- الإعلانات -

غدار ، غداری اور غداریت کی تشریح کیا ہے

پاکستان کے حالات اور رونما ہونے والے واقعات ریاستی اداروں میں عدم اعتماد اور قوت ارادی شدید فقدان کا شکار ہیں ۔ اس ماحول کا بہ نظر عائر مطالعہ کریں تو ایک بات قطعاً واضح ہے کہ اس کی تخریبی صورت کا سبب نظریہ ضرورت ہے ۔ جسے ہر ادارے نے اپنے اپنے اختیار کے مطابق مصالحت یعنی ;788279; کا نام دےاہے ۔ ملکی معاملات کے بارے سودے بازی ہی تو یہی ;788279;ہے ۔ سب سے زیادہ ایسے معاہدے سیاستدانوں کے مفادات کا سبب بنے ہیں ۔ تاریخی اعتبار سے پاکستانی سیاست ہنورنا بالغ ہے ۔ ایسے معاہدے جب عمل میں آتے ہیں تو غداری ، حب وطن میں بدل جاتی ہے ۔ بیرونی طاقتوں کا کردار اس میں پس پشت رہتا ہے ۔ ایسا کوئی سیاستدان نظر نہیں آیا جو ایسے معاہدوں سے مستفید نہیں ہوا ۔ ان سیاستدانوں کی حکومتیں کبھی یہ نہیں چاہتی کہ ریاستی ادارے مستحکم اور فعال ہوں ۔ اداروں کی فعالیت کا مقصدیہ ہوگا کہ حکومت اپنے ہر جائز و ناجائز اقدامات سے اپنے حلف سے بھی ماوراہوجاتے ہیں ۔ منصب اقتدار تک پہنچانے کے لئے ریاست کے سب ہی ادارے آپس میں ایکا قائم کرلیتے ہیں ۔ کرپشن، منی لانڈرنگ اور حکومت اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی قوت سے وہ سب کر جائیں جو انکی مرضی ہو ۔ اپنے اختیار اور آئین کی نگرانی ان کی باندی بن جاتی ہے ۔ الیکشن تک ;77;aneuver ہوجاتے ہیں ۔ پاکستان میں 2018 کے الیکشن سے پہلے پیپلزپارٹی اور ن لیگ آپس میں باریاں طے کرتے آئے ہیں ۔ میثاق جمہوریت ان دو جماعتوں کے مابین ایسا ہی معاہدہ تھا جسے ;788279;بھی کہا جاتا ہے ۔ گو یا سارا نظام ریاستی ادارے مفلوج نظر آتے ہیں ۔ ان سیاستدانوں اور اداروں کا مزاج اس قدر غیرذ مہ دارہے ۔ کہ انہیں اس سے غرض نہیں کہ آمریت ہو یا جمہوریت ہو ،بس ان کے مفادات کا کسی طرح تحفظ ہوسکے ۔ پرویز مشرف کے دور حکومت میں کتنے سیاستدان اور بیورو کریٹ تھے جو دھڑلے سے اقتدار کا حصہ بن گئے ۔ مولانا فضل الرحمن جیسا شخص بھی 5 سال تک حصہ دار بنے رہے ۔ 1999 کا اقدام جسے بے نظیر بھٹو نے بھی سراہاتھا ۔ پیپلزپارٹی آج پرویز مشرف کی سزائے موت کے حق میں ہیں ۔ بے نظیر بھٹو کے قتل میں وہ پرویزمشرف کو ملوث کر رہے ہیں ۔ حالانکہ 2008 تا2013 انکی حکومت تھی مگر یہ بے نظیر کے قاتلوں کا صرف واویلا مچاتی رہی ۔ اقوام متحدہ کی جانب سے تحقیقاتی ٹیم اور برطانیہ کی ٹیم کے ساتھ صدر آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کی حکومت نے کوئی تعاون نہیں کیا ۔ سیاست ایک بے رحم کھیل ہے ۔ بے نظیر بھٹو کی1988 اور 1993 کی حکومتوں کا خاتمے کا سبب آصف زرداری کے کرتوت بھی شامل تھے ۔ آصف زرداری بے نظیر بھٹو کے کاندھوں پر چڑھ کر اور اس کے شوہر ہونے کا فائدہ لے کر، صدارتی محل تک پہنچا ۔ اس بات کا ثبوت ہے کہ دیگر پارٹیوں میں بھی کم از کم یہی رجحا ن شدت سے پایا جاتا ہے ۔ نواز شریف کو بھی نظر یہ ضرورت کے تحت ضیاء الحق نے اپنے کاندھے مہیا کئے اور اس کی سیاست کا پودا لگایا ۔ ۔ میرٹ کے نظام کو تہس نہس کرنا اور ;83;electionکرنا ۔ نظام مملکت کی باگ دوڑ جب ذاتی مفاد کا محافظ بن جائے تو ملکی حالات دگر گوں ہوجاتے ہیں ۔ نواز شریف نے ڈان لیکس اور بمبئی حملوں کی سازشوں کا نیا پینڈورا بکس کھولا ۔ پرویز مشرف کو 1999 میں ہوا میں معطل کرنا اور تو اور کھر بوں ڈالر کی منی لانڈرنگ کرنا ۔ عدالت کی طرف سے مجرم ٹھہرائے جانے کے باوجود، بیماری کی آڑ میں لندن یا ترا کروائی گئی ۔ کل عدالت نے جب پرویز مشرف کو آرٹیکل 6 کے تحت غدار قراردیا لیکن عدالت کو مشرف کے ساتھ ان سب کو غدار قرار دینا چاہیئے تھا ۔ جنہوں نے انڈیا، امریکہ کو ملکی راز افشاں کئے اور منصب اقدارکئے مزے بھی لوٹتے ۔ ;806779; ججز جنہوں نے پرویز مشرف سے حلف لیا ۔ پیپلز پارٹی نے پرویز مشرف سے حلف لیا ۔ آئین کی تشریح کے مطابق آخر غدارکی کیا تعریف ہوسکتی ہے ۔ چور سے چوری کا مال خرید ناکیا جائز ہے;238; سیاستدانوں کی مکاری اور مصلحتانہ رویے نے ان کو پست درجے تک پہنچادیا ہے ۔ ان کا واویلا چیح چیح کر بتا رہا ہے کہ ’’ چور مچائے شور‘‘ یا ایسا بھی دکھائی دے رہا ہے کہ ’’ نقار خانے میں طوطی کی آواز دبی ہی رہے ۔ پرویز مشرف کا بھی یہی معاملہ ہے ۔ ایسے نظام میں بھاگتے کی لنگوٹی ہی بھلی ۔ قانون ، عدل اور ریاستی نظام مصلحت کے نام پر خود سنگین جرم کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں ۔ پچھلے تیس سال سے یہی ڈرامہ عروج پر ہے ۔ اب افسوسناک پہلو یہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ عدالتیں اور وکلاء سیاستدانوں کی ڈگر پر چل نکلے ہیں ۔ لہٰذا اس میں کوئی ابہام نہیں کہ معاشرے کا اخلاقی قدر پستی کی انتہا پر پہنچ چکا ہے ۔ ذمہ داری نہ لینے کا رویہ ایک فارمولا سا بن گیا ہے ۔ تاکہ ’’کچھ لوگ کچھ ’’دو‘‘ کے تحت مصلحت سے کام لے سکیں ۔ یہاں امید کے ساتھ جینے کا حق وہی رکھتا ہے جو ایسے خفیہ معاہدوں اور مفادات کے تحفظ کا اختیار رکھتے ہوں ۔ بستر مرگ پر پڑے جنرل مشرف جس کو غدار کہا گیا اور سزا ئے موت کا حکم صادر ہوا تو کیا کسی لاش کو سزائے موت دی جاسکتی ہیں ;238; آئین اس کے لئے کیا تجویز کرتی ہے ۔ جب کہ ایک صحت مند مجرم نواز شریف کو انصاف کے ہی ایک عدالت نے پچاس روپے کے سٹامپ پیپر پر راہداری مہیا کی ۔ آج نہیں تو کل ضروری ان فیصلوں پر ایک نئی بحث چھیڑ دی جائے گی ۔ جیسا حمود الرحمن کمیشن ، سانحہ بنگلا دیش کے غداروں کو آج بھی بچاس سال گزرنے کے بعد چھیڑا جاتا ہے ۔ آج تک یہ آئینی سقم کیوں دور نہ ہوسکا ۔ نیت ارادہ فیصلوں کا ترجمان ہوتے ہیں ۔ ہماری ریاست اور ریاستی اداروں بشمول سیاست کا، یہ رویہ بن چکا ہے کہ وہ اسے نظریہ ضرورت ، مصلحت کہہ کر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں ۔ یہ خاموشی اور مصلحت وقتی غبار بٹھا سکتی ہے مگر مستقبل کو غیر یقینی اور عدم استحکام کے طوفان سے دو چار کردیتی ہے ۔ جو فرد یا قوم اپنے جرائم چھپاتی ہے، دراصل وہ غداری کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی پاک ﷺ سے ارشاد فرمایا کہ اے نبی ﷺ کبھی ایسا ہرگز مت کرنا کہ باطل کے ساتھ مصالحت کرلو ۔ یادرکھنا وہ حق جو مصالحت کرے باطل کے ساتھ، وہ حق بھی جھوٹ یا باطل بن جاتا ہے ۔ باطل کی یہی کوشش ہے کہ آپ ﷺ ان کی سطح پر جا بیٹھےں اور تب وہ تعاون کا وعدہ کرینگے ۔ ایسا ہر گز مت کرنا ۔ ورنہ آپ بھی ان جیسے ہو جاوَگے ۔ پاکستانی معاشرت بھلے سیاسی نظام ہو ۔ سماجی نظام ہو ۔ ریاسی معاملات ہوں سب ’’جھوٹ اور باطل ‘‘ کے ساتھ مصلحت کے اصول پر چلتے ہیں ۔ لہٰذا نتیجہ سوساءٹی سراپا انتشار ہے ۔ اللہ کا شکر ادانہیں کرتے ۔ اپنے ملک ،عوام اور معاملات کو ذمہ داری ، سچائی اور قدردانی سے نہیں دیکھتے ۔ اس لولی لنگڑی جمہوریت سے اپنا اپنا حصہ بٹورتے جارہے ہیں ۔ یہ سب غدار اور چور آپس میں ملے ہوتے ہیں جب اپنا حصہ بانٹ لیتے ہیں تو کوئی غدار تو کوئی محب وطن بن جاتا ہے ۔