- الإعلانات -

دہشتگرد مکتی باھنی اور عالمی ضمیر !

ساری دنیا اس سچائی سے بخوبی آگاہ ہے کہ 1971ءمیں بھارتی حکمرانوں نے ” مکتی باہنی “ کے نام سے دہشتگردوں کا ایسا گروہ بنایا جس نے سابقہ مشرقی پاکستان میں انسانیت کے خلاف ایسے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا جن کا تصور بھی کوئی مہذب معاشرہ نہیں کر سکتا مگر اسے حالات کی ستم ظریفی کہا جائے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر نے اس دہشتگرد تنظیم اور اس کے سرپرستوں کو جیسے سرے سے فراموش کر دیا ہے ۔ حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کے ان سفاک گروہوں اور ان کے جنم داتاﺅں کو قرار واقعی سزا دی جاتی مگر عملاً اس کے الٹ ہو رہا ہے ۔ اسی پس منظر میں انسان دوست حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ ایک جانب بھارتی اور مغربی میڈیا کے ایک بڑے حلقے نے پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف شر انگیز الزام تراشی کا نیا سلسلہ شروع کر رکھا ہے تو دوسری طرف شیخ حسینہ واجدکی قیادت میں بنگلہ دیش کی حکمران جماعت عوامی لیگ نے گذشتہ دنوں میں پاک فوج اور ISI کے خلاف بے بنیاد الزامات کا لامتناہی سلسلہ شروع کر رکھا تھا ۔مبصرین نے اس صورتحال کا جائزہ لیتے کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں دو برس قبل 5جنوری 2014کو پارلیمنٹ کے عام انتخابات انتہائی تشدد کی فضا میں منعقد ہوئے تھے۔ انتخابی مہم کے دوران خون ریزی کا یہ عالم تھا کہ کم از کم 150 سے زیادہ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ ہزاروں لوگ شدید زخمی ہوئے۔ واضح رہے کہ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ میں کل 300 ارکان ہیں جن میں سے 153 بلامقابلہ منتخب ہو گئے ان سب کا تعلق حکمران عوامی لیگ اور اس کی اتحادی جماعتوں سے تھا باقی 147 حلقوں میں 5 جنوری کو پولنگ کا ڈرامہ رچایا گیا مگر خود بھارتی اور بنگلہ دیشی ذرائع ابلاغ کا کہنا تھا کہ ووٹنگ کی شرح نہ ہونے کے برابر تھی۔مبصرین کے مطابق ان انتخابات کی عالمی ساکھ کا تو یہ عالم تھا کہ بین الاقوامی مبصرین کی مانیٹرنگ ٹیموں نے بھی انتخابی عمل کی مانیٹرنگ سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ جن انتخابات میں ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) حصہ ہی نہ لے رہی ہو ایسے نام نہادانتخابی عمل کو ایک ڈھونگ سے زیادہ کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔واضح رہے کہ BNP ،بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی اور ان کی اتحادی جماعتوں نے مطالبہ کیا تھا کہ انتخابی شیڈول کے اعلان سے پہلے شیخ حسینہ واجد وزیرِ اعظم کے منصب سے الگ ہو جائیں اس کے علاوہ ان کی ساری کابینہ بھی مستعفی ہو کر آئین کے مطابق غیر جانبدار حکومت قائم کرے اور اس کی زیرِ نگرانی پارلیمانی انتخابات کا انعقاد ہو مگر عوامی لیگ سے تعلق رکھنے والی شیخ حسینہ کو بخوبی علم تھا کہ گذشتہ پانچ سال میں انھوں نے عوامی فلاح کا کوئی کام نہیں کیا لہٰذا غیر جانبدار حکومت کی موجودگی میں ان کا الیکشن جیتنا اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے اسی وجہ سے انھوں نے اپنے دورِ حکومت میں پارلیمنٹ میں اپنی عددی اکثریت کی بنا پر آئین میں یہ ترمیم کرلی تھی کہ الیکشن کے دوران غیر جانبدار حکومت کا قیام آئینی طور پر ضروری نہیں۔یہاں اس امر کا ذکر بھی توجہ کا حامل ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے میں عوامی لیگی حکومت نے اپنے بھارتی آقاﺅں کو خوش کرنے کے لئے بہت سے ایسے رہنماﺅں کو سخت سزائیں سنائی تھیں جنہوں نے 1971ءمیں پاکستانی حکومت اور افواجِ پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔اسی حوالے سے عبدالقادر ملا جنہیں پہلے ہائی کورٹ نے عمر قید کی سزا دی تھی بعد میں بنگلہ دیشی حکومت کے ایما پر سپریم کورٹ نے اس سزا کو پھانسی میں تبدیل کر دیا اور اس بزرگ شخص کو پاکستان کی محبت کے جرم میں 42 سال بعد تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔پروفیسر غلام اعظم کو 95 سال کی عمر میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی ان کے علاوہ بھی بے شمار بزرگوں کو حسینہ واجد کی حکومت عمر قید اور پھانسی دینے کی سعی کر رہی ہے ۔اس صورتحال کی وجہ سے بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری کرنے والے 10 ہزار سے زائد پاکستانی صنعت کار اور تاجر سخت خوف و ہراس کی کیفیت میں مبتلا ہوئے کیونکہ عوامی لیگی سرکار نے پورے بنگلہ دیش میں اپنے کارکنوں کے ذریعے پاکستان کے خلاف نفرت اور انتقام کی ایسی آگ بھڑکا دی ہے جس نے پورے ماحول کو زہر آلودہ کر دیا اور پاکستانی سرمایہ کاروں کو اپنی جان اور پراپرٹی سخت خطرے میں محسوس ہو رہی تھی اور ان میں سے اکثر یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ تو بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری کی نیت سے اس لئے آئے تھے کہ اسلامی برادر ملک کی اکانومی کو سہاراملے گا مگر اب صورتحال یکسر نیا رخ اختیار کر چکی ہے۔یا درہے کہ بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم اعلانیہ یہ کہہ چکی ہیں کہ بنگلہ دیش کے کسی کونے میں پاکستان کے ہمدردوں یا پاکستانیوں کے لئے کوئی جگہ نہیں اور انھیں وہاں کسی قسم کی پناہ گاہ میسر آنے کی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے ۔واضح رہے کہ سابقہ پاکستانی قومی اسمبلی نے جب ملا عبدالقادر کی پھانسی پر ایک قرار دار کے ذریعے تشویش ظاہر کی تھی تب حسینہ واجد نے مندرجہ بالا بیان دیا تھا۔ ایسی صورتحال میں بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانی صنعت کاروں اور تاجروں کی تشویش کو بے وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا اور وہ بجا طور پر کوشش اور خواہش کر رہے ہیں کہ بنگلہ دیش میں لگایا گیا اپنا سارا سرمایہ سمیٹ کر واپس وطنِ عزیز میں آ کر سرمایہ کاری کریں۔اس پس منظر میں بنگلہ دیش کے ممتاز محقق اور کئی تحقیق اداروں کے سربراہ رہے ریٹائرڈ میجر جنرل”منیر الزماں “نے غالباً صحیح کہا ہے کہ بھارت اپنی دانست میں بنگلہ دیشی حکومت اور سول سوسائٹی کے ایک حلقے کو بڑی چالاکی سے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر رہا ہے جس کے مظہر اور دور پا اثرات بنگلہ دیش کی اقتصادیات اور سلامتی کو متاثر کر سکتے ہیں ۔بہر حال توقع کی جانی چاہیے کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے مکتی باہنی جیسے ماضی کے دہشتگردوں اور ان کے سر پرستوں کے خلاف خصوصی ٹر بیونل قائم کر کے انسانیت کے خلاف کیے گئے ان کے جرائم کو نہ صرف دنیا کے سامنے لائیں گے بلکہ ایسے افراد اور گروہوں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی ۔