- الإعلانات -

راءکا ایجنٹ بمقابلہ بنگلہ دیش میں

بنگلہ دیش کی موجودہ سیاسی اقتدار کی فضاو¿ں میں چند برسوں کے دوران دیکھی گئی پاکستان اور اہل ِ پاکستان سے پے درپے نفرتوں کے اظہار نے ہمیں بادل ِ نخواستہ45 برس قبل کے بھیانک اور خوف ناک ماضی کے سیاہ دور میں لاکر یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ کیا آج بھی بنگلہ دیش کا کوئی عام مسلمان بنگالی ہم پاکستانیوں کو اُسی نظر و قدر سے دیکھتا ہے جیسا کہ بنگلہ دیشی اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے بھارت نواز عوامی لیگ کے ’رہنما ‘ دیکھنے کے عادی ہیں، وہ منظر ہماری آنکھیں کیسے بھلا دیں، جب گزشتہ دنوں بنگلہ دیش میں ایشیا کپ کرکٹ میجوں کے دوران بنگلہ دیش کی ٹیم نے پاکستانی کرکٹ سے ایک میچ جیتا ،تو پنڈال میں موجود پاکستانی پرچم زیب تن کیئے ہوئے ایک پاکستانی کرکٹ شائق کو بنگلہ دیشی ’مکتی باہنی ‘ نما غندوں نے گھیرا اور زبردستی پاکستانی پرچموں والی اُس کی قمیض کو اتروا کر اُسے بنگلہ دیشی پرچم کی قمیض پہننے پر مجبور کیا بلکہ ایک ممبر آف پارلیمنٹ کے سامنے اُسے خاصا زدوکوب بھی کیا گیا اور بنگلہ دیشی ممبر پارلیمنٹ یہ غیر اخلاقی افسوسناک نظارہ دیکھ کر قہقہہ لگاتے رہے بنگلہ دیشی وزیر اعظم تا عوامی لیگ کے عام کارکنوں تک میں سرایت کر جانا والا پاکستانی دشمنی کا یہ افسوسناک رویہ ہمارے نزدیک نہ صرف بہت تکلیف دہ ہے، بلکہ آج ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں ہوسکتا ہے کہ یہ بات کسی حد تک درست مانی جائے ہو کہ پورے مسلم بنگلہ دیشیوں میں پاکستانی دشمنی کا یہ بھارت نواز مخصوص رویہ سو فی صدی پایا جاتا ہو گا‘ مگر ‘ کسی حد تک یہ بالکل صحیح کہ ہم بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد ٹائپ کی بھارت نوا ز متشدد جنونی سوچ کو قید وبند کے حصار میں نہیں رکھ سکتے ،یہ اُن کی اپنی ذاتی متعصبانہ سوچ وفکر کے دھارے ہیں جو اُن کے خون کا لازمہ بن چکے ہیں، جب بھی ہم بنگلہ دیش یا سابقہ مشرقی پاکستان کی بات کریں گے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہماری قوم سقوط ِ مشرقی کا رستا ہوا زخم بھلادے ہم لاکھ بھلا نا چاہئیں بھی تو نہیں بھول سکتے جبکہ رہی سہی کسر حسینہ واجد کی شکل میں ماضی کی ’مکتی باہنی ‘ کی اسٹبلیشمنٹ نے طاقت پکڑی ہوئی ہے وہ ہر ایک دوماہ بعد کوئی نہ کوئی ایسی مبینہ کارروائیا ں کرکے نکالتی رہتی ہیں اور اپنے ’آقاو¿ں‘ جو نئی دہلی میں بیٹھے ہوئے ہیں اُنہیں خوش کرنے کے لئے پاکستان مخالف سرگرمیاں بھارتی میڈیا کے ’چسکوں ‘ کےلئے کرنے میں مشغول ِ عمل رہنا پسند کرتی ہیں جنہیں دیکھنے اور سننے کے بعد ہم19-20 کروڑپاکستانیوں کے ماضی کے زخم مزید دکھنے لگ جاتے ہیں اور45 برس قبل ’متحدہ پاکستان ‘ مشرقی حصہ میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ نے معروف سیاسی اخلاقیات کی جو دھجیاں اُڑا دی تھیں یہ ہی نہیں بلکہ مہذب اخلاقی قدروں کو جس بہیمانہ اور حیوانی طرز ِ عمل اپنا کر جیسے لہولہان کردیا تھا وہ سب ہمیں یاد آجاتا ہے اور ہم انسانی تاریخ کے اُس وحشیانہ اور سیاہ دور میں اپنے آپ کو موجود پاتے ہیں جیسے یہ کل کی بات ہو بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ جو ’ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ‘ کا مخفف ہے، یہ خفیہ تنظیم یوں تو21 ستمبر 1968ءمیں قائم ہوئی جس میں بھارتی آئی بی کے چند افسروں کو ابتدا میں شامل کیا گیا یہاں پر یہ یاد رہے کہ 1965ءستمبر میں راتوں رات بھارتی فوج کا یہ خواب جب شرمندہ ِ تعبیر نہ ہوسکا اور اُسے لاہور کے محاذ پر عبرت ناک شکست کا منہ دیکھا پڑا ،اِس سے قبل1962ءبھارت پہلے ہی چین سے شکست کھائے ہوئے تھا اُس نے بعد میں یہ سوچا کہ اب دوبدو مقابلہ کرنے کی بجائے ’خفیہ سازشوں ‘ کے ہتھیار آزمائے جائیں تو شائد ہم اپنی کسی مذموم جارحانہ کوشش میں کوئی کامیابی حاصل کرلیں ؟ یہ نئی دہلی کی ایک ایسی بہیمانہ استبدادی چال تھی جو اُس نے چانکیائی خاموشی اختیار کر کے 1965ءسے 1971ءکے درمیان تیار کی اور جب مغربی اور سابقہ مشرقی پاکستان میں عام انتخابات کازمانہ آیا تو بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی یوں سمجھئے جیسے ’لاٹری ‘ نکل آئی ہو بس پھر کیا تھا نتائج دیکھ لیجئے یہاں ہم یقینا 1947ءتا1971ءتک کے درمیانی عرصہ میں اپنی سیاسی کوتاہیوں اور اپنے بنگلہ بھائیوں کی اکثریت کے ساتھ کیئے گئے جمہوری حقوق کی ناانسافیوں کو یکسر رد نہیں کرسکتے جس کا جواب سیاسی وجمہوری حکمرانوں سمیت اُس وقت کی فوجی حکومت کو بھی دینا تھا جو حمودالرحمان کمیشن نے اُٹھائے اصل میں دیکھا جائے تو اقوام ِ متحدہ کے رکن ملک پاکستان جو کہ ایک خود مختار ملک تھا اس کے عوام کے اندرونی مسائل تھے بھارت کو یہ حق کیسے اور کیونکر دیا جاسکتا تھا کہ مغربی بنگال کی سرحدوں سے مسلح ہندوبنگالیوں کی فوج ظفرموج کو عسکری تربیت دے کر اُنہیں ’مکتی باہنی ‘ کی شکل میں وقتی ’سیاسی انتشار ‘ میں مبتلا پاکستانی حصہ میں داخل کرتا مگر بھارت نے امریکی ‘ روسی اور برطانوی شہ پر اقوام ِ متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے مشرقی حصہ میں دخل در اندازی کی جس کی خفیہ آبیاری میں اُس نے 1965ءتا1971ءتک اپنے جو مذموم منصوبے بنارکھے تھے مثلاً سابقہ مشرقی پاکستان کے شہروں اور قصبوں میں کیسے سماجی ولسانی اختلافات کو ہوا دی جائے سیاسی انتشار وبدنظمی کو بدحال خانہ جنگی کی وحشیانہ پن کی جنونی شکل دی جائے ایسی انتہائی ناگفتہ صورتحال پورے مشرقی پاکستان کی ہوچکی تھی خفیہ ایجنسیاں یہ ہی سیاہ کارنامہ انجام دیا کرتی ہیں جیسا کہ ’را‘ نے مکتی باہنی کی تشکیل کرکے پاکستان کو یکدم دولخت کردیا کوئی اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر ایمانداری سے ذراغور کرلے ایسے میں کوئی ریاست خواہ اپنے اندرونی عوامی خلفشار کی وجوہات کو سمجھے بغیر اپنی اتھارٹی کو کیسے اور کیونکر قائم کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے بنگلہ دیش کے قیام میں ’بنگلہ بدھو‘ کا کوئی رول یا کردار نہیں نہ ہی مشرقی پاکستان کے سقوط میں بھارتی فوج نے پاکستانی فوج کا کوئی آمنے سامنے مقابلہ کیا تھا ،یہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ تھی، جس کو سی آئی اے ‘ ایم آئی6 اور سابقہ سوویت یونین کی بدنام ِ زمانہ خفیہ ایجنسی ’کے جی بی ‘ کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی ’را‘ نے آج سے45 برس قبل سابقہ مشرقی پاکستان اور آج کے ’بنگلہ دیش ‘ میں سراسر ذلت اور غلامی کے جو بیج بوئے تھے، بھارتی غلامی میں اب یہ بیچ تن آور درخت بن چکے ہیں، دکھائی تو یہ ہی کچھ دیتا ہے آج بھی ہمیں لگتا ہے کہ بنگلہ دیش کے دارلحکومت ڈھاکہ کے ایوانوں آسام کے جنگوں میں تربیت پانے والی مکتی باہنی کی باقیات نے پکے ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں، اگر ایسا نہیں تو پھر کیوں بنگلہ دیش کے بزرگ مسلمانوں کو‘ جنہوں نے گزشتہ45 برسوں میں ’حالات ‘ سے سمجھوتہ کرکے وہاں کے آئین کو تسلیم کیا، اُس آئین کے تحت منعقدہ کئی انتخابات میں وہ بزرگ بنگلہ دیشی مسلمان رکن ِ پارلیمنٹ منتخب ہوئے، جنہیں بنگلہ دیش کی موجودہ عوامی لیگ کی حکومت کی وزیر اعظم حسینہ واجد نے اپنی بھارت نوازی کی حدوں کو پار کرتے ہوئے اُنہیں تختہ ¾ ِ دار پر کھینچوادیا اور بنگلہ دیشی جیلوں میں اب کئی ایسے غیور بنگالہ مسلمان یقینا قید ہوں گے اِن متذکرہ بالا سطور کے توسط سے ہماری انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے یہ اپیل ہے کہ اِس جانب فوری توجہ دی جائے ۔