- الإعلانات -

اداروں میں باہمی رابطہ وقت کی ضرورت

سسٹم کو فعال کرنے اور اسے کامیاب بنانے کیلئے ضروری ہے کہ تمام ادارے اپنی حدود قیود میں رہ کر آئین و قانون کے مطابق کام کریں کیونکہ اداروں میں تصادم ملکی مفاد میں نہیں ہوتا ۔ اگر اداروں میں فاصلے حائل ہونا شروع ہو جائیں تو وہ ملک کیلئے خوش آئند نہیں ہوتے ۔ اس سے نہ صرف آزادی سلب ہوتی ہے بلکہ جمہوریت کو بھی خطرات لاحق ہوجاتے ہیں ۔ اسی وجہ سے حکومت کی بھی روز اول سے یہی خواہش رہی ہے کہ آئین و قانون کی بالادستی ہو ۔ وہ اسی یقین محکم پر عمل پیرا ہے ۔ ہونا بھی یہی چاہیے تب ہی نظام کامیابی سے ہمکنار ہوسکتا ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے جہاں کرپشن کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائیوں کا آغاز کیا وہاں پر وہ اداروں کی آزادی پر بھی عمل پیرا ہے ۔ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ اداروں کے درمیان کسی قسم کا تصادم ملکی مفاد میں نہیں اداروں میں تصادم نہیں بہترین ہم آہنگی چاہتے ہیں حکومت قانون اور آئین کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے تمام ادارے آئینی وقانونی دائرہ اختیار میں رہ کر فراءض سرانجام دیں ۔ ہم اداروں کی آئینی وقانونی ذمہ داریوں میں معاونت یقینی بنائیں گے بیرونی قوتوں کی سازش ناکام ہوگی ہ میں اتحاد ویکجہتی سے قومی مسائل کو حل کرنا ہوگا افواج پاکستان نے ملک کو پرامن بنانے کیلئے لازوال قربانیاں دیں افواج کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے ۔ تحریک انصاف کے تمام ترجمان ،خصوصی عدالت اور سپریم کورٹ کے فیصلوں پر بیانات نہ دیں ۔ وزیر اعظم کی زیر صدارت پی ٹی آئی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سابق صدر پرویز مشرف کیس سے متعلق عدالتی فیصلے کا جائزہ لیا گیا اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر بھی مشاورت کی گئی ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کور کمیٹی اداروں میں ہم آہنگی بڑھانے کےلئے کردارادا کرے گی ۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ ہ میں اتحادو یکجہتی سے قومی مسائل کو حل کرنا ہوگا بیرونی قوتیں پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے جن سازشوں میں مصروف ہیں ان میں ناکامی ہو گی ۔ تحریک انصاف کے تمام ترجمان ،خصوصی عدالت اور سپریم کورٹ کے فیصلوں پر بیانات نہ دیں ۔ اجلاس میں ملکی سیاسی ومعاشی صورتحال پر غور کیا گیا ۔ قانونی ٹیم نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع اور سابق آرمی چیف سے متعلق خصوصی عدالت کے فیصلے پر تفصیلی بریفنگ دی جبکہ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے پر نظرثانی درخواست یا قانون سازی پر فیصلہ نہ ہوسکا ۔ و زیراعظم اپنے قریبی رفقا سے آج ملاقات کریں گے ملاقات میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست یا قانون سازی پر فیصلہ ہوگا ۔ اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری سے متعلق بھی مشاورت کی گئی ۔ عمران خان نے دورہ سعودی عرب اور ملائیشیا نہ جانے پر کور کمیٹی کو اعتماد میں لیا ۔ تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف کے خلاف عدالتی فیصلے، مریم نواز کو بیرون ملک جانے کےلئے ای سی ایل سے نام نکالنے کے معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت اور پی ٹی آئی قانون کی بالادستی اور قانون کے یکساں اطلاق کے ساتھ کھڑی ہے ۔ پاکستان کے ادارے ریاست کے ستون ہیں ، ریاست کا مفاد ہر حال میں اہم اور مقدم ہے ہم نے اپنے اداروں کو تقویت دینی اور با اختیار بنانا ہے آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پر پارلیمانی اور قانونی کمیٹی کی مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا کہ حکومت اس معاملے پر اپیل میں جاتی ہے یا پارلیمنٹ سے منظوری لی جاتی ہے ۔ بعدازاں فردوس عاشق اعوان نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ کور کمیٹی میں ماہر قانون علی ظفر اور بابر اعوان نے پرویز مشرف کے خلاف فیصلے پر بریفنگ دی جس میں کمیٹی کو اس کیس کے قانونی نکات، عدالتی فیصلے میں سقم اور کمزوریوں کے حوالے سے آگاہ کیا گیا ۔

پاک فوج کی قربانیاں قابل ستائش

پاک فوج کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ، ملکی استحکام کا مسئلہ ہو، امن و امان کا مسئلہ ہو، قدرتی آفات کا مسئلہ ہو، کوئی ناگہانی آفت آن پڑے تو پاک فوج سب سے پہلے امدادی کارروائیوں میں شامل حال نظر آتی ہے ۔ سرحد پار دشمن کا مقابلہ کرنا ہو تو ہمارے پاک فوج کے جوان اس مادر وطن کی حفاظت کیلئے اس کی مٹی کو اپنے قیمتی خون کا نذرانہ دے کر سینچ دیتے ہیں مگر وطن پر آنچ نہیں آنے دیتے ۔ خصوصی طورپر پاک فوج کے ایس ایس جی کمانڈوز کی خدمات تو تاریخ میں ہمیشہ سنہرے لفظوں سے لکھی جاتی ہیں ۔ حرم پاک پر جب بعض ملعونوں نے قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی تو پاکستان کے ایس ایس جی کمانڈوز ہی تھے جنہوں نے ان کو کیفرکردار تک پہنچاکر اللہ پاک کے گھر کو محفوظ بنایا تھا ۔ ہمارے فوج کے جری جوانوں کی صلاحیتوں کی پوری دنیا معترف ہے اور جب بھی پاک فوج کے سامنے دشمن آتا ہے تو آخر کار وہ کیفر کردار تک پہنچتا ہے یا پھر دم دبا کر میدان چھوڑنے ہی میں اپنی عافیت سمجھتا ہے ۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہم تمام ملک دشمن قوتوں کو ناکام کرتے ہوئے ملک میں استحکام لائے ہیں اور کسی قیمت پر ملکی استحکام پر آنچ آنے نہیں دیں گے ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ;200;رمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی)ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا ۔ ;200;رمی چیف نے کمانڈوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایس جی کمانڈوز ہمارا فخر ہیں ، قیام پاکستان سے لے کر اب تک کمانڈو افسروں اور جوانوں نے ملکی دفاع کےلئے بے شمار خدمات سرانجام دی ہیں ۔ سربراہ پاک فوج نے کہاکہ تمام ملک دشمن قوتوں کو ناکام کرتے ہوئے ملک میں استحکام لائے ہیں ، ہم کسی قیمت پر ملکی استحکام کو خراب نہیں ہونے دیں گے ۔

پروگرام’’سچی بات‘‘ میں حالات حاضرہ پر زیرک گفتگو

سابق صدر سپریم کورٹ بار امان اللہ کنرانی نے روز نیوز کے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ ایس کے نیازی کیساتھ میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے داغ کو آج تک عدلیہ نہیں دھو سکی،عجلت میں کیے گئے فیصلوں سے انصاف دفن ہو جاتا ہے،جسٹس ڈوگر سے حلف لینے والے ججز نے 3نومبر کے اقدامات کو درست تسلیم کیا،وزیراعظم نے اپنے

خطاب میں چیف جسٹس سے بلا تفریق انصاف کی بات کی تھی،کسی کو بھی سزا دینے سے پہلے دفاع کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا ،عجلت میں فیصلے کر کے عدلیہ کے نظام کو متنازعہ بنا دیا گیا ہے،عدالت کے فیصلے قانون اور انصاف پر مبنی ہونے چاہئیں ،عدلیہ کے فیصلوں کو حالات وواقعات کے تابع نہیں ہونا چاہیے، جسٹس گلزار بہت اچھے انسان ہیں ،امید ہے ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کیلئے کردار ادا کرینگے،سابق صدر پاکستان وسیم سجاد نے کہا کہ سوال اٹھے گا کیا غیر موجودگی میں دی گئی سزا درست ہے ،سوال اٹھے گا کہ کیا کسی بیمار شخص کو اس طرح کی سزا سنائی جا سکتی ہے،سوال اٹھے گا کہ آئین شکنی کی درخواست کابینہ سے منظوری کے بغیر دائر کی گئی تھی،بادی النظر میں پرویز مشرف کو فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا،معاملہ سپریم کورٹ نے جائے گا کہ بہت سے سوالات اٹھیں گے،اپیل کیلئے 30دن کا وقت ہے ، اپیل کے بعد جلد سننے کی درخواست بھی کی جاسکتی ہے،جسٹس (ر)وجیہ الدین نے کہا کہ پرویز مشرف کو سزائے موت کے فیصلے کی حمایت نہیں کرتا، ایمرجنسی اور ججز کو ہٹانے کے اقدام کو کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں تھا،پارلیمنٹ نے ترمیم کر کے 1999کے مارشل لاء کو قانونی تحفظ دے دیا تھا،پرویز مشرف کے وکیل رضا بشیر نے کہا کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ میں سوالیہ نشان ہے،قانون میں موجود ہے کہ ملزم بیان ریکارڈ کرانے نہ آ سکے تو کمیشن بنایا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی پرویز مشرف کو فیئر ٹرائل کا موقع دینے کا حکم دیا،پرویز مشرف نے پاکستان کی خدمت کی ،فیئر ٹرائل انکا بنیادی حق تھا ۔