- الإعلانات -

پاکستانی معیاری دفاعی ہتھیاروں کی دنیا بھر میں مقبولیت

ریاست کو اپنی سلامتی اور بقا کے لئے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لئے ہر دم تیار رہنا ہوتا ہے۔ جدید مسلح افواج ناگزیر ہیں۔ ہمارے لئے پاکستان کی آزادی اور خود مختاری اوّلین ترجیح ہے۔آج پاکستان بجا طور پر جدید ترین دفاعی صلاحیت کا حامل ملک ہونے کا دعویٰ کرسکتا ہے کیونکہ ہمارے پاس جدید ترین دفاعی نظام موجود ہے۔ قیام پاکستان سے ہی ہماری دفاعی صنعت مسلسل ترقی کر رہی ہے۔پاکستان میزائل ٹیکنالوجی میں بھی مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔پاکستان نے براعظم سے براعظم تک مار کرنے والے میزائل بنانے کی صلاحیت حاصل کرلی ہے۔
ہم اس لحاظ سے بڑے خوش قسمت ہیں کہ ہمارا دین جارحیت کی اجازت نہیں دیتا۔ ایک اسلامی فوج صرف دفاعی جنگ لڑ سکتی ہے۔ اسی لیے دفاع کو قوی ترین بنانا اسلامی مملکت کی افواج کا مطمع نظر ہونا چاہیے۔ قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے: ”جہاں تک ہو سکے (فوج کی جمعیت کے) زور اور گھوڑوں کے تیار رکھنے سے (دشمن کا مقابلہ کرنے کی خاطر ) مستعد رہو کہ یوں دشمنوںپر تمہاری ہیبت بیٹھی رہے (اور وہ حملہ کرنے کی جرات نہ کر سکیں)۔ (سورہ الانفال‘ 60)
آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پاکستان آرڈیننس فیکٹریز واہ کے دورے کے دوران نئے ایمونیشن پلانٹ کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ پی او ایف ملک کا سب سے بڑا دفاعی پیداوار کا ادارہ ہے جس کا مسلح افواج کی حربی تیاری برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ہے۔ ادارے کی جدید تکنیکی استعداد کی بدولت متعدد ملک پی او ایف کی مصنوعات میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ پی او ایف بھی اپنی مصنوعات کیلئے نئی منڈیاں تلاش کر کے ملک کیلئے زیادہ سے زیادہ قیمتی زرمبادلہ کمائے۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستانی اسلحہ کی دنیا بھر میں مانگ بڑھ گئی ہے اور اسلحہ میں خود مختاری حاصل کرنے کیلئے ٹیکنالوجی کو اپ گریڈ کیا جائے۔
یہ حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان کے تیارکردہ ہتھیاروں کی مانگ بڑھتی جارہی ہے اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان چین کے مشترکہ تعاون سے تیار کردہ ایچ جے ایٹ ٹینک شکن میزائل20 ممالک کو برآمد کررہا ہے۔ پاکستان یہ ٹینک شکن میزائل چین سے حاصل ہونے والے لائسنس کے تحت تیار اوربرآمد کررہا ہے۔ پاکستان نے ان ٹینک شکن میزائلوں کو80 کی دہائی میں استعمال ہونے والے امریکی ساختہ ٹینک شکن میزائل کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ ایچ جے ایٹ ٹینک شکن میزائل ٹارگٹ کو نشانہ بنانے میں امریکی میزائلوں سے کئی گنا بہتر ہیں اور پاکستان اب تک 20 ممالک کو10 ہزار ایچ جے ایٹ ٹینک شکن میزائل فروخت کرچکاہے۔پاکستان جن ممالک کو یہ ٹینک شکن میزائل فروخت کر رہا ہے ان میں بنگلہ دیش، مصر، بولیویا، کینیا، ملائشیا، مراکش، ایکواڈور، شام، سوڈان، سری لنکا اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف ممالک شامل ہیں۔
چین اور پاکستان کے درمیان حال ہی میں ایک معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت دونوں ممالک مشترکہ طور پر تیار کئے جانے والے جے ایف 17 تھنڈر جیٹ طیاروں کی ٹیکنالوجی کو بھارت اور امریکا تک رسائی سے محفوظ رکھیں گے۔ جے ایف 17 تھنڈر کا بلاک ٹو ورژن چین میں ڑیاو¿لونگ ایف سی ون کے نام سے تیار کیا گیا ہے اور پاکستانی فضائیہ کا حصہ بن چکا ہے جس میں سافٹ ویئر کی بہتری اور ہوا میں ایندھن بھرنے کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے۔ امریکا نے پاکستان سے جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کا معائنہ کرنے کے درخواست بھی کی تھی جسے پاکستان نے مسترد کردیا تھا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق جے ایف 17 تھنڈر امریکا کے ایف 16 طیاروں سے قدرے بہتر ہے کیونکہ یہ وزن میں ہلکا، دشمن کے ریڈار پر کم نمایاں ہوتا اور ایندھن کے اضافی ٹینک بھی لے جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ فضا سے فضا تک مار کرنے والے 4 میزائل لے جاسکتا ہے جو ریڈار سے رہنمائی لیتے ہیں۔
پاکستانی اسلحہ ساز ادارے طویل عرصہ افواج پاکستان ہی کو مختلف ہتھیار فراہم کرتے رہے ہیں۔ چونکہ افواج پاکستان دنیا کی ساتویں بڑی عسکری قوت ہیں، اس لیے انہیں درکار اسلحے کی مانگ پوری کرنا معمولی بات نہیں۔ لیکن اب پچھلے چند برس سے پاکستانی اسلحہ ساز ادارے اپنے ہتھیار برآمد بھی کر رہے ہیں۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ محض ایک برس میں پاکستانی ہتھیاروں کی برآمد دوگنا بڑھ چکی۔پاکستانی اسلحہ ساز اداروں میں بننے والے ہتھیار مضبوطی‘ پائیداری اور معیار میں امریکی و جرمن ہتھیاروں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خوبی کم قیمت ہونا ہے۔ اس واسطے ترقی پذیر ہی نہیں ترقی یافتہ ممالک بھی اب پاکستانی اسلحہ ساز اداروں میں بنے ہتھیار خرید رہے ہیں۔ یہ اس امر کی علامت ہے کہ پاکستان ساختہ اسلحہ ان کے معیار پر پورا اترا۔آج پاکستان ساختہ اسلحہ چالیس سے زیادہ ممالک کو ایکسپورٹ ہورہا ہے اور اس کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہمیں پاکستانی ہنرمندوں کی بہترین صلاحیتوں پر ناز ہے اور ان پر فخر بھی.