، جبکہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی کے ڈائریکٹرجنرل میجر جنرل آصف غفورنے قوم کے واضح اکثریتی طبقہ کومایوسیوں اور بدگمانیوں کے چنگل میں پھنسنے سے بچانے کے لئے وقت ضائع کیئے بغیراپنی بروقت ٹویٹ کے ذریعہ قوم کے فکری اضمحلال کو سنبھال لیا اور بتادیا کہ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے خلاف آنے والے اس فیصلہ نے ملکی افواج کے ہررینکس کو دردوالم اور غم وغصہ سے دوچارکردیا ہے چونکہ پاکستانی فوج کا ہرسپاہی اور ہر افسر بخوبی واقف ہے کہ جنرل مشرف نے اپنی زندگی کے چالیس قیمتی سال افواج پاکستان کو دئیے اْنہوں نے پاکستان کے تحفظ،بقا اور سلامتی کے لئے پاکستان کے ازلی دشمن ملک بھارت سے دوجنگیں لڑیں جنرل مشرف نہ صرف ملکی آرمی کے سربراہ رہے ہیں بلکہ اْنہوں نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹا کمیٹی کے عہدے پر بھی ملکی خدمات انجام دی ایسے میں ایک خالص’’سیاسی دشمنی‘‘کے کیس کا یہ فیصلہ قوم آسانی سے ہضم نہیں کرسکتی بلکہ قوم کا یہ ماننا ہے کہ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف غدار نہیں ہوسکتے ہیں قوم ہر صورت میں افواج پاکستان کےساتھ سیسہ پلائی دیوارکی مانند کھڑی ہے اورہمیشہ کھڑی رہے گی قوم کی امیدوں پر فوج پوری اترے گی بقول قوم افواج پاکستان کی یہ توقع غلط نہیں ہوسکتی کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے مطابق انصاف کی فراہمی میں کوئی پس و پیش ہوگی ۔

یادرہے ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بیان اْس فیصلے کے آنے کے بعد اور جی ایچ کیو میں اعلیٰ فوجی قیادت کا اجلاس جاری رہنے کے بعد سامنے آیا اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ;34;ایسا لگتا ہے کہ عدالت نے مروجہ قانونی تقاضے پورے نہیں کیئے اور متاثرہ فریق کواپنے دفاع کے بنیادی حق سے محروم کیا گیا ہے انفرادی طور پر مخصوص کارروائی کی گئی اور جلد بازی میں اس اہم کیس کو ختم کرنے جیسی کارروائیوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا‘‘ قارئین کو یادرہے کہ سترہ دسمبر کو پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں خصوصی عدالت کے تین رکنی بینچ نے اپنا محفوظ فیصلہ سنانے کا اعلان کیاتھا اس فیصلے میں جو 2;245;1 میں تقسیم ہوا، اس میں کہا گیا ہے کہ اس عدالت نے سابق فوجی حکمران کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 6 کے مطابق 03 نومبر 2007 کوایمرجنسی نافذ کرنے کے الزام میں ’’بدترین غداری‘‘ کا مرتکب پایا ہے‘‘ آنے والا وقت یہ ضرور ثابت کرئے گا ۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف پر ’’غداری‘‘کا کیس نوازشریف حکومت نے کیا آئین پسند اورقانون کی بالادستی کے نام پر فائل کیا تھا;238;یا ذاتی عناد اور بغض کی بنیاد پر بنایا تھا;238; کیونکہ جنرل پرویزمشرف نے بارہ اکتوبر انیس سواٹھانوے کو جب نواز حکومت کوچلتا کیا تھا اور آئین کو معطل کیا تھا ،اس عرصہ کو چھوڑ کر 03 نومبر 2007 کے ایمرجنسی نفاذ کوہی کیوں ’’غداری‘‘ کے لئے منتخب کیا گیا;238;ایسے ہی اور اس سے ملتے جلتے اور بھی بہت سے سلگتے سوالات ہیں جنہیں کیا جان بوجھ کر پیچھے چھوڑدیا گیا ۔ بارہ اکتوبر انیس سواٹھانوے کے اقدام کو توسپریم کورٹ آف پاکستان نے ’’نظریہ ضرورت‘‘کے تحت نہ صرف جائز قرار دیا تھا بلکہ جنرل پرویزمشرف کو اْن کی خواہش کے برعکس آئین میں ترمیم کرنے کی اجازت بھی دی تھی اور بارہ اکتوبر انیس سواٹھانوے کے صدرپرویز مشرف نے ’’دوبئی پلان‘‘کے ذریعے بیرون ملک گئے ہوئے سیاستدانوں کے ساتھ ’’این آراو‘‘جیسے بدنام سیاسی معاہدے بھی کیئے تھے، شائد اسی بنا ء پر03 نومبر 2007 کی ایمرجنسی کے اقدام کو ’’وجہ غداری‘‘بنانا پڑا ہے،کیونکہ یہی وہ اقدام تھا جس کے نتیجہ میں اعلیٰ وماتحت عدالتوں کے فاضل ججز معطل ہوئے تھے اور عدلیہ بحالی تحریک چلی تھی ۔ اگر ملکی آئین وقانون کی بالادستی کا سوال پیش نظرہے، تو03 نومبر 2007 کی ایمرجنسی کی بجائے بارہ اکتوبر انیس سواٹھانوے کا اقدام زیادہ سنگین تھا ;238;جس میں سیاست دانوں اور فاضل ججز صاحبان نے اپنے دامنوں کو بچانے کے لئے صرف نظرکیا گیا ۔ پاکستانی قوم اپنی عدالتوں سے امید کرتی ہے کہ وہ اپنے وطن سے محبت اور قانون کے احترام کے جذبہ کے تحت ایسا فیصلہ کریں گے جو انکی لیاقت،قابلیت صلاحیثیت اورشہادت کے لحاظ سے درست ہوگا ان فیصلوں میں سچ کی حمایت اورحق کا اظہار نمایاں ہوگا ،غیرجانبداری اورقانونی دیانتداری کو ہرحال میں برقرار کھا جائے گا کاش ایسا ہو