- الإعلانات -

عمران خان حکومت کے اچھے کام!

ایک لکھاری کی اپنی رائے ہوتی ہے ۔ بہت سارے لوگ تحریر پڑھ کر تعریف کرتے ہیں ۔ کچھ تنقید بھی کرتے ہیں مگر صحافت ایک ایسا مقدس پیشہ ہے جہاں پر قلم کو اپنے ضمیر ونظریاتی سوچ کے دائروں میں رکھ کر اگر چلایاجائے تو پھر اُس کی باز گشت چاروں طرف سُنائی دیتی ہے ۔ پاکستان تحریک اِنصاف کی حکومت کو ایک سال سے زیادہ ہوگیاہے ۔ ہ میں اچھے دِنوں کے خواب دکھائے جارہے ہیں ۔ عوام جلدی تبدیلی چاہتے ہیں مگر حکومت کہتی ہے کہ سب کچھ اتنا جلدی ممکن نہیں ۔ کرپشن زدہ ریاستی معاملات کو ٹھیک کرنے کے لیے کچھ وقت درکارہوگا ۔ اپوزیشن کی تمام جماعتیں ہر وقت تنقید کے محاز پر کھڑی دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ سچ ہے کہ مہنگائی بڑھی ہے ۔ روزگار کے وسائل اب تک ایک نوجوان سے کوسوں دُور ہیں ۔ لاء اینڈ آرڈر حالات بھی نہیں بدلے ۔ تھانوں کا کلچر بھی تبدیل نہیں ہوئے ۔ مگر یہ ماننا ہوگا کہ عمران خان کے آنے کے بعد بیرون ممالک میں پاکستان کا امیج بہتر ہواہے اور دُنیا بھر میں پاکستانی پاسپورٹ کو عزت کی نگاہ سے دیکھاجانے لگاہے ۔ ہماری معیشت جب عمران خان نے حکومت سنبھالی تو تباہی کے دھانے پر تھی ۔ معیشت کودُرست کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کا پھر سے کڑو اگھونٹ پینا پڑا ۔ میرے خیال میں پاکستان کا بیرون ممالک کاسارا قرضہ اگرکشکول توڑنے کے نعرے ساتھ عمران خان پاکستانی قوم اور بیرون ممالک اورسیز پاکستانیوں کو پکارتے تو یہ سب قرضہ چند ماہ میں اُتر جاتا ۔ بہرحال اِس وقت جوحقیقت پر مبنی رپورٹ احمدجواد ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پاکستان تحریک اِنصاف نے شاءع کی ۔ مجھ تک اِنجینئر اِفتخار چوہدری سینٹرل ڈپٹی اِنفارمیشن سیکرٹری پاکستان تحریک اِنصاف کے ذریعے پہنچی ۔ انجینئر اِفتخار چوہدری عمران خان کے اُس وقت کے ساتھی ہیں جب بقول شیخ رشید وزیر ریلوے کے اُس وقت ’’عمران خان تانگہ کی اکیلی سواری ہیں ‘‘ ۔ آج وہ بائیس سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد وزیر اعظم ہیں ۔ اِفتخار چوہدری ہر موسم میں عمران خان کے ساتھ کھڑے رہے ۔

وہ جماعت کے نظریاتی ویژن کی کامیابی کے لیے مشن کے ساتھ کام کرتے ہیں ۔ میرا کوئی بھی حکومتی شکایت یا مشورہ پہنچانا ہوتاہے میں اِن سے رابطہ کرتاہوں اور مجھ عزت دیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ میں پچھلے بیس سال سے نوجوان نسل کی کیئریر کونسلنگ کے حوالے سے کام بغیر کسی سیاسی وابستگی کے ساتھ کر رہاہوں ۔ اُنہوں نے رپورٹ جاری کی تفصیل بتاتے ہوئے بتایا کہ پاکستا ن تحریک اِنصاف کی حکومت کی کامیابیوں میں مندرجہ ذیل ہیں ۔ پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان تک موٹروے کی تعمیر کا اعلان کر دیاگیاہے جسکی لمبائی 330کلومیٹر ہوگی ۔ جنوبی ایشیاء کے کھیلوں کے مقابلے میں پاکستان کی کراٹے ٹیم نے ایک سونے،دوچاندی اور ایک کانسی کا تغمہ حاصل کیاہے ۔ جولائی تانومبر2019ء کے دوران ایف بی آرنے ٹیکس وصولی میں حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کی ہیں اورٹیکس ریونیو میں سترہ فیصد اضافہ ہواہے ۔ رواں مالی سال کے پہلے چارماہ میں براہ راست غیرمُلکی سرمایہ کاری میں 238%خالص اضافہ بھی ہواہے ۔ رواں مالی سال کے اِبتدائی چار ماہ میں کرنٹ اکاءونٹ خسارے میں 73;46;5%کمی ہوئی ہے ۔ ا یکسپورٹ بارہ فیصد بڑھی ہیں ۔ نئے سرکلر قرضہ میں 68فیصد کمی ۔ اسٹاک ایکسچینج میں پچاس دِن میں پانچ ہزار پوائنٹس کا اضافہ ہوا ۔ تجارتی خسارہ کم ہوکر41ماہ کی کم ترین سطح پر چھ رہ گیاہے ۔ ترسیلات میں د س فیصد اضافہ ہوا ۔ اندرون مُلک آمدنی میں پچیس فیصد اِضافہ ہوا ۔ آٹھ لاکھ 45 ہزار ٹیکس فائلرز آئے ۔ یہ سب سُن کر خوشی ہوئی ۔ ڈالرریٹ 154پر رُکاہواہے ۔ اللہ کرئے ڈالر نیچے آئے جس کے براہ راست فائدے عوام کوملیں گے ۔ ایک اورخبر سُن کر بھی خوشی ہوئی کہ پاکستان اِنٹرنیشنل ایرلائن میں چیف ایگزیکٹو ایر مارشل (ر)ارشد ملک نے چند ماہ میں شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ پی آئی اے نے چند ماہ میں اُن کی قیادت میں خسارے سے منافع کا سفر طے کیا ہے ۔ مینجمنٹ اور فالتو اخراجات کوراہ راست پر لایا گیا ۔ پی آئی اے کے فضائی بیڑے میں شامل ہونے والے نئے ایر بیس طیارے نے پروازیں شروع کردیں ۔ پانچ برس کے بعدائیر پی کے 306پی آئی اے فضائی بیڑے میں شامل کردیا گیاہے ۔ پی آئی اے میں ایربس طیاروں کی تعداد اَب بارہ ہوگئی ہیں ۔ ایر لائن کی بحالی کے لیے کی گئی کوششوں کے نتاءج آنا شروع ہوگئے ہیں ۔ جو اداے میں اہم خامیاں تھیں جن کی وجہ سے ادارہ خسارہ کی طرف تھا اُس کو بہتر بنایاہے ۔ فلاءٹ سروسز ،معیار کو بھی بہتر بنایاہے ۔ فلاءٹ کی بروقت آمد وروانگی کو بھی یقینی بنایاہے ۔ فورسز کے سینیر افراد کی ایک بھرپور فورس کی زندگی ہوتی ہے ۔ ایسے ایماندار اور کام کرنے والے ریٹائرڈ افراد کو اداروں کا چیف ایگزیکٹو بنانے میں کوئی حرج نہیں ہوتا ہے ۔ ایسے افراد سیاسی نہیں ہوتے ہیں اورایمانداری کے ساتھ صرف اپنے کام کی طرف توجہ دیتے ہیں اور رزلٹ حاصل کرتے ہیں ۔ ریٹائرڈ جنرل عبدالقیوم نے پی او ایف کو ایک مثالی منافع بخش ادارہ بنایا ۔ اُن جیسے افراد کی صلاحیتوں سے دُوسرے ادارے بھی فائد ہ اُٹھا ہوسکتے ہیں ۔ غربت مکاءو پروگرام کے لیے ’’اخوت ‘‘کے ذریعے نہایت ہی پسے ہوئے غریب افراد کو قرضہ دینے کا اعلان کرکے پورے مُلک میں ایک نیٹ ورک بنایا جاسکتاہے ۔ اِس ادارے کی کئی سالوں کی کامیابیاں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح بلاسُود یہ غریب افراد کو قرضہ حسنہ دیتے ہیں اور ریکوری بھی اِن کی ننانوے فیصد سے زیادہ ہے ۔ ذوالفقار چیمہ سابق حکومت میں موٹروے ،پاسپورٹ شعبہ اور ;786586848467; فیڈرل گورنمنٹ ادارے کے بطور سربراہ اُن کی شاندارکامیابیاں دیکھ کر سیاسی وابستگی سے ہٹ کر اُن کی تعریف ہرشہری کرتاہے ۔ وہ بیورکریٹ ،ریٹائرڈ جنرلز ، ایر مارشلز، ایڈمرل جو دیانت ،اپنے پروفیشنل تجربہ میں ماہر اور کسی کی سفارش نہ مانتے ہوں ایسے افراد کو پاکستان کے سب سرکاری اداروں میں آنے سے اداروں میں کرپشن کاتناسب کم کیاجاسکتاہے اور اِن ادروں کو منافع بخش بنایاجاسکتاہے ۔ پاکستان سیٹیزن پورٹل عوام کی شکایات دُور کرنے کیلئے وزیراعظم ہاءوس میں کام کررہاہے ۔ پاکستانی شہری اور بیرون ممالک مقیم افراد سرکاری محکموں سے متعلق سسٹم سے سب پاکستانی مطمئن نہیں ہیں ۔ اِس میں بہتری کے لیے عوامی تجاویز لینا ضروری ہے ۔ درخواست آتے آتے متعلقہ شکایت کے کئی ماہ کا سفر طے کرتی ہے ۔ وفاق سے صوبائی اور پھر ضلعی،تحصیل تک کی شکایت فائلوں میں ہی گم ہوجاتی ہے اور سائل مایوس ہوجاتاہے ۔ اگر یہ کام تحریک انصاف کے ہر ضلعی وتحصیل کے جماعت کی ٹیم سے کروایا جائے تو بہتری آسکتی ہے ۔ ڈاکٹر عطا الرحمان ،دُنیا بھر میں وہ ایک نامور سائنسدان کے طور پر جانتے ہیں ۔ مشرف دور میں بطور وزیر اُنہوں نے شاندار کام کیا ۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ایک فعال ادارہ بنایا ۔ جامعات کو ایک پہچان دی ۔ ہر سال ہزاروں پاکستانیوں کو پی ایچ ڈی کے لیے حکومتی خرچ پر بیرون ممالک بھیجا ۔ آج پاکستان کا ہر نوجوان جو بی ایس چار سالہ کر رہاہے اُس سے اگر پوچھا جائے کہ وہ مسقتبل میں کیا کرنا چاہتاہے تو وہ سب سے پہلے کہے گاکہ بی ایس کے بعد جاب کے ساتھ ساتھ وہ آگے ایم ایس اور پی ایچ ڈی کرئے گا ۔