- الإعلانات -

راءکا ایجنٹ بمقابلہ اسٹیبلشمنٹ کا ایجنٹ

مصطفی کمال کی آمد بھی کمال کی تھی۔ ان کی آمد سے اور کچھ ہوا یا نہیں لیکن کچھ چہرے کھل کر سامنے آ گئے۔ وہ جن پر بھارت نوازی کے الزامات عائد ہوتے رہتے تھے، اب ان کی بھارت نوازی بے نقاب ہو گئی ہے اور وہ کھل کر پاکستانیوں کے سامنے آ گئے ہیں۔ان میں کچھ صحافی بھی ہیں، کچھ سیاستدان بھی اور کچھ چوٹی کے وکلاءبھی….بلکہ چوٹی کی وکلاءبھی۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ متحدہ قومی موومنٹ بھارتی خفیہ ایجنسی سے مالی ، تکنیکی ، تربیتی و حربی، ہر طرح کی مدد لیتی رہی اور الطاف حسین خود اپنے بیانات میں اس کا اعتراف کر چکے ہیں۔ وہ بندہ جس کا کہنا ہے کہ ”پاکستان کی تخلیق تاریخِ انسانی کا سب سے بڑا المیہ ہے“ اس سے امید ہی کیا کی جا سکتی ہے، اور الطاف حسین نے یہ بات بھارتی سرزمین پر کھڑے ہو کر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ببانگِ دہل کہی تھی، نہ کہ کسی ڈرائینگ روم کے بند دروازوں کے پیچھے۔اس لیے جو لوگ اب مصطفی کمال کی مخالفت میں کمرکس کر کھڑے ہو گئے ہیں ان پر ماضی میں عائد کیے جانے والے بھارت نوازی کے الزامات کی بھی اس سے تصدیق ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ لوگ ایسے بھی نظر سے گزرے ہیں جن کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ وہ محض کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا کرنے کے شوقین ہیں اسی لیے مصطفی کمال کے خلاف بول رہے ہیں۔
مصطفی کمال پر ایک الزام تواتر کے ساتھ لگایا جا رہا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ بن کر اس اکھاڑے میں اترے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ وہ کس کے خلاف میدان میں اترے ہیں؟ ایک ایسے شخص کے خلاف جو کھلے عام بھارتی خفیہ ایجنسی راءسے تعلقات رکھتا ہے؟ تو معاف کیجیے گا اگر مصطفی کمال اپنے ملک کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر ایسے ملک دشمن کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں تو اس میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ اور کسی کو بھی نہیں ہونا چاہیے، کہ کسی دوسرے ملک کی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر ملک توڑنے کی سازشوں کا حصہ بننے سے بدرجہا بہتر ہے کہ انسان اپنے ملک کی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر ملک بچانے کی سعی کر لے۔ یہ ایک انگریزی کہاوت کے مصداق سیب اور مالٹے کا موازنہ کرنے کے مترادف ہے۔ فرض کریں اگر مصطفی کمال اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر یہ سب کچھ کر رہے ہیں تو بھی ان کی جرا¿ت رندانہ کو سلام، کہ آپ میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ سکتے ہیں؟ کون نہیں جانتا کہ الطاف حسین کے خلاف اس طرح کی زبان استعمال کرکے کراچی میں مقیم رہنا ”خودکشی“ کے مترادف ہے۔ مگر مصطفی کمال یہ کر رہے ہیں۔ یہ طے ہونا تو ابھی باقی ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملے ہوئے ہیں یا نہیں، لیکن یہ طے ہو چکا ہے کہ ان میں سرفروشی کا جذبہ پیدا ہو چکا ہے، وہ بے خوف ہو چکے ہیں اور خود کوکسی بھی قربانی کے لیے تیار کر چکے ہیں، بصورتِ دیگر وہ کبھی بھی اور کسی کے کہنے پر بھی شیر کی کچھار کا رخ نہیں کرتے اور عین کچھار کے اندر ڈیرے نہیں ڈالتے۔
مصطفی کمال کے خلاف بولنے والے افراد ایم کیو ایم کو لگنے والے گھاﺅ بھرنے کی ناکام کوشش میں خودکو ہی بے نقاب کیے جا رہے ہیں۔ ان کی اس مخالفت سے مصطفی کمال کا کچھ نہیں بگڑ رہا، وہ خود اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں، کیونکہ وہ جس شخص کی وکالت کر رہے ہیں اس کے کرتوت روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں اور ملک کا بچہ بچہ ان سے واقف ہے۔ اس نے اپنے ذاتی مقاصد کے لیے آج 69سال گزر جانے کے باوجود پاکستان کے لیے قربانیاں دینے والی قوم کو پاکستانی نہیں بننے دیا، اس شخص نے اپنی اور اپنے خاندان کی فلاح کے لیے مہاجر کارڈاس قدر کھیلا کہ اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پاکستان کی محبت میں کھنچے چلے آنے والے مہاجر آج بھی مہاجر ہی کہلا رہے ہیں۔مگر خدا کا شکر ہے کہ یہ کارڈ صرف کراچی ہی میں کھیلا گیا۔ کراچی سے زیادہ مہاجر پنجاب میں مقیم ہوئے تھے جو اب مقامی اور پاکستانی کہلا رہے ہیں مگر کراچی میں بسنے والے مہاجرین جو آج تک اپنی ذات سے مہاجر کا لفظ جدا نہیں کر سکے تو اس کی واحد وجہ الطاف حسین کے ذاتی مفادات ہی ہیں، جن کا تذکرہ مصطفی کمال نے اپنی پریس کانفرنس میں کیا ہے۔کراچی میں اردو بولنے والوں کے کتنے بچے قربان ہو چکے ہیں، کتنی ماﺅں کی گودیں اجڑ چکی ہیں، کتنی سہاگنوں کے سہاگ لٹ چکے ہیں مگر اس شخص کو اب بھی قرار نہیں آ رہا۔ آخر یہ سب لوگ جو قربان ہوئے ان کی قربانی کس مقصد کے لیے تھی؟مجھے آج تک وہ مقصد سمجھ نہیں آ سکا۔ آزادی تو انہوں نے حاصل کی تھی اور پاکستان آئے تھے۔ پاکستان میں ان کی حیثیت مسلمہ تھی اور ملک کے اولین وزارائے اعظم و دیگر اعلیٰ عہدوں پر موجود لوگوں میں اکثریت انہی ہجرت کرنے آنے والے پاکستانیوں کی تھی، پڑھی لکھی قوم ہونے کے ناطے اعلیٰ نوکریوں پر ان کا حصہ بہت زیادہ تھا۔ پھر الطاف حسین کی یہ ”جدوجہد“ کس مقصد کے لیے تھی؟یقینا یہ ہجرت کرنے آنے والوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے نہیں تھی، کیونکہ ان کے حقوق پہلے ہی محفوظ تھے۔ جس کو یقین نہ ہو وہ پنجاب میں بسنے والے ”مہاجرین“ سے آ کر پوچھ لے۔ صرف کراچی ہی کے مہاجرین کے حقوق کیوں غصب ہو رہے تھے؟ یہ سوال وہ ہیں جن پر کراچی کے اردو بولنے والے ”پاکستانیوں“ کو سوچنا چاہیے۔ ان کی تین نسلیں کٹ مریں، اب وقت ہے کہ وہ مہاجر سے پاکستانی بن جائیں۔ مصطفی کمال بھی انہی کا بیٹا اور بھائی ہے، وہ پنجابی، سندھ، بلوچ یا پٹھان نہیں ہے۔ اس کا ساتھ دیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر کراچی کے اردو بولنے والوں نے مصطفی کمال کا ساتھ دیا تو وہ ان کے مزید بیٹوں کو قربان ہونے سے بچا لے گا۔