- الإعلانات -

کیافرق پڑتا ہے؟

asifقیام پاکستان کے حوالے سے لکھے گئے کالم کے جواب میں بعض دوستوں نے سوال اٹھایا : کیا فرق پڑتا ہے؟۔۔۔۔۔۔یہ سطور اس سوال کے جواب میں ہیں۔
چند گذارشات مختصرا عرض کرتا ہوں۔
سب سے پہلی بات تو یہ کہ یہ ایک اکیڈیمک بحث تھی اور جن احباب کا علم کی دنیا سے واسطہ رہا ہو یا تاریخ کے وہ سنجیدہ طالب علم ہوں تو انہیں خوب علم ہے کہ فرق پڑتا ہے۔البتہ جن احباب کو سنجیدہ موضوعات یا تاریخ سے سنجیدہ شغف نہیں ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔بلکہ ان احباب کو تو بہت کچھ سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
میں نے اس کالم کے آخری پیرا گراف میں عرض کی تھی کہ جشن آپ جس روز چاہے منائیے یہ ہمارا حق ہے لیکن واقعاتی اعتبار سے تاریخ کے ساتھ ظلم نہیں ہونا چاہیے۔میں نے اس پیرا گراف میں لکھا:’’ہم یہ تو کر سکتے ہیں کہ جشن جس روز چاہے منائیں کیونکہ یہ ہمارا اپنا فیصلہ ہے کہ ہم نے یہ آزادی کی خوشی کس دن منانی ہے مگر ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ پاکستان بنا ہی 14کو تھا۔ہم تاریخ نہیں بدل سکتے۔یہ جرم ہے۔اب تو میں یہ بھی سوچ رہا ہوں کہ ابھی کل کی تاریخ بدل دی گئی ہے اور ڈھٹائی سے جھوٹ بولا جا رہا ہے۔تو باقی کی تاریخ جو ہمیں پڑھائی جا رہی ہے کس حد تک درست ہے۔مثال کے طور پر حضرت اورنگ زیب عالمگیر جنہوں نے نہ کوئی نماز چھوڑی نہ کوئی بھائی چھوڑا کیا واقعی اتنے نیک اور متقی تھے کہ ٹوپیاں سی کر گزارا کرتے تھے؟
اسی طرح میں نے لکھا کہ :’’یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ریڈیو سے پاکستان کے قیام کا اعلان 14اور15اگست کی درمیانی رات کو اس وقت کیا گیا جب کیلنڈر پر پندرہ شروع ہو چکا تھا۔1997میں جب آزادی کے پچاس سال کا جشن منایا گیاتو ایک جعلی ٹیپ تیار کی گئی جس میں ایک جعلی اعلان سنایا گیا اور ظاہر کیا گیا کہ یہ اعلان 13اور14اگست 1947کی درمیانی رات کا ہے۔یقین نہ آئے تو ریڈیو پاکستان کا ریکارڈ جا کر دیکھ لیجئے۔حقیقت واضح ہو جائے گی۔‘‘
اب اگر اس جعلسازی سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا تو اس کے لیے بہتر مشورہ یہی ہو سکتا ہے کہ وہ پہلی فرصت میں کسی اچھے معالج سے رجوع کرے۔تاریخ آپ نہیں بدل سکتے۔قوم کو سب کچھ درست طور پر معلوم ہونا چاہیے۔قوم کو دولے شاہ کا چوہا مت بنائیے، اسے فکری طور پر بالغ ہونے دیجیے۔سارے حقائق قوم کے سامنے ہونے چاہییں۔مجھے حیرت ہوتی ہے کس ڈھٹائی سے کہا جاتا ہے پاکستان چودہ اگست ستائیس رمضان کو جمعہ الوداع کے دن بنا۔خدا کے بندو اس روز کے اخبارات تو اٹھا کر دیکھو ۔چودہ اگست کے اخبارات پر لکھا ہے،26 رمضان، جمعرات۔۔۔۔میں نے لکھا تھا؛کہا جاتا ہے کہ پاکستان 14اگست 1947کو27رمضان کوجمعہ الوداع کے دن قائم ہوا۔اس وقت 1947کا نوائے وقت،ڈان،پاکستان ٹائمز سمیت درجنوں اخبارات میرے سامنے رکھے ہیں اور ان کی پیشانی پر چھپی تاریخ کے مطابق 14اگست کو 26رمضان المبارک تھااور جمعرات کا دن تھا۔27رمضان اور جمعہ الوداع 15اگست کے دن تھا۔گویا پاکستان 14کو نہیں 15اگست کو قائم ہوا۔
۔کیا تاریخ کے اس ابطال سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا۔پانچ منٹ گاڑی لیٹ ہو جائے یا دس منٹ لوڈ شیڈنگ زیادہ ہو جائے تو احباب پھدک پھدک کر احتجاج کرتے ہیں لیکن ایک پورے دن کو آگے پیچھے کرنے سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔مکرر عرض ہے کہ یہ کالم تاریخ کے سنجیدہ طالب علموں کے لیے لکھا گیا تھا ان نون غنوں کے لیے نہیں جو دس منٹ سنجیدہ گفتگو سن لیں تو بد ہضمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔