- الإعلانات -

جنرل حمید گل

Hamid-Gul

asifہفتے کی شام آٹھ سے نو تک اپنا تاک شو کیا اور گھر آ گیا۔ بچوں سے وعدہ تھا انہیں صبح سیر پر لے جانا ہے۔صبح آنکھ کھلی

تو خبر ملی: حمید گل اس دنیا میں نہیں رہے،اور دل لہو سے بھر گیا۔چند رسمی ملاقاتیں نہیں دو عشروں پر محیط تعلق تھا، یادوں نے ہجوم کیا اور پلکیں نم ہو گئیں۔اب ایک کمرے میں بند بیٹھا ہوں، علی اور عائشہ مجھے کھینچ رہے ہیں کہ سیر پر لے چلو، میں انہیں کیا بتاؤں ؟صرف اتنا کہ پاتا ہوں : بیٹا آج نہیں کل چلیں گے۔عائشہ تین سال کی ہے، علی سے ڈیڑھ سال بڑی، میری طرف دیکھتی ہے اور علی کا بازو پکڑ کر کہتی ہے:’’ بابا کی آنکھیں خراب ہو رہی ہیں کل چلیں گے‘‘
جنرل صاحب سے میری طویل رفاقت رہی۔اکیس سال ہوتے ہیں جب بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں انگریزی میں ماسٹرز کرنے میں گاؤں سے اسلام آباد آیا اور یہیں کا ہو رہا۔تب اس شہر میں ، میں ایک ہی آدمی کو جانتا تھا ، جنرل حمید گل۔سکیم تھری میں اپنی رہائش گاہ کے بالکل عقب میں ان کا دفتر تھا ،زیادہ وقت بھی ان ہی کے پاس گزرتا۔اٹھتی جوانیوں کے دن تھے اور کچھ جہاد افغانستان کا رومانس بھی تھا ، جنرل حمید گل سے قربت بڑھتی گئی۔جنرل صاحب میرے استاد بھی تھے اور انسائیکلو پیڈیا بھی۔اس وقت انٹرنیٹ اتنا عام نہ تھا ، یوں سمجھیے کہ میرے لیے جنرل صاحب ہی گوگل بھی تھے۔جب کبھی کوئی مسئلہ درپیش ہوا ، فون ملایا :جنرل صاحب یہ سمجھا دیں ، جنرل صاحب وہ سمجھا دیں۔دن رات کی تمیز نہ تھی ، ایس بھی ہوا کہ رات گئے فون کر ڈالا، اسی شائستگی سے رہنمائی ملی۔میں ایک پرلے درجے کا مردم بیزار شخص ہوں لیکن جنرل صاحب میں ایک سحر تھا جو اپنی جانب کھینچتا تھا۔ایسا بھی ہوا کہ کلاسیں بنک کیں اور افتخار سے کہا : چلو یار گل صاحب کی طرف چلتے ہیں۔بنا بتائے جا دھمکے، جنرل صاحب ایسے گلے لگاتے گویا ہمارے ہی منتظر ہوں۔اتنے شائستہ اور با اخلاق تھے کہ ان سے ملنے والا ہر شخص یہ سمجھتا کہ وہ ان سے سب سے زیادہ قریب ہے۔ہاسٹل لائف کے دوست ملتے ہیں تو آج بھی ہنستے ہیں کہ تمہارا کمرہ سب سے زیادہ بے ترتیب اور گندا ہوتا تھا۔ان کا کہنا ہے یہ کمرہ ایک ہی دن صاف پایا گیا جس روز جنرل حمید گل میرے ہاں ہاسٹل تشریف لائے۔مجھے یاد ہے جنرل صاحب کے آنے سے ایک روز پہلے میں اور افتخار سید بازار سے بہترین فروٹ لائے اور لا کر ہاسٹل کی الماری میں رکھ دیا۔جنرل صاحب کی تشریف آوری پر الماری کھولی تو آدھا خراب ہو چکا تھا۔کئی ماہ بعد میں جنرل صاحب نے ملنے گیا وہاں کچھ مہمان آئے ہوئے تھے۔جنرل حمید گل تعارف کراتے ہوئے کہنے لگے: یہ آصف ہیں ، دیگر خوبیوں کے ساتھ ساتھ یہ ” fruit preservation” کے بہت بڑے ایکسپرٹ ہیں۔
وقت دھیرے دھیرے گزرتا رہا۔جنرل حمید گل صاحب کے خیالات سے اب مجھے گاہے اختلاف ہونا شروع ہو گیا۔جو حریت فکر انہوں نے مجھے سکھائی تھی میں نے ان کے خیالات کو اسی فکر کی روشنی میں دیکھنا اور پرکھنا شروع کر دیا۔بہت سے سوالات اٹھنا شروع ہو گئے۔میں نے ان سوالات کو کالموں میں بھی اٹھانا شروع کر دیا۔اسلوب وہی تھا جو میں نے جنرل صاحب سے سیکھا تھا۔میرے عزیز ترین دوست افتخار سید کو بہت برا لگا۔اس نے اول اول میری سرزنش کی، پھر ایک روز جنرل صاحب سے پوچھ لیا: یہ آصف کو آج کل کیا ہو گیا ہے؟۔۔۔۔افتخار کا کہنا ہے: ’’ جنرل صاحب نے کہا:’’ اولاد جوان ہو جائے تو باپ کے برابر آن کھڑی ہوتی ہے۔آصف جوان ہو گیا ہے‘‘۔۔۔میں نے یہ سنا تو میرے اندر سے کچھ ٹوٹ سا گیا۔جس شخص سے ایک ایک دن میں ، میں بیس بیس مرتبہ چیزیں سمجھتا تھا ،اس سے اختلاف کرنا سہل کام نہ تھا لیکن میرے ذہن میں سوالات تھے اور انہیں روکے رکھنا میرے بس کی بات نہ تھی۔ مجھے وہ دن یاد آ گیا جب جناب سعود ساحر نے آئی پی ایس میں جنرل سے خاصے تلخ لہجے میں کچھ سوالات کیے، مجھے بہت برا لگا،تقریب ختم ہوئی تو میں نے پوچھ لیا: ’’ جنرل صاحب کیا وجہ ہے ایک وقت تک لوگ آپ کے ساتھ رہتے ہیں پھر فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے‘‘۔جنرل صاحب مسکرائے اور کہا : ’’ تم ایسا نہ کرنا‘‘۔۔۔میں نے ایسا نہیں کیا، لیکن ایسا ہو گیا، حالانکہ میں نے کبھی ایسا چاہا نہیں تھا لیکن ہو گیا۔
لیکن یہ خیالات کا اختلاف تھا جو زندہ انسانوں میں ہوتا ہے۔ایک شاگرد کو اپنے عالی قدر استاد کے بعض خیالات سے اختلاف ہو سکتا ہے،میں ایک معمولی سا طالب علم اور جنرل صاحب ایک تاریخی کردار، کوئی نسبت ہی نہ تھی،لیکن مجھے اختلاف ہوا اور میں نے اظہار کیا۔ایسا بھی ہوتا کہ احترام کے بوجھ تلے قلم دب کر چٹخ چٹخ جاتا لیکن میں نے سوالات اٹھائے۔احترام میں مگر کبھی کمی نہ آنے دی۔میں ایک شاگرد ہی رہا اور انہیں اپنا محسن اور استاد ہی سمجھا۔میں آج بھی یہی سمجھتا ہوں کہ حمید گل صاحب کی فکر کے بعض حصوں سے اختلاف ضرور کیا جا سکتا ہے لیکن ان کی دیانت اور حب الوطنی اپنی مثال آپ تھی۔میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔انہوں نے مجھے بے پناہ پیار دیا۔ان محبتوں کی گواہ جنرل صاحب کی فیملی ہے یا میجر محبوب صاحب۔لیکن جو پیار ان سے میں نے کیا، اس کا گواہ صرف میں ہوں یا میرا رب۔
جنرل صاحب ایک انتہائی شائستہ، اور وضع دار انسان تھے۔وہ ہمارے تہذیبی ورثے کی ایک نشانی تھے۔وہ ایک مکمل مکتب فکر تھے۔وہ اپنے قبیلے کا فخر تھے۔وہ ایک دلیر ، نفیس اور اجلے آدمی تھے۔وہ ان عالی مرتبت لوگوں میں سے تھے جنہیں سیدنا مسیح ابن مریم کے الفاظ میں ’ زمین کا نمک‘ کہا جا سکتا ہے۔ایک عہد تھا جو آج تمام ہوا۔خدا ان پر رحمت فرمائے۔