- الإعلانات -

عبقری، عسکری، فکری، نظری اور اللہ والوں کی تقریب

جو آدمی پسند کرے کہ اس کے رزق میں فراخی اور عمر زیادہ ہو تو اسے چاہئے کہ اپنے رشتے داروں سے اچھا سلوک کرے اور عزیز و اقارب سے بہتر تعلقات پیدا کرنے کے لئے ان سے مسلسل رابطہ قائم رکھنا بڑا ضروری ہے ۔ ہ میں اپنے عزیز وں اور دوستوں کی بھی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی غذا کی اور آرام کی ۔ رشتوں کے تقدس کو بڑے سے بڑا محدث بھی نبھانے میں کہیں کہیں اپنے اعمال و افعال سے ہم آہنگ نہیں رہ سکتا ۔ گھر والوں کے ساتھ اچھا سلوک کیے بغیر آپ متقی ہو ہی نہیں سکتے ۔ ان خیالات کا اظہار مولانا عبدالرءوف ملک کی پوتی اور عابد عمر ملک کی دختر نیک اختر کی تقریب رخصتی کے موقع پر ممتاز دانشور سکالر ڈاکٹر محمد سعد صدیقی چیئر مین شعبہ اسلامیات جامعہ پنجاب فرما رہے تھے ۔ اس سادہ پُر وقار اور پُر شکوہ تقریب رخصتی میں ملک کے نامور عبقری لوگ شریک تھے ۔ جن میں ہمارے عہد کے سب سے بڑے صحافی ، دانشور، شاعراور بلا کے ادیب فضیلت مآب الطاف حسن قریشی، مولانا عبدالمالک، جناب ڈاکٹر علامہ سرفراز احمد اعوان، شرقپور شریف سے روحانی شخصیت حضرت شیر محمد کے خلیفہ اور پروفیسر ڈاکٹر پروفیسر قاضی سلطان سکندرناشر ادارہ تنویر القرآن لاہور، ابوالاسد محمد ریاض آسی، کامران الطاف، ، منڈی بہاءو الدین سے انجینئر مسعود میاں ،قاری شاہد عمر اور عبقری، فکری اور اللہ والوں کی کثیر تعداد مولانا عبدالرءوف ملک کی خوئے دلنوازی اور خوبصورت عادتوں کی دلفریب شخصیت کی بنا پر کھنچی چلی آئی تھی ۔ اسلامی روایات کی پاسداری اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی بازیابی دکھائی دے رہی تھی ۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد سعد صدیقی نے میاں بیوی کے حقوق و فراءض پر سیر حاصل گفتگو کی ۔ آپ نے بتایا کہ بیوی کے کیا حقوق ہیں اور شوہر کی کیا ذمہ داریاں ہیں ۔ نکاح کا رشتہ ایسا رشتہ ہے جو حقوق و فراءض کو پہچاننے کا ایسا رشتہ ہے ۔ حضور ﷺ کی حدیث مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ تم میں سے خیر اس بندے کے ساتھ ہے جو اپنے گھر والوں سے اچھا سلوک کرتا ہے ۔ جب تک ہم گھر والوں سے اچھے نہیں ہوں گے اس وقت تک ہم خیر و برکت سے محروم رہیں گے ۔ زوجیت کا رشتہ اللہ تعالیٰ نے اسے لباس سے تشبیہہ دی ہے تم دونوں ایک دوسرے کا لباس ہو لباس اور خوراک دونوں انسان کی ضرورت ہیں مگر لباس کے بغیر آپ نہیں رہ سکتے خوراک آپ کی زندگی تک اور لباس آپ کی زندگی کے بعد موت کے بعد بھی پہنایا جائے گا ۔

ڈھانپا کفن نے داغ عیوب برہنگی

وگرنہ میں ہر لباس میں ننگِ وجود تھا

مولانا عبدالرءوف ملک نے عمر بھر صالح معاشرہ کی تشکیل میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے اور آج اس کی ایک جھلک آپ کی پوتی کی تقریب رخصتی میں دیکھنے کو ملی تو دل روحانی مسرتوں سے باغ باغ ہوگیا ۔ آپ نے اصلاح کا کام معاشرے سے نہیں گھر سے شروع کیا تھا اگر ہر شخص اپنے گھر کے افراد کی اصلاح کرے تو معاشرہ از خود صالح معاشرہ میں بدل جائے گا اور وہی معاشرہ مثالی کہلاتا ہے جس کا خاندان اور فرد اخلاقی لحاظ سے بلند کردار ہو ۔ تمہارے گھر کتنے ہی عالی شان ہوں اگر تمہارا دل بخیل ہے تو تم مفلس ہی کہلاءو گے ۔ مکان ہاتھوں سے تعمیر ہوتے ہیں اور گھر دلوں سے بنتے ہیں محبتوں کی جگہ گھر ہوتا ہے اور باہر رہتے ہوئے بھی دل گھر میں رہتا ہے اس احساس اور جذبہ کے بارے میں آپ اگر پوچھنا چاہتے ہیں تو قاری شاہد عمر سے پوچھو کہ وہ آج کتنا خوش تھا ۔ دیارِ غیر میں بھی اپنے وطن کی یاد آتی ہے ۔ ہم تو حضرت مولانا عبدالرءوف ملک صاحب کے بے پناہ ممنون احسان ہیں جنہوں نے ہمشہ اپنی خوئے دلنوازی سے دلوں کو موہ لیا ہے اور آپ نے اعتدال اور توازن کو ہمیشہ ملحوظِ خاطر رکھا ہے کیونکہ یہ کائنات بھی تو اللہ تعالیٰ نے توازن پر قائم کی ہے اس کا توازن بگڑتا ہے تو ماحول میں آلودگی اور زیر زمین زلزلوں کی گونج سنائی دیتی ہے ۔ حضرت انسان بھی اس پوری کائنات کا خلاصہ ہے باد، نار، آب اور تراب کا توازن جب بگڑتا ہے تو جسم میں فساد پیدا ہوجاتا ہے ۔ عناصر اربعہ کے توازن سے ہی انسان صحت مند اور زندگی پُر سکون رہتی ہے ۔

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب

موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشاں ہونا

مولانا عبدالرءوف ملک نے اس چمن میں اخوت و رواداری کی بادِ بہاری کے خوشگوار جھونکوں کو ہمیشہ خوش آمدید کہا ہے اور آج وہ اپنی پوتی کی تقریب رخصتی میں اپنے ہمدم دیرینہ صاحبان کو ارادت و عقیدت کے چراغوں کی روشنی کی لَو میں اُن کا خیر مقدم کر رہے تھے وہ بہت خوش تھے اور آپ کی مسرت دیدنی تھی ۔ آخر میں پروفیسرڈاکٹر محمد سعد صدیقی نے فرمایا کہ نکاح کا یہ رشتہ ذمہ داریوں ، حقوق کا رشتہ نہیں ہے یہ محبت کا رشتہ ہے ۔ زندگی اگر ایک پھول ہے تو محبت اس کی خوشبو ہے ۔ محبت زندہ رہنے کی تمام امنگوں اور آرزوءوں کو جوان رکھتی ہے ۔ محبت انسان کو عظمت ، پاکیزگی ، انسان دوستی، خوشحالی اور امن کا درس دیتی ہے ۔ ٹالسٹائی کہتا ہے کہ ذہانت پر تصور کی فتح کا نام محبت ہے ۔ محبت کا ایک عمدہ پہلو یہ بھی تو ہے کہ وہ فکر کرنے کی عادت ڈالتی ہے ۔ نکاح کا رشتہ محبت کا رشتہ ہے محبت جو مرد کی زندگی کا ایک واقعہ ہوتا ہے وہ عورت کی زندگی کی پوری داستان ہے ۔ محبت کا رشتہ بڑا طاقتور رشتہ ہوتا ہے کیونکہ محبت ہر شے کو فتح کر لیتی ہے اس کے آگے بڑے سے بڑا جری سے جری مرد بھی ہار مان لیتا ہے ۔ دو انسانوں کی محبت ہی جنت تعمیر کرتی ہے اور نکاح کا رشتہ دو دلوں کی محبت سے گھر کو جنت بنا دیتا ہے ۔ آدم علیہ السلام سے لے کر ہمارے آخری پیغمبر حضرت محمد الرسول اللہ ﷺ تک نکاح سنت ہے ۔ صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سوا ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں نے نکاح کے رشتے کو نبھایا ہے اور فرمایا ہے کہ گھر والوں سے آپ کا حسن اخلاق ہی آپ کے نیک اعمال و افعال کا مظہر ہے ۔ آخر میں مولانا عبدالرءوف ملک اور آپ کے صاحبزادے عابد عمر ملک اور دلہا اور اس کے والدین کو ہدیہ مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ مولائے کریم دونوں ہمسفروں کو دین ودنیا کی بہترین سعادتوں سے بہرہ ور فرمائے ۔ تمام احباب کے مسرت آلود جذبات اپنی تحریر کے ذریعے پہنچانے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں ۔ مسجد نبوی میں درس و تدریس کا سلسلہ قائم رکھنے والے قاری بھی اس تقریب میں قرآن پاک کی تلاوت فرما رہے تھے اور ابوالاسد محمد ریاض آسی نعت رسول مقبول ﷺ اور کلام اقبال سے دلوں کو گرما رہے تھے ۔ جناب الطاف حسن قریشی کی ہمسائیگی میرے لئے بہت بڑی سعادت کی بات تھی اور وہ بھی میری طرح آسی کے سوزو گداز میں ڈوبی ہوئی آواز سے بے پناہ متاثر تھے اور مسلسل داد دے رہے تھے ۔ آخر میں ازدواجی زندگی کے اس نئے سفر پر دونوں خاندانوں کو مکرر مبارکباد ۔