- الإعلانات -

بھارتی ایجنسی اور الطاف حسین، عذرِ گناہ کیا ہے؟

قارئین کرام! گزشتہ چند روز کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے FIA کی جانب سے میڈیا میں اشتہارات شائع ہوئے ہیں جن میں ایک پاکستانی تاجر سرفراز مرچنٹ کے حوالے سے مبینہ طور پر ایک نا معلوم سیاسی پارٹی اور اُس کے نامعلوم قائدین پر لگائے گئے الزامات کی بابت حکومت پاکستان نے تحقیقات کا حکم صادر فرمایا ہے اور عوام سے معلومات ، دستاویزات یا ثبوت طلب کئے گئے ہیں۔ اطلاعِ عام کے اِس اشتہار کے مندرجات سے عوام الناس یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ الزامات کس سیاسی جماعت یا قائدین کے خلاف لگائے ہیں؟ اگر یہ الزامات متحدہ قومی موومنٹ یا الطاف حسین کے خلاف ہیں تو اطلاع عام میں عوام الناس کو اِس سے بے خبر کیوں رکھا گیا ہے ؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر عوام نے ہی یہ تمام حساس معلومات وفاقی حکومت کو فراہم کرنی ہیں تو وفاق اور صوبوں میں قومی سلامتی امور کے ادارے کس لئے قائم کئے گئے ہیں اور یہ سب معلومات اِن اداروں کے ذمہ داروں سے پوچھنے میں کیا قباحت ہے ؟ اِس اشتہار کو پڑھ کر تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی ذمہ داریوں پر پردہ ڈالتے ہوئے تمام الزامات کا ملبہ عام آدمیوں کی فراہم کی گئی معلومات پر ڈالنا چاہتی ہے ؟ حیرت ہے کہ سابق صدر مشرف کے خلاف تو غداری کا مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے لیکن متحدہ کے قائد الطاف حسین کی جانب سے پاکستان کی بنیاد پر حملہ کرنے کی تمام تر آڈیو، ویڈیو اور دیگر دستاویزات سرکاری اداروں اور انٹر نیٹ پر موجود ہونے کے باوجود الطاف حسین کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کے بجائے اشتہارات کے ذریعے عذر گناہ بدتر از گناہ کی مثال صادر فرمائی جا رہی ہے۔ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ اگر آفیشل سیکریٹ ایکٹ کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے تو آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کے مقدمات کی سماعت کےلئے مناسب قانون سازی سے پرہیز کرتے ہوئے قومی سلامتی امور میں سیاسی سودے بازی کو کیوں فوقیت دی جا رہی ہے ؟ بہرحال ، میڈیا کی اطلاعات کےمطابق یہ اَمر خوش آئند ہے کہ سرفراز مرچنٹ کے علاوہ خود متحدہ کے منحرف قائدین بشمول مصطفےٰ کمال کیجانب سے وفاقی ادارے کو الطاف حسین کی پاکستان میں تخریب کاری اور بھارتی ایجنسی را کےساتھ تعلقات اور سیکرٹ فنڈ کی ادائیگی کی تصدیق کےلئے بیانات دینے کی حامی بھری گئی ہے۔
درحقیقت ،ماضی میں بھارتی ایجنسی راکی خفیہ تخریب کاری اور حکمرانوں کی سیاسی غفلت ہی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سبب بنی تھی جبکہ آجکل کراچی اور بلوچستان میں بھارتی ایجنسی را تخریب کاری میں پیش پیش نظر آتی ہے ۔کاسموپولیٹن شہر کراچی جسے پاکستان کا پہلا وفاقی دارلحکومت ہونے کا شرف بھی حاصل ہے، جہاں نہ صرف اُردو بولنے والے اور پاکستان کے چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بلکہ سقوط ڈھاکہ کے بعد سابق مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے لاکھوں بنگالی اور برمی باشندے بھی یہاں بود و باش اختیار کئے ہوئے ہیں ۔کراچی کی حیثیت ،سندھ و بلوچستان ہی نہیں بلکہ پنجاب ، خیبر پختون خواہ ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی عوام کےلئے بھی ایک مستند لائف لائین ہے جبکہ گوادر سے شاہراہ ریشم تک پاکستان چین تجارتی راہداری منصوبہ جسے چاروں صوبوں کے اہم شہروں سے لنک شاہراہوں کے ذریعے ملایا جائیگابھی پاکستان کیلئے متبادل لائف لائین کی حیثیت رکھتا ہے جسے ہمارا ازلی دشمن جنوبی ایشیا میں اپنے مخصوص مفادات کے خلاف سمجھتا ہے ۔ چنانچہ خطے میں سیاسی بالادستی کےلئے بھارتی ایجنسیوں کی خفیہ مہم جوئی کا طریقہ واردات ایک جیسا ہی ہے یعنی پاکستان مخالف سیاسی شخصیتوں کو ہمنوا بنانے کےلئے فنڈ مہیا کرنا اور پاکستان کی لائف لائین کے اہم مرکز کراچی میں سیاسی خلفشار پیدا کرنے کےلئے ایسی جماعتوں کے قابل اعتماد کارکنوں کو دہشت گردی و تخریب کاری کی خفیہ تربیت اور اسلحہ فراہم کرنا ۔ گذشتہ ماہ کراچی میں دہشت گردوں کے چند خفیہ سہولت کاروں تک پہنچنے اور ابتدائی انٹیروگیشن کے بعد سینئر ایس پی محمد انور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ ایم کیو ایم کے کچھ کارکنوں کو لندن میں مقیم ایم کیو ایم کی لیڈرشپ کی ایما پر دہلی بھیجا جا رہا ہے جہاں سے اُنہیں دیرہ دون میں تخریب کاری اور حساس اسلحہ کی تربیت دی جاتی رہی ہے۔ دیرہ دون وہی جگہ ہے جہاں مکتی باہنی کو تخریب کاری کی خفیہ تربیت دی گئی تھی۔ حیرت ہے کہ فوری طور پر اِس باضمیر آفیسر کو مقدمہ سے ہٹا دیا گیا ؟ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے ،کیا ملکی سلامتی کے پیش نظر حقائق تک پہنچے بغیر حساس قومی معاملات کو سیاسی مصلحتوں پر قربان کیا جانا چاہیے تھا ۔ کیا قومی سلامتی امور میں سیاسی مصلحتیں اِس حد تک غالب آ چکی ہیں کہ ہمارے مقتدر سیاسی ادارے اپنی حکمت و فراست کو استعمال کرنے کے بجائے اب بے معنی اشتہارات کے ذریعے عوام سے ہی دستاویزات اور ثبوت مانگ رہے ہیںجبکہ ماضی قریب میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک تحقیقی رپورٹ میں کراچی میں مبینہ تخریب کاری میں بھارتی را کے ملوث ہونے اور متحدہ کی اہم شخصیتوں کو فنڈزو تربیت فراہم کرنے کے حوالے سے سنجیدہ نوعیت کے الزامات لگائے گئے تھے۔ کیا یہ بھی درست نہیں ہے کہ برطانوی پولیس کی جانب سے لندن میں مقیم برطانوی شہریت یافتہ متحدہ کے قائد کی رہائش گاہ پر چھاپے کے دوران پاﺅنڈ اسٹرلنگ کی خطیر رقم برامد کی گئی تھی اورکیا بین الاقوامی میڈیا میں ایم کیو ایم برطانیہ کے دو اہم رہنماﺅں طارق میر وغیرہ کی جانب سے برطانوی پولیس کو دئیے گئے بیانات میں ایم کیو ایم کو بھارتی ایجنسی کی جانب سے پاﺅنڈ اسٹرلنگ میں سالانہ امدادفراہم کرنے کے الزامات نہیں لگائے گئے تھے ؟ پھرالطاف حسین کو یہ کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی کہ اگر اُنہیں گرفتار کیا جائے یا وہ دوران حراست مارے جائیں تو کارکن خاموش نہ بیٹھیں بلکہ بدلہ لیں ۔ متحدہ کا مزید یہ کہنا کہ اگر الطاف حسین کو قیادت سے ہٹایا گیا تو کراچی کے ہر گلی کوچے میں جنگ ہو گی کا کیا مطلب تھا۔ اِس سے قبل الطاف حسین کراچی میں اپنے برقیاتی خطاب میں بھارتی انٹیلی جنس را سے مدد مانگنے کا اعلان بھی کر چکے تھے ، کیوں ؟
عجب بات ہے کہ الطاف حسین کو برطانوی شہریت ملی تو بھی اُنہوں نے صدقِ دل سے پاکستان آکر ملک کی بہتری کےلئے کام کرنے کے بجائے نومبر 2004 میںبھارت کا دورہ کرنا کیوں مناسب خیال کیا اور نئی دہلی پہنچتے ہی اُنہوں نے بھارتی مقتدر بھارتی سیاسی شخصیتوں بشمول سابق بھارتی وزیر خارجہ نٹور سنگھ سے والہانہ ملاقاتیں کیں اور بل خصوص نئی دہلی میں 6 نومبر 2004 میں ٹائمز آف انڈیا کے ایک بین الاقوامی سیمینار Leadership Initiative میں اکھنڈ بھارت کی حمایت میں جذباتی خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی بنیاد پر رکیک حملے کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ اُنہوں نے تقسیم ہند کو جس کی بنیاد پر پاکستان کی علیحدہ ریاست کا قیام عمل میں آیا تھا پر حملہ کرتے ہوئے یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا کہ برّصغیر کی تقسیم انسانی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی تھی ۔ الطاف حسین کی تحریک پاکستان کے خلاف اِس مذموم خطاب کی وڈیو آج بھی انٹر نیٹ کے ایوانوں میں محفوظ ہے اور پاکستانی اداروں کی بے حسی کا مذاق اُڑارہی ہے ۔ اِس سے قبل الطاف حسین قومی اخبارات کو دیئے گئے بیشتر انٹرویوز اور بیانات میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی ہرزہ سرائی کا ارتکاب تواتر سے کرتے رہے ہیں۔ کیا الطاف حسین یہ بیانات کراچی میں سیاسی خلفشار کو ہوا دینے کےلئے نہیں کرتے رہے ہیں ؟ اگر پاکستانی اداروں اور افواج پاکستان کے خلاف الطاف حسین کے مقالہ جات اور تقاریر کے مندرجات کا بادی النظر میں ہی کیوں نہ جائزہ لیا جائے اُن کی فکر کراچی میں بسے اُردو زبان بولنے والے پاکستانیوں کے بجائے مہاجر قوم پرستی کو ریاستی طاقتوں کے خلاف اُکسانے کی پالیسی پر ہی گامزن نظر آتی ہے ۔ الطاف حسین خود تو لندن کی پُرامن فضا میں سانس لے رہے ہیں جبکہ اپنی تقاریر میں وہ کبھی مہاجر اور کبھی متحدہ کے نام پر ایم کیو ایم کے عسکریت پسند ونگ کے زور پر ریاستی اداروں کے خلاف کراچی کے عوام کو آخری فتح تک قربانیاں دینے پر ہی مجبور کرتے رہے ہیں ۔ آخر الطاف حسین آخری فتح سے کیا مفہوم ادا کرنا چاہتے ہیں اور پھر بھارتی ایجنسیوں اور سیاسی رہنماﺅں سے دوستی اور مبینہ سیکرٹ فنڈ وصول کرنے کے مقاصد کیا ہیں ؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ مبینہ طور پر پاکستان میں سیاسی حکومتیں قومی سلامتی امور سے چشم پوشی اور آئین و قانون کو پس پشت ڈالتی رہی ہیں جس کے سبب ہی پاکستان میں بیرونی ایجنسیوں کی مداخلت کا جواز پیدا ہوتا رہا ہے۔ عدالت عظمیٰ اپنی بیشتر آبزرویشن میں اِس حکومتی بے حسی کا تذکرہ کرتی رہی ہے اور پولیس IGs جو قانون کے رکھوالے شمار ہوتے ہیں کے بارے میں تازہ ترین آبزرویشن میں کہا گیا ہے کہ ” اگر IGs پر قانون لاگو نہیں ہوتا تو اپنے دفاتر سے قومی پرچم اُتار دیں” ۔ اندریں حالات، کیا چیف جسٹس پاکستان FIA کی جانب سے شائع کردہ اِس بے معنی اشتہار کے مندرجات کا نوٹس لیں گے ؟