- الإعلانات -

حکمران حقیقی جمہوری ثمرات پر ناگ بن کربیٹھ گئے ہیں

رواں ماہ مارچ 2016ءکی 3تاریخ کو سابق ناظمِ کراچی مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی کی ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے بعد نہ صرف کراچی بلکہ مُلکی سیاست میں جو سیاسی بھونچال آگیاہے اِس میں شک نہیں کہ اِس کی طاقت میں دن بدن اضافہ ہوتاہی جارہاہے اور اَب ایسا محسوس ہونے لگاہے کہ اگر کراچی میں جاری یہ سیاسی بھونچال یوں ہی زورپکڑتاگیااور اِس میں اِدھر اُدھر کے ناراض اور خوش عہدیداران اور کارکنان اور دوسری سیاسی اور مذہبی جماعتوںاور سماجی تنظیموں سے وابستہ افراد زوراور شور سے شامل ہوتے رہے تو وہ دن کوئی دورنہیں کہ جب اِس جمہوری حکومت میں بغیر کچھ کئے دھرے کراچی کی بڑی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے بدطن سے ایک اورایسی جماعت جنم لے لے گی جو بہت جلد متحدہ کے ہی ہم پلہ تصور کی جانے لگے گی۔
اگرچہ اِن دِنوں حکمرانِ الوقت جمہوریت کی مالاجھپتے ضرور دکھائی دیتے ہیں مگر اِس سے بھی اِنکار نہیں ہے کہ جب بھی ن لیگ کی حکومت آئی ہے اِس حکومت نے کراچی کے شہریوں کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے اثر کو سپوتاژ کرنے کے لئے ہمیشہ ایسا کچھ کیاہے کہ اِس جماعت کو کسی نہ کسی طرح سے ضرور کچھ نہ کچھ نقصان پہنچاہے۔
آج کراچی کامینڈیٹ رکھنے اور خودکوشہرقائد کی اصل جانشین کہلائی جانے والی سیاسی جماعت متحدہ کے قائد اور اکابرین و کارکنان کو ضرور اپنے اندرہی سے ایک ایسا دائمی صاف وشفاف احتسابی عمل شروع کرناہوگاجو ہمیشہ جاری رہے اور اِس پوائنٹ پر بھی ضرور غورکرناہوگاکہ وہ اپنے اندر یہ بھی محسوس کریں اور غورکریں کہ”اِن کا ایساکونسا عمل رہاہے جس سے ماضی میں بھی ن لیگ کی حکومتیں اِن کے خلاف ہوئیں اور اِنہیں دیوار سے لگانے کے ایسے اقدامات کئے گئے کہ جس کا خمیازہ پارٹی کو بھگتناپڑاہے؟اور آج ایک بار پھر خام اور قوی طور پر یہی خیال کیاجارہاہے کہ ن لیگ کی ہی حکومت میںپرانے اسکرپٹ کے ساتھ متحدہ کے خلاف ایک ایسا قدم اُٹھایا گیاہے کہ متحدہ کے مقابلے میں ایک نئی جماعت تشکیل دینے کی بازگشت سُنائی دے رہی ہے،آج یہ سب کچھ متحدہ عہدیداران اور کارکنان کے لئے جہاں ایک لمحہ فکریہ ہوناچاہئے تو وہیں شہرکراچی کے عوام کے لئے بھی بہت بڑاامتحان ہے کہ اَب وہ خود یہ فیصلہ کریں گے اِنہیں کس کا ساتھ دیناہے ؟ کیونکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں بھی ایم کیو ایم کے مقابلے کے لئے ایک گروپ تشکیل دیاگیاتھاآج جو کئی دہائیاں گزارنے کے باوجود بھی عوام میں ایسی پزیرائی حاصل نہیں کرسکاہے جیساکہ اِس کے نمودار ہوتے وقت کچھ طاقتوں نے اِسے نہ صرف اُمیددلائی تھی بلکہ وہ خود بھی اُمید سے تھیں؟ آج بھی اگر شہرِ کراچی میںایم کیو ایم کے برابرجتنے بھی گروپ تشکیل پاجائیں مگر یہ اُس وقت تک کراچی کے شہریوں میں اپنی جگہہ اور مقام نہیں بناپائیں گے جب تک وہ عوام کو متحدہ کی طرح روحانی اور جسمانی اعتبار پر اپناگرویدہ نہ بنالیں سو اَب ایسے میں ماضی اور حال اور مستقبل میں متحدہ اور ایم کیو ایم کا مقابلہ کرنے اور اِس کا ووٹ بینک توڑنے اور اپنااپنامینڈیٹ بڑھانے کی نیت سے تشکیل پانے والے جتنے بھی گروپس ہوں تواُنہیں اُس پالیسی اور اِس حکمتِ عملی پر ضرور عمل کرناہوگاآج جس پرقائم رہ کر متحدہ نے شہر کراچی کے باسیوں پر اپناجادوئی اثرقائم رکھاہواہے۔
بہرحال ،اِن دِنوں حکمرانوں سیاستدانوں اوراِن کے اِرد گردگدھ کی طرح منڈلاتے مفادپرست چیلوں کی زبانوں پر جمہوریت کا ورد کثرت سے جاری ہے، اَب ایسے میں بیچاری قوم کا کیا ہے؟ یہ تو کل مُنہی بے سوچے سمجھے ایسے ہی عناصرکے پیچھے بھاگے چلے جارہی ہے جنہوں نے ہمیشہ اِسے اپنے مفادات کے لئے استعمال کیاہے،اورجنہوں نے قوم کی ہڈی پسلیاںشکنجوں میں جکڑکر اِس کے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑلیا ہے،مگر پھربھی میر ی پاکستانی قوم ہے کہ یہ جمہوری لولی پاپ چاٹنے میں ہی لگی پڑی ہے اَب معلوم نہیں کب میری قوم اپنے لئے بے مقصدکی جمہوری لولی پاپ چاٹنے سے بیزار ہوگی؟اور کب یہ اپنے جمہوری ثمرات حکمرانوں ، سیاستدانوں اور اِن کے مفادپرست چیلوں سے چھینے گی ؟اور وہ جمہوری ثمرات اپنے ہاتھوں اور دامن میں بھرے گی آج حکمران جن حقیقی جمہوری ثمرات پر ناگ بن کر بیٹھے ہوئے ہیں۔
اِس سے اِنکار نہیں کہ موجودہ حکومت نے تو جمہوریت کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھ لیا ہے،جس طرح سے چاہتی ہے جمہوریت کو استعمال کررہی ہے، جِسے چاہتی ہے جمہوری ثمرات سے نواز دیتی ہے اور جس کو جمہوریت اور جمہوری پھل سے محروم رکھنا چاہتی ہے توپھر کوئی اِس سے یہ حاصل بھی نہیں کرسکتاہے۔اگرچہ ،اِن دِنوںمُلک ن لیگ کے تیسرے دورِاقتدار کی زد میں ہے،آج جِسے ن لیگ والے خالصتاََ جمہوری دور سے تعبیرکرتے ہیں تاہم اِس جمہوری دور میں ابھی بہت سی ایسی خامیاں موجود ہیں جس پر بحث کی جائے تو ن لیگ اپنے دور کے باقی اڑھائی سال اِس کی وضاحتوں میں ہی گزار دے گی اوراپنے آپ کو مظلوم ظاہر کرتی پھرے گی کہ اِسے جمہور دُشمنوں نے بیجا تنقیدوں کا نشانہ بنایااور اِسے حقیقی جمہوری ثمرات قوم تک منتقل کرنے سے روکا اگر ایسا نہیں کیا جاتااور ن لیگ کے جاری جمہوری عمل کے خلاف سازش نہ کی جاتی تو ہماری ن لیگ کی حکومت شہرکراچی میں متحدہ کو دیوار سے لگاکرسارے کا سارا جمہوری ثمرقوم کو ہنسی خوشی منتقل کرکے سُرخرو ہوجاتی اِس طرح مُلک میں حقیقی جمہوریت پروان چڑھتی اور مُلک ترقی کرتاچلاجاتااور قوم کی تقدیر بدل جاتی مگر افسوس ہے کہ ہمیں نہ تو جمہوریت کی خدمت کرنے کا موقعہ ہی فراہم کیاگیااور نہ ہی ٹھیک طرح سے شہرقائد کو متحدہ اور ایم کیو ایم والوں سے پاک کرنے دیاگیا “ یہ سب جانتے ہیں کہ موجودہ حکومت نے اپنے مفادات کے خاطر جمہوریت اور ایم کیو ایم والوں کے کتنے اور کس طرح سے پَر کاٹے ہیں ؟ کہ آج تو جمہوریت کی چڑیااپنے ثمرات قوم کی دہلیز تک اُڑکرپہنچانے کے قابل بھی نہیں رہ گئی ہے۔
اِن حالات میں ایسالگتاہے کہ جیسے ن لیگ کی موجودہ حکومت کے دورمیں جمہوریت کا کام بس اپنے مخالفین کی وفاداریاں تبدیل کرنے اور کرانے تک ہی محدود ہوکررہ گیاہے،موجودہ صورتِ حال میں جاری اِس عملِ خاص کو ہی حکمران بافخر جمہوریت کا نام دے رہے ہیں، آج جس طرح کراچی سمیت مُلک کی دوسری سیاسی جماعتوں میں لوگوں کے آنے جانے اور ایک جماعت کو خیرباد کہہ کر برسوں پرانی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرکے ایک نئی جماعت کی بنیاد رکھنے اور دوسری سیاسی جماعت کو گلے لگانے اور جپھیاں ڈالنے کا دورزورشعور سے سلسلہ جاری ہے ، یہ عمل سیاست کے کھیل کا حصہ ہوتاہے اورایساتوایک وقت گزار نے بعد کبھی نہ کبھی توہوناہی ہوتاہے،جیساکہ بالخصوص کراچی میں ہورہاہے،یہ سیاستدانوں کی سیاسی جمہوریت کا ہی ثمراور اثرہے کہ شہرِ کراچی میں متحدہ جیسی ایک منظم اور متحد سیاسی جماعت کے لوگ متواتر نکل کر دوسری نومولود سیاسی جماعت کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں اوراُس میں شمولیت اختیارکررہے ہیں جس کا ابھی نہ تواپناکوئی نام ہے نہ اپنا کوئی منشور اور اپناجھنڈاتک بھی نہیں ہے۔اَب ایسے میں یقینا متحدہ جیسی جماعت کے اکابرین اور قائدین کواتناضرورسوچنااور سمجھناچاہئے کہ کیا واقعی اِن کے یہاں ایسا کوئی ناپسندیدہ عمل جاری تھا؟یا ابھی ایساکچھ ہورہاہے؟ جس کی بنیاد پر اِس کے پرانے ساتھی اِنہیں چھوڑکرجارہے ہیں اور اپنی ایک نئی جماعت بنانے کی بنیاد ڈالنے کا مصمم ارادہ کرچکے ہیں۔
اِس منظراور پس منظر کو اگر ابھی متحدہ کے قائداور رہنماو¿ں اور کارکنان نے نہ سمجھااوراِن سب نے اپنا کڑااحتساب نہ کیا تو پھر اِن کے ہاتھ لگے سارے پتے ایک ایک کرکے اِن کا ساتھ چھوڑجائیں گے اور پھر اِن کے ہاتھ سوائے پچھتاوے اور کفِ افسوس کہ کچھ نہیں آئے گا، پھر آنے والے چنددِنوں، ہفتوں ، مہینوں اور سالوں میں اِن کے مدِمقابل نہ صرف شہرِ کراچی بلکہ سارے پاکستان سمیت پوری دنیا میں ایک ایسا طاقتورترین سیاسی گروپ شکیل پاچکاہوگاجس کے سامنے شہرِکراچی کی پرانی سیاسی جماعت متحدہ کی ایک نہیں چلے گی۔
قبل اِس کے کہ عنقریب کوئی ایسالمحہ آجائے کہ آج شہرکراچی کی خود کو سب سے بڑی جمہوری اور سیاسی جماعت ہونے کی دعویدار پارٹی متحدہ کے قائداور اِِن کے اِدھر اُدھر کے کرتادھرتاوں کو اپنے باقی ساتھیوں کو نئی اور نومولود تشکیل پانے والی سیاسی جماعت میں جانے سے روکنے کے لئے بہت ضروری ہے کہ یہ اپنی اپنی اِنا اور ضد اور اپنااپنااکڑپن چھوڑیں اور نہ صرف اپنے اندر عہدیداروں اور کارکنان کی تنقید برداشت کرنے کی عادت ڈالیں بلکہ اپنے اُن معصوم ووٹرز کی بھی خود پر ہونے والی تنقیدوں کو برداشت کریں جو اِنہیں مینڈیٹ دیتے ہیں اور جن کی اَب تک اِن پر تنقیدی زبانیں کسی خوف اور ڈراور دبدبے کی وجہ سے بند تھیں مگر جو اَب 35/30سال بعد برداشت کی ایک حدکو گزرنے کے بعد کھلنے لگی ہیںاِسے بھی متحدہ (ایم کیو ایم ) والوں کو سمجھناہوگااور اپنے ووٹرز کے قریب برق رفتاری سے جاناہوگااور اِنہیں اپنے سینے سے لگانا ہوگایہاں راقم الحرف ایک مرتبہ بھی یہ کہناچاہے گاکہ اگر ابھی متحدہ کے قائداور اکابرین اپنی خودساختہ کسی اَنا اور ضد اور کسی خودغرضی کی بنا پراپنے کارکنان اور اپنے ووٹرز کی ناراضگی کو نہ سمجھ سکے اور یہی خیال کرتے رہے کہ ماضی میں ہم نے جو کیا ؟اور آج جوکچھ کررہے ہیں ؟ اور اِسی طرح مستقبل میں ہم جو کریں گے؟ابھی یہ سب کچھ پوشید ہیں ہیں اوراِسے ہمارے ووٹرزنہیں جانتے ہیں تو یہ اِن کی بڑی بھول ہوگی،آج ایسا ہرگزنہیں ہے،جیساکہ یہ سمجھ رہے ہیں کیونکہ اَب سب کچھ سب کے بارے میں سب جانتے ہیں،کسی کاکسی سے کچھ ڈھکاچھپانہیں ہے،مگر سب کچھ جان کر بھی یہ شہرِ کراچی کے باسیوں کامتحدہ کے ساتھ روحانی اور دلی لگاو¿اور رشتہ ہے کہ کراچی کے شہری متحدہ کے پلیٹ فارم سے ہی جڑے اور چپکے رہناچاہتے ہیں بھلے سے آنے والے دِنوں، ہفتوں،مہینوں اور سالوں میں ایم کیو ایم کے نام سے A TO Z جتنے بھی گروپس تشکیل پاجائیں۔