- الإعلانات -

وقت کا تقاضا، تحمل، بردباری اور دوراندیشی سے کام لیا جائے

پرویز مشرف کے سنگین غداری کیس کے حوالے سے تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد مقتدر قوتوں نے انتہائی سوجھ بوجھ اور تحمل کا مظاہرہ کیا ۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو ملکی حالات بہت زیادہ دگرگوں ہوسکتے تھے ۔ وزیراعظم کی زیر صدارت میڈیا اسٹرٹیجک کمیٹی کا اجلاس ہوا جبکہ دوسری جانب پاک فوج کے ترجمان نے بھی میڈیا سے گفتگو کی جس میں انہوں نے کہا کہ مختصر فیصلے کے بعد جن خدشات کا اظہار کیا تھا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد درست ثابت ہوگئے ہیں ۔ تاہم ہم پاکستان کو اندرونی و بیرونی طورپر کمزور نہیں ہونے دیں گے ۔ ہم روایتی جنگ سے نیم روایتی جنگ اور آج ہائبرڈ وار کا سامنا کررہے ہیں ملک کے دفاع کے ساتھ ساتھ ادارے کے وقار کا دفاع کرنا بھی جانتے ہیں ۔ جبکہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم ،معاونین وزیراعظم فردوس عاشق اعوان اور شہزاد اکبر نے بھی مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ فیصلے کے پیرا 66 پر شدید تحفظات ہیں ۔ یہ پیرا پوری دنیا میں شرم کا باعث بن رہا ہے ۔ ایسے ماحول میں حکومت کو بھی انتہائی تدبر سے کام لینا ہوگا ۔ ابھی تک تمام اداروں نے اس مسئلے کو انتہائی احسن طریقے سے نبھایا ہے یہاں ہم یہ کہیں گے کہ جب کوئی بھی ادارہ اپنی حدود سے تجاوز کرتا ہے تو حالات خودبخود خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ ملک میں کوئی بھی حالات درپیش ہوں جب تک انہیں قانون و آئین کی حدود میں رہ کر حل کیا جائے تو مسائل نہیں درپیش ہوتے ۔ جیسے ہی قانون سے متجاوز کیا جائے تو حالات خود بخود بگڑنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ وقت کا تقاضا تو کچھ اور تھا بہرحال جیسے ہی فیصلہ آیا ۔ ادھر دوسری جانب بھارت نے ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ کی جس کی وجہ سے دو افراد شہید، دوزخمی ہوگئے جبکہ پاک فوج کے تین جوان زخمی بھی ہوئے ۔ بھارت کا جنگی جنون کسی صورت تھمنے نہیں آرہا ۔ ترجمان پاک فوج نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر بھارت نے کوئی بھی ایسی مذموم جراَت کی تو اس کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا چونکہ مودی حکومت نے اینٹی ٹینک میزائل نصب کردئیے ہیں جس سے اس کے جارحانہ عزائم کا مکمل طورپر ثبوت ملتا ہے ۔ آئے دن کی بھارتی فائرنگ، شہری آبادی کو نشانہ بنانا معمول بن چکا ہے لیکن جیسے ہی ہمارے وطن عزیز کی پاک فوج اسے منہ توڑ جواب دیتی ہے تو دشمن دم دبا کر بھاری نقصان اٹھاتے ہوئے راہ فرار اختیار کرتا ہے ۔ کل تک مقبوضہ کشمیر میں مودی نے جوحالات پیدا کیے تھے آج پورے بھارت میں ان حالات کا سامنا ہے ، متنازع شہریت بل کے آنے کے بعد حالات قابو سے باہر نکل چکے ہیں ۔ سینکڑوں لوگ گرفتار کرلئے گئے ہیں ، بھارتی سپریم کورٹ بھی مودی ہی کی حمایت کررہی ہے ۔ پٹنہ میں ٹرین سروس اور دہلی میں میٹرو بس سروسز معطل ہوچکی ہیں ۔ بھارتی عوام مودی کیخلاف پھٹ پڑی ہے ۔ پورا بھارت ہنگاموں کی لپیٹ میں آتا جارہا ہے

متعدد ریاستوں نے نہ صرف لوگوں کی رجسٹریشن کرنا بند کردی ہے بلکہ متنازع شہریت بل کو تسلیم کرنے اور اس کے نفاذ سے بھی انکار کردیا ہے ۔ ایسے میں مسلم امہ کو ان کفار کا مقابلہ کرنے کیلئے متحد ہونے کی ضرورت ہے ۔ جب تک اندرون ملک ہم متحد نہیں ہوں گے تو اس وقت تک دشمن اسی طرح حملہ آور ہوتا رہے گا ۔ کوالالمپور کانفرنس میں ملائیشیاء، ترکی نے او آئی سی پر زور دیا ہے کہ مسلمانوں کے تحفظ کیلئے باقاعدہ حکمت عملی طے کرے اس پر عمل کرے،او آئی سی کو باقاعدہ متحرک کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ چونکہ اقوام متحدہ میں زیادہ تر طاقتور وہ ملک شامل ہیں جو امریکہ نواز یا اس کے حامی ہیں ۔ 70سالوں سے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں ہے لیکن آج تک حل نہیں ہوسکا ۔ او آئی سی اگر صحیح طرح کام کرے ، مسلمانوں میں اتحاد و یگانگت پیدا کرے تو ہ میں کفار کے اداروں کی جانب دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ آج امت مسلمہ کیوں حصوں میں تقسیم ہے، ان وجوہات کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔ بے ایمانی، ملاوٹ کرنا، جھوٹ بولنا،غیبت گوئی کرنا ، دوسرے کا حق چھیننا غرض کہ ہر طرح کی حق تلفی کرنے کا دور دورہ ہے، ہ میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کے بتائے ہوئے احکامات اور ان کی آفاقی تعلیمات کو اپنانا ہوگا ۔ مسلمان دربدر بھٹک رہا ہے اللہ تعالیٰ نے اسے ہر نعمت عطا کی ہے اس کے باوجود اگر ناشکری کی جائے تو پھر یہی حال ہوتا ہے جو آج مسلمانوں کاہورہا ہے ۔ فلسطین ہو یا کشمیر، بوسنیا، عراق ہو یا کوویت، شام ہو یا یمن ،افغانستان ہو یا روہنگیا کے مسلمان ہر طرف مسلم

امہ ہی کو مولی گاجر کی طرح کاٹا جارہا ہے ۔ آج اگر پوری امت اتحاد کرے، اپنی صفوں میں سے برائیاں ختم کرے، متحد ہوکر آگے بڑھے تو کیونکر دشمن ہم پر حاوی آسکتا ہے ۔ ہر مسلم ملک آزاد ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے نعمتوں سے مالا مال کررکھا ہے لیکن پھر بھی مسلمان کسمپرسی کی زندگی بسر کررہے ہیں ۔ یہود و ہنود پر اکتفا کرتے ہیں بس یہی بنیادی تباہی کی وجہ ہے ۔ جب آئین وقانون سب کیلئے مساوات کی بنیاد پر ہوگا تو کبھی بھی گھمبیر مسائل پیدا نہیں ہوسکیں گے ۔ ایک بات یہاں اور اہم ہے کہ چونکہ اس وقت ملک کے اندر سیاسی انارکی پھیل رہی ہے اس کو کنٹرول کرنے کیلئے انتہائی سوجھ بوجھ سے کام لینا ہوگا ۔ حکومت بھی دیکھ بھال کر قدم اٹھائے، اپوزیشن بھی تنقید برائے تنقید نہیں ، تنقید برائے تعمیر کا سہارا لے ، ہر شخص وہ کام کرے جو اس کی ذمہ داری ہے ۔ جب بھی آپ دوسرے کی حدود میں جاکر مداخلت کریں گے تو لامحالہ اس سے حالات خراب ہی ہوں گے ۔

سردیاں اور سوئی گیس کا بحران

جب بھی موسم سرما آتا ہے تو ملک بھر میں سوئی گیس کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے اس وقت حالت یہ ہے کہ گھریلو استعمال کیلئے بھی سوئی گیس موجود نہیں ،چولہے قطعی طور پر ٹھنڈے پڑے ہوئے ہیں ، صبح سویرے بچے بغیر ناشتے کے سکول جارہے ہیں ۔ ایسے میں حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے ۔ جنرل انڈسٹری اور سی این جی سیکٹر کوگیس کی فراہمی جو عارضی طورپر بند کی گئی ہے یہ کوئی مستقل حل نہیں اللہ تعالیٰ نے اس نعمت سے جو نوازا ہے اس کا صحیح استعمال کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ سوئی کے علاوہ بھی متعدد مقامات سے گیس دریافت ہوئی ہے ۔ لیکن عوام اس سہولت سے سردیوں کے آتے ہی محروم ہو جاتے ہیں ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس جانب توجہ دے کر مسئلے کا مستقل حل نکالے ۔ اِدھرسوئی ناردرن گیس نے پنجاب میں عارضی طور پر جنرل انڈسٹری اور سی این جی سیکٹر کو گیس فراہمی بند کرنے کا اعلان کر دیا ۔ ترجمان سوئی ناردرن گیس کے مطابق سردی کی شدت میں اضافے کے باعث گھریلو صارفین کے گیس کے استعمال میں بے پناہ اضافہ ہوا ،گھریلو صارفین کی گیس طلب پوری کرنے کیلئے گیس فراہمی بند کی جارہی ہے ۔ ترجمان سوئی ناردرن گیس کا کہنا ہے کہ زیرو ریٹڈ انڈسٹری کو گیس سپلائی معمول کے مطابق جاری رہے گی، فیصلہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر عارضی بنیادوں پر کیا گیا ہے، صورتحال معمول پر آتے ہی جنرل انڈسٹری اور سی این جی سیکٹر کو گیس سپلائی بحال کردی جائے گی ۔ ایک طرف عوام کو سہولت پہنچانے کیلئے جنرل سیکٹر اور سی این جی سیکٹر کی گیس عارضی طورپر بند کی جارہی ہے تو دوسری جانب صنعت کو نقصان پہنچے گا معیشت تباہ ہوگی، کاروباری لوگوں کا بیڑہ غرق ہوگا ۔ لہذا یہ مسئلے کا حل نہیں کہ ایک طرف مسئلہ حل کیا جائے تو دوسری جانب اس کے بدلے 100 مسئلے کھڑے ہو جائیں ۔ حکومت جو بھی منصوبے بنائے اس میں مستقل مزاجی ہونی چاہیے اور دیکھا جائے کہ ان کے دوررس نتاءج کیا نکلیں گے ۔ عارضی طورپر کیے جانے والے فیصلوں کے ثمرات کبھی بھی عوام تک نہیں پہنچ پاتے ۔