- الإعلانات -

این ایچ اے ۔۔سوالات ہی سوالات

میڈیا میں جو کچھ شائع ہو چکا ہے اور پبلک اکاﺅنٹ کمیٹی کی میٹنگ میں جو چیزیں سامنے آئی ہیں ان کے بعد چند سوالات پیدا ہوتے ہیں۔یہی سوال رات ٹاک شو میں مہمانان گرامی کے سامنے بھی رکھے جس پر سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے مواصلات کے چیر مین جناب داﺅد اچکزئی نے دعوت دی کہ یہ سوالات لے کر آپ ہمارے اجلاس میں آئیں ، مکمل تحقیقات ہوں گی۔یہی سوالات میں ان سطور میں قارئین کے سامنے بھی رکھنا چاہوں گا۔
سوال نمبر 1کیا چیئر مین این ایچ اے خود کو قوانین سے بالاتر سمجھتے ہیں؟
سوال نمبر 2۔چودہ پراجیکٹس میں منظوری لیے بغیر لاگت میں چالیس فیصد تک اضافہ کر لیا گیا، کیوں؟کیا آپ قانون سے بالاتر ہیں؟
اس سے ملکی خزانے کوسو ا تیرہ ارب کا نقصان ہوا۔۔کیا چیئر مین این ایچ سے کوئی پوچھے گا؟کیا یہ نیب کا کیس نہیں ہے؟معاملہ نیب کو بھجوانے کی بھجوانے کی مخالفت کیوں کی جا رہی ہے؟
سوال نمبر3 ۔این ایچ اے کے ذمے 512 ارب کے حکومتی قرضے ہیں،جن پر 212 ارب روپے سود ہے، این ایچ اے کے اثاثوں کا معاملہ بہت گھمبیر ہے یہ بہت بڑا ایشو بن جائیگا۔۔۔آڈٹ حکام کی بات پر کیوں توجہ نہیں دی جا رہی؟
سوال نمبر4. ۔آڈٹ حکام کو قوانین کا علم ہی نہیں ، چیر مین این ایچ اے کی منطق۔۔۔چیر مین این ایچ اے غلطی تسلیم کرنے کی بجائے آڈٹ حکام کو قوانین سے لاعلمی کے طعنے دینے لگ گئے، یہ رویہ کب تک چلے گا؟
سوال نمبر5 ۔این ایچ اے کے معاملات پر اسرار۔۔۔چیر مین شاہد اشرف تارڑ اور جی ایم مختار درانی پرمل کر ساڑھے آٹھ بلین کے ٹینڈر منظور نظر لوگوں میں بانٹ دینے کا خوفناک الزام۔سچ کیا ہے؟
سوال نمبر6۔ کیا یہ تاثر درست ہے کہ چیر مین این ایچ اے کی وجہ سے سی پیک منصوبہ بھی کرپشن کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔کیا حکومت ایک قومی منصوبہ ایک منظور نظر فرد پر قربان کر دے گی؟
سوال نمبر7۔ژوب سے مغلا کوٹ اور قلعہ سیف اللہ سے لورا لائی سڑک کی تعمیر سی پیک کا حصہ ہے۔کیا یہ درست نہیں کہ اس میں سب سے کم لاگت کی بڈ مقبول ایسوسی ایٹس اور زرغون نے دی تھی ؟کیا خود این ایچ اے نے یہ بات شروع میں تسلیم بھی نہیں کی کہ سب سے مناسب بڈ انہوں نے دی ہے؟
سوال نمبر8 ۔لیکن حیران کن طور پر این ایچ اے نے ٹھیکہ مقبول ایسوسی ایٹس کی بجائے لمک کنسٹرکشن انڈسٹری ، ٹریڈ آف چائنا اور ذاکر خان اینڈ برادرز کو دے دیا۔کیا چیر مین این ایچ اے بتائیں گے انہوں نے ایسا کیوں کیا؟کیا یہ پیپرا قوانین کی خلاف ورزی نہیں؟کیا اس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان نہیں پہنچا؟کیا چیئر مین این ایچ اے کے خلاف نیب کو ریفرنس نہیں فائل کرنا چاہیے؟
سوال نمبر9۔ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے کرپشن کا نوٹس لیا تو این ایچ اے نے وہاں جعلی دستاویزات پیش کر دیں۔پکڑے جانے پر معذرت کر لی گئی۔پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی میں جعلی دستاویزات پیش کرنے پر چیئر مین این ایچ اے کے خلاف کاروائی نہیں ہونی چاہیے ؟کیا چیر مین این ایچ اے منتخب نمائندوں کے سامنے خود کو جوابدہ نہیں سمجھتے؟
سوال نمبر 10۔ کیا یہ درست ہے کہ چیئر مین این ایچ اے شاہد اشرف تارڑ نے جعلی ڈگری کی وجہ سے این ایچ اے سے نکالے گئے گریڈ سترہ کے ملازم عمر شاہ کو نہ صرف دوبارہ ملازمت دے دی بلکہ جی ایم فنانس اینڈ بجٹ کا عہدہ بھی دے دیا۔حالانکہ اس کی برطرفی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی جانب سے نوٹس لینے کے بعد ہوئی تھی اور خود پی اے سی نے ایچ ای سی سے اس حوالے سے تصدیق بھی کرائی تھی۔چیر مین آخر پی اے سی کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟